حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

اطاعتِ رسول اللہ ﷺ

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۷؍اگست ۲۰۱۲ء)

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا(الزمر: 54) … یعنی کہہ اے میرے غلامو! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمتِ الٰہی سے ناامید مت ہو۔ خدا تعالیٰ سارے گناہ بخش دے گا‘‘۔ فرماتے ہیں کہ’’اب اس آیت میں بجائے قُلْ یَا عِبَادَ اللّٰہ کے، جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو! یہ فرمایا کہ قُلْ یٰعِبَادِی یعنی کہہ اے میرے غلامو۔ اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گناہوں سے دل شکستہ ہیں اُن کو تسکین بخشے۔ سو اللہ جلّشانہٗ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلاوے کہ مَیں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرّف کرتا ہوں‘‘۔ (وہ لوگ جو گناہوں کی وجہ سے بالکل مایوس ہو گئے ہیں اُن کو بتائے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور کس طرح انعامات سے نوازتا ہے۔) فرمایا ’’سو اس نے قُلْ یٰعِبَادِی کے لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول، دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔ جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہوجائے۔ یعنی ایسا اس کی طاعت میں محو ہوجاوے کہ گویا اس کا غلام ہے- تب وہ گو کیسا ہی پہلے گنہگار تھا بخشا جائے گا‘‘۔ فرمایا کہ ’’جاننا چاہئے کہ عَبْد کا لفظ لغتِ عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جلّشانہ فرماتا ہے وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ (البقرۃ: 222) اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے۔ یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے‘‘۔ (یعنی اس طرح اطاعت کرو اس نبی کی جس طرح ایک غلام اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے)’’تب وہ نجات پائے گا‘‘۔ فرمایا ’’اس مقام میں ان کور باطن نام کے موحّدوں پر افسوس آتا ہے‘‘ (بعض لوگ کہتے ہیں کہ بعض نام نہیں رکھنے چاہئیں) ’’کہ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یاں تک بغض رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ نام کہ غلام نبی، غلام رسول، غلام مصطفیٰ، غلام احمد، غلام محمد شرک میں داخل ہیں‘‘۔ فرمایا کہ ’’اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ مدار نجات یہی نام ہیں‘‘۔ (یعنی اگر محبت سے اور حقیقت میں ان ناموں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل ٹھیک کئے یا اپنے ناموں کو اُن صفات کا حامل بنایا تو پھر اس سے نجات بھی حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نام رکھنے سے نجات مل جائے گی کہ نام رکھ لیا اور پھر جتنی مرضی برائیاں کرتے رہے تو انسان نجات پا جائے گا۔ یہ نہیں ہے۔ یہ جو فرمایا کہ حکم سے باہر نہ جائے گا۔ جو احکامات ہیں اُس سے باہر نہ جائے، یہ جو فقرہ ہے یہ خاص طور پر بڑا ضروری ہے۔ اس فقرہ پر بھی غور کرنا چاہئے۔)

پھر آپؑ مزید فرماتے ہیں ’’اور چونکہ عَبْد کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ ہر ایک آزادگی اور خودرَوی سے باہر آجائے‘‘ (یعنی عبدیت اُس وقت ہوتی ہے جب نہ اپنی آزادی رہے، نہ خود اپنے بارے میں فیصلے کرکے خود ہی جو چاہے کرتا رہے، اس سے باہر آئے) ’’اور پورا متبع اپنے مولیٰ کا ہو۔ اس لئے حق کے طالبوں کو یہ رغبت دی گئی کہ اگر نجات چاہتے ہیں تو یہ مفہوم اپنے اندر پیدا کریں۔ اور درحقیقت یہ آیت اور یہ دوسری آیت قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ (آل عمران: 32)۔ ازروئے مفہوم کے ایک ہی ہیں‘‘۔ (جو پہلی آیت پڑھی گئی تھی اور یہ آیت، فرمایا کہ مفہوم دونوں کا ایک ہے) ’’کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے‘‘ (یعنی جو کسی کی پیروی کا اور اتباع کا جو انتہا ہے، وہ مکمل طور پر اطاعت کے لئے لازمی ہے، اطاعت ہو گی تو اتباع ہو گی، پیروی ہو گی) فرمایا کہ’’جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے‘‘۔ (پورا فقرہ یوں بنے گا کہ) ’’کیونکہ کمال اتباع اس محویت اور اطاعت تامہ کو مستلزم ہے جو عبد کے مفہوم میں پائی جاتی ہے۔ یہی سِر ہے کہ جیسے پہلی آیت میں مغفرت کا وعدہ بلکہ محبوبِ الٰہی بننے کی خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قُلْ یٰعِبَادِی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قُلْ یَا مُتَّبِعِی۔ یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہورہے ہو، رحمتِ الٰہی سے نومید مت ہو کہ اللہ جلّشانہٗ بہ برکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا۔ اور اگر عباد سے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر تحقق شرط ایمان اور بغیر تحقق شرط پیروی تمام مشرکوں اور کافروں کو یونہی بخش دیوے‘‘۔ یعنی اگر ایمان میں کامل نہیں ہے اور پیروی اور اتباع میں کامل نہیں ہے تو بخشا نہیں جا سکتا، پھر تو اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور کافروں کو یونہی بخش دے گا۔ فرمایا ’’ایسے معنے تو نصوص بینہ قرآن سے صریح مخالف ہیں‘‘۔ (آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5صفحہ 189تا193)

پس یہ خوشخبری ہر اُس شخص کے لئے ہے جو کہ کامل اطاعت کرتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے کہ اس کامل پیروی سے شدید ترین گناہ بھی دھل جاتے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا اب مَیں اُسوہ کے نمونے پیش کروں گا۔ اس رمضان میں خدا تعالیٰ نے جو ایسا ماحول پیدا فرمایا ہے اور ہر سال جب رمضان آتا ہے تو جو ماحول پیدا ہوتا ہے اور نیکیوں اور عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اب بھی ہوئی ہے تو اگر حقیقت میں خدا تعالیٰ کا عبد اور پیارا بننا ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی پیروی کو جاری رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہی نہیں کہ ایک دفعہ عمل کر لیا۔ آپؐ کا عمل یا نمونہ کسی ایک چیز کے بارے میں نہیں تھا، نہ ہی رمضان کے لئے مخصوص تھا بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بقول کَانَ خُلُقُہٗ اَلْقُرْآن تھا اور تمام زندگی پر حاوی تھا۔ آپ کا خلق قرآن عظیم تھا۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو فرمایا کہ اس سے گناہوں سے دل شکستوں کو امید کی کرن دکھائی دیتی ہے تو وہ تبھی ہے جب اس اُسوہ پر عمل کا مصمّم ارادہ ہو اور پھر نہ صرف ارادہ ہو بلکہ عمل بھی ہو اور پھر باقاعدگی بھی ہو۔

مزید پڑھیں: مومن کو اپنی عبادات میں دوام اختیار کرنا چاہیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button