یورپ (رپورٹس)

بیالیسواں جلسہ سالانہ ناروے ۲۰۲۶ء

٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام

٭…مختلف روحانی، علمی اور تربیتی موضوعات پر تقاریر

اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیالیسواں جلسہ سالانہ ناروے مورخہ ۲۰ و ۲۱؍ جون۲۰۲۶ء کو بیت النصر، اوسلو میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہ شفقت جلسہ کے موقع پر اپنا خصوصی پیغام ارسال فرمایا۔ نیز امسال مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج جرمنی نے بطور مرکزی نمائندہ جلسہ میں شرکت کی۔

جلسہ کا پہلا دن: جلسہ کا آغاز تقریب پرچم کشائی سے ہوا۔ جماعت احمدیہ کا پرچم مرکزی نمائندہ صاحب نے لہرایا، جبکہ ناروے کا پرچم مکرم ظہور احمد چودھری صاحب امیر جماعت احمدیہ ناروے نے لہرایا۔ اس کے بعد اجتماعی دعا مرکزی نمائندہ نے کروائی۔

جلسے کے افتتاحی اجلاس کی صدارت مکرم امیر صاحب ناروے نے کی۔ کارروائی کا آغاز پونے گیارہ بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا جو مکرم رانا مبشر احمد صاحب نے کی اور اردو ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا۔ نارویجین ترجمہ مکرم حمزہ ماتس صاحب نے پڑھا۔ بعد ازاں مکرم صداقت احمد بشارت صاحب نے درثمین سے نظم پیش کی۔ عزیزم قاصد احمد راجپوت نے نظم کا نارویجین ترجمہ پڑھا۔ مکرم امیر صاحب نے اپنی افتتاحی تقریر اردو اور نارویجین زبان میں کی۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعائیہ کلمات، جو آپ نے جلسہ سالانہ کے شاملین کے حق میں تحریر فرمائے تھے، پڑھ کر سنائے۔ نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا جلسہ سالانہ ناروے کے لیے ارسال کردہ خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔ آخر میں آپ نے اجتماعی دعا کرائی۔

اگلی تقریر نارویجئین میں مکرم نور احمد تھرلس بولستاد صاحب کی ’’قرآن کریم سے ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت‘‘ کے موضوع پر تھی۔ اس کے بعد حافظ عاکف قدوس صاحب نے درثمین سے نظم پیش کی۔ نظم کا ترجمہ عزیزم فاطر احمد چودھری نے پڑھ کر سنایا۔ اجلاس اول کی آخری تقریر مکرم امیر صاحب نے کی جس کا موضوع تھا ’’خدا پر ایمان کھو جانے کے نتیجے میں اخلاقی پستی‘‘۔

وقفہ برائے طعام و نماز ظہر و عصر کے بعد اجلاس دوم کی کارروائی تین بجے سہ پہر زیر صدارت مکرم شاہد محمود کاہلوں صاحب مبلغ انچارج فن لینڈ شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن مجید مع اردو ترجمہ مکرم سلطان نصیر صاحب نے کی۔ نارویجین ترجمہ عزیزم نبیل قمر نے پڑھا۔ نظم از در ثمین مکرم طاہر محمود صاحب نے پیش کی۔ عزیزم یونس یلماز نے اس نظم کا نارویجین ترجمہ سنایا۔ دوسرے اجلاس کی پہلی تقریر ڈاکٹر رضوان صادق صاحب صدر مجلس انصاراللہ ناروے کی تھی جس کا موضوع تھا ’’توحید کے قیام کے لیے آنحضرتﷺ کی انتھک کوشش‘‘۔ اگلی تقریر نارویجین زبان میں مکرم یاسر فوزی صاحب مربی سلسلہ نے کی۔ ان کی تقریر کا موضوع تھا ’’حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیوں کی تکمیل‘‘۔

پھر ایک نظم پیش کی گئی جو مکرم بلال خان صاحب نے در ثمین سے پڑھ کر سنائی۔ عزیزم فاران قاضی نے نظم کا نارویجین ترجمہ سنایا۔ آج کی آخری تقریر صدر مجلس نے ’’خلافت خامسہ میں خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے‘‘ کے موضوع پر کی۔

اس اجلاس کے اختتام پر دوران سال قرآن پاک مکمل کرنے والے چند بچوں کی تقریب آمین منعقد ہوئی۔ اس طرح پہلے دن کی کارروائی کا اختتام ہوا۔

دوسرا دن: جلسہ سالانہ کا اجلاس سوم دوسرے دن صبح ۱۰ بج کر ۱۰ منٹ پر زیر صدارت مکرم اطہر محمود قریشی صاحب نائب امیر ناروے شروع ہوا۔ تلاوت قرآن کریم عزیزم زین محمود نے کی اور نارویجئن ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ اردو ترجمہ مکرم ذیشان احمد نے پڑھا۔ ازاں بعد عزیزم رمیز ڈار نے در ثمین سے نظم سنائی۔ نارویجین ترجمہ کے لیے عزیزم ارسلان محمود ملک حاضر ہوئے۔

آج کی پہلی تقریر نارویجین زبان میں مکرم یونیب سرور صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ ناروے کی تھی۔ تقریر کا موضوع تھا ’’صحابہ کرامؓ کا غیر متزلزل عزم اور اللہ پر گہرا توکل‘‘۔ اگلی تقریر اردو زبان میں ڈاکٹر صفدر ملک صاحب نیشنل سیکرٹری نومبائین نے ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق الٰہی‘‘ کے موضوع پر کی۔ بعد ازاں ایک طفل، عزیزم آریان حیات نے کلام محمود سے نظم سنائی۔ اس کا نارویجین ترجمہ عزیزم وجاہت اعظم نے پڑھ کر سنایا۔

تیسرے اجلاس کی آخری تقریر ڈاکٹر عبدالحئی صاحب نیشنل سیکرٹری تربیت نے نارویجین زبان میں ’’سنو، اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں‘‘ کے موضوع پر کی۔

اس کے بعد ایک نظم کلام محمود سے مکرم عدیل خواجہ نے پیش کی۔ اجلاس کےآخری حصہ میں شعبہ تعلیم کی طرف سے نمایاں تعلیمی مدارج حاصل کرنے والے طلبا اور طالبات میں اسناد، تمغہ جات اور قرآن کریم باترجمہ بطور تحفہ پیش کیے گئے۔

نماز ظہر و عصر کی ادائیگی سے قبل مکرم مصور احمد شاہکار صاحب، مبلغ انچارج جماعت احمدیہ ناروے نے دوران سال وفات پانے والے ممبران جماعت کا ذکر خیر کیا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی۔

اختتامی اجلاس: جلسہ کا اختتامی اجلاس زیر صدارت مرکزی نمائندہ چار بجے سہ پہر تلاوت قرآن پاک سے شروع ہوا جو عزیزم عطا الودود نے کی اور اردو ترجمہ بھی پڑھ کر سنایا۔ عزیزم ذیشان کریم نے نارویجین ترجمہ پڑھا۔ ازاں بعد مکرم عبدالمنعم ناصر صاحب نے کلام محمود سے نظم پڑھ کر سنائی۔ عزیزم ارمان لند ستروم نے نارویجین ترجمہ پڑھا۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم مبلغ انچارج صاحب ناروے کی ’’احمدیت نے دنیا کو کیا دیا‘‘ کے موضوع پر تھی۔ جلسہ سالانہ کی اختتامی تقریر مکرم مبارک احمد تنویر صاحب، مبلغ انچارج جرمنی و مرکزی نمائندہ نے کی۔ آپ نے اپنی تقریر میں تعلق باللہ کے حصول کے ذرائع کا ذکر کیا اور خلافت سے تعلق اور خلیفہ وقت کی دعائیں حاصل کرنے کے لیے دعائیہ خطوط لکھنے پر زور دیا تاکہ اللہ سے مضبوط تعلق حاصل ہو سکے۔ آخر میں مکرم امیر صاحب نے احباب جماعت اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اوردعا دی کہ وہ جلسہ کی برکات سے ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہیں۔ مرکزی نمائندہ نے اجتماعی دعا کروائی اور یوں جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

جلسہ کی کُل حاضری تقریباً ۱۲۰۰ تھی۔

(رپورٹ: میر عبدالسلام۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ ناروے ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام

پیارے احباب جماعت احمد یہ ناروے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الحمد اللہ کہ جماعت احمد یہ ناروے کو ۲۰ تا ۲۱؍جون ۲۰۲۶ء کو جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اس جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب کرے اور اس کو احمدیوں کے اندر نیک اور پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ شاملین جلسہ کو اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جلسہ کے قیام کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلیں کہ ان کے دل بکلی خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائیں۔ ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔ اور وہ زُہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔‘‘ (شهادة القرآن روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۹۴)

پس یہ مقاصد ہیں ان جلسوں کے اور جماعت کے قیام کے، کہ آپس میں متحد ہو کر بھائی چارے کی ایک ایسی مثال بنیں کہ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا نمونہ بن جائیں۔ نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔ خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۰۰ جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

اس وقت دنیا کے جو حالات ہیں اس میں ہر احمدی کو اپنی حالتوں میں تبدیلی پیدا کرنی چاہئے۔ پہلے سے بڑھ کر خدا کے حضور جھکنا چاہئے۔ خدا کے قرب کے حصول کے لئے گریہ وزاری کریں۔

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو… خدا بڑی دولت ہے۔ اس کے پانے کے لئے مصیبتوں کے لئے تیار ہو جاؤ۔ وہ بڑی مراد ہے اس کے حاصل کرنے کے لئے جانوں کو فدا کرو۔ خدا تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔ موجودہ فلسفہ کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔ نماز پڑھو۔ نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کنجی ہے… نماز میں بہت دعا کرو اور رونا اور گڑگڑانا اپنی عادت کر لو تا تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۴۸۔ ۵۴۹)

پس ایک مومن کو ہر طرح سے اپنے ایمان کے معیار کو اونچے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور افراد جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ نمازوں اور نوافل اور دعاؤوں پر زور دیں۔ ان دنوں میں خاص طور پر درود، دعاؤں، نوافل وغیرہ کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ دیں۔

خدا کرے کہ آپ سب اللہ تعالیٰ سے ذاتی تعلق پیدا کرنے اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی توفیق پانے والے ہوں۔ آپ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کو اس زمانہ کے امام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ آپ کو خلافت کی نعمت سے نوازا ہے جس کے ذریعہ آپ کے تزکیہ نفس کے سامان پیدا کئے ہیں۔ پس اس عظیم نعمت کی قدر کریں اور خلافت کے ساتھ ہمیشہ وفا اور اخلاص کا تعلق رکھیں اور دین کو دنیا پر غالب کرنے کا عہد جو کیا ہوا ہے اس عہد کو نبھائیں۔ اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ آپ کو تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنے کی توفیق بخشے اور اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button