کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

خدا تعالیٰ اخلاص کو چاہتا ہے۔ ریاکاری پسند نہیں کرتا ہے

ریاکاری ایک بہت بڑا گند ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ریاکار انسان فرعون سے بھی بڑھ کر شقی اور بد بخت ہوتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی عزت اور عظمت منوانا چاہتے ہیں۔ لیکن جن کو خدا پسند کرتا ہے وہ طبعاً اس سے متنفر ہوتے ہیں۔ ان کی ہمت اور کوشش اسی ایک امر میں صرف ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کا جلال ظاہر ہو اور دنیا اس سے واقف ہو۔ وہ ایسی حالت میں ہوتے ہیں اور پسند کرتے ہیں کہ دنیا اُن کو نہ پہچان سکے مگر ممکن نہیں ہوتا کہ دنیا اُن کو چھوڑ سکے کیونکہ وہ دنیا کے فائدہ کے لیے آتے ہیں۔ ان لوگوں کے جو دشمن اور مخالف ہوتے ہیں ان سے بھی ایک فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نشانات اُن کے سبب سے ظاہر ہوتے ہیں اور حقائق و معارف کھلتے ہیں۔ اُن کی چھیڑ چھاڑ سے عجیب عجیب انوار ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر ابو جہل وغیرہ نہ ہوتے تو قرآن شریف کے تیس سیپارے کیونکر ہوتے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی سی فطرت والے ہی اگر سب ہوتے تو ایک دم میں وہ مسلمان ہو جاتے۔ اُن کو کسی نشان اور معجزہ کی حاجت ہی نہ ہوتی۔ پس ہم ان مخالفوں کے وجود کو بھی بے مطلب نہیں سمجھتے۔ اُن کی چھیڑ چھاڑ اللہ تعالیٰ کو غیرت دلاتی ہے اور اس کی نصرت اور تائیدات کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ غرض خدا تعالیٰ کے ماموروں کا یہ خاص نشان ہوتا ہے کہ وہ اپنی پرستش کرانا نہیں چاہتے۔ جس طرح پر وہ لوگ جو پیر بننے کے خواہشمند ہیں چاہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی پُوجا کرائے تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے انسان کے بچے اس پوجا کے مستحق نہ ہوں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ایک مرید اس مرشد سے ہزار درجہ اچھا ہے جو مکر کی گدی پر بیٹھا ہوا ہو کیونکہ مرید کے اپنے دل میں کھوٹ اور دغا نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ اخلاص کو چاہتا ہے۔ ریاکاری پسند نہیں کرتا ہے۔

(ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۱۱ ایڈیشن۱۹۸۴ء)

مزید پڑھیں: قرآن شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button