متفرق مضامین

ہم نے بائیک چلائی

(اے اے امجد)

دوستو! آج ہم آپ کو اپنی آپ بیتی سنانے جا رہے ہیں۔ دراصل ہوا یوں کہ شادی کے بعد بیگم صاحبہ نے ایک عدد بائیک خریدنے کی فرمائش کر ڈالی ۔ بائیک خریدنا تو کچھ مشکل نہیں تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں بائیک چلانی نہیں آتی تھی۔ چنانچہ ہم نے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے کوئی لفٹ نہ کروائی بلکہ اُلٹا ہمارا مذاق اُڑایا لیکن ہم بھی تہیہ کر چکے تھے کہ کچھ بھی ہو ہم بائیک چلانا سیکھ کر رہیں گے۔


تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا ہی اُڑانے کے لیے
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے


صاحبو… چند سال ایسے ہی گزر گئے اور ہمارا بائیک چلانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ بیگم صاحبہ کا اصرار بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ آخر کار ہمارے برادرِ نسبتی حبیب بھائی نے ایک دن زبردست آفر کی کہ میں آپ کو بائیک چلانا سکھاؤں گا۔ ہم بہت خوش ہوئے اور ایک دن دارالیمن کی گراؤنڈ میں چلے گئے جہاں حبیب بھائی اپنی بائیک کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے انہوں نے ہمیں ایک چھوٹا سا لیکچر دیا جس میں کلچ، گئیر، ریس اور بریک کے متعلق تعارف کروایا۔ آخر کار وہ لمحہ آ پہنچا جب ہم موٹر سائیکل پر بیٹھے ۔ اس وقت ہم حبیب بھائی کا تمام لیکچر بھول چکے تھے ۔ ہم نے بیٹھتے ہی فُل ریس دی اور کلچ بھی چھوڑ دیا بس پھر کیا تھا۔ موٹر سائیکل بے قابو ہو گئی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔شکر ہے کہ ہمیں زیادہ چوٹ نہیں لگی، صرف معمولی خراشیں ہی آئی تھیں۔ جان بچی اور لاکھوں پائے ۔
حبیب بھائی بھاگے بھاگے آئے اور پوچھا کہ زیادہ چوٹ تو نہیں لگی۔ ہم نے بھی زبردستی مسکراہٹ سجائی اور نفی میں جواب دیا۔ ظاہر ہے ہم اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ کیونکہ وہ محاورہ تو آپ نے سُنا ہوا ہے کہ ساری خدائی ایک طرف، جورُو کا بھائی ایک طرف۔اس دلخراش واقعہ کے بعد ہم نے توبہ کر لی کہ آئندہ اس سواری پر نہیں بیٹھیں گے۔ کیونکہ جان سب کو پیاری ہوتی ہے۔
کچھ عرصہ اسی طرح گزر گیا اور پھر Covid-19 آ گیا جس نے پوری دنیا میں زندگی کے معمولات درہم برہم کر دیے ۔ لیکن بیگم صاحبہ کو ابھی تک اپنا مشن یاد تھا۔ کچھ عرصہ گزرا تو انہوں نے حکمِ شاہی صادر فرمایا کہ جلد از جلد موٹر سائیکل سیکھ لیں۔ دوستو! آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ بیگم صاحبہ کو اس میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم تو اپنی اکلوتی سائیکل پر خراماں خراماں دفتر چلے جاتے لیکن بیگم صاحبہ نے چونکہ لجنہ ہال جانا ہوتا تھا اور پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے رکشوں کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگے تھے۔ اس لیے فی الحال مہنگائی کا توڑ یہی نظر آیا کہ ایک عدد بائیک خریدی جائے تاکہ رکشوں کے ہوشربا کرایوں سے نجات مل سکے ۔
خیر ہم نے اپنے ایک عزیز دوست اکرام منگلا سے رابطہ کیا کہ یار ہمیں بائیک چلانا سکھا دو۔ اس کا جواب آیا کہ میں آپ کو سکھا دوں گا لیکن فیس دس ہزار روپے لوں گا۔ یہ سن کر تو ہمارے ہوش اُڑ گئے پھر پتا چلا کہ وہ مذاق کر رہا تھا۔ اگلے دن چھٹی تھی، وہ خود میرے گھر آیا اور اپنی بائیک پر ایک دو چکر لگوائے لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم گذشتہ چوٹ لگنے کے پیشِ نظر بائیک پر بیٹھنے کے تصور سے بھی گھبراتے تھے ۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا ۔
بہر حال اکرام صاحب نے بڑی محنت کے ساتھ مجھے زبانی سمجھایا اور پریکٹیکل بھی کروایا اور ہم نے آہستہ آہستہ اپنے زور بازو سے موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے چند قدم چلانا شروع کر لی ۔ اگرچہ میرے پاؤں زمین پر لگ رہے تھے لیکن موٹر سائیکل خود بخود آگے بڑھ رہی تھی جو میرے لیے حیرت انگیز تجربہ تھا۔ چند دن بعد اکرام صاحب کو کسی ضروری کام سے لاہور جانا پڑ گیا تو انہوں نے نوید صاحب کی ڈیوٹی لگا دی ۔ نوید صاحب نے بھی بڑی محنت سے اس ذمہ داری کو نبھایا۔ اب میں نے روزانہ پریکٹس شروع کر دی، اب اتنا فرق پڑ گیا کہ میں چند قدم بغیر سہارے کے بائیک چلا لیتا تھا۔ پھر میری سُستی آڑے آئی اور میری پریکٹس میں ناغہ آ گیا ۔
چند دن بعد پٹرول کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں تو بیگم صاحبہ نے حتمی آرڈر جاری کر دیا کہ دس دن کے اندر اندر ڈرائیونگ سیکھ لیں ورنہ… اس سے آگے سوچ کر ہماری روح فنا ہو جاتی تھی ۔ خیر ہم پھر سے کسی انسٹرکٹر کو ڈھونڈنے لگ گئے۔ خوش قسمتی سے ہماری نظر فرحان پر پڑی جس کو آج کل کالج سے چھٹیاں تھیں۔ چنانچہ فرحان سے ٹائم طے کر لیا اور نماز فجر کے بعد کسی سنسان سی سڑک پر ہم نے پریکٹس شروع کر دی ۔ چند دن پریکٹس میں گزر گئے اور ہم نے کلچ اور گئیر کا فلسفہ بھی سیکھ لیا۔ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے یوں لگتا جیسے ہم جہاز اُڑا رہے ہیں۔ فرحان نے ہمیں تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں آپ کو چند دن مزید پریکٹس کی ضرورت ہے ۔ پھر آپ مکمل ڈرائیونگ سیکھ جائیں گے۔
شام کو اس خوشی میں ہم سُسْرال چلے گئے ۔واپسی پر طبیعت عجیب سی ہو رہی تھی، جسم ٹوٹ رہا تھا۔ رات کو بخار ہو گیا، صبح اُٹھ کر دوائی لی پھر بھی آرام نہ آیا تو ہسپتال کا رخ کیا۔ ڈاکٹر نے کورونا ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔ جیسے ہی اس کا رزلٹ آیا ہم پر تو قیامت ہی گزر گئی ۔ پازیٹو آنے کا خوف نہیں تھا بلکہ خوف یہ تھا کہ اب دو ہفتے گھر پر قرنطینہ میں گزارنے پڑیں گے ۔ کورونا سے بچ بھی گئے تو بیگم سے کیسے بچیں گے۔


مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔


تو صاحبو! اب ڈاکٹر کی ہدایت تھی کہ دو ہفتے قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے ۔ یہ عرصہ ہم نے جس مشکل سے گزارا، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ بہر حال خدا خدا کر کے قرنطینہ ختم ہوا اور ہم نے بائیک چلانے کا تجربہ پھر سے شروع کر لیا ۔ لیکن افسوس کہ نہ تھی ہماری قسمت ۔ بارہا کوشش کے باوجود ہم بائیک چلانا سیکھ نہ پائے ۔
ایک دن ہمارے دوست مبارز علیم اپنی سکوٹی پر نظر آئے ۔ تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ سکوٹی خرید لی جائے ۔ ہم نے مبارز سے کچھ معلومات لیں ۔ چند دن بعد مبارز صاحب ملے اور کہنے لگے کہ میں اپنی سکوٹی بیچنا چاہتا ہوں۔ ہم نے اس سلسلے میں ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے بتایا کہ سکوٹی ہرگز نہ خریدیں کیونکہ اس کے ساتھ مہنگی بیٹریاں بھی خریدنی پڑتی ہیں۔ اور ان کی چارجنگ کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ آج کل ہمارے ملک میں بجلی کے جو حالات ہیں، بیٹریوں کی چارجنگ کا مسئلہ رہے گا اور بجلی کا بل الگ آئے گا ۔ چنانچہ یہ پروگرام بھی فیل ہو گیا ۔ ہم نے سوچا کہ شاید بائیک خریدنا ہماری قسمت میں نہیں ہے۔ اس لیے صبر کرنا ہی بہتر ہے ۔
چند دن بعد ایک اور بائیک نظر آئی جو کہ سلف سٹارٹ تھی اور پٹرول سے چلتی تھی۔ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ اس بائیک میں کلچ، گیئر اور کک نہیں ہے ۔ سلف کا بٹن دبائیں اور ریس دیں ۔ ہم نے اسے ٹیسٹ کیا تو ہمیں ایسے لگا کہ جیسے ہمارے خوابوں کی تعبیر ہمیں مل گئی ہے۔ یہ بہت آرام دہ بائیک تھی اور چلانے میں کوئی پیچیدگی بھی نہیں تھی ۔ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے ۔ چنانچہ آخر کار خدا نے ہماری سُن لی اور ہم بائیک خریدنے میں کامیاب ہو گئے ۔ الحمد للہ۔

مزید پڑھیں: مجلس خدام الاحمدیہ ریجن تنکو ڈوگو وریجن کوپیلا، برکینافاسو کاسائیکل سفر

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button