قرآن میں مذکور جانور
دادی جان! آج تو ہمیں کوئی مزے کی کہانی سنائیں! احمد نے صوفے پر اچھلتے ہوئے کہا۔
اور ساتھ میں کوئی گیم بھی ہونی چاہیے ! محمود نے فوراً بات بڑھائی۔
گڑیا اپنی رنگ برنگی کتاب سینے سے لگائے بولی،اگر انعام بھی ملے تو اور بھی مزہ آئےگا۔
دادی جان ان کی فرمائش سُن کر مسکرائیں اور اپنی عینک سیدھی کرتے ہوئے بولیں: آج کی کہانی ایک ایسا ٹاسک ہے جسے کرتے ہوئے آپ کو بہت مزہ آئے گا۔
تینوں بچوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
کہانی اور ٹاسک … اور وہ بھی مزے کا؟ احمد نے آنکھیں پھیلاتے ہوئے پوچھا۔
دادی جان:ہاں بھئی! آج کا ٹاسک یہ ہے کہ آپ تینوں قرآنِ کریم میں جن جانوروں کا ذکر آیا ہے، ان کے نام تلاش کریں اور جو بچہ زیادہ جانور وں کے نام بتائے گا، اُس کو انعام ملے گااور میں آپ کو اس جانور کے ذکر کی وجہ بتاؤں گی۔ دیکھتے ہیں، آج سب سے زیادہ جواب کون دیتا ہے؟
واہ! تینوں بچے ایک ساتھ بولے،یہ تو بہت مزے کا مقابلہ ہوگا!
احمد نے سب سے پہلے ہاتھ کھڑا کیا۔دادی جان! قرآن میں گائے کا ذکر آیا ہے…
دادی جان :بالکل صحیح۔ گائے کا ذکر نام سے ظاہر ہےسورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ فرمانبرداری کا سبق سیکھیں۔
محمود :میں بتاتا ہوں، چیونٹی!
دادی جان :شاباش! حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے اپنی ساتھی چیونٹیوں کو خبردار کیا کہ اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ تاکہ کوئی تمہیں نقصان نہ پہنچائے۔
گڑیا : شہد کی مکھی کو کیسے بھول گئے ؟
دادی جان :بہت خوب! اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو وحی کے ذریعے اُس کا کام سکھایا۔ وہ پھولوں سے رس جمع کرتی ہے اور لوگوں کے لیے شفا والا شہد بناتی ہے
احمد:ہاتھی بھی تو تھا !
دادی جان:جی ہاں۔ سورۃ الفیل میں۔ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبہ کو گرانے آیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے اُس لشکر کو ناکام بنا دیا۔
محمود:دادی جان! ابابیل کیا ہوتا ہے !
دادی جان : ابابیل پرندوں کے غول کو کہتے ہیں جس کے ذریعےاللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کو تباہ کیا تھا ۔
محمود :پھر تو ہمیں پرندوں کو تنگ نہیں کرنا چاہیے۔
دادی جان :جی بیٹا بالکل ،ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ تعلیم یہی ہے کہ تمام مخلوقات پر رحم کریں ۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک سفر میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو ایک شخص نے ایک پرندے کے گھونسلے سے انڈے اٹھا لیے تو جہاں رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے آپؐ کے اوپر آ کر اس پرندے نے پھڑپھڑانا شروع کر دیا۔ آپؐ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ کسی نے اس پرندے کے انڈے اٹھا لیے ہیں؟ انڈے اٹھا کے تکلیف دی ہے۔تو ایک شخص نے کہا۔ہاں یا رسول اللہؐ !مَیں ہوں جس نے اس کا انڈا اٹھایا ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ :اس پرندے کے ساتھ رحم کا سلوک کرتے ہوئے اس انڈے کو واپس رکھ دو۔ پھر اسی طرح ایک اونٹنی کا قصہ آتا ہے۔ آپؐ نے اس کی آنکھوں میں ایسی چیز دیکھی جس پر آپؐ نے فرمایا: اس پر ضرورت سے زائد بوجھ لادا جاتا ہے۔ اِس پر اُس کے مالک کو منع کیا۔تو اسلام ہمیں جانوروں اور پرندوں پر رحم کرنا سکھاتا ہے۔
اچانک گڑیا بولی :مچھلی بھی تو ہے ۔
دادی جان : بالکل درست! حضرت یونس علیہ السلام تین روز مچھلی کے پیٹ میں رہے، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے انہیں نجات عطا فرمائی۔ اِس سے ہمیں توبہ اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا سبق ملتا ہے۔
احمد : اور اونٹنی کو بھول گئے !
دادی جان : بالکل حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی تھی، مگر نافرمان لوگوں نے اسے نقصان پہنچایا، جس پر انہیں عذاب ملا۔
گڑیا:دادی جان!رسول اللہ ﷺ کے اونٹ کا نام کیا تھا؟
دادی جان : آپ ﷺ کی مشہور اونٹنی کا نام قصواء تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں وہ جہاں بیٹھ گئی، اسی جگہ کو مسجد نبویؐ کے لیےمنتخب کیا گیا۔
احمد : دادی جان ! میری تو بس ہوگئی ہے اور یاد بھی نہیں آرہا اور کون کون سے جانور ہیں۔
دادی جان : چلیں میں بتا دیتی ہوں قرآنِ کریم میں بہت سے جانوروں کا ذکر ہے اور اُن سب کا ذکر مختلف مقاصد کے لیے آیا ہے، جیسے عبرت، مثال، احکام، یا انبیاء کے واقعات میں ۔ چند نمایاں جانور یہ ہیں: اونٹ ، گائے، بچھڑا ، بھیڑ، بکری، گھوڑا، خچر ، گدھا ، ہاتھی ، اونٹ، کتا ،بھیڑیا، بندر، سوّر۔اور سمندر کے جانوروں میں مچھلی بھی ہے ۔پھر حشرات یعنی چھوٹے جاندارجو رینگنے والے یا اڑنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔جیسے شہد کی مکھی ، چیونٹی،مچھر ، مکڑی ، ٹِڈی ، جوئیں ، مینڈک، سانپ، اژدہا۔
محمود:دادی جان مجھےیہ سب یاد بھی کروانے ہیں۔
دادی جان : اچھا چلیں یہ بتائیں کہ قرآن کریم کی کن کن سورتوں کے نام جانوروں کے نام پر ہیں ؟
گڑیا : دادی جان میں بتاؤں !قرآنِ کریم میں بعض سورتوں کے نام بھی جانوروں پر ہیں، جیسے:
البقرہ (گائے)، النحل (شہد کی مکھی) ، النمل (چیونٹی)، العنکبوت (مکڑی)اور الفیل (ہاتھی)
دادی جان : ماشاء اللہ گڑیا نے تو خوب یاد رکھا ہے ۔
محمود : مجھے بھی تو یاد ہے کہ ہمارے پیارے حضور انور بچپن میں اپنے ابا جان کے ساتھ شکار پر جایا کرتے تھے ۔ خرگوش، تیتر اورفاختہ کا شکار کرتے اور پھر اُن کے کباب وغیرہ بھی بنایا کرتےتھے۔
دادی جان : بہت خوب محمود میاں! آپ نے بھی خوب یاد رکھا ہے ۔ماشاء اللہ ۔
احمد : مجھے یاد آیا کہ آپ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بھی تو واقعہ سنایا تھا کہ بچپن میں ایک دفعہ ایک طوطا شکار کر کے لے آئے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اسے دیکھ کر فرمایا: محمود اس کا گوشت حرام تو نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لیے ہی پیدا نہیں کیا۔ بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لیے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔ بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ اُن کی آواز سُن کر کان لذت حاصل کریں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حِس کے لیے نعمتیں پیدا کی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔ دیکھو یہ طوطا کیسا خوبصورت جانور ہے؟ درخت پر بیٹھا ہوا دیکھنے والوں کو کیسا بھلا معلوم ہوتا ہے۔
گڑیا : کیسے پیارے انداز میں سمجھایا ہے ناں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۔
دادی جان : بالکل، اب بتائیں آج کی کہانی سے ہمیں کیا سبق ملا؟
تینوں بچے : یہ کہ ہم جانوروں سے ہمیشہ رحم کا سلوک کریں ۔
دادی جان نے تینوں بچوں کو گلے لگایا اورکہا :قرآن اور سنت ہمیں صرف انسانوں سے نہیں بلکہ ہر مخلوق سے محبت، رحم اور حسنِ سلوک کا درس دیتے ہیں۔
تینوں بچے :ان شاء اللہ! آئندہ ہم ہمیشہ قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھیں گے۔
محمود : اور ہمارا انعام، اس کا کیا ہوا ؟
دادی جان : آپ کا انعام آئس کریم ہے ،چلیں کچن میں آئیں میں آپ کو آئس کریم دیتی ہوں۔
بچے خوشی سے : دادی جان زندہ باد کہتے ہوئے جلدی سے کچن کی جانب دوڑ لگا دیتے ہیں ۔
(درثمین احمد۔جرمنی)
٭…٭…٭
