خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء

اللہ تعالیٰ نے مہمانوں کی خدمت اور عزّت اور تکریم کا حکم دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل اور قول سے اس بات کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس طرف بار بار توجہ دلائی ہے

دنیا کے ہر ملک میں جہاں جلسہ سالانہ ہوتے ہیں وہاں کے بچے، جوان، مرد اور عورتیں اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ
ہم نے جلسے کے مہمانوں کی خدمت کرنی ہے اور اس کے لیے سب اپنے آپ کو والنٹیئر کے طور پر، رضاکار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو ان دنوں میں ہمارے ہزاروں والنٹیئرز کو مل رہا ہے جن میں بچیاں اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ لڑکے اور مرد بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے بھی شامل ہیں، چھوٹی عمر کے بھی شامل ہیں۔ انہیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اعزاز جو انہیں مل رہا ہے اس کا حق تبھی ادا ہوگا جب مہمان نوازی کا حق ادا کریں گے۔ ہر مہمان سے عزّت و احترام سے پیش آئیں گے۔ خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اور ان کے جذبات کا خیال رکھنے والے ہوں گے

یہاں آنے والے ہر کارکن کو جن میں سے کچھ تو پرانے اور تجربہ کار ہیں لیکن جو نئے ہیں انہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے یہاں آئے ہیں تو پھر اس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور مہمان کا جو حق ہے وہ ادا کریں۔ یہ آپ کے ایمان کے لیے ضروری ہے

مہمان کے کھانے وغیرہ کا انتظام اچھا ہونا چاہیے کیونکہ رات مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام کیا ہے کہ یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوْاالْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ۔
کہ اے نبی !بھوکے اور معتر لوگوں کو کھانا کھلا۔ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’ میرے مرید خواہ وہ غریب ہوں یا امیر ،میرا ان کے ساتھ ایک ہی جیسا تعلق ہے۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

اس بات کا مہمانوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ لنگر کے انتظام کے تحت جو کھانا پکتا ہے، جو بھی ملتا ہے اس کو صبر شکر سے کھا لینا چاہیےاور جب آپ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بلانے پر آئے ہیں اور اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ ہم نے یہاں روحانی مائدہ حاصل کرنا ہے تو روحانی مائدے کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے اور اگر کھانے میں کوئی کمی بیشی ہو بھی جائے تو برداشت کر لینا چاہیے اور مطالبہ نہیں کرنا چاہیے

جو لوگ یہاں آئے ہیں ان کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے جلسے کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔اور جب جلسے کے ان تین دنوں میں شامل ہوئے ہیں تو اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ہم نے جلسے کے پروگراموں کو باقاعدہ سننا ہے اور یہ تین دن اِدھر اُدھر بیٹھ کر گپیں مار کر یا اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے نہیں گزار دینے بلکہ جب بھی جلسے کا پروگرام شروع ہو ہم نے فوری طور پر جلسے کی مارکی کے اندر آ جانا ہے

صبر اور حوصلے اور برداشت سے کام لیں ۔تبھی آپ جلسے کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے

آپ لوگ جو یہاں آئے ہیں آپ کااصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنے اس مقصد کو حاصل کرنا ہے اور تقویٰ کو حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے خاموشی سے بیٹھ کر مَردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی جلسہ سننا ہے اور جب یہ مقصد حاصل ہوگا تبھی آپ ان باتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو جلسے میں کہی جاتی ہیں اور جس مقصد کے لیے جلسہ منعقد کیا جاتا ہے

ہر ایک جو یہاں آیا ہے ایک دوسرے سے محبت سے ملے، پیار سے ملے۔ سلام کو رواج دیں۔ جلسے میں ہر طرف السلام علیکم کا ماحول ہونا چاہیے

تہجد کی بھی خاص طور پہ کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے آپ یہاں آئے ہیں۔ جب یہ حاصل ہوگا تو آپ لوگ اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگیاں سنوارنے والے بن جائیں گے

ہر ایک کو ان دنوں میں اپنے آپ کو کارکن سمجھ لینا چاہیے اور صفائی کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ ماحول بھی صاف رہے

ان دنوں میں بعض نمائشیں بھی لگی ہوئی ہیں ان کو دیکھنے کے لیے بھی آپ لوگوں کو جانا چاہیے اور شوق اور غور سے دیکھیں۔ یہ آپ کے لیے فائدہ مند بھی ہوگا۔ علمی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے اور دینی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے

اللہ کرے کہ آپ سب لوگ اس جلسے میں ہر لحاظ سے، دینی اور روحانی لحاظ سے فائدہ اٹھانے والے ہوں، علمی لحاظ سے فائدہ اٹھانے والے ہوں اور جلسے کی جو برکات ہیں وہ ہمیشہ آپ کی زندگی کا حصہ بنی رہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی زندگی کا حصہ بنی رہیں۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بعثت کا جو مقصد ہے اسے پورا کرنے والے بھی ہوں

ان شاء اللہ شام کو جلسے کا باقاعدہ افتتاح ہوگا ۔اس تقریر کو بھی اور باقی جو مقررین ہیں ان کی تقریروں کو بھی غور سے سنیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں

جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۶ء کے موقع پر کارکنان اور مہمانوں کو زرّیں نصائح

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 24؍جولائی 2026ء بمطابق 24؍وفا ہجری شمسی بمقام حدیقۃ المہدی، آلٹن(ہمپشئر)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج جلسہ سالانہ برطانیہ شروع ہو رہا ہے۔

ملک کے کونے کونے اور دنیا کے مختلف ممالک سے مہمان اس میں شامل ہونے کے لیے آ رہے ہیں یا آئے ہیں۔ یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مہمان ہیں جو خاص دینی مقصد کے لیے یہاں آ رہے ہیں۔ پس

ان مہمانوں کی مہمان نوازی بھی خاص اعزاز رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے

دنیا کے ہر ملک میں جہاں جلسہ سالانہ ہوتے ہیں وہاں کے بچے، جوان، مرد اور عورتیں اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ ہم نے جلسے کے مہمانوں کی خدمت کرنی ہے اور اس کے لیے سب اپنے آپ کو والنٹیئر کے طور پر، رضاکار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

قطع نظر اس کے کہ اب دنیا والوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں، مخلصینِ جماعت اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے پیش کر رہے ہیں اور جیسا کہ مَیں نے کہا بچوں سے لے کر بوڑھوں تک اور مختلف دنیاوی کاموں میں مصروف لوگ ان دنوں میں اپنے کاموں سے رخصت لے کر اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے مہمانوں کی خدمت اور عزّت اور تکریم کا حکم دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل اور قول سے اس بات کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے اس طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسافروں کو ان کا حق دو (بنی اسرائیل:27)۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی مثال قرآن شریف میں درج ہے کہ جب مہمان آپؑ کے پاس آئے تو آپؑ نے مہمانوں کو دیکھ کر یہ نہیں پوچھا کہ کھانا کھاؤ گے یا نہیں کھاؤ گے بلکہ فوری طور پر ایک بچھڑاذبح کیا اور اسے بھون کر پھر مہمانوں کے آگے پیش کیا۔(ھود:70)

اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے، مہمان کا جائز حق ادا کرتے ہیں یا ادا کریں۔ عرض کیا گیا کہ جائز حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن اور رات کی مہمان نوازی ہے۔اور دوسری جگہ یہ بھی روایت ملتی ہے کہ تین دن تک اس کی مہمان نوازی کرو۔

(صحیح البخاری کتاب الادب باب اکرام الضیف و خدمتہ ایاہ بنفسہ حدیث 6135)

یہ تو خاص مہمانوں کے لیے ہے۔ عام طور پہ جو لوگوں کے گھروں میں آتے ہیں بعض دنوں کے لیے آتے ہیں۔ عمومی طور پر جب کوئی مہمان آئےتو اس کی مہمان نوازی کرنی چاہیے۔یہی مسلمانوں کو حکم ہے اور آج کل جلسے کے دنوں میں جو مہمان آ رہے ہیں یہ دُور دراز کے سفر کر کے آ رہے ہیں۔ دوسرے ملکوں سے آرہے ہیں۔ یہ تو تین دن سے زیادہ بھی ٹھہریں گے۔ جماعتی انتظام کے تحت یہ جتنے دن بھی ٹھہریں۔تین سے چار ہفتے تک یا دو سے تین ہفتے تک، جماعت ان کی مہمان نوازی کرتی ہے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا احسان ہے کہ جماعت کے پاس ان کی مہمان نوازی کرنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں کارکن مہیا ہیں جو paidکارکن نہیں ہیں۔ تین سے چار ہفتوں تک رضاکار اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے پیش کرتے ہیں ۔بلکہ مہمان نوازی کا یہاں یوکے میں اتنا بڑا وسیع انتظام ہو گیا ہے کہ سارا سال ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا لنگر چلتا ہے اور اس لنگر میں خدمت کے لیے بہت سے لوگ جن کے اپنے کاروبار ہیں۔ بعضوں کے اپنے ریسٹورنٹ ہیں بعضوں کے کیٹرنگ کے کاروبار ہیں وہ سب لوگ سارا سال ہی مہمانوں کی خدمت کے لیے کچھ نہ کچھ وقت پیش کرتے ہیں اور یہ خصوصیت اب برطانیہ کی جماعت کو اس لیے بھی حاصل ہے کیونکہ یہاں خلافت موجود ہے اور خلیفہ وقت کی موجودگی کی وجہ سے لوگوں کا یہاں آنا جانا بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے مہمان نوازی بھی کرنی پڑتی ہے۔ عمومی مہمان نوازی تو یہاں جاری ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے افراد بڑی خوش اسلوبی سے یہ مہمان نوازی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔ کارکنوں کے علاوہ باقاعدہ والنٹیئر کے طور پر بھی لوگ بہت خدمت انجام دے رہے ہیں جیسا کہ میں نے کہا لیکن بہرحال ان دنوں میں جیسا کہ میں نے کہا یہ جلسے کے دن ہیں ہمیں خاص طور پر مہمانوں کا خیال رکھنا چاہیے اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی یعنی مہمان کی مکمل عزّت اور احترام کرو کیونکہ یہ ضروری ہے ۔ہمارے ایمان کے لیے ضروری ہے۔ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے لیے ضروری ہے۔ ایمان کی یہ بھی ایک شرط ہے کہ ایک مومن مہمان نواز ہوتا ہے۔خوش اخلاق ہوتا ہے۔ اور خوش خلقی سے اپنے مہمانوں سے پیش آتا ہے۔ پس

یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو ان دنوں میں ہمارے ہزاروں والنٹیئرز کو مل رہا ہے جن میں بچیاں اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ لڑکے اور مرد بھی شامل ہیں اور بڑی عمر کے بھی شامل ہیں چھوٹی عمر کے بھی شامل ہیں۔

تو ان سب کو یہ اعزاز مل رہا ہے اور

انہیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اعزاز جو انہیں مل رہا ہے اس کا حق تبھی ادا ہوگا جب مہمان نوازی کا حق ادا کریں گے۔ ہر مہمان سے عزّت و احترام سے پیش آئیں گے۔ خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اور ان کے جذبات کا خیال رکھنے والے ہوں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ مہمان کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں۔اس لیے ان کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد5 صفحہ111 ایڈیشن 2022ء)

پس ہمیں اس بات کوبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم نے مہمانوں کی ہر طرح سے خدمت کرنی ہے۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اس فرض کو ادا کرنے کی حتّی المقدور کوشش بھی کرنی چاہیے تاکہ اس خدمت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بھی ہم سے راضی ہو اور جہاں تک ہو سکے ہم مسیح محمدی کے مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔ہمارے جو کارکنان مہمان نوازی کرتے ہیں یا ہمارے جلسے کے جو انتظامات ہوتے ہیں ان سے اور ان انتظامات سے باہر سے آئے ہوئے غیراز جماعت اور غیر مسلم مہمان بھی بہت متاثر ہوتے ہیں۔ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ اتنے ہزار لوگوں کا کھانا پک رہا ہے اور والنٹیئرزکھانا پکا رہے ہیں۔ پھر ان کو ایک انتظام کے تحت کھلایا بھی جا رہا ہے اور ان کی خدمت بھی کی جا رہی ہے۔ پھر کارکنوں کا ایک پورا نظام ہے جو یہاں چلایا جا رہا ہے جس میں ٹریفک کا نظام بھی ہے ۔کھانا کھلانے کا نظام ہے۔ صفائی کا نظام ہے۔ پکانے کا نظام ہے۔ پانی کی سپلائی کا نظام ہے۔ غرضیکہ بےشمار نظامتیں ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے والنٹیئرز کام کر رہے ہیں اور نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے احسن رنگ میں کام کر رہے ہیں۔ غیر لوگ اسے دیکھ کر بہت متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے۔ پس

یہاں آنے والے ہر کارکن کو جن میں سے کچھ تو پرانے اور تجربہ کار ہیں لیکن جو نئے ہیں انہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے یہاں آئے ہیں تو پھر اس کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور مہمان کا جو حق ہے وہ ادا کریں۔ یہ آپ کے ایمان کے لیے ضروری ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مہمانوں کی کس حد تک خدمت کیا کرتے تھے یاان کا خیال رکھوایا کرتے تھے۔ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مہمانوں کی خاطر تواضع کا بہت خیال رکھتے تھے ۔حافظ حامد علی صاحب ؓلنگر کے مہمانوں کا خیال رکھنے کے لیے مقرر کیے گئے تو آپؑ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں توجہ دلاتے تھے کہ ان مہمانوں کا خاص خیال رکھو اور عام دنوں میں مہمانوں کی حیثیت کے مطابق ان کی خدمت بھی کرو۔

(ماخوذ از ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 195)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے عام دنوں میں جماعت کے جو مہمان آتے ہیں جہاں تک ہو سکے جماعت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ان کی خدمت کرتی ہے لیکن جلسے کے دنوں میں اس طرح خیال نہیں رکھا جاسکتا۔ یہاں ایک عمومی مہمان نوازی ہوتی ہے۔اس لیے اس میں بھی بہت زیادہ احتیاط کی اور خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایک صحابی ؓکہتے ہیں کہ غالباً 1902ء میں جب میں ایمن آباد سے قادیان آ رہا تھا تو قادیان کے سفر کے انتظار میں لاہور سٹیشن میں بیٹھا تھا وہاں مجھے ایک دوست مل گئے۔ خیرہم دونوں نے قادیان کے لیے سفر شروع کیا۔ راستے میں بہت بارش ہوتی رہی۔ بٹالہ پہنچے بڑے زور کی بارش ہو رہی تھی ۔بہرحال ہم نے وہاں اتر کے ٹانگہ یا یکہ کرائے پر لیا۔قادیان کے لیے روانہ ہو گئے۔ قادیان کے قریب پہنچے تو اس وقت کہتے ہیں شاید بارش رک گئی۔ بہرحال وہ کہتے ہیں کہ دارالامان ہم پہنچے اور ہمارے پہنچنے پر ہم دونوں کو حضرت اقدسؑ کے حکم سے اس کمرے میں جگہ دی گئی جو ان دنوں میں جب کا یہ واقعہ وہ بیان کر رہے ہیں ایک بک شاپ تھی۔ بہرحال کہتے ہیں کہ صبح ناشتے کے وقت ہمیں بڑا عمدہ ناشتہ کروایا گیا۔ کھانا بھی بڑا پُر تکلف کھلایا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بار بار شاہ صاحب اور جو دوسرے مہمان ان کے ساتھ تھے، سے یہ پوچھتے اگر آپ کو کوئی تکلیف ہو تو بتائیں۔کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ اسی طرح ان کو بھی پوچھتے تھے۔ تو آپؑ مہمانوں کا بہت حد تک اور انتہائی درجے کا احترام کیا کرتے تھے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 155)

پھر اسی طرح بھیرہ کے منظور احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد بزرگوار بہت پہلے کے احمدی ہیں۔ 1894ء میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ پہلی دفعہ حضرت خلیفہ اوّلؓ سے ملنے کے لیے قادیان آئے اور مع والدہ کے اسی وقت بیعت بھی کر لی۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ اوّلؓ میرے دادا سے بچپن میں پڑھتے رہے تھے ۔اور جو میرے دادا تھے ان کی جو تیسری بیوی تھیں وہ حضرت خلیفہ اوّلؓ کی منہ بولی بہن بھی تھیں۔ کہتے ہیں کہ مَیں نے والد بزرگوار سے پوچھا کہ کوئی واقعہ آپ کو یاد ہے جب اس زمانے میں آپ آیا کرتے تھے ۔تو آپ نے بتایا کہ ہم آٹھ آدمی ایک دن حضورؑ کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے مسجد مبارک میں تھے جو اس وقت ابھی پہلی حالت میں تھی۔ ہم مسجد میں کھانا کھا رہے تھے۔ اس وقت بہت چھوٹی سی مسجد تھی۔ اور مہمانوں کے بیٹھنے کی کوئی جگہ تو تھی نہیں۔ آپؑ وہیں بٹھایا کرتے تھے۔ ایک صف میں آٹھ دس آدمی کھڑے ہوتے تھے۔ خود حضرت خلیفہ اوّلؓ بھی اس مجلس میں شامل تھے۔ کہتے ہیں کہ دو قسم کا سالن تھا۔گھر سے پک کے آیا کرتا تھا اور دونوں میں گوشت تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی پلیٹ میں سے، اپنے سالن سے بوٹی اٹھا کر بار بار دوسروں کے سالن میں رکھ دیتے تھے۔ اپنی پلیٹ میں جب بھی کوئی بوٹی آتی تو اس کو دوسروں کے سالن میں رکھ دیتے اور خلیفہ اوّلؓ کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ وہ بھی آپؑ کو دیکھ کے مہمانوں کی خاطر اسی طرح کیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ مہمان کسی چیز کی خواہش کر دیتے تھے۔ ایک دفعہ ایک مہمان نے کھانا کھانے کے دوران خواہش کی کہ آم کھانے کو دل چاہ رہا ہے۔ آپؑ نے کہا کہ کھانے کے ساتھ آم کھانے کا بڑا اچھا خیال تمہارے دل میں آیا ہے۔ تو کسی دوسرے نے جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے مہمانوں میں سے یا وہاں کے مقامی لوگوں میں سے، انہوں نے کہا کہ میں جاکربازار سے ابھی آم لے آؤں؟ حضورؑ نے فرمایا :نہیں! بیٹھو۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک پارسل آیا اس میں کسی نے آم بھیجے ہوئے تھے اور آٹھ آم تھے۔ آدمی بھی آٹھ تھے اور جو پارسل آیا اس میں آم بھی آٹھ تھے۔ حضورؑ نے ایک ایک آم ہر ایک کو دیا اور اپنا جو آم تھا اپنے حصے میں آیا وہ بھی کاٹ کے لوگوں کو پیش کرتے رہے اور مہمان نوازی فرماتے رہے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 204-205)

اسی طرح حضرت بدر دین صاحبؓ مالیر کوٹلہ کے تھے وہ کہتے ہیں کہ ایک روز عاجز اپنے والد صاحب کے ہمراہ بورڈنگ والے کنویں سے پانی نکال رہا تھا۔ رات کے نو بج چکے تھے اور نماز عشاء بھی ہو چکی تھی۔ حضورؑ اپنے ہاتھ پر ایک پیالہ جس میں دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی اٹھائے کنویں پر آگئے اور آ کر میرے والد صاحب سے فرمانے لگے: بابا جی !کوئی مہمان بھوکا ہے؟ اس پر والد صاحب نے کہا کہ حضور !میاں نجم الدین تو سب جگہوں پر دریافت کر کے آ گئے ہیں۔ سب نے کھانا کھا لیا ہے۔ تب حضورؑ نے فرمایا :اچھا پھر میرے ساتھ چلو۔ تب ہم دونوں باپ بیٹا حضورؑ کے ساتھ ہو لیے۔ جب مہمان خانے میں جا کر مہمانوں سے معلوم کیا تو کوئی نہ ملا۔ سب نے کھانا کھایا ہوا تھا۔ پھر کہتے ہیں وہاں شیر محمد کی ایک دکان تھی۔ اس وقت کھلی ہوئی تھی ہم اس کے پاس پہنچے تو وہاں ایک صاحب نے کہا کہ حضور! مَیں نے تو دودھ ڈبل روٹی کھانی ہے۔ اس پر حضورؑ نے وہ پیالہ اس کو دے دیا۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 3صفحہ 285)

اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ سے ان کو کھلانا تھا اور ان کی ضرورت بھی تھی۔ حضورؑ کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ڈالا کہ جاؤ مہمانوں کو کھلاؤ اور پھر آپؑ اس مہمان کی خدمت کے لیے لے آئے۔

تو اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں جو آپؑ کی زندگی میں ملتے ہیں۔ عام حالات میں بھی آپ مہمان نوازی فرمایا کرتے تھے۔ اس لیے کہ مہمان کی تکریم، عزّت اور احترام کا ذکر ہے۔بھوکے کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے۔ضرورت مند کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔

اسی طرح حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جلسے کے موقع پر ایک رات بطور جماعت کے سیکرٹری کے صدر انجمن کے اجلاس میں مَیں نے جانا تھا۔ مغرب اور عشاء کے جلسے کے بعد اجلاس ہوتا تھا صرف جماعتوں کے عہدیدار آتے تھے ان سے میٹنگ ہوتی تھی۔ کہتے ہیں مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں اجلاس ہونا تھا اور وقت تھوڑا تھا تو میں نے کہا کھانا میں بعد میں کھا لوں گا ۔گو کہ اس وقت مجھے بھوک بھی لگی ہوئی تھی اور صبح آٹھ بجے سے میں نے کھانا کھایا ہوا تھا لیکن کہتے ہیں کیونکہ جماعتی ذمہ داری تھی اس لیے بہرحال مَیں نے کہا کہ اب کھانا بعد میں کھا لوں گا۔ جب میٹنگ ختم ہوئی تو رات کو دیر سے مَیں لنگر خانے پہنچا تو اس وقت 11 بج گئے تھے اور مجھے شدید بھوک لگی ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب مَیں اپنی جماعت کے لوگوں میں گیا اور وہاں کھانے کا پتہ کیا تو پتہ لگا کہ کھانا تو ختم ہو گیا ہے۔ کہتے ہیں اس وقت کھانا تو ختم ہوگیا۔ تو وہاں ہمارے ایک دوست گئے اور دسترخوان میں سے ایک روٹی کا ٹکڑا لے کر آگئے کہ لنگر خانہ تو اب بند ہو گیا ہے اس ٹکڑے کو آپ کھا لیں۔ اسی پہ گزارا کریں آج۔ تو کہتے ہیں میں نے بھی اس ٹکڑے کو چبانا شروع کر دیا۔ ابھی مَیں نے اس ٹکڑے کوختم نہیں کیا تھا کہ ہمارے کمرے کے دروازے پر ایک زبردست دستک ہوئی۔ زور سے کسی نے کھٹکھٹایا اور آواز آئی کہ کوئی مہمان بھوکا ہے جس نے کھانا نہ کھایا ہو تو وہ آ جائے اور چل کر لنگر خانے میں کھانا کھا لے ۔خاکسار کے ساتھیوں نے مجھے بھی نکال باہر کیا اور لنگر میں پہنچ کر جو کچھ ملا بعد شکر کھایا۔ کہتے ہیں کہ اگلے روز دن کے 10 بجے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسجد مبارک کے چھوٹے زینے کے دروازے پر مَیں نے کھڑے ہوئے دیکھا اور خدام کو گلی میں حضورؑ کی طرف رخ کیے کھڑے دیکھا۔ حضورؑ ان سے مخاطب تھے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحبؓ بھی وہاں موجود تھے۔ حضورؑ جوش کے ساتھ ارشاد فرما رہے تھے کہ

مہمان کے کھانے وغیرہ کا انتظام اچھا ہونا چاہیے کیونکہ رات مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام کیا ہے کہ یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ اَطْعِمُوْاالْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ۔کہ اے نبی !بھوکے اور معتر لوگوں کو کھانا کھلا۔

چنانچہ مجھے معلوم ہوا کہ آدھی رات کو جو میرا جگانا تھا اس الہام کی بناء پہ تھا۔ رات کو جو دستک ہوئی اور کسی نے مجھے کھانا کھلایا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا تبھی انہوں نے بھیجا تھا۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 155-156)

(تذکرہ صفحہ 631)

تو یہ نیک لوگ تھے جن کی بھوک کی تکلیف کو اللہ تعالیٰ بھی محسوس کرتا تھا اور پھر اپنے نبی کو اطلاع دے دیتا تھا۔ وہاں تو ایسے انتظام تھے کہ انتظام ہو گیا لیکن یہاں ہمارے جلسے کی انتظامیہ کو چاہیے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ جو مہمان لیٹ آتے ہیں بعض دفعہ رات کو سفر کر کے دور دراز سے آئے ہوتے ہیں۔یورپ کے سفر سے آئے ہیں۔بعض دفعہ فیری لیٹ ہو گئی۔ بعض دفعہ جہاز لیٹ ہو گیا ۔بعض دفعہ سفر میں ٹریفک میں پھنس گئے تو ان کے لیے کھانے کا انتظام ہونا چاہیے ۔لیکن یہ احتیاط ہو کہ کھانا صحیح حالت میں ہو۔ یہ نہ ہو کہ گرمی کی وجہ سے کھانا خراب ہو گیا ہو اور آپ باسی کھانا کھلا دیں اور وہ کسی بیماری کا باعث بن جائے۔ اس لحاظ سے بھی مہمان کی مہمان نوازی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا خیال بھی رکھنا ہے اور اچھا اور عمدہ کھانا بھی کھلانا ہے۔

ایک دفعہ ’’حضورؑ نے فرمایا سب آنے والوں کو ایک ہی قسم کا کھانا کھلاؤ۔‘‘ یعنی جلسے پر آنے والے لوگوں کو ایک ہی قسم کا کھانا کھلاؤ۔ کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہیے۔’’اس پر خواجہ صاحب یا کسی اَور نے عرض کیا کہ حضوربعض غرباء ایسے بھی آتے ہیں جن کو اپنے گھر میں دال بھی میسّر نہیں آتی‘‘ وہ تو دال بھی نہیں کھا سکتے۔ چٹنی سے روٹی کھا لیتے ہیں۔’’اس لیے ان کو یہاں دال کھلانا معیوب نہیں‘‘ہے۔ ان کے لیے سالن گوشت پکانے کی ضرورت نہیں۔ دال بھی کھلا دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ان کے لیے گوشت کا سالن بنایا جائے۔’’حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ گو ان کو گھر میں دال نہ ملتی ہو لیکن جب دوسروں کو گوشت یا پلاؤ کھاتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کو کھانے کی خواہش ضرورپیدا ہوگی اور بصورت نہ ملنے کے ان کی دل شکنی ہوگی۔‘‘ یہ تو مہمان کی دل شکنی ہے کہ ایک طرف ایک مہمان کو بیٹھے تم گوشت کھلا رہے ہو اور دوسرے کو کہہ دو کہ دال کھاؤ۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ آپؑ نے فرمایا:

’’ میرے مرید خواہ وہ غریب ہوں یا امیر ،میرا ان کے ساتھ ایک ہی جیسا تعلق ہے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 65)

اس لیے ایک ہی قسم کا کھانا پکاؤ۔ گوشت پلاؤ وغیرہ دو تو سب کو دو اور دال دوتو پھر سب کو دو۔ ہاں! اگر تمہارے پاس گنجائش نہیں ہے اور دال کھلانی ہے تو پھر سب کو دال ملے گی۔یہ نہیں ہے کچھ کو گوشت دے دو اور کچھ کو دال کھلا دو۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے طریق تھے۔ آپؑ کے اسلوب تھے۔ آپؑ کی نصیحت کرنے کے انداز تھے اور آپؑ کی مہمان نوازی کے طریقے تھے۔

حضرت چودھری عبدالرحیم صاحبؓ  بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اقدسؑ نے مجھے پانچ سو روپے عطا کیے اور فرمایا کہ جلسے کا انتظام آپ کے سپرد ہے لیکن یاد رہے کہ تمام احباب کے ساتھ صرف ایک ہی قسم کا سلوک کرنا ہے اور ایک ہی قسم کا کھانا ہر ایک کے لیے تیار کرنا ہے۔ عام حالات میں تو مختلف کھانے پک جاتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا لیکن ان دنوں میں آپؑ نے کہا ایک کھانا پکے گا تو بعض لوگوں نے حکیم فضل دین صاحب کا نام لیا اور عرض کی کہ وہ زیادہ تجربہ کار ہیں یہ انتظام ان کو دے دیں۔ وہ زیادہ اچھے طریقے سے کر لیں گے مگر حضورؑ نے کوئی جواب نہیں دیا اور چودھری عبدالرحیم صاحب کو ہی فرمایا کہ آپ یہ انتظام کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دوران میں خواجہ کمال الدین صاحب میرے پاس آئے اور مجھے کہنے لگے کہ میرے لیے چاول تیار کرا دو کیونکہ حضورؑ نے تمہیں کھانے کا انتظام دیا ہے۔ کہتے ہیں مَیں نے انہیں کہا کہ مجھے تو حضرت صاحب ؑکا یہ حکم بھی ہے کہ سب کے لیے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کروایا جائے۔ اس لیے اگر چاول کھانا چاہتے ہیں تو پھر اجازت لے کے آئیں۔ خواجہ صاحب کہنے لگے کہ چاولوں کے لیے کیا اجازت مانگوں ۔تو مَیں نے کہا تو پھر مَیں بھی حضور ؑکی اجازت سے بغیر چاول کا ایک دانہ بھی نہیں دے سکتا۔ اس پر وہ بڑے ناراض ہوئے اور کہتے ہیں کہ جب تک یہاں رہے مجھ سے ناراض ہی رہے۔

(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 333)

بہرحال

اس بات کا مہمانوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ لنگر کے انتظام کے تحت جو کھانا پکتا ہے، جو بھی ملتا ہے اس کو صبر شکر سے کھا لینا چاہیے اور جب آپ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بلانے پر آئے ہیں اور اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ ہم نے یہاں روحانی مائدہ حاصل کرنا ہے تو روحانی مائدے کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیے اور اگر کھانے میں کوئی کمی بیشی ہو بھی جائے تو برداشت کر لینا چاہیے اور مطالبہ نہیں کرنا چاہیے۔

بعض لوگ اگر بہت زیادہ مطالبہ نہ بھی کریں تو پھر بازاروں میں جا کر وہاں کھانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر وہاں دیر تک دکانیں کھلی رہتی ہیں۔ پھر انتظامیہ کو دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور آج کل کے جو حالات ہیں خاص طور پر موسم کے حالات، خشک موسم ہے اس میں وہاں باہر کھانا پکانا اور بعض دفعہ دیر تک بیٹھے رہنا جبکہ انتظامیہ کے بعض شعبے اپنا کام بھی سمیٹ لیتے ہیں اور پوری طرح نگرانی نہیں ہوتی۔ یہ بعض دفعہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس لیے

مہمان بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ ان تین دنوں میں جو بھی مل جائے اس کو صبر اور شکر سے کھا لیں اور کسی قسم کا ایسا اظہار نہ کریں کہ یہ چیز ہمیں پسند نہیں اور ہم نے نہیں کھانی۔

ساتھ ہی مَیں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ

کھانے کو کبھی ضائع بھی نہ کریں۔ جتنا ملے یا جتنا لیں تو اس کو اتنا ہی لیں جو آپ کھا سکتے ہوں

اور جیسا کہ میں نے کہا

اصل چیز روحانی غذا ہے جس کی خاطر ہم جلسے میں آئے ہیں اور ہم نے یہاں اپنی روحانی زندگی کو بہتر کرنے کی طرف زیادہ توجہ دینی ہے۔ خوراک تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہے وہ مل ہی جاتی ہے۔ تین دن تک انسان صبر و شکر سے کم یا تھوڑا کھانے پر یا ایسی چیز کھانے پر جو بعض دفعہ پسند نہیں بھی ہوتی گزارا کر ہی لیتا ہے۔

اسی طرح شیخ زین العابدین صاحب کہتے ہیں کہ حضورؑ کے زمانے میں مہمانوں کے لیے کھانے کا خاص اہتمام ہوا کرتا تھا۔ عام حالات میں حضورؑ کو مہمانوں کی مدارات کا خاص خیال رہتا تھا۔ کہتے ہیں میرے بھائی حافظ حامد علیؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ غالباً جلسہ سالانہ کا موقع تھا۔ چاولوں کی چار دیگیں پکی ہوئی تھیں۔ اس زمانے میں چار دیگیں بھی بہت ہوتی تھیں۔ دو زردے کی اور دو پلاؤ کی۔ ایک دن حضرتؑ علی الصبح لنگر خانے میں گئے اور باورچی کو کہا کہ ڈھکنا اٹھاؤ ہم چاول دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس نے ڈھکنا اٹھایا حضور کو خوشبو اچھی نہیں لگی۔ لگا کہ اس میں کوئی سڑاند سی پیدا ہو گئی ہے۔ اس پر حضورؑ نے دوسری دیگیں بھی دیکھیں اور فرمایا کہ زردے کی دونوں دیگیں ٹھیک نہیں ہیں۔ ان کو ڈھاب میں پھینک دو۔ یہ انسانوں کے کھانے کے قابل نہیں ہیں۔اور فرمایا کہ جب ہمیں ان کی خوشبو پسند نہیں اور اس میں مزہ بدلا لگ رہا ہے۔ اس کا مزہ بھی اور بُو ایسی آ رہی ہے جو برداشت کرنا مشکل ہے تو مہمانوں کو کیسے پسند آئے گی؟ اس لیے یہ نہیں ہو سکتا کہ جو چیز مجھے پسند نہیں مَیں مہمانوں کو کھلا دوں۔ اس لیے اس کو ڈھاب میں پھینک دو اور ضائع کر دو وہاں جانور کھا لیں گے۔

(ماخوذ از روایات صحاب احمد جلد 1 صفحہ 103)

یہ احتیاط تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی۔اس لیے کھانا پکانے کی ڈیوٹی والے جو کارکنان ہیں انہیں بھی احتیاط کرنی چاہیے کہ ان دنوں میں خاص طور پر آج کل کیونکہ گرمی کا موسم ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ کھانے کا انتظام ایسا ہونا چاہیے کہ کھانا صحیح طرح محفوظ رہے اور دیر تک پڑا نہ رہے اور خاص طور پر دال وغیرہ جس میں جلدی سڑاند پیدا ہو جاتی ہے وہ دیر تک رکھ کر مہمانوں کو نہ کھلائیں۔ اس کا خیال رکھیں اور پہلے کھانے کو اچھی طرح چیک کر لیا کریں۔

اسی طرح باقی شعبہ جات ہیں۔ وہاں بھی ہر شعبے کے کارکن کو کوشش کرنی چاہیے کہ حتّی الوسع مہمان کے آرام کا خیال رکھیں۔ غسل خانوں کی صفائی کا شعبہ ہو، ٹریفک کا شعبہ ہو، پارکنگ کا شعبہ ہو یا سیکیورٹی کا شعبہ ہو۔ وہاںسیکیورٹی تو ہونی چاہیے لیکن لوگوں کے ساتھ احتیاط اور عزّت و احترام سے پیش آئیں۔ سیکیورٹی والے کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ غلط قسم کا ایسا رویّہ اختیار کرے جس سے مہمان کو تکلیف ہو اور وہ سمجھیں کہ مجھ سے سخت کلامی سے پیش آیا گیا ہے۔ پس ہمیں ان باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے اور یہاں جلسہ گاہ کے اندر خاموش کرانے کا جو انتظام ہے اس میں بھی ڈسپلن کو قائم رکھنے کے لیے احتیاط سے کام لیں۔ عورتوں کی طرف بھی خاص طور پہ۔

اسی طرح مَیں مہمانوں کو بھی جو یہاں جمع ہوئے ہیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ جب ہم سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے یہاں جمع ہوئے ہیں تو اس کا ایک مقصد ہے۔ بےشک آج کل کے سفر کی صعوبتیں اور تکلیفیں اتنی نہیں ہیں جو پرانے زمانے میں تھیں لیکن سفر بہرحال سفر ہی ہے۔

جو لوگ یہاں آئے ہیں ان کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے جلسے کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔اور جب جلسے کے ان تین دنوں میں شامل ہوئے ہیں تو اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ہم نے جلسے کے پروگراموں کو باقاعدہ سننا ہے اور یہ تین دن اِدھر اُدھر بیٹھ کر گپیں مار کر یا اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے نہیں گزار دینے بلکہ جب بھی جلسے کا پروگرام شروع ہو ہم نے فوری طور پر جلسے کی مارکی کے اندر آ جانا ہے ۔

یا جہاں بھی زائد لوگوں کے لیے یا بعض مخصوص جگہوں پہ عورتوں اور مردوں اور بچوں کے لیے بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا ہے وہاں بیٹھ کر ہم نے احترام سے جلسہ سننا ہے۔ اسی طرح عورتوں کے لیے بچوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے جو علیحدہ جگہ بنائی گئی ہے وہاں عورتوں کو بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ کر جلسہ سنیں۔ بچوں میں بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں آپس میں باتیں کرنے لگ جائیں۔حتّی الوسع کوشش کریں کہ صرف بچے کو خاموش کرانے یا اسے بہلانے کے لیے بولنا پڑے تو بولنا ہے۔اگر چھوٹا بچہ رو پڑا ہے تو اسے چُپ کرانے کے لیے کوئی طریقہ اختیار کرنا ہے تو یہ کریں لیکن جب ماؤں کی آپس میں باتیں شروع ہو جائیں تو اس سے بہرحال ایک شور پڑ جاتا ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے باقی لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں جو بیٹھے ہوتے ہیں اور کئی شکایتیں بھی آتی ہیں کہ بچے تو کم شور مچاتے ہیں لیکن عورتیں آپس میں باتیں کرنے لگ جاتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم بچوں کی مارکی میں بیٹھی ہیں تو ہمارے لیے باتیں کرنا جائز ہے حالانکہ یہ جائز نہیں ہے ۔یہ انتظام اس لیے ہے تاکہ دوسرے لوگ جن کے بچے ساتھ نہیں ہیں وہ آرام سے جلسہ سن سکیں اور خود بچوں کی مائیں بھی آرام سے بیٹھ کر سن سکیں۔ اس لیے کوشش یہی کریں کہ حتّی الوسع کم سے کم بات کریں۔

اسی طرح گو کہ جلسے کے پروگرام کے دوران بازار تو بند ہوتے ہیں لیکن پھر بھی عام وقت میں

جب بازار کھلے ہوتے ہیں تو وہاں بھی مہمان ڈسپلن کا خیال رکھیں

اور احتیاط کریں اور کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے وہاں کا ماحول خراب ہوتا ہو۔ صبر اور حوصلے سے اپنی چیزیں خریدنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ بعض دفعہ رش پڑ جاتا ہے دکان ایک ہوتی ہے، سٹال ایک ہوتا ہے اور اس میں دیر لگ جاتی ہے لیکن ایسی حالت میں بھی لوگوں کو چاہیے کہ

صبر اور حوصلے اور برداشت سے کام لیں ۔ تبھی آپ جلسے کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کیسے احمدی چاہتے تھے۔ اس بارے میں آپؑ نے فرمایا کہ

وہ لوگ بنو جو تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں اور نیکیاں بجا لانے والے ہیں کیونکہ بغیر تقویٰ کے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 6صفحہ 298-299)

پس

آپ لوگ جو یہاں آئے ہیں آپ کااصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنے اس مقصد کو حاصل کرنا ہے اور تقویٰ کو حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے خاموشی سے بیٹھ کر جلسہ سننا ہے۔ مردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی اور جب یہ مقصد حاصل ہوگا تبھی آپ ان باتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو جلسے میں کہی جاتی ہیں اور جس مقصد کے لیے جلسہ منعقد کیا جاتا ہے۔

اس کے لیے

ہر ایک جو یہاں آیا ہے ایک دوسرے سے محبت سے ملے، پیار سے ملے۔ سلام کو رواج دیں۔ جلسے میں ہر طرف السلام علیکم کا ماحول ہونا چاہیے۔

جلسے کے پروگرام ختم ہونے کے بعد جب آپس میں ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو محبت اور پیار سے ملیں۔ اگر کسی کی پرانی رنجشیں بھی ہیں تو ان کو دور کر دیں اور حتّی الوسع یہ کوشش کریں کہ ہم نے کوئی ایسا فعل نہیں کرنا جس سے ماحول میں بدمزگی پیدا ہو۔ بعض لوگوں میں برداشت نہیں ہوتی۔ ایسے بھی لوگ ہیں۔یہ نہیں کہ سو فیصد لوگ بڑے صبر اورحوصلے والے ہیں۔ بعض دفعہ لوگوں میں برداشت کے مادے بہت کم ہوتے ہیں لیکن ان کو چاہیے کہ ان دنوں میں تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اپنی برداشت کے مادے کو بڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ذاتی رنجشوں کو ختم کریں یا کم از کم ذاتی رنجشوں کو ماحول میں بدمزگی کا ذریعہ نہ بنائیں اور انتظامیہ کو بھی مشکل میں نہ ڈالیں۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ جس نیک مقصد کے لیے آپ آئے ہیں اسی کو آپ نے پورا کرنا ہے اگر یہ نہیں تو پھر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

یہاں نمازوں کا باقاعدہ انتظام تو ہے لیکن جو لوگ لمبا قیام کر رہے ہیں جماعتی قیام گاہوں میں رہ رہے ہیں جلسے کے بعد بھی انہیں نمازوں کی طرف باقاعدہ توجہ دینی چاہیے اور باجماعت نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان دنوں میں جو یہاں ٹینٹوں میں رہ رہے ہیں یا مارکیوں میں رہ رہے ہیں ان سب کو چاہیے کہ یہاں تین دنوں میں تہجد بھی ہوتی ہے ۔تہجد کے وقت جب اٹھایا جائے تو اٹھنا چاہیے۔ اس طرف خاص توجہ دیں اور نمازوں کی باقاعدگی تو خیر ہے ہی۔

تہجد کی بھی خاص طور پہ کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے آپ یہاں آئے ہیں۔ جب یہ حاصل ہوگا تو آپ لوگ اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگیاں سنوارنے والے بن جائیں گے۔

اسی طرح پارکنگ وغیرہ کی طرف بھی توجہ دلا دوں کہ پارکنگ میں بھی انتظامیہ جس طرح رہنمائی کرے اس کے مطابق کار پارک کریں اور چیکنگ کے وقت جو کارز وغیرہ کی چیکنگ ہے وہاں بھی اگر لمبا queue لگ رہا ہے تو احتیاط ،صبر اور حوصلے سے اپنی باری کا انتظار کریں اور چیکنگ کروا کر آئیں۔ جلد بازی سے کام نہ لیں۔ مہمانوں کو چاہیے کہ میزبان کے لیے یا انتظامیہ کے لیے کسی قسم کی دقّت کا باعث نہ بنیں۔

اسی طرح مہمانوں کو بھی اور ڈیوٹی والوں کو بھی ایک اَور چیز کا خیال رکھنا چاہیے کہ خاص طور پر آجکل ملک کے جو حالات ہیں اور غیروں میں مسلمانوں کے خلاف بعض دفعہ جو بغض اور کینہ پایا جاتا ہے اس کے لیے ماحول پر نظر رکھیں اور احتیاط کریں ۔کسی بھی مشکوک چیز یا شخص کو دیکھ کر فوراً انتظامیہ سے رابطہ قائم کریں اور جلسے میں بیٹھ کر بھی ایک دوسرے پر نظر رکھیں۔

اسی طرح ان دنوں میں خاص طور پر کیونکہ موسم بڑا خشک ہے پہلے بھی میں نے کہا تھا آگ لگنے کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے اس لیے جو انفرادی یا اجتماعی قیام گاہیں ہیں وہاں کسی قسم کی آگ نہ جلائیں۔ نہ ماچس کی تیلی جلائیں۔ اس کے لیے اگر ضرورت پڑے تو پھر انتظامیہ سے رابطہ کر کے اس جگہ پر چلے جائیں جہاں انہوں نے یہ انتظام کیا ہوا ہے کہ وہاں اگر آگ جلا لی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن ہر جگہ بیٹھ کر کسی بھی قسم کی چنگاری سے پرہیز کریں اور احتیاط کریں کیونکہ اس کی وجہ سے کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔

اسی طرح کل میں نے کارکنوں کو بھی کہا تھا کہ پرانی کاروں والے بھی احتیاط کریں۔ مہمان بہت سارے ایسے ہیں جن کے پاس پرانی کاریں ہیں اور ان کے انجن گرم ہو جاتے ہیں اگر وہ گھاس کی جگہ پہ کھڑے ہوں تو وہاں آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض دفعہ بعض کاروں میں سے، پرانی کاروں میں سے تیل ٹپک رہا ہوتا ہے تو ان کو بھی احتیاط کرنی چاہیے اور پارکنگ کے وقت انتظامیہ کو بھی بتا دینا چاہیے کہ میری کار کا یہ نقص ہے اس لیے کسی ایسی جگہ کھڑا کرو جہاں محفوظ رہے۔

صفائی کا بھی خیال رکھیں۔

جہاں انتظامیہ کوشش کرتی ہے کہ ٹوائلٹس وغیرہ کی صفائی کرے وہاں خود بھی جب غسل خانوں کو استعمال کریں تو اس کی صفائی کر کے آیا کریں نہ یہ کہ پانی فرش پر بہ رہا ہے اور گند پڑا ہوا ہے۔ مہمان کو بھی یہ کوشش کرنی چاہیے کہ حدیث کے مطابق صفائی پر خاص توجہ دیں کیونکہ صفائی بھی ایمان کا ایک حصہ ہے اور ہم تو یہاں آئے ہی ایمان بڑھانے کے لیے ہیں۔ اس لیے صفائی کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ہر ایک کو ان دنوں میں اپنے آپ کو کارکن سمجھ لینا چاہیے اور صفائی کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ ماحول بھی صاف رہے۔

اپنے ایمان کے معیاروں کو اونچا کرنے کی طرف توجہ دیں۔ ان دنوں میں ذکر الٰہی پر زیادہ زور دیں۔ فارغ وقت میں جہاں بیٹھے ہیں درود شریف، دعاؤں اور استغفار کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ فضول باتیں کرنے کی بجائے ذکر الٰہی یا دینی گفتگو کریں۔ اس طرح

ان دنوں میں بعض نمائشیں بھی لگی ہوئی ہیں ان کو دیکھنے کے لیے بھی آپ لوگوں کو جانا چاہیے اور شوق اور غور سے دیکھیں۔ یہ آپ کے لیے فائدہ مند بھی ہوگا۔ علمی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے اور دینی لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے۔

پس اگر یہ چیزیں ہوں گی تو ان شاء اللہ تعالیٰ آپ جلسے سے بھرپور فائدہ اٹھانے والے ہوں گے۔

اللہ کرے کہ آپ سب لوگ اس جلسے میں ہر لحاظ سے، دینی اور روحانی لحاظ سے فائدہ اٹھانے والے ہوں۔ علمی لحاظ سے فائدہ اٹھانے والے ہوں اور جلسے کی جو برکات ہیں وہ ہمیشہ آپ کی زندگی کا حصہ بنی رہیں اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی زندگی کا حصہ بنی رہیں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بعثت کا جو مقصد ہے اسے پورا کرنے والے بھی ہوں۔

ان شاء اللہ شام کو جلسے کا باقاعدہ افتتاح ہوگا ۔ اس تقریر کو بھی اور باقی جو مقررین ہیں ان کی تقریروں کو بھی غور سے سنیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں

اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button