خلاصہ خطبہ جمعہ

شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء

شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ

٭… حضورؑ کی عادت تھی کہ کھاناکھاتے وقت سبحان اللہ، الحمدللہ کہا کرتے تھے۔اور یوں کھانا کھاتے تھے جیسے کسی چیز کی تلاش کر رہے ہیں۔

یعنی ہر لقمے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکرگزاری کرتے تھے

٭… حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ آپؑ کی طبیعت میں ذرّہ نوازی اور قدردانی اس قدر تھی کہ چھوٹی چھوٹی خدمت اور بات پر شکریہ ادا فرمایا کرتے تھے۔ حضورؑ نے جب براہینِ احمدیہ تصنیف فرمائی تو اس سلسلے میں مدد کرنے والوں کے نام تحریر فرمائے اور اس فہرست میں اُن کے نام بھی ہیں جنہوں نے دو آنے بھی دیے تھے

٭… انبیاء کا دل بڑاشکرگزار ہوتا ہے۔ ایک معمولی سے معمولی بات پر بھی بڑا احسان محسوس کرتے ہیں۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ جب آپؑ کی کتابیں دن رات چھپتیں تو باوجود اس کے کہ آپؑ کئی کئی راتیں بالکل نہیں سوتے تھے۔ مگر جب کوئی شخص رات کے وقت پروف لاتا تو اس کے آواز دینےکے وقت خود اٹھ کر جاتے اور ساتھ یہ بھی کہتے جاتے کہ جزاک اللہ احسن الجزاء(حضرت مصلح موعودؓ)

٭… [نظام وصیت میں شمولیت کا] استثناء صرف حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے پانچ بچوں کےلیے تھا۔ ان کے علاوہ خاندان حضرت مسیح موعودؑ کے تمام افراد وصیت کرتے ہیں ۔اسی طرح کسی خلیفہ کو بھی اس سے استثناء حاصل نہیں ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ اور آپ کے بعد بھی تمام خلفاء تمام مالی تحریکات میں حسبِ توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں

٭… حضورؑ ہر چھوٹے بڑےکا، جو کسی بھی طرح آپؑ کاکوئی کام کرتا تھا ،آپؑ اس کا شکریہ ادا فرماتے

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۱؍ظہور ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

حضرت مسیح موعودؑ کس گہرائی سے اپنے اصحاب ؓکو شکرگزاری کی طرف توجہ دلاتے تھے۔ اس حوالےسے حضرت پیرسراج الحق صاحب نعمانیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت مسیح موعودؑ نے اُن سے فرمایا کہ آج تمہارا اور میراں بخش سودائی کا کیا جھگڑا ہورہا تھا؟ پیر صاحب ؓکہتے ہیں کہ مَیں ڈر گیا کہ حضرت ؑکیا فرماویں گے۔ مَیں نے ڈرتے ڈرتے سب حال سنایا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ سودائی مرفوع القلم ہوتا ہے…تم کو ایسے لوگوں کو دیکھ کر بجائے اُ ن سے لڑنےکے خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ تم کو خدانے سب نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور محروم نہیں کیا۔

ایک موقعے پر حضورؑ نے دریافت فرمایا کہ رات سارنگی اور تنبور کہاں بجتے رہے ہیں ؟اس پر عرض کی گئی کہ حضورؑ! مرزا نظام الدین صاحب نے کنچنی کو بلایا ہوا تھا۔ حضورؑ نے فرمایاکہ اللہ! یہ کتنی نمک حلال ہےجو بیس روپے کے عوض میں ساری رات جاگتی اور ناچتی گاتی رہی، اور ہم اپنے حقیقی خالق و مالک کے لیے ایک دو گھنٹے بھی نہیں جاگ سکتے۔

حضورؑ کی عادت تھی کہ کھاناکھاتے وقت سبحان اللہ ،الحمدللہ کہا کرتے تھے۔اور یوں کھانا کھاتے تھے جیسے کسی چیز کی تلاش کر رہے ہیں۔ یعنی ہر لقمے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکرگزاری کرتے تھے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کو ہم نے دیکھا ہے ۔آپؑ روٹی کا ایک چھوٹا ساٹکڑا اپنے منہ میں ڈال لیتے اور اُس کو اُس وقت تک چباتے رہتے جب تک دانت اسے چبا سکیں۔ اسی دوران دوسرا لقمہ لےکر دیر تک اسے اپنے ہاتھ سے ملتے جاتے اور ساتھ سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے جاتے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ترکِ اسباب شریعتِ الٰہیہ کے خلاف ہے۔ توکّل کا مقام اس کے بعد ہے۔ یعنی یہ کہ اسباب کو اختیار کرکے انہی پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے۔

حضرت محمد ابراہیم صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۰۴ء میں مقدمہ کرم دین کے سلسلے میں حضورؑ گورداسپور میں مقیم تھےتو یہ عاجز حضورؑ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ ایک دن ایک دوست تازہ پکی ہوئی کھجوریں لائے۔ کسی نے کہا کہ یہ گرم ہوتی ہیں، اُن صاحب نے کہا کہ جتنی مرضی کھجوریں کھا لو اوپر سے تھوڑا سا پیاز کھالو تو اس کی گرمی ختم ہوجائے گی۔ حضورؑ نے یہ سن کر فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے خوب سامان کیا ہوا ہے کہ ہر چیز کا مصلح بھی موجود ہے۔ اس پر حضورؑ نے ایک تقریربھی فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کیسے اعلیٰ انتظامات کیے ہیں کہ انسان اُن کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔

حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ آپؑ کی طبیعت میں ذرّہ نوازی اور قدردانی اس قدر تھی کہ چھوٹی چھوٹی خدمت اور بات پر شکریہ ادا فرمایا کرتے تھے۔ حضورؑ نے جب براہینِ احمدیہ تصنیف فرمائی تو اس سلسلے میں مدد کرنے والوں کے نام تحریر فرمائے اور اس فہرست میں اُن کے نام بھی ہیں جنہوں نے دو آنے بھی دیے تھے۔

حضورؑ نے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کا نام منن الرحمٰن رکھا۔ اس کتاب میں آپؑ نے ثابت فرمایا کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے۔ اس سلسلے میں جن احباب نے بعض حوالہ جات نکالنے میں آپؑ کی مدد کی ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے آپؑ نے فرمایا کہ ہم اس جگہ اپنے اُن دوستوں کا شکریہ ادا کرنے سے رہ نہیں سکتے جنہوں نے ہمارے اس کام میں زبانوں کا اشتراک ثابت کرنے کے لیے مدد دی ہے۔ ہم نہایت خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے دوستوں نے اشتراکِ السنہ ثابت کرنے کے لیےوہ جانفشانی کی ہے جو یقیناًاس وقت تک اس صفحۂ دنیا میں یادگار رہے گی جب تک کہ یہ دنیا آباد رہے۔ ان مردانِ خدا نے بڑی بہادری سے اپنے عزیز وقتوں کو ہمیں دیا ہے، اور دن رات بڑی محنت اور عرق ریزی اٹھا کر اس عظیم کام کو انجام دے دیا ہے۔ مَیں جانتا ہوں کہ ان کو جنابِ الٰہی میں بڑا ہی ثواب ہوگا کیونکہ وہ ایک ایسے جنگ میں شریک ہوئے جس میں عنقریب اسلام کی طرف سے فتح کے نقارے بجیں گے ۔ پس ان میں سے ہر ایک الٰہی تمغہ پانے کا مستحق ہے۔

حضورؑ حضرت میاں منظور محمد صاحبؓ  کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بطور شکرِ احسانِ باری تعالیٰ کہ اس بات کا ذکر کرنا واجبات سے ہے کہ میرے اہم کام تالیفات میں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے ایک عمدہ اورقابلِ قدر مخلص دیا ہے یعنی عزیزی میاں منظور محمد کاپی نویس جو نہایت خوش خط ہے، جو نہ دنیا کے لیے بلکہ محض دین کی محبت سے کام کرتا ہے اور اپنے وطن سے ہجرت کرکے اسی جگہ قادیان اقامت اختیار کی ہے، اور یہ خدا تعالیٰ کی بڑی عنایت ہے کہ وہ میری مرضی کے موافق ایسا مخلص سرگرم مجھے میسّر آیا ہےکہ مَیں ہر ایک وقت دن کویا رات کو کاپی نویسی کی خدمت اس سے لیتا ہوں اور وہ پوری جانفشانی سے خدا تعالیٰ کی رضامندی کے لیے یہ خدمت انجام دیتا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ

انبیاء کا دل بڑاشکرگزار ہوتا ہے۔ ایک معمولی سے معمولی بات پر بھی بڑا احسان محسوس کرتے ہیں۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ جب آپؑ کی کتابیں دن رات چھپتیں تو باوجود اس کے کہ آپؑ کئی کئی راتیں بالکل نہیں سوتے تھے۔ مگر جب کوئی شخص رات کے وقت پروف لاتا تو اس کے آواز دینےکے وقت خود اٹھ کر جاتے اور ساتھ یہ بھی کہتے جاتے کہ جزاک اللہ احسن الجزاء۔

میاں نبی بخش صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورؑ باغ میں سیر کر رہے تھے، آپؑ کے ہاتھ میں ایک عصا تھا جو درخت سے پھل اتارنے میں درخت پر پھنس گیا اور کسی طور نہ اترتا تھا۔ مَیں حضورؑ کی اجازت سے درخت پر چڑھا اور جھٹ عصا اتار لایا۔ حضورؑ اس قدر خوش ہوئے اور بار بار میری تعریف فرمائی جیسے مَیں نے کوئی بہت بڑا کام کیا ہو۔

حضورؑ کی عادت تھی کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ،آپؑ کسی کو بھی تُو کہہ کر مخاطب نہیں فرماتے تھے۔ مَیں بچہ تھا مگر آپؑ مجھ سے بھی بڑی عزت و احترام سے پیش آتے۔

حضورؑ کے لیے جب کوئی شخص تحفہ لاتا تو آپؑ بہت خوش ہوتے اورگھر میں بھی اس کے اخلاص کی تعریف فرماتے تھے۔

اہلیہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ بیان کرتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحبؓ کا معمول تھا کہ جب قادیان سے آگرہ آتے تو حضورؑ کے لیے خورمے(جو بالو شاہی کی طرح کی ایک مٹھائی ہے) لایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں بھی خورمے قادیان لے کر آئی۔ جب حضورؑ کی خدمت میں خورمے پیش کیے گئے تو حضورؑ نے بہت پسند کیےاور فرمایا کہ اتنے سارے خورمے! پھر کچھ تھوڑے سے کھائے اور فرمایا کہ یہ رکھ لو۔ مَیں پھر بعد میں کھاؤں گا۔

حضرت مصلح موعودؓ کے حوالے سےحضورِانور نے ایک اقتباس پیش فرمایا جس میں حضرت مصلح موعودؓ نے اس بات کاذکر فرمایا تھا کہ میرے دل میں ہمیشہ یہ خلش رہتی تھی کہ ہم(حضرت مسیح موعودؑ کی اولاد) وصیت سے مستثنیٰ رہ کر نیکی کے ایک موقعے سے محروم ہوگئے ہیں۔ پھر میری ایک الہام کی طرف توجہ گئی جو حضورؑ کی وفات کے کچھ عرصے بعد مجھے ہوا تھا یعنی اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْراً۔یعنی اے آلِ داؤد! کچھ اعمال اللہ کے شکرانے کے طور پر بھی کرو۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس پر عمل کیا اور آپؓ فرماتے ہیں کہ پس! مَیں سمجھتا ہوں کہ میرا چندہ موصیان سےبڑھ کر ہی رہا ہوگا۔

حضورِانور نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ مجھے بھی بعض دفعہ لکھتے ہیں اس لیے واضح کردوں کہ

یہ استثناء صرف حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے پانچ بچوں کےلیے تھا۔ ان کے علاوہ خاندان حضرت مسیح مودعودؑ کے تمام افراد وصیت کرتے ہیں ۔اسی طرح کسی خلیفہ کو بھی اس سے استثناء حاصل نہیں ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ اور آپؓ کے بعد بھی تمام خلفاء تمام مالی تحریکات میں حسبِ توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

حضورؑ ہر چھوٹے بڑےکا، جو کسی بھی طرح آپؑ کاکوئی کام کرتا تھا ،آپؑ اس کا شکریہ ادا فرماتے۔

حضورِانور نے اس حوالے سے بعض مزید واقعات بھی پیش فرمائے ۔

حضرت شیر محمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ کرم دین کے مقدمے میں جب حضورؑ  جہلم گئے تو بٹالے میں بعض دوستوں نے حضورؑ کے لیے چائے کا بندوبست کیا تھا۔ وہاں حضورؑ نے دریافت کیا کہ چائے پلانے والا کون ہے؟ پھر جن لوگوں نے چائے پلائی، حضورؑ نے اُن کا موقعے پر شکریہ ادا کیا اور نہ صرف یہ کہ وہاں شکریہ ادا کیا بلکہ اُن کا شکریہ بعد میں اخبار میں بھی شائع کیا کہ ان لوگوں نے وہاں میری خدمت کی۔ یہ اہمیت آپؑ نے ان لوگوں کو دی۔

خطبے کے آخر میں حضورِانور نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شکرگزاری کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: شکرگزاری کے حوالہ سے حضرت مسیح موعودؑ کا عملی نمونہ اور آپؑ کی تعلیمات۔ خلاصہ خطبہ ۱۴؍اگست ۲۰۲۶ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button