متفرق مضامین

وفاداری اور طاقت کی علامت، جنگل کا کسان: ہارن بلز

کسی قبیلے سے سردار کی ٹوپی میں لگے سیاہ دھاری دار سفید پر کس پرندے کے ہوتے ہیں؟ آئیے اس پرندے کے متعلق جانتے ہیں۔

ہارن بلز(Hornbill) دنیا کے نہایت دلچسپ اور خوبصورت پرندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ پرندے اپنی بڑی، مڑی ہوئی چونچ اور منفرد شکل کی وجہ سے آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہارن بلز کا تعلق ’Bucerotidae‘ خاندان سے ہے اور یہ زیادہ تر افریقہ اور ایشیا کے جنگلاتی اور گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہارن بلز کی ساٹھ سے زائد اقسام موجود ہیں، جن میں ہر ایک کی اپنی خاص خصوصیات اور عادات ہیں۔ ان میں گریٹ ہارن بل، ان میںGreat Hornbill, Rhinoceros Hornbill، Southern Ground Hornbill اور Indian Grey Hornbill خاص طور پر مشہور ہیں۔

ہارن بلز کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی بڑی چونچ ہے۔ اگرچہ یہ چونچ بہت بھاری دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ اندر سے کھوکھلی اور ہلکی ہوتی ہے۔ بعض اقسام کی چونچ کے اوپر ایک ابھار نما حصہ ہوتا ہے جسے “کاسک”( casque) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ آواز کو گونج دار بنانے، ساتھی کو متوجہ کرنے اور مختلف اقسام کی شناخت میں مدد دیتا ہے۔ بعض ہارن بلز میں یہ کاسک نہایت رنگین ہوتا ہے، جس سے ان کی خوبصورتی مزید بڑھ جاتی ہے۔

ہارن بلز مختلف جسامتوں میں پائے جاتے ہیں۔ کچھ اقسام چھوٹی ہوتی ہیں جبکہ کچھ بہت بڑی۔ سدرن گراؤنڈ ہارن بل ایک میٹر سے زیادہ لمبا ہو سکتا ہے اور دنیا کے سب سے بڑے ہارن بلز میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے پروں کا رنگ عموماً کالا، سفید، بھورا یا سرمئی ہوتا ہے، جبکہ بعض اقسام کی گردن یا چہرے کے اردگرد شوخ رنگ بھی پائے جاتے ہیں۔

یہ پرندے زیادہ تر جنگلات میں رہتے ہیں اور درختوں پر وقت گزارتے ہیں۔ وہ ایک درخت سے دوسرے درخت تک اڑتے ہوئے خوراک تلاش کرتے ہیں۔ ان کی پرواز طاقتور اور شور والی ہوتی ہے کیونکہ ان کے پروں کی حرکت سے تیز آواز پیدا ہوتی ہے۔ زمین پر رہنے والے ہارن بلز گھاس کے میدانوں میں چلتے ہوئے شکار تلاش کرتے ہیں۔

ہارن بلز ہمہ خور(omnivorous) پرندے ہیں، یعنی یہ پودوں اور جانوروں دونوں کو کھاتے ہیں۔ بہت سی اقسام کے پھل، خاص طور پر انجیر، شوق سے کھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کیڑے مکوڑے، چھپکلیاں، مینڈک، سانپ اور چھوٹے جانور بھی کھاتے ہیں۔ چونکہ یہ پھل کھانے کے بعد بیج دور دور تک پھیلا دیتے ہیں، اس لیے جنگلات کی افزائش میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں “جنگل کا کسان”(farmers of the forest) بھی کہا جاتا ہے۔ اگر ہارن بلز نہ ہوں تو بہت سے درختوں کی نسل آگے نہ بڑھ سکے۔

ہارن بلز کی افزائش نسل کا طریقہ بہت منفرد اور حیرت انگیز ہے۔ مادہ ہارن بل ایک درخت کے کھوکھلے حصے میں داخل ہوتی ہے، پھر نر ہارن بل مٹی، پھلوں کے گودے اور دیگر مواد سے سوراخ کو بند کر دیتا ہے۔ صرف ایک چھوٹا سا سوراخ کھلا رہتا ہے جس سے نر مادہ اور بچوں کو خوراک پہنچاتا ہے۔ مادہ کئی ہفتوں تک اسی بند جگہ میں رہتی ہے اور انڈوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ طریقہ انہیں دشمن جانوروں جیسے سانپوں اور بندروں سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس دوران ہارن بلز کی زندگی کا ایک اور نہایت حیرت انگیز پہلو سامنے آتا ہے۔ جب مادہ گھونسلے کے اندر محفوظ ہو جاتی ہے تو اس کے اڑنے والے پر (Flight Feathers) قدرتی طور پر جھڑ جاتے ہیں۔ اس عمل کو ’مولٹنگ‘ (moulting)کہا جاتا ہے۔ چونکہ اسے اس عرصہ میں اُڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے نئے اور مضبوط پر آہستہ آہستہ اُگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات جھڑے ہوئے پر گھونسلے کو نرم اور گرم رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ نر ہارن بل پورے عرصہ میں مادہ اور بچوں کو خوراک فراہم کرتا رہتا ہے۔ جب بچے کچھ بڑے ہو جاتے ہیں اور مادہ کے نئے پر مکمل ہو جاتے ہیں تو وہ گھونسلے سے باہر نکلتی ہے۔ پرندوں کی دنیا میں یہ ایک نہایت منفرد اور غیر معمولی خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔

ہارن بلز کئی ثقافتوں اور روایات میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ افریقہ اور ایشیا کے بعض علاقوں میں انہیں طاقت، وفاداری اور دانائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ کچھ قبائل ان کے پروں اور چونچوں کو مذہبی یا ثقافتی تقریبات میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کی خوبصورتی اور منفرد شکل نے لوگوں کو ہمیشہ متاثر کیا ہے۔

بدقسمتی سے آج ہارن بلز کو کئی خطرات کا سامنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے نظام میں تبدیلی اور درختوں کی کمی، جنگلات کی کٹائی کے علاوہ بعض علاقوں میں لوگ ان کا شکار بھی کرتے ہیں۔ کچھ ہارن بلز کو گوشت کے لیے مارا جاتا ہے جبکہ کچھ کو ان کے کاسک اور پروں کی وجہ سے شکار کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ماہرین اور ماحولیاتی تنظیمیں ہارن بلز کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے تعلیمی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔

پس ہارن بلز قدرت کے حیرت انگیز شاہکار ہیں۔ ان کی بڑی چونچ، منفرد عادات، طاقتور پرواز، غیر معمولی خاندانی نظام اور افزائش نسل کے حیرت انگیز طریقے انہیں دوسرے پرندوں سے الگ بناتے ہیں۔ اگر انسان جنگلات کی حفاظت کرے اور شکار کو کم کرے تو ہارن بلز کی نسل محفوظ رہ سکتی ہے۔ ان خوبصورت پرندوں کا تحفظ دراصل ہماری زمین کے قدرتی حسن اور ماحول کے تحفظ کے برابر ہے۔

(ابو الفارس محمود)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: سیر کر دنیا کی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button