تقریر جلسہ سالانہ

جلسہ سالانہ برطانیہ۲۰۲۶ء کے دوسرے اجلاس کی روداد

جلسہ سالانہ کے دوسرے اجلاس کی صدا رت کے فرائض مکرم ومحترم محمد شریف عودہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کبابیر نے سرانجام دیے۔ کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔مکرم حافظ مرفود احمد صاحب نے سورۃ النساءکی آیات ۵۸تا۶۰؍کی تلاوت کی اور اس کا اردو ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ پیش کیا۔مکرم خالد چغتائی صاحب نے حضرت حضرت مسیح موعودؑ کے منظوم کلام

اِسلام سے نہ بھاگو راہِ ہدیٰ یہی ہے

اَے سونے والو جاگو! شمس الضحیٰ یہی ہے

سے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم مروان سرور گل صاحب صدر ومشنری انچارج جماعت احمدیہ ارجنٹائن نے ’’عالمی امن کا قیام انصاف کے قیام کے بغیر ممکن نہیں‘‘ کے موضوع پر اردو زبان میں کی۔

آپ نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ خاکسار جو بھی نکات بیان کرے گا وہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مختلف خطابات سے اخذ کیے گئے ہیں۔ آپ نے کہا کہ حقیقی اور دیرپا عالمی امن صرف انصاف اور توحیدِ الٰہی کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ موجودہ دنیا جنگوں، ظلم، خودغرضی اور طاقتور ممالک کی بالادستی کی وجہ سے تیسری جنگِ عظیم کے خطرے سے دوچار ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بنیادی وجہ عدمِ انصاف بتایا ہے۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ قائم کی گئیں، مگر دونوں اس لیے ناکام رہیں کہ ان کی بنیاد مساوات کی بجائے ناانصافی پر تھی، خصوصاً اقوامِ متحدہ میں ویٹو پاور نے چند ممالک کو دوسروں پر فوقیت دے دی۔ آج خود عالمی راہنما بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین سب پر یکساں لاگو نہیں ہوتے۔ نئی تنظیمیں بنانے کی تجاویز تو دی جا رہی ہیں مگر اصل مسئلہ یعنی انصاف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عالمی امن کی ضمانت دیتا ہے۔ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے امن، عدل اور رحمت کا سرچشمہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ ’’السلام‘‘ ہے، رسول اللہ ﷺ رحمةً للعالمین ہیں اور خانہ کعبہ کو امن کا عالمی مرکز بنایا گیا تاکہ انسان امن کا سبق سیکھیں۔

خطبۂ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی، کسی گورے کو کالے اور کسی قوم کو دوسری قوم پر کوئی فضیلت نہیں۔ سب انسان برابر ہیں اور سب کو یکساں حقوق ملنے چاہئیں۔ یہی بین الاقوامی امن کی بنیاد ہے۔

اسلام کے مطابق عدل اور امن لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ اگر اپنے، والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو انصاف کا ساتھ دو حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے اور دشمنی کبھی ناانصافی کا سبب نہ بنے۔

اسلام جنگ کے بھی اعلیٰ اخلاق سکھاتا ہے۔ صرف دفاع کی اجازت دیتا ہے، عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور بےگناہوں کو نقصان پہنچانے سے منع کرتا ہے اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے۔

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر دو فریق لڑ پڑیں تو پہلے صلح کرائی جائے، اور اگر ایک فریق ظلم کرے تو اسے روکا جائے، لیکن جب وہ صلح پر آمادہ ہو جائے تو انصاف کے ساتھ صلح کرا دی جائے۔ ایسی ذلت آمیز شرائط ہرگز نہ لگائی جائیں جو آئندہ جنگوں کا سبب بنیں۔ Treaty of Versailles کی ناانصاف شرائط کو دوسری جنگِ عظیم کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

اسلام انتقام کے بجائے عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کی عظیم مثال فتح مکہ ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے شدید ظلم کرنے والے دشمنوں کو بھی لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر معاف کر دیا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اسے دنیا میں اعلیٰ ترین اخلاقی نمونہ قرار دیا۔

آخر پر آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پیغام پیش کیا کہ آج دنیا ظلم کی انتہاؤں کو پہنچ چکی ہے، اس لیے جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا تک امن، انصاف اور اسلام کا حقیقی پیغام پہنچائے، اپنے عمل سے انصاف قائم کرے، دعاؤں پر زور دے اور انسانیت کو تباہی سے بچانے کی کوشش کرے۔(خلاصہ تقریر تیارکردہ: آصف بلوچ۔ نظامت رپورٹنگ جلسہ گاہ)

٭…٭…٭

اس اجلاس كی دوسری تقریر ’’خدا کی تلاش میں عاجزی کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر تھی جو مکرم ایاز محمود خان صاحب مربی سلسلہ ایڈیشنل وكالت تصنیف یوکے نے كی۔

آپ نے بتایا کہ عاجزی صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے، عبادت کو قبول کروانے، انسانی تعلقات کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں امن و محبت قائم کرنے کی بنیادی شرط ہے۔

مقرر نے تقریر کا آغاز قرآن کریم کی اس آیت سے كیا: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔ یعنی عبادالرحمن کی پہلی صفت یہ ہے كہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے سخت کلامی کرتے ہیں تو وہ سلامتی اور خیر کی بات کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں کی پہچان نہ صرف ان کی عبادت بلکہ ان کی نرم مزاجی، تحمل اور عاجزی بھی ہے۔

فاضل مقرر نے بیج کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک معمولی سا بیج زمین میں دفن ہو کر اپنی اَنا کو مٹا دیتا ہے، پھر وہ ایک تناور درخت بنتا ہے اور دوسروں کے لیے سایہ اور پھل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی اس وقت تک روحانی ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی اَنا اور تکبر کو دفن نہ کر دے۔ جیسا كہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے ایك شعر میں فرمایا:

بدتر بنو ہر ایك سے اپنے خیال میں

شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں

اس كے بعد بتایا کہ عبادت کی اصل روح عاجزی ہے۔ نماز کی ہر حالت انسان کو انکساری سکھاتی ہے، لیکن سجدہ اس کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص دن میں کئی مرتبہ اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے تو اسے دوسروں پر برتری جتانے یا انہیں حقیر سمجھنے کا کوئی حق نہیں۔ افسوس کہ لوگ حسب و نسب، دولت، علم، اولاد اور عہدے پر فخر کرتے ہیں، حالانکہ حقیقی عبادت انسان کے دل سے غرور ختم کر دیتی ہے۔

رسول کریمﷺ کی مبارک زندگی عاجزی کا کامل نمونہ تھی۔ باوجود اس کے کہ آپﷺ تمام انبیاء کے سردار تھے، پھر بھی آپؐ نہایت کثرت سے عبادت، استغفار اور دعا كیا کرتے تھے اور ہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا نتیجہ قرار دیتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جنت میں کوئی شخص اپنے اعمال کے بل پر داخل نہیں ہوگا بلکہ صرف اللہ کے فضل سے داخل ہوگا، حتیٰ کہ آپ ﷺ نے اپنے بارے میں بھی یہی فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جتنا انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ عاجزی اختیار کرتا ہے۔

ازاں بعد مقرر نے بیان كیا كہ حضرت مسیح موعودؑ پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی: ’’خدا كوتیری عاجزانہ راہیں پسند آئیں‘‘۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور قبول ہونے والا سب سے قیمتی نذرانہ عاجزی ہے۔ انسان حقیقت میں کمزور اور محتاج ہے، اس لیے اسے ہمیشہ فروتنی اختیار کرنی چاہیے۔

پھر آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کی عاجزی کی بعض مثالیں پیش كیں۔ ایک مرتبہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ آرام کر رہے تھے تو حضرت مسیح موعودؑ خود چارپائی کے نیچے زمین پر لیٹ گئے تاکہ شور مچانے والے بچوں کو خاموش رکھ سکیں اور ان کی نیند خراب نہ ہو۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی عظمت خدمت اور انکسار میں ہے، نہ کہ عزت و جاہ کے اظہار میں۔

اس كے بعد تقریر میں عاجزی كی بہترین مثال پر مبنی ایك واقعہ بیان كیا گیا۔حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف ہوگیا۔ امام حسینؓ نے سخت الفاظ کہے، مگر امام حسنؓ خاموش رہے۔ اگلے دن امام حسنؓ خود اپنے چھوٹے بھائی سے معافی مانگنے کے لیے روانہ ہوئے۔ ایک صحابیؓ نے حیرت سے پوچھا کہ قصور تو امام حسینؓ کا تھا، پھر آپ کیوں معافی مانگنے جا رہے ہیں؟ امام حسنؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان آپس میں ناراض ہوں تو جو شخص سب سے پہلے صلح کی پہل کرے گا، وہ دوسرے سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوگا۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اس عظیم اجر سے محروم رہ جاؤں۔

پھر مقرر نے تبلیغ میں عاجزی كے كردار كو واضح كرتے ہوئے بتایا كہ لوگوں کے دل دلائل سے زیادہ محبت، حسنِ سلوک اور عاجزی سے جیتے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی انتہائی فروتنی سے پیش آتے تھے۔ ایک موقع پر جب دور دراز سے آنے والے بعض غیر احمدی مہمانوں کی مناسب خدمت نہ ہو سکی تو آپؑ خود پیدل کئی میل چل کر ان کے پاس گئے، معذرت کی اور انہیں واپس لائے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاق اور عاجزی تبلیغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔

اسی طرح مربی صاحب نے بتایا کہ گھریلو سکون کا راز بھی عاجزی میں پوشیدہ ہے۔ آج اکثر معمولی اختلافات طلاق کا سبب بن جاتے ہیں، لیکن اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی کمزوریوں کو برداشت کریں اور اپنی اَنا کو قابو میں رکھیں تو گھریلو زندگی خوشگوار بن سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کا نمونہ یہ تھا کہ بیماری اور تکلیف کے باوجود کبھی گھر والوں کو سختی سے کچھ نہ کہتے اور اگر کھانا تیار نہ ہوتا تو خاموشی اختیار فرماتے۔

انسانیت کی خدمت بھی عاجزی کا اہم پہلو ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ گھنٹوں بیمار عورتوں بچوں کو دوائیں دیتے اور اسے دینی خدمت قرار دیتے تھے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ شفقت، برداشت اور خیر خواہی اختیار کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں قبول فرمائے۔ حقیقی انسان وہ ہے جو کمزور اور محتاج لوگوں کے ساتھ بھی عزت اور محبت سے پیش آئے۔

غصے پر قابو پانے کے لیے بھی عاجزی ضروری ہے۔ حضرت علیؓ کا مشہور واقعہ بیان کیا کہ جب آپؓ نے جنگ میں دشمن كو زیر كیا تو اس نے آپؓ کے چہرے پر تھوک دیا تو آپؓ نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ اب اللہ کی رضا کی جگہ ذاتی غصہ شامل ہوگیا تھا۔ اس بے مثال ضبطِ نفس نے دشمن کے دل کو بدل دیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔

پھر مربی صاحب نے بتایا كہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔‘‘ حضرت عمرؓ کا مشہور واقعہ ہے کہ رات کے وقت ایک ماں اور اس کے بچوں کو بھوكا دیکھ کر آپؓ نے خود بیت المال سے آٹا اٹھایا، کھانا پکایا اور بچوں کو کھلایا، حالانکہ وہ خلیفۂ وقت تھے۔ انھوں نے نہ اپنی پہچان ظاہر کی اور نہ تعریف کی خواہش رکھی۔

قبولیتِ دعا کے لیے بھی عاجزی لازمی ہے۔ ایک بزرگ تیس سال تک یہ سننے کے باوجود کہ ان کی دعا قبول نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے رہے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام دعائیں قبول فرما لیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا میں صبر، عاجزی اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔ نہ یہ کہ شکوہ اور بے صبری كا اظہار كیا جائے۔

آخر میں مقرر نے بیعت اور خلافت کے ساتھ تعلق پر گفتگو كرتے ہوئے کہا کہ بیعت کا اصل مفہوم اپنی اَنا کو ختم کر کے کامل اطاعت اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ عاجزی کے ساتھ خلافت سے وابستہ رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی عاجزی، دعائیں اور جماعت کی راہنمائی كے لیے مسلسل كوششیں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ اگر ہر احمدی اپنی اصلاح کرے، دوسروں کی بجائے اپنی کمزوریوں پر نظر رکھے اور عاجزی اختیار کرے تو پوری جماعت روحانی ترقی حاصل کر سکتی ہے۔

تقریر كے اختتام پر آپ نے حضرت مسیح موعودؑ کے الفاظ نقل کیے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک بیج کی طرح زمین میں بویا ہے، جو اس کے فضل سے ایک عظیم درخت بنے گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس بیج کی طرح ہمیشہ عاجزی اختیار کی جائے، کیونکہ حقیقی کامیابی، اللہ تعالیٰ کا قرب اور دنیا و آخرت کی بھلائی اسی عاجزی اور فروتنی میں پوشیدہ ہے۔(خلاصہ تقریر تیارکردہ: طیب احمد۔نظامت رپورٹنگ جلسہ گاہ)

٭…٭…٭

اس تقریر کے بعد مکرم عصام بھٹی صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کے منظوم کلام

عہدشکنی نہ کرو اہل وفا ہوجاؤ

اہل شیطاں نہ بنو اہلِ خدا ہوجاؤ

سے چند اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔

اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم عطاء المومن زاہد صاحب (استادجامعہ احمدیہ یوکے) نے ’’امام الزمان اور محبت الٰہی‘‘ کے موضوع پر کی۔ آپ نے اپنی تقریر میں بیان كیا كہ محبت ایک حقیقی اور زندہ قوت ہے جو انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔ محبت کی حقیقت یہ ہے کہ دل کسی محبوب کو پسند کرے، اس کے شمائل، اخلاق اور عادات پر فریفتہ ہو کر اسی کے رنگ میں رنگین ہو جائے اور اپنا وجود اس کی محبت میں گم کر دے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے محبت کے لفظ کے استعمال کے متعلق ایک نہایت لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ عام بول چال میں یہ لفظ انسانوں کے تعلقات کے لیے بھی مجازاً استعمال ہو جاتا ہے، مگر اپنے حقیقی اور کامل مفہوم میں محبت صرف خدا تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے، کیونکہ کامل محبت عبادت اور پرستش کو چاہتی ہے، اور عبادت کا حق سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ہی میں اپنی محبت کا چراغ روشن فرمایا۔ قرآنِ مجید میں مذکور ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی آدم سے سوال کیا: اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ، کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: بَلٰى شَهِدْنَا، ہاں کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی حقیقت کو اس شعر میں بیان فرمایا:

تو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک

اُس سے ہے شورِ محبت عاشقانِ زار کا

مقرر نے بتایا كہ چونکہ محبتِ الٰہی انسان کی فطرت کی گہری ترین صدا ہے، اس لیے خدا تعالیٰ کی ازلی سنت ہے کہ وہ ہر زمانے میں اس محبت کو زندہ کرنے اور اس کی آگ کو بھڑکانے کے لیے ایسے آسمانی وجود مبعوث فرماتا ہے جو امام الزمان کہلاتے ہیں۔ ان کی عبادتیں، قربانیاں، جینا اور مرنا خالصۃً خدا ہی کی خاطر ہوتا ہے۔ گویا ہر زمانے کا امام محض ایک معلم یا راہنما نہیں ہوتا بلکہ محبتِ الٰہی کا زندہ پیکر اور اپنے دور کے عاشقانِ خدا کا سرتاج ہوتا ہے۔

اس كے بعد آپ نے كہا كہ انبیائے کرام کی پاکیزہ زندگیوں پر نظر ڈالیں تو ہر ایک میں محبتِ الٰہی ایک جداگانہ شان کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ربّ کے حکم پر وطن چھوڑا، بیوی اور شیر خوار بچے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا، اور اپنے لختِ جگر کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدا کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے عرض کیا: یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے گناہ کے مقابل پر قید کی سختی قبول کر لی مگر اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو توڑنا گوارا نہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قربِ خداوندی کے شوق میں اپنی قوم سے آگے بڑھ کر حاضر ہوئے اور عرض کیا: وَعَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ابتلا کے تلخ لمحہ میں بھی یہی عرض کیا کہ میری نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو۔

مگر جب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ محبتِ الٰہی کا اتم، اکمل اور سب سے روشن نمونہ کس پاک وجود میں ظاہر ہوا تو تمام نگاہیں اس آفتابِ نبوت کی طرف اٹھتی ہیں جس کا نامِ نامی سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ آنحضورﷺ کی محبتِ الٰہی کا نور اعلانِ نبوت سے بہت پہلے ہی قلبِ اطہر میں روشن ہو چکا تھا۔ جب مکہ کی فضا شرک و بت پرستی سے آلودہ تھی، اُس وقت یہ پاک دل نوجوان خلوت و تنہائی میں اپنے ربّ کی طرف کھنچتا چلا جا رہا تھا۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کے دل میں تنہائی کی محبت ڈال دی گئی اور آپ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرمایا کرتے تھے۔ یہ تنہائی محض گوشہ نشینی نہ تھی بلکہ محبتِ الٰہی کی وہ باطنی کشش تھی جو آپؐ کو دنیا کے ہنگاموں سے الگ کر کے اپنے ربّ کے حضور لے جاتی تھی۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے فرمایا: وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدٰى۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہاں ضال کے معنے گمراہ نہیں بلکہ عاشقِ وجہ اللہ کے ہیں، یعنی خدا نے تجھے اپنا عاشق پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا۔

پھر مقررنے بتایا كہ آنحضرت ﷺ كی بعثت کے بعد آپؐ كے عشقِ الٰہی کا عالم یہ تھا كہ یہ عشق آپؐ کی عبادات، مناجات اور شب بیداری میں مسلسل آبشار بن کر بہنے لگا۔ آپ ﷺ رات کو اتنا طویل قیام فرماتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔ رات کی تنہائیوں میں آپ ﷺ اپنے ربّ کے حضور جھک کر عرض کرتے: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا اِلٰهَ اِِلَّا أَنْتَ۔ دنیا کی حقیقت آپؐ کے نزدیک یہ تھی کہ فرمایا: مَا أَنَا وَالدُّنْيَا، مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ اُحد کے میدان میں زخموں سے چور ہونے کے باوجود جب کفار نے بت کا نعرہ بلند کیا تو فوراً فرمایا: اَللّٰهُ أَعْلٰى وَأَجَلُّ۔ اور جب دنیا سے رخصت ہونے کا لمحہ آیا تو آخری پکار بھی یہی تھی: اَللّٰهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى۔

پس خدا تعالیٰ نے قیامت تک کے طالبینِ محبتِ الٰہی کے لیے یہ اعلان فرما دیا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ یعنی جو محبتِ الٰہی کا جام پینا چاہتا ہے اسے سب سے بڑے عاشقِ وجہ اللہﷺ کی اتباع اختیار کرنی ہو گی۔

اسی طرح مقررنے بیان كیا كہ فیجِ اعوج کے تاریک دور میں جب عشقِ الٰہی کا چراغ دلوں میں مدھم پڑنے لگا تو خدائے رحمٰن نے احیائے دین کے لیے امامِ آخرالزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو کھڑا کیا۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دل میں محبتِ الٰہی کا آغاز نہایت کم عمری ہی سے ظاہر تھا۔ آپؑ دعا کے لیے فرمایا کرتے تھے: ’’دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے۔‘‘ لڑکپن ہی میں قرآنِ کریم سے ایک خاص عشق پیدا ہو گیا، کیونکہ یہ آپؑ کے محبوب خدا کا پاک صحیفہ تھا۔ آپؑ فرماتے ہیں:

دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں

قرآں کے گرد گھوموں، کعبہ مرا یہی ہے

جوانی میں دنیوی رغبتوں کے باوجود آپؑ کی دنیا سے بے نیازی اور خدا تعالیٰ کی محبت میں استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپؑ کے والد صاحب فرمایا کرتے تھے: ’’اس نے سارے تعلقات چھوڑ دیے ہیں۔‘‘ درحقیقت یہ وہی مقامِ عشق تھا جہاں انسان دنیا کی نگاہ میں مر جاتا ہے مگر خدا کے قرب میں حیاتِ حقیقی پا لیتا ہے۔ حضورؑ فرماتے ہیں:

؏ زندہ وہی ہیں جو کہ خدا کے قریب ہیں

؏ جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات

پھر مربی صاحب نے آپؑ کی راتوں کی عبادات کا ذكر كرتے ہوئےکہا کہ آپؑ عشاء کے بعد کچھ آرام فرماتے، پھر نصف شب کے بعد بیدار ہو کر نوافل ادا کرتے، اور مٹی کا دیا جلا کر قرآنِ کریم کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے، یہاں تک کہ فجر کی اذان ہو جاتی۔ آپؑ کا دل ہر لمحہ اپنے پیارے خدا کی یاد میں تڑپتا، پگھلتا اور اسی کی طرف جھکا رہتا تھا۔ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ بیان فرماتی ہیں کہ آپؑ کے روح و تن کے ذرہ ذرہ میں محبوب ذاتِ باری تعالیٰ کا عشق موجزن تھا، اور آپؑ کو تڑپ تڑپ کر ’’میرے پیارے اللہ! میرے پیارے اللہ!‘‘ پکارتے سنا۔

ازاں بعد مربی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں محبتِ الٰہی کےنمایاں عنصر كا ذكر كیا اور بتایا كہ آپؑ جب خدا تعالیٰ کی محبت یا خدا کی طرف دعوت کا ذکر فرماتے ہیں تو بیان میں ایسا حسن، درد اور آسمانی کشش جلوہ گر ہوتی ہے کہ دل محبوبِ حقیقی کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔‘‘

آپؑ کا عشقِ الٰہی اردو، فارسی اور عربی نظم میں بھی نہایت لطیف رنگ میں ظاہر ہوا۔ کہیں فرماتے ہیں: ’’مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے‘‘، کہیں عرض کرتے ہیں: ’’قربان تُست جانِ من اے یارِ محسنم‘‘، اور کہیں محبوبِ حقیقی کو پکارتے ہیں: أَنْتَ الْمُرَادُ وَأَنْتَ مَطْلَبُ مُهْجَتِي۔ یہ سب کلام ایک ایسے پاک وجود کے دل سے اٹھنے والی آواز ہے جسے خود خدا تعالیٰ نے معرفتِ الٰہی اور محبتِ الٰہی کے نور سے بھر دیا تھا۔

تقریر كے آخر میں مقررنے خلافت كی محبتِ الہٰی كا تذكرہ كیا اور بتایا كہ آج خلافتِ احمدیہ، امام الزمان کی نیابت میں، ہمارے لیے محبتِ الٰہی، تعلق باللہ، عبادت اور خدمتِ دین کا زندہ نمونہ ہے۔ خلیفۂ وقت اپنے خطبات، خطابات اور ارشادات کے ذریعہ ہمیں مسلسل محبتِ الٰہی کے راستوں کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ پس ان تمام ارشادات اور زندہ نمونوں کا مقصود یہی ہے کہ ہم محبتِ الٰہی کے آداب سیکھیں اور اس راہ پر چلیں جس کا آخری مقصود وصالِ ذاتِ ذوالجلال ہے۔(خلاصہ تقریر تیارکردہ: میر انجم پرویز۔ ناظم رپورٹنگ جلسہ گاہ)

اس اجلاس کے آخر پر مکرم طاہر خالد صاحب مربی سلسلہ نے حضرت مصلح موعودؓ کے منظوم کلام

ذکر خدا پہ زور دے، ظلمت دل مٹائے جا

گوہر شب چراغ بن، دُنیا میں جگمگائے جا

سے چند اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button