شیانڈا، کینیا میں ایک مسجد کی توسیع
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مورخہ ۵؍جولائی ۲۰۲۶ء کو شیانڈا، کینیا میں قائم جماعت کی ایک مسجد کی توسیع کا کام مکمل ہونے پر اس مسجد کا افتتاح ہوا۔
شیانڈا جماعت کی تاریخ: ویسٹرن کینیا کے گاؤں شیانڈا میں جماعت احمدیہ کا آغاز ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ہوا۔ شروع شروع میں احمدی اور سُنی احباب ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے رہے۔ پھر مخالفت کی وجہ سے احمدیوں کو مشترکہ مسجد میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا جس کے بعد جماعت نے ایک پلاٹ خرید کر پہلے ایک کچی مسجد بنائی پھر ۱۹۸۸ء میں ایک خوبصورت پختہ مسجد تعمیر کی گئی۔ شیانڈا جماعت، ویسٹرن (اے) کا ریجنل ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ وہ خوش قسمت گاؤں ہے جسے ۱۹۸۸ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اور ۲۰۰۵ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے تشریف لاکر برکت بخشی تھی۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے شیانڈا میں اس وقت ایک بڑی اور فعال جماعت قائم ہے۔ اس جماعت کی روز افزوں ترقی کے پیش نظر مسجد کی توسیع کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ چنانچہ مورخہ ۲۶؍جنوری ۲۰۲۶ء کو مسجد کی توسیع کے کام کا آغاز ہوا جو بفضلِ تعالیٰ ۲۹؍جون کو مکمل ہوا۔ اس منصوبے میں خواتین اور حضرات کے لیے دو الگ الگ ہال تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس مسجد کا کل مسقف رقبہ ۲۲۳۰؍مربع فٹ ہے جس میں مردانہ ہال کا رقبہ ۱۳۸۶؍مربع فٹ ہے جبکہ مستورات ہال ۸۴۴؍مربع فٹ رقبہ پر مشتمل ہے۔ اس توسیع سے اب مسجد کے دونوں ہالز میں مجموعی طور پر ۴۰۰؍سے زائد افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین و حضرات کے لیے وضو وغیرہ کے لیے الگ الگ یونٹس تعمیر کیے گئے ہیں اور دونوں ہالز میں ایم ٹی اے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک

مورخہ ۵؍جولائی کو مکرم ناصر محمودطاہر صاحب امیر و مبلغ انچارج کینیا نے اس مسجد کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ پھر امیر صاحب نے شیانڈا جماعت کے سب سے پرانے احمدی بزرگ مکرم محمد Ambetsa صاحب سے فیتہ کاٹنے کی درخواست کی۔ بعد ازاں امیر صاحب نے دعا کرائی اور یوں مسجد کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ امیر صاحب نے مسجد کے احاطہ میں دو پودے بھی لگائے۔
مسجد کی افتتاحی تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ نظم کے بعد مکرم یوسف ویرے صاحب صدر جماعت نے مہمانان کرام کو خوش آمدید کہنے کے بعد شیانڈا جماعت کا تعارف پیش کیا۔ پھر خاکسار (ریجنل انچارج) نے مسجد میں توسیع کے سلسلہ میں کیے جانے والے کام کی رپورٹ پیش کی۔
اسسٹنٹ کاؤنٹی کمشنر صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احباب جماعت کو مسجد کی توسیع اور تزئین پر مبارک باد دی اور کہا کہ جماعت احمدیہ ایک منظّم اور خدمت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے اور جماعت نے ہمیشہ ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے جس پر ہم جماعت کے ممنون ہیں۔
پھر لوبینو(Lubinu) لوکیشن کے چیف نے تقریر کی اور کہا کہ آج کے اس ماحول کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ میں بھی عنقریب مسلمان ہو جاؤں گا۔ پھر انہوں نے اس پروگرام میں آئے ہوئے اپنے دو اسسٹنٹ چیفس کا تعارف کراوایا۔ ان کے بعد ٹیکنیکل کالج کے پرنسپل، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین، بزنس کمیونٹی کے چیئرمین، عیسائی چرچ کے منتظم اعلیٰ اور وانگا (Wanga)ایریا کے ممبر کاؤنٹی اسمبلی نے تقاریر کیں اور جماعت احمدیہ عالمگیر کے لیے اپنے نیک خیالات کا اظہار کیا۔ اس پروگرام میں پولیس، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور دیگر اداروں کے اعلیٰ عہدیداران سمیت کُل ۱۰۵؍غیر از جماعت مہمان شامل ہوئے۔آخر میں مکرم امیر صاحب نے تقریر کی جس میں آپ نے احباب جماعت کو مسجد کی توسیع پر مبارک باد دی اور مسجد کو آباد کرنے کی طرف احباب جماعت کو توجہ دلائی اور دعا کروائی۔
بعد ازاں تقریب میں شامل مہمانوں کی خدمت میں قرآن کریم ،جماعتی کتب اور تبلیغی لٹریچر کا تحفہ پیش کیا گیا۔ نماز ظہر و عصر کے بعد حاضرین کی خدمت میں ظہرانہ پیش کیا گیا۔ اس پروگرام کی کُل حاضری ۴۵۰ سے زائد رہی۔ الحمد للہ
اس مبارک موقع پر پہلی دفعہ Kiluhya زبان میں جو اس قبیلہ کی مادری زبان ہے دو اہم موضوعات پر شائع ہونے والے لٹریچر کی رونمائی بھی کی گئی۔ اس مسجد کے توسیعی منصوبہ کا تمام خرچ ایک عرب ملک کی مجلس انصار اللہ نے ادا کیا۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء
(رپورٹ:بشارت احمد ملک۔ انچارج ویسٹرن ریجن (اے) شیانڈا کینیا)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ریجنل اجتماع لجنہ اماء اللہ فادا، برکینا فاسو




