حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

استغفار کی حقیقت

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۳؍جنوری ۲۰۱۲ء)

آیت [ھود:۴] جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں استغفار کا طریق سکھایا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ استغفار کس طرح کرنی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ: نیز یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو تمہیں وہ ایک مقررہ مدت تک بہترین سامانِ معیشت عطا کرے گا اور وہ ہر صاحبِ فضیلت کو اُس کے شایانِ شان فضل عطا کرے گا۔ اور اگر تم پِھر جاؤ تو یقینا مَیں تمہارے بارے میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ پس جیسا کہ میں نے کہا کہ حقیقی استغفار کرنے والے کی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتاہے۔ اس آیت کے شروع میں اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو۔ اُس سے اُس کی مدد کے طالب ہو، اُس سے دعائیں کرو کہ وہ تمہارے دلوں کے زَنگ دھو کر خالص بندہ بنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے وعدے کے مطابق مدد فرماتا ہے۔ لیکن اگر ایک شخص آج ایک راستہ اختیار کرتا ہے، کل دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے، استغفار میں مستقل مزاجی نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ استغفار نہیں ہے۔

پس حقیقی استغفار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اُن جذبات و خیالات سے بچنے کی دعا مانگی جائے جو خدا تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے میں روک ہیں اور جب یہ معیار حاصل ہو جائے گا، یہ جذبات دبانے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی تو پھر تُوْبُوْا اِلَیْہ کی حالت پیدا ہو گی۔ وہ حالت پیدا ہو گی جب انسان پھر مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر جب یہ حالت ہو تو بندہ اللہ تعالیٰ کا مقرب بن جاتا ہے۔

پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی استغفار اور توبہ صرف الفاظ دہرا لینا یا منہ سے اَسْتَغْفِرُاللّٰہ اَسْتَغْفِرُاللّٰہ کہہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ ساتھ ہی اپنی حالت کی تبدیلی کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے۔ جب انسان اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرتا ہے تو پھر انسان کے لئے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے دینی اور دنیاوی فائدے ملتے ہیں۔ دنیا و آخرت کے فائدے اسی میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد انسان بنتا ہے۔

اس آیت کی روشنی میں استغفار کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’وَأَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوْا إِلَیْہِ (ھود: 4) یادرکھو کہ یہ دوچیزیں اس اُمّت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔ دوسری حاصل کردہ قوت کوعملی طور پر دکھانے کے لئے‘‘۔ (ایک چیز جو ہے وہ قوت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جس سے انسان برائیوں اور گناہوں سے بچے۔ اور دوسری چیز یہ کہ جو قوت حاصل ہو گئی، جو طاقت حاصل ہو گئی پھر اُس کا عملی اظہار بھی ہو۔ پھر انسان کا ہر قول و فعل اُس کے مطابق ہو جو اللہ تعالیٰ نے احکامات دئیے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں) فرمایا: ’’قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں‘‘۔ (اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا۔ استغفار جو ہے اُس کا دوسرے لفظوں میں نام اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ہے) ’’صُوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے۔ اسی طرح پر رُوحانی مگدر استغفار ہے‘‘۔ (مسلسل استغفار کرنے سے انسان کی روحانی حالت بہتر ہوتی ہے، طاقت آتی ہے) فرمایا کہ ’’اس کے ساتھ رُوح کو ایک قوّت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے‘‘۔ (جو چاہتا ہے کہ اپنی روحانی طاقت میں اضافہ کرے اُس کو زیادہ سے زیادہ استغفار کرنی چاہئے) ’’غَفَر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ اِستغفار سے انسان اُن جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے جو خداتعالیٰ سے روکتے ہیں‘‘۔ (استغفار کرتے رہو تو ان جذبات اور خیالات کو انسان دبائے گا جو اس بات سے روکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پیروی کی جائے۔ جو نیکیوں سے روکتے ہیں۔ اس کی تفصیل قرآنِ کریم میں سینکڑوں احکامات کی صورت میں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اگر ایک آدھ حکم کو بھی اور نیکی کو بھی تم اہمیت نہیں دیتے تو اس کا مطلب ہے تم پوری کوشش نہیں کر رہے) فرمایا ’’پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کرکے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ اُن پر غالب آوے‘‘۔ (اب زہریلے مواد کیا ہیں؟ شیطان کے مختلف حملے ہیں۔ دنیا کی چکا چوند ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے جو حکم ہیں جن کے بارے میں نہ کرنے کا حکم ہے، اُن سے بچنا۔ یہ سب زہریلے مواد ہیں۔ تو جب استغفار کرے گا تو ان زہریلے مواد سے، ان بری باتوں سے، ان بدیوں سے انسان بچے گا اور نیکیاں جو ہیں ان برائیوں پر غالب آ جائیں گی) پھر فرمایا کہ ’’خداتعالیٰ کے احکام کی بجاآوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔ یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ ایک سمّی مادہ ہے جس کا مؤکل شیطان ہے‘‘ (یعنی ایک زہریلا مادہ ہے جس کی ترغیب دینے والا، جس کی طرف توجہ دلانے والا، جس سے کام لینے والا شیطان ہے، یہ زہریلا مادہ ہے) ’’اور دُوسراتریاقی مادہ ہے‘‘۔ (علاج کرنے کا مادہ ہے، برائیوں کا علاج کس طرح کیا جائے اور یہ دونوں چیزیں انسان کے اپنے اندر موجود ہیں، زہریلا مادہ بھی اور تریاقی مادہ بھی۔ برائیاں بھی انسان کے اندر موجود ہیں اور اچھائیاں بھی انسان کے اندر موجود ہیں۔ اگر اچھائیوں سے برائیوں کو نہیں دباؤ گے، نیکیوں سے برائیوں کو نہیں دباؤ گے، اللہ تعالیٰ کے غفران کے نیچے اُس کی مدد مانگتے ہوئے نہیں آؤ گے تو وہ برائیاں قبضہ جما لیں گی۔ )فرمایا کہ ’’جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مددنہیں لیتا تو سمّی قوت غالب آجاتی ہے‘‘ (پس جب استغفار نہیں ہوگا تو دلوں پر قبضہ کرنے والی جو چیز ہے وہ تکبر ہے جو استغفار سے بھی روکتی ہے۔ جب انسان تکبر کرتا ہے اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے اور جو تریاقی چشمہ ہے، جو استغفار ہے، اُس سے اگر مددنہیں لیتا تو زہریلی قوت جو ہے وہ پھر انسان پر غالب آ جاتی ہے)۔ فرمایا: ’’لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہہ نکلتی ہے۔ اور یہی استغفار کے معنی ہیں‘‘۔

پس حقیقی استغفار کیا ہے؟ ایسی استغفار جس سے روح گداز ہو کر بہہ نکلے۔ اور یہ روح گداز ہونا زبانی منہ سے استغفار کرنا نہیں ہے بلکہ وہ استغفار ہے کہ دل سے ایک جوش کی صورت میں استغفار نکلنی چاہئے۔ اور جب یہ نکلتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے آنکھ کے پانی کی صورت میں بہتی ہے تو پھر یہ ایک انسان میں انقلاب پیدا کرتی ہے اور تبدیلی لاتی ہے۔

فرمایا: ’’یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے‘‘۔ (جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ استغفار سے طاقت آتی ہے۔ اور وہ طاقت اُس استغفار سے آتی ہے جو دلی جوش سے نکل رہا ہو جیسا کہ بیان ہواہے اور آنکھ کے پانی کی صورت میں اُس کا اظہار ہو رہا ہو۔ وہ استغفار حقیقی استغفار ہے جو انسان میں ایک تبدیلی پیدا کرتا ہے)۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔ اوّل رسول کی اطاعت کرو۔ دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو‘‘۔ فرمایا کہ ’’ہاں پہلے اپنے ربّ سے مدد چاہو۔ جب قوت مل گئی تو تُوْبُوْا اِلَیْہِ یعنی خدا کی طرف رجوع کرو‘‘۔ (ملفوظات جلد اول صفحہ 348-349۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

مزید پڑھیں: اطاعتِ رسول اللہ ﷺ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button