صنعت وتجارت
ارشاد نبوی صلى عليه وآله وسلم
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالاَ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلاَ بَأْسَ وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلاَ يَصْلُحُ ۔
(صحیح البخاری، كتاب البيوع، باب الِتّجَارَۃِ فِی الْبَرِّ حدیث نمبر۲۰۶۰)
ترجمہ: ابن جریج نے کہا: عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے مجھے بتایا کہ اُن دونوں نے ابو منہال (عبدالرحمٰن بن مطعم) سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت براء بن عازبؓ اور حضرت زید بن ارقمؓ سے صرافی کی بابت دریافت کیا تو ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ سے صرافی کی بابت پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر دست بدست، نقد بہ نقد ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اور اگر بعد کو ادا کیا جائے تو درست نہیں۔
(مرسلہ: وکالت صنعت و تجارت)




