PAAMAکے قیام پر چالیس سال مکمل …ایک خصوصی تقریب کا انعقاد
۶۰؍ واں جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء
جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر بروزجمعۃ المبارک، ۲۴؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے افتتاحی خطاب کے بعد، مرکزی جلسہ گاہ، حدیقۃ المہدی میں پین افریقن احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن (PAAMA) انٹرنیشنل فورم کے زیرِ اہتمام پاما کے قیام پر چالیس سال کی تکمیل پر ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پاما کے عہدیداران، نمائندگان، سابق و موجودہ کارکنان اور مہمانانِ جلسہ نے شرکت کی۔

تقریب کی صدارت الحاج موسیٰ میوا، امیر صاحب جماعت احمدیہ سیرالیون نے کی۔ پروگرام کا آغاز حافظ صلاح الدین ادیبایو صاحب کی پُرسوز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کا ترجمہ جناب نصار بھنّو صاحب نے پیش کیا۔
بعد ازاں صدر پاما یوکے و کورڈینیٹر پاما انٹرنیشنل جناب ٹومی کالن صاحب نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے پاما کے قیام سے لے کر اب تک کے چالیس سالہ سفر کا جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاما نے گذشتہ چار دہائیوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں افریقی احمدیوں کے درمیان اخوت، باہمی تعاون، دینی تربیت اور خدمتِ دین کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ انہوں نے تنظیم کے اغراض و مقاصد، مختلف تبلیغی، تربیتی اور فلاحی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاما آئندہ بھی خلافتِ احمدیہ کی راہنمائی میں اپنی خدمات کو مزید وسعت دے گی۔

اس موقع پر پاما کے قیام کی چالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے مختلف شعبہ ہائے خدمت میں نمایاں خدمات انجام دینے والے کارکنان اور عہدیداران کو pioneerایوارڈ، لانگ سروس ایوارڈ، ڈیڈیکیشن ایوارڈ، ڈسٹنکشن ایوارڈ اور پریزیڈنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ تقریب کا سب سے بڑا اعزاز ’’ڈسٹنگوشڈ لیڈرشپ ایوارڈ‘‘(Distinguished Leadership Award) جناب ٹومی کالن، صدر پاما یوکے وCoordinatorپاما انٹرنیشنل کو ان کی کئی دہائیوں پر محیط غیر معمولی، مخلصانہ اور مثالی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے تاریخی خطاب کی ریکارڈنگ
تقریب کا نہایت ایمان افروز اور تاریخی حصہ ۱۹۸۶ء میں پاما کے قیام کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے افتتاحی خطاب کی ریکارڈنگ تھی، جسے حاضرین نے نہایت توجہ، عقیدت اور خاموشی کے ساتھ سنا۔ اپنے اس بصیرت افروز خطاب میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے پاما کے قیام کے بنیادی اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے افریقی احمدیوں کو باہمی اخوت، محبت اور مضبوط روابط قائم رکھنے کی تلقین فرمائی۔ حضورؒ نے فرمایا کہ تنظیم کے تمام اراکین ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ رکھیں، محبت، تعاون اور باہمی اعتماد کی فضا کو فروغ دیں اور اپنے اتحاد کو اسلام کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بنائیں۔
حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے تبلیغِ اسلام کی اہمیت پر خصوصی زور دیتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ احمدی مسلمان اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے گھروں میں چائے یا کھانے پر مدعو کریں، ان کے ساتھ محبت، اخلاص اور حسنِ اخلاق پر مبنی تعلقات قائم کریں اور اس خوشگوار ماحول میں اسلام احمدیت کا حقیقی پیغام ان تک پہنچائیں۔ حضورؒ نے فرمایا کہ اعلیٰ اخلاق، حسنِ سلوک اور ذاتی نمونہ مؤثر تبلیغ کے بنیادی ذرائع ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جو دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرتے ہیں۔
حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے بالخصوص مختلف افریقی ممالک کے پیراماؤنٹ چیفس، روایتی بادشاہوں اور دیگر بااثر شخصیات سے روابط قائم کرنے کی بھی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ محبت، احترام اور حکمت کے ساتھ پیش کی جانے والی دعوت ان کے لیے اسلام احمدیت کی تعلیمات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ حضورؒ نے مزید نصیحت فرمائی کہ پاما کا ہر رکن تبلیغ کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائے، اعلیٰ اخلاق اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنائے اور اسلام کے پُرامن پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کرے۔
حاضرین نے اس تاریخی خطاب کو نہایت انہماک سے سنا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خلافتِ احمدیہ کی راہنمائی میں خدمتِ دین، تبلیغِ اسلام، خدمتِ انسانیت اور باہمی اخوت کے فروغ کے لیے اپنی مساعی جاری رکھیں گے۔
اختتامی خطاب:آخر پر صدرِ اجلاس الحاج موسیٰ میوا صاحب، امیر جماعت احمدیہ سیرالیون نے اپنے اختتامی کلمات میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر شکر ادا کرتے ہوئے پاما کی گذشتہ چالیس سالہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے تنظیم کے بانی اراکین، سابق و موجودہ عہدیداران اور کارکنان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاما آئندہ بھی خلافتِ احمدیہ کی راہنمائی میں خدمتِ دین، تبلیغِ اسلام، خدمتِ انسانیت اور افریقی احمدیوں کے درمیان اتحاد و اخوت کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے گی۔ بعد ازاں دعا کے ساتھ یہ بابرکت تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
اس تقریب نے پاما کے چالیس سالہ سفر، خلافتِ احمدیہ سے وابستگی، باہمی اخوت اور تبلیغِ اسلام کے عزم کی تجدید کا ایک خوبصورت منظر پیش کیا۔
ایوارڈ یافتگان
پائنیر ایوارڈ
(Pioneer Award)
یہ اعزاز اُن افراد کو پیش کیا گیا جنہوں نے ۱۹۸۶ء میں پاما کے قیام، تنظیم اور اس کی ابتدائی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ایوارڈ یافتگان کے اسماء درج ذیل ہیں:
عیسیٰ ویماہ صاحب، سیڈک بواتینگ صاحب، الحاج ابراہیم عطا اپاؤ صاحب، الحاج حمزہ ادیسانو صاحب، ابراہیم یبواہ صاحب اور مصطفیٰ اشاقو صاحب۔
لانگ سروس ایوارڈ
(Long Service Award)
یہ اعزاز اُن کارکنان کو دیا گیا جنہوں نے کم از کم دس برس تک مسلسل اور فعال خدمات انجام دیں۔
احمد اووسو کونادو صاحب، حکیم ادوماکو مینساہ صاحب، احمد بایے وو صاحب، الحسن بنگورا صاحب، آدم کیلسن صاحب اور شفیق کوسی صاحب۔
ڈیڈیکیشن ایوارڈ
(Dedication Award)
یہ اعزاز اُن کارکنان کو عطا کیا گیا جنہوں نے پاما اور جماعت احمدیہ کی بے لوث، مسلسل اور غیر معمولی خدمات انجام دیں۔
احمد اووسو کونادو صاحب، حکیم ادوماکو مینساہ صاحب، شریف بھنّو صاحب، احمد کواکیے صاحب اور عزیز مافابی صاحب۔
ڈسٹنکشن ایوارڈ
(Distinction Award)
شفیق کوسی صاحب، احمد اووسو کونادو صاحب، حکیم ادوماکو مینساہ صاحب، شریف بھنّو صاحب، مظفر اجیموتی صاحب، ابراہیم انور صاحب، مجید ادیبایو صاحب، آدم کیلسن صاحب، منصور ادوماکو صاحب، صادق باہ صاحب، ابراہیم بونسو صاحب، توبان افرام صاحب، نصیر آدم صاحب، صادق کوانسہ صاحب، عزیز عینا صاحب، ڈاکٹر مصطفیٰ بروس صاحب، عبدالشہید نصیرالدین صاحب، کمال امواکو صاحب، کمال عبداللہ صاحب، سبور طاہر صاحب، اسماعیل لائینی صاحب، ڈاکٹر جبریل شٹو صاحب، ڈاکٹر ابراہیم موتاجو صاحب، ہاشم سلیمان صاحب، ڈاکٹر عمر سانڈا صاحب، عطاء الحق کپنوں صاحب، خالد بھنّو صاحب، نصار بھنّو صاحب، احمد بایے وو صاحب، جمیل موانجے صاحب، نورالدین جہانگیر خان صاحب، عمران اڈو صاحب، حکیم باکارے صاحب، فضل اللہ افولابی صاحب، مبارک اڈیلیکے صاحب اور مظفر اجیموتی صاحب۔
پریزیڈنٹ ایوارڈ
(President Award)
مظفر اجیموتی صاحب
(رپورٹ:آصف بلوچ، طیب احمد۔ نظامت رپورٹنگ جلسہ گاہ)
