تقویٰ میں ترقی کے لیے ایک جماعت اور ایک امام کی ضرورت
ایک ضروری بات یہ ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرو ترقی انسان خودنہیں کرسکتاتھا جب تک ایک جماعت اور ایک اس کا امام نہ ہو ۔اگر انسان میں یہ قوت ہوتی کہ وہ خودبخود ترقی کرسکتا توپھر انبیاء کی ضرورت نہ تھی ۔تقویٰ کے لیے ایک ایسے انسان کے پیداہونے کی ضرورت ہے جو صاحب ِکشش ہو اور بذریعہ دعا کے وہ نفسوں کو پاک کرے ۔دیکھو اس قدر حکماء گذرے ہیں کیا کسی نے صالحین کی جماعت بھی بنائی، ہرگزنہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صاحبِ کشش نہ تھے ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے بنادی ۔بات یہ ہے کہ جسے خداتعالیٰ بھیجتاہے اس کے اندر ایک تریاقی مادہ رکھا ہوا ہوتا ہے۔ پس جو شخص محبت اور اطاعت میں اس کے ساتھ ترقی کرتاہے تو اس کے تریاقی مادہ کی وجہ سے اس کے گناہ کی زہردورہوتی ہے اور فیض کے ترشحات اس پربھی پڑنے لگتے ہیں۔ اس کی نماز معمولی نماز نہیں ہوتی یا درکھو کہ اگر موجودہ ٹکروں والی نماز ہزار برس بھی پڑھی جاوے تو ہرگز فائدہ نہ ہوگا۔ نماز ایسی شَے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے۔
(ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۱۳۴، ایڈیشن ۲۰۲۲)
مزید پڑھیں: خدا تعالیٰ اخلاص کو چاہتا ہے۔ ریاکاری پسند نہیں کرتا ہے




