شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ۲۸؍اگست ۲۰۲۶ء
٭… حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کے لیے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جو کوششیں کیںوہ ظاہر ہیں۔ آپؑ اپنے مددگاروں کے بھی بہت شکر گزار ہوتے تھے جنہوں نے آپؑ کے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی راہ میں خدمت کی
٭… حضرت اقدس ؑمعمولی خدمت کرنے والوں کے بھی شکر گزار ہوتے تھے
٭… اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں۔ یعنی لوگوں کی مدد کی طرف توجہ دلائی
٭… اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں شکر گزاری کا حقیقی ادراک عطا فرمائے
وہاں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ؑکی بیعت میں آ کر حقیقی روشنی، بصارت اور معرفت بھی عطا فرمائے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۸؍اگست ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۸؍ظہور ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۸؍اگست ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں لہرانے کے لیے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے جو کوششیں کیں وہ ظاہر ہیں۔ آپؑ اپنے مددگاروں کے بھی بہت شکر گزار ہوتے تھے جنہوں نے آپؑ کے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی راہ میں خدمت کی۔
چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام نے ۴؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کو اشتہار میں فرمایا :یہ خداتعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہؓ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔ سو مردانہ ہمت سے امداد کے لیے بلاتوقّف قدم اٹھانا چاہیے۔ ہر ایک اپنی مقدرت کے موافق اس لنگر خانہ کے لیے مدد کرے۔ میں چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ایک ایسا انتظام ہو کہ ہم لنگر خانہ کے سر درد سے فارغ ہو کر اپنے کام میں بافراغت لگے رہیں اور ہمارے اوقات میں کچھ حرج نہ ہو جو ہمیں مدد دیتے ہیں ۔ آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔
میں اس بات کے لکھنے سے رہ نہیں سکتا کہ اس نصرت اور جانفشانی میں اوّل درجہ پر ہمارے خالص مخلص حبی فى الله مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ کے ہیں جنہوں نے نہ صرف مالی امداد کی بلکہ دنیا کے تمام تعلقات سے دامن جھاڑ کر اور فقیروں کا جامہ پہن کر اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں موت کے دن تک آ بیٹھے اور ہر وقت حاضر ہیں ۔ اگر میں چاہوں تو مشرق میں بھیج دوں یا مغرب میں۔ میرے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے۔ اَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَةِ اور حضرت ممدوح سے دوسرے درجہ پر حبی فی الله مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ہیں ۔ اور ان کو تو پہلے ہی خدا تعالیٰ نے دنیا کے مناصب اور جاہ طلبی کی مناسبت نہیں دی مگر اب وہ بالکل دنیوی خیالات کو بھی استعفا دے کر اس دروازے پر بیٹھے ہیں اور دن رات اپنے دماغ سے فوق الطاقت کام لے کر خدمت دین کر رہے ہیں اور جمعہ کی نماز میں بہت سے حقائق ومعارف قرآن شریف بیان کرتے اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور مولوی حکیم نورالدین صاحب کے ہم شہر حکیم فضل دین ہیں اور وہ بھی قریباً اسی جگہ رہتے اور خدمات میں مشغول ہیں ۔
اس کے بعد آپؑ نے ڈاکٹر بوڑے خان صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب لاہوری اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کلانوری ، ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب ، ڈاکٹر عبد الحکیم خان صاحب، مرزا خدا بخش صاحب، صاحبزادہ سراج الحق صاحب، سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب کا بھی ذکر فرمایا۔فرمایا کہ سیٹھ صاحب ماہوار ایک سو روپیہ بلا ناغہ بھجواتے ہیں اور کئی مرتبہ پانچ سو تک رقم بھیجی ہے۔ اسی طرح حبی في الله شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لا ہور کا ذکر فرمایا جنہوں نے مقدمات کے لیے بہت ساری رقم ہدیہ کی۔ پھر آپؑ نے نواب محمد علی خان صاحب کا بھی ذکر فرمایا۔
حضرت اقدس ؑمعمولی خدمت کرنے والوں کے بھی شکر گزار ہوتے تھے۔
خواجہ کمال الدین صاحب کے محلے میں ایک شخص فالودہ فروخت کرتا تھا ۔اس نے ایک دفعہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ حضورؑ کو فالودہ پیش کرے۔ چنانچہ حضورؑ جب ان کے مکان پر تشریف لائےتوآپؑ کی اجازت سےاس کو بلوایا۔ اس نے فالودہ بنا کر حضورؑ کو پیش کیا۔ آپؑ نے فرمایا بڑا اچھا ہے۔ پھر اس نے دوستوں کےلیےدس بیس پیالے بھیجے۔ حضورؑ نےاس کو دو روپے بھیجے مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا مجھے رقم سے سروکار نہیں مجھے حضورؑ کے سامنے لے جاؤ۔چنانچہ وہ حضورؑ کے پاس گیا ۔ آپؑ نے اس کے لیے دعا کی اور جزاکم اللہ فرمایا۔
حضرت ابراہیم بقا پوری صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جماعت سیالکوٹ میں سے چند احباب نے کچھ روپیہ بطور ہدیہ پیش کیا۔حضور علیہ السلام نے پہلے الحمدللہ کہا پھر جزاکم اللہ۔جس سے ہمارے ایمان میں ایک قسم کی ترقی ہوئی کہ
پہلے حضورؑ نے خدا کا شکر ادا کیا پھر ہمارے لیے دعا فرمائی ۔
ایک واقعہ ذوالفقار علی خان گوہر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورؑ بیت الدعا کے نیچے والے کمرے سے باہر آئے۔ میں اس کے سامنے مقیم تھا۔ حضورؑ نے بالوں میں مہندی لگائی ہوئی تھی۔ مجھے کہا کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب سے کہہ دیں کہ کچھ کھانا ہمارے لیے یہاں لے آئیں۔ میں نے پیغام پہنچایا تو دیکھا کہ کھانا بالکل ختم تھا۔ مولوی صاحب کا چہرا سفید ہو گیا کہ حضورؑ کے لیے کوئی کھانا نہیں بچا۔ بہر حال انہوں نے ایک چھوٹے سے پیالے میں دودھ لیا اور تین توس اور شکر لی اور حضورؑ کے سامنے حاضر ہوئے ۔ عرض کی کہ اَور کچھ نہیں ہے ۔
حضورؑ نے نہایت شکر کے ساتھ جو چہرے سے ظاہر تھا کھانا لیا۔ دو توسوں کو نکال کر شکر سے لگا کر کھا لیا اور پانی پی لیا۔
اگست ۱۹۰۰ء کو آپؑ نےایک خط میں حضرت نواب محمد علی صاحبؓ کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے ایک نہایت نفیس پارچہ بطور تحفہ ارسال کیا ہے۔ لباس کے بدلے میں آپؑ نےان کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اپنے بے انتہا اور نامعلوم کرم اور فضل کرے اور لباس تقویٰ سے کامل طور سے اولیاء اور صلحاء کے رنگ سے مشرف فرما دے ۔
ایک خط میں حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ کو فرمایا: آپ کی طرف سے ۵۰؍روپیہ مشکل وقت میں پہنچ گئے ۔ایسے نازک اور ضرورت کے وقت میں جبکہ بد طینت نے عدالت میں میرے پر مقدمہ اٹھایا ہوا ہے آپ کا متواتر مالی مدد کرنا قابل شکرگزاری ہے ۔
ایک صحابی کہتے ہیں کہ مَیں نے احمدیت قبول کی اور اپنے گھر والوں سے اس کو پوشیدہ رکھا ۔ کچھ عرصہ بعد بھید کھل گیا۔ والد صاحب نے خاکسار کو صاف جواب دے کے گھر سے نکال دیا کہ تم احمدی ہو گئے ہو۔ میں نے ایک دکان کھول لی۔ خاکسار درزی کا کام کرتا تھا۔ مجھے دلی شوق ہوا کہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کے لیے ایک پوشاک بناؤں۔چنانچہ میں نے ایک کُرتا اورشلوار بنائی اور ایک کوٹ بھی تیار کیا۔ کسی سےقادیان کا کرایہ پکڑکر پہنچ گیا۔ یہ جمعہ کا دن تھا۔ میری خواہش تھی کہ آج ہی حضورؑ کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کروں تاکہ آپؑ جمعہ پر زیب تن فرمائیں۔ مجھے قاضی ضیاء الدین صاحب دکان پر ملے۔ ان سے ذکر کیا تو وہ مجھے حضورؑ کے پاس لے گئے۔ آپؑ ایک تخت پر بیٹھے تھے اور کچھ لکھ رہے تھے۔ قریب ہی خواجہ کمال الدین صاحب چٹائی پر بیٹھے تھے۔ ہم بھی بیٹھ گئے۔ خواجہ صاحب نے ہم سے پوچھا کہ کیا میں آپ کا مقصد پیش کروں۔ پھر خواجہ صاحب نے وہ کپڑے حضور ؑکو پیش کیے اور عرض کی کہ لڑکے کی خواہش ہے کہ حضورؑ ان کپڑوں کو پہن کر جمعہ کی نماز پڑھیں۔ حضرت صاحبؑ نے اسی وقت (اندر جا کر) وہ لباس زیب تن فرمایا۔ کوٹ قدرے تنگ تھا۔ میں اس کو بازار لےآیا کہ کھول کر کچھ ٹھیک کروں۔ جب واپس لایا تو حضورؑ نے پھر پہنا مگر آپؑ کو ابھی بھی تنگ تھا۔بٹن بند نہ ہوتے تھے ۔ تاہم میری خوشی اور التفات کے لیے کھینچ تان کر بٹن بند کر لیے۔
احمدی قوم کے نام ایک خط میں آپؑ فرماتے ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔سب سے پہلے مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں جوش مارتا ہے جس نے میری جماعت کو سچی ارادت اور محبت اور ہمدردی عطا فرمائی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ توفیق ان کو ہرگز نہ دی جاتی کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے قدم پر اس درجہ کی اطاعت کرتے کہ باوجود اپنی مالی مشکلات اور کمی آمدن کے اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت مالی میں مصروف ہوتے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان سب کے مالوں میں برکت دے اور یہ نصرت اور اعانت جو وہ دینی اغراض کی تکمیل کے لیے کر رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ دونوں جہانوں میں ان کی بھلائی کا موجب کرے۔ آمین ثم آمین ۔
پھر ایک موقع پر فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے جن پر فضل کیا ہے اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ احسان اور سلوک کریں اور اس خداداد فضل پر تکبر نہ کریں اور وحشیوں کی طرح غرباء کو کچل نہ ڈالیں۔ یعنی لوگوں کی مدد کی طرف توجہ دلائی۔
اللہ تعالیٰ آپؑ کو لوگوں کے معاملات کے بارے میں بھی پہلے اطلاع دے دیتا ۔ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت ان کو پورا ہونے میں وقت لگ جاتا تھا ۔ایسے موقع پر آپؑ دعاؤں میں لگ جاتے تھے۔ اور جب وہ بات پوری ہو جاتی تو آپؑ انتہائی شکر گزار ی سے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے۔
ایک واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک ہندو بشمبر داس برادر شرمپت کے متعلق میں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ مقدمہ فوجداری سے بری نہ ہوگامگر اس کی نصف قید باقی رہ جائے گی۔ اتفاق سے جب فیصلہ سنایا گیا تو اس کے وارثوں نے خلاف توقع مشہور کر دیا کہ بشمبر داس بری ہوگیا ہے۔ میں بڑی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا تھا تو ایک شخص نے مجھے اطلاع دی کہ بشمبر داس بری ہو گیا ہے اور بازار میں اس کو مبارکبادیاں مل رہی ہیں۔ مجھے بہت صدمہ ہوا کہ اب ہندو اس بات پر حملہ کریں گےکہ مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ مجھے اس غم سے ایک ایک رکعت نماز کی ایک ایک سال کے برابر محسوس ہوئی اور جب میں نماز میں کسی رکعت کے بعد سجدہ میں گیا اس وقت میرا اضطرار نہایت انتہا تک پہنچ گیا۔ تب الہام ہوا : لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔ پھر میں منتظر رہا کہ پیش گوئی کس طرح پوری ہوگی مگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ میں بار بار شرمپت سے پوچھتا رہا مگر اس نے یہی کہا کہ وہ بری ہو گیا ہے ۔اسی طرح قریبا ًچھ ماہ گزر گئے یا کم و بیش ۔اور شریر لوگ ٹھٹھا اور ہنسی کرتے تھے مگر شرمپت نے کبھی ٹھٹھا نہیں کیا۔ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ صبح بٹالہ سے ایک تحصیلدار قادیان آیا۔ ابھی وہ گھوڑے سے نہ اترا تھا کہ ہندو اس کو سلام کرنے آئے ۔ اس نے بشمبرداس کو دیکھ کر کہا کہ ہم اس سے خوش ہوئے کہ تم نے قید سے رہائی پائی مگر تم بری نہ ہوئے ۔ میں نے اس بات کو سنتے ہی سجدہ شکر کیا اور شرمپت کو پوچھا تم اتنا عرصہ کیوں جھوٹ بولتے رہے اور مجھے دکھ دیا؟اس نے کہا مجھے ایک مجبوری میں جھوٹ بولنا پڑا۔ ورنہ رشتہ ناطہ کے وقت ہماری قوم میں ایسی باتوں پر بہت نقطہ چینی ہوتی ہے اور بدچلنی ثابت ہونے پر رشتہ ملنا مشکل ہو جاتاہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :کوئی قوم نہیں جس میں میرے نشان ظاہر نہیں ہوئے اور کوئی فرقہ نہیں جو میرے نشانوں کا گواہ نہیں۔ اگر ان نشانوں کے گواہ دس کروڑ بھی کہیں تو کچھ مبالغہ نہیں ہوگا ۔مگر مخالفوں کے حال پر رونا آتا ہے کہ انہوں نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ اگر یہ نشان جو ان کو دکھلائے گئے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑکے وقت یہودیوں کو دکھلائے جاتے تو ضُرِبَتۡ عَلَیۡہِمُ الذِّلَّۃُ وَالۡمَسۡکَنَۃُ۔ ذلت اور مسکینی کے مستحق نہ ہوتے اور اگر لوط ؑکی قوم نشانوں کا مشاہدہ کرتی تو ایک بھاری زلزلے سے زمین کے نیچے نہ دبائی جاتی۔ مگر افسوس ان دلوں پر کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے اور ہر ایک طریقے سے ان کے دل کی تاریکی بڑھ گئی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں شکر گزاری کا حقیقی ادراک عطا فرمائے وہاں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ؑکی بیعت میں آ کر حقیقی روشنی، بصارت اور معرفت بھی عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: شکرگزاری کے حوالے سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا پاکیزہ عملی نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ۲۱؍اگست ۲۰۲۶ء



