دادی جان کا آنگن

کھانے کی قدر کریں

دوپہر کا وقت تھا۔سب بچے سکول سے آنے کے بعد کھانے کی میز پر جمع تھے جبکہ دادی جان سب بچوں کو کھانا ڈال کر دے رہی تھیں۔

محمود منہ بسورتے ہوئےبولا: یہ کیا آپ نے بھنڈی کیوں بنا لی؟ میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مجھے سبزیاں بالکل پسند نہیں۔ مجھے آپ برگر اور چپس بنا دیں۔

دادی جان: محمود بیٹا ! بری بات، کھانے کو برا نہیں کہتے اور نہ ہی رزق کا انکار کرتے ہیں یہ بات اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے تم روز کھانے میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے ہو۔ کبھی سبزی پسند نہیں، کبھی دال پسند نہیں، اور کبھی دودھ پینے سے بھی انکار!

محمود: لیکن دادی جان، مجھے یہ سب چیزیں اچھی نہیں لگتیں۔ آپ مجھے بس چپس بنا دیں۔

گڑیا: محمود! تمہیں ہر وقت چپس اور برگر ہی کیوں یاد رہتے ہیں؟امی جان نے اتنا مزے دار کھانا بنایا ہے۔

احمد: ہاں محمود، اگر تم ہر روز صرف چپس اور فاسٹ فوڈ کھاؤ گے تو صحت کیسے اچھی رہے گی؟

محمود: لیکن مجھے یہ سب اچھا ہی نہیں لگتا اس لیے آج میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ محمود نے روٹھے ہوئے انداز میں کہا۔

دادی جان: چلو آج میں تمہیں ایک بات بتاتی ہوں اور اتفاق سے اس کا تعلق خاص کھانے ہی سے ہے۔

محمود: کھانے سے ؟ کیا آپ میرے لیے برگر بنانے لگی ہیں ؟

گڑیا: ہاہا! اسے تو بس اپنے کھانے کی فکر ہے۔

دادی جان: ہر سال ورلڈ فوڈ ڈے، یعنی عالمی یومِ خوراک 16؍اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں بھوک، غربت اور غذائی قلت کے مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور اس کی قدر اور اسے ضائع ہونے سے بچانے کے بارے میں سوچنا ہے۔

محمود: لیکن دادی جان، کھانا تو ہمیں روز ملتا ہے۔ پھر اِس کے لیے الگ دن کیوں؟

دادی جان: بیٹا، ہمارے لیے روز کھانا مل جانا ایک نعمت ہے، لیکن دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا۔ ہمیں اِس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔

احمد: دادی جان بالکل ٹھیک ۔ہم اکثر پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا لے لیتے ہیں اور پھر بچا ہوا پھینک دیتے ہیں۔

گڑیا: دادی جان، میں نے بھی اکثر دیکھا ہے کہ لوگ پلیٹ میں بہت زیادہ کھانا لے لیتے ہیں اور پھر آدھا چھوڑ دیتے ہیں۔ کیا یہ بھی کھانے کا ضیاع ہے؟

دادی جان: جی ہاں، اور یہ ایک بری عادت ہے۔ ایک گھر میں تھوڑا سا کھانا ضائع ہونے سے شاید فرق محسوس نہ ہو، لیکن اگر لاکھوں لوگ روزانہ کھانا ضائع کریں تو بہت بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔

گڑیا: اور کبھی کبھی محمود بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ پہلے خود کہتا ہے کہ مجھے بہت بھوک لگی ہے، پھر پلیٹ میں کھانا چھوڑ دیتا ہے۔

محمود: اچھا بھئی! آئندہ میں کھانا ضائع نہیں کروں گا۔

دادی جان: شاباش! لیکن صرف کھانا ضائع نہ کرنا ہی کافی نہیں۔ ہمیں صحت بخش اور متوازن غذا بھی کھانی چاہیے۔

محمود: متوازن غذا کیا ہوتی ہے؟

دادی جان: ایسی غذا جس میں جسم کی ضرورت کے مطابق مختلف غذائی اجزا موجود ہوں۔ مثلاً سبزیاں، پھل، دالیں، دودھ، انڈے، گوشت اور اناج وغیرہ۔

محمود: تو کیا سبزی بھی کھانی پڑے گی؟

دادی جان: جی، میرے بیٹے! سبزیاں جسم کو ضروری وٹامنز اور معدنیات فراہم کرتی ہیں۔ اگر تم صرف چپس اور برگر کھاؤ گے توتمہاری صحت اچھی نہیں رہے گی۔

احمد: اور کھیلنے کے لیے بھی طاقت چاہیے۔ اگر محمود صحت مند کھانا نہیں کھائے گا تو ہمارے ساتھ کھیل کیسے سکے گا؟

محمود: یہ بات تو ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سبزی کا ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔

دادی جان: کوئی بات نہیں۔ تم تھوڑی سی سبزی کھاؤ، آہستہ آہستہ ذائقہ بھی اچھا لگنے لگے گا۔ کھانے میں نخرے کرنے کی بجائے ہمیں نئی چیزیں آزمانی چاہئیں۔

گڑیا: دادی جان، ہمیں یہ بھی بتائیں کہ خوراک ہم تک پہنچنے میں کتنے لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔

دادی جان: بہت اچھا سوال! سب سے پہلے کسان زمین میں بیج بوتا ہے، فصل کی دیکھ بھال کرتا ہے اور اسے تیار کرتا ہے۔ پھر بہت سے دوسرے لوگ فصل کو منڈیوں اور دکانوں تک پہنچاتے ہیں۔ آخرکار یہ خوراک ہمارے گھروں تک آتی ہے۔

محمود: تو ایک روٹی کے پیچھے بھی اتنے لوگوں کی محنت ہوتی ہے؟

دادی جان: جی ہاں۔ اس لیے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی ضائع کرنا مناسب نہیں۔

احمد: اور صرف خوراک ہی نہیں، پانی بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ فصلیں اگانے کے لیے پانی ضروری ہے۔

گڑیا: دادی جان، اگر دنیا میں کچھ لوگ بھوکے رہتے ہیں تو ہم ان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

دادی جان: ہم اپنے حصے کا کھانا ضائع نہ کریں، ضرورت مندوں کے ساتھ خوراک بانٹیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر بڑا فرق پیدا کرتی ہیں۔

مجھے یاد آگیا کچھ عرصہ قبل حضور انور نے ایک خطبے میں ایک فلسطینی نوجوان کا ذکر کیا تھا، جنہیں انسانیت کی خدمت کا شوق تھا۔ انہیں ہیومینٹی فرسٹ کے ساتھ رضاکارانہ طور پر خدمت کرنے کا موقع ملا اور وہ نہایت سرگرمی سے ضرورت مند لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے خاندان اور اردگرد رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو محسوس کرتے اور حتی المقدور ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔غزہ کے انتہائی مشکل حالات میں جب کہ خوراک کی شدید کمی کے باعث لوگوں کے لیے ایک وقت کا کھانا حاصل کرنا بھی بہت دشوار ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں چند کلو آٹا مل جانا بھی ایک بہت بڑی نعمت سمجھا جاتا ہے۔ مُہَنَّد ایک مرتبہ رفح کے علاقے میں خوراک تلاش کرنے گئے۔ وہاں انہیں کچھ آٹا مل گیا، اگرچہ وہ مٹی میں ملا ہوا تھا، لیکن انہوں نے اسے بھی غنیمت سمجھا اور اپنے خاندان اور پڑوسیوں کے لیے گھر لے آئے۔ ان کی والدہ اس بات پر خوش ہوئیں کہ اس آٹے سے کئی لوگوں کو کچھ دیر کے لیے خوراک مل سکے گی، لیکن ان کے والد نے انہیں سختی سے منع کیا کہ دوبارہ اس خطرناک علاقے میں نہ جائیں، کیونکہ وہاں جانا ان کی زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔اس کے باوجود مُہَنَّد کا دل دوسروں کی مدد کے جذبے سے بھرا ہوا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ خوراک کی تلاش میں رفح کے علاقے کی طرف گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے ایک فلسطینی شخص کی لاش دیکھی جس کے قریب آوارہ کتے موجود تھے۔ یہ منظر دیکھ کر ان تینوں نوجوانوں کو بہت دکھ ہوا۔ وہ خوراک تلاش کرنے کا اپنا مقصد بھول گئے اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاش کو اٹھا کر ایمبولینس تک پہنچایا تاکہ اسے محفوظ مقام پر لے جا کر دفن کیا جا سکے۔جب وہ سٹریچر لے کر واپس آ رہے تھے تو انہیں ایک زخمی عورت اور اس کی بیٹی کی چیخیں سنائی دیں۔ دونوں مدد کے لیے پکار رہی تھیں۔ مُہَنَّد اور ان کے ساتھیوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ان زخمی ماں بیٹی کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ انہیں اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک اسرائیلی طیارے نے میزائل حملہ کر دیا۔اس حملے کے نتیجے میں مُہَنَّد، ان کا ایک ساتھی اور وہ زخمی ماں بیٹی شہید ہو گئے، جبکہ ان کا تیسرا ساتھی زندہ بچ گیا۔ بعد میں اسی ساتھی نے اس المناک واقعہ کی تفصیل بیان کی۔اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔(ماخوذ ازخطبہ جمعہ13؍دسمبر2024ء)

تو دیکھیں ہمارے کچھ مظلوم بہن بھائی کیسے مشکل حالات میں رہ رہے ہیں۔جبکہ ہمیں کس قدر نعمتیں میسر ہیں۔

گڑیا : اف میرے خدا اتنا ظلم ! اللہ تعالیٰ تمام مظلوم لوگوں کی مدد فرمائے اور دنیا میں امن قائم ہو آمین۔

محمود: شرمندگی سے :آمین دادی جان! اب میں سمجھ گیا۔ کھانا صرف پیٹ بھرنے کی چیز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔

دادی جان: بالکل! اور نعمت کی قدر کرنا ہمارا فرض ہے۔

محمود: تو اب میں سبزی بھی کھاؤں گا اور پلیٹ میں اتنا ہی کھانا لوں گا جتنا میں کھا سکوں۔

گڑیا: واہ محمود! آج تو تم واقعی سمجھدار ہو گئے۔

احمد: اور چپس کا کیا ہوگا؟

محمود: وہ کبھی کبھار! روز روز نہیں۔

دادی جان: شاباش! یہی صحت مند زندگی کا راستہ ہے۔

گڑیا: آج ورلڈ فوڈ ڈے پر ہم سب عہد کرتے ہیں کہ خوراک ضائع نہیں کریں گے۔

احمد: صحت بخش غذا کھائیں گے۔

محمود: کھانے میں نخرے کم کریں گے!

دادی جان: اور ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھیں گے۔

سب: خوراک اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اس کی قدر کریں اور اسے ضائع نہ کریں!

(درثمین احمد۔ جرمنی)

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button