آنحضرت ﷺ خلق عظیم پر قائم تھے
یہ بات بھی بیان کر دینے کے لائق ہے کہ جیسا کہ عوام الناس خیال کرتے ہیں کہ خُلق صرف حلیمی اور نرمی اور انکسارہی کا نام ہے یہ ان کی غلطی ہے بلکہ جو کچھ بمقابلہ ظاہری اعضاء کے باطن میں انسانی کمالات کی کیفیتیں رکھی گئی ہیں ان سب کیفیتوں کا نام خُلق ہے۔ مثلاً انسان آنکھ سے روتا ہے اور اس کے مقابل پر دل میں ایک قوت رقّت ہے وہ جب بذریعہ عقل خداداد کے اپنے محل پر مستعمل ہو تو وہ ایک خُلق ہے۔ ایسا ہی انسان ہاتھوں [سے] دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کوشجاعت کہتے ہیں۔ جب انسان محل پر اور موقع کے لحاظ سے اس قوت کو استعمال میں لاتا ہے تو اس کا نام بھی خُلق ہے۔ اور ایسا ہی انسان کبھی ہاتھوں کے ذریعہ سے مظلوموں کو ظالموں سے بچانا چاہتا ہے یا ناداروں اور بھوکوں کو کچھ دینا چاہتا ہے یا کسی اور طرح سے بنی نوع کی خدمت کرنا چاہتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو رحم بولتے ہیں اور کبھی انسان اپنے ہاتھوں کے ذریعہ سے ظالم کو سزا دیتا ہے اور اس حرکت کے مقابل پر [ایک قوت ہے جس کو انتقام کہتے ہیں اور کبھی انسان حملہ کے مقابل پر حملہ کرنا نہیں چاہتا اور ظالم کے ظلم سے درگزر کرتا ہے، اور اس حرکت کے مقابل پر] دل میں ایک قوت ہے جس کوعفو اور صبر کہتے ہیں اور کبھی انسان بنی نوع کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے ہاتھوں سے کام لیتا ہے یا پیروں سے یا دل اور دماغ سے اور ان کی بہبودی کے لیے اپنا سرمایہ خرچ کرتا ہے تو اس حرکت کے مقابل پر دل میں ایک قوت ہے جس کو سخاوت کہتے ہیں۔ پس جب انسان ان تمام قوتوں کو موقع اور محل کے لحاظ سے استعمال کرتا ہےتو اس وقت ان کا نام خُلق رکھا جاتا ہے۔ اللہ جلّ شانہٗ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ (القلم :5)
یعنی تو ایک بزرگ خُلق پر قائم ہے۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزئن جلد ۱۰ صفحہ ۳۳۲ تا ۳۳۳)
مزید پڑھیں: ہر قسم کی خیانت اور بے ایمانی سے دُور بھاگنا چاہئے



