حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کارہائے نمایاں(قسط دوم۔ آخری)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲۸؍اگست ۱۹۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپؑ نے بعض پہلے نبیوں سے کئی گنا زیادہ ایسے کام کئے ہیں اور اگر بعض مادی نتائج بھی نظر آئیں۔ تو باوجود معترضوں کے اعتراضوں کے ماننا پڑے گا کہ حضرت مرزا صاحب نبی ہیں۔ اس کے لیے معیار نبوت پر بحث ہو گی ورنہ پہلے اسلام کا انکار کرنا پڑے گا۔
بعض لوگ کہتے ہیں ملک کا آزاد کرانا نبی کا کام ہوتا ہے اور ایسے لوگ بھی کسی نبی کو نہیں مان سکتے۔ جب تک کہ کوئی مدعی نبوت ان کے سامنے آکر ملک کو آزاد نہ کرائے۔
لیکن ملکوں کا آزاد کرانا کوئی ایسا کام نہیں جو تمام انبیاء میں پایا جاتا ہو۔ انبیاء کی زندگیوں پر نظر ڈالنے سے بہت سے ایسے نبی نظر آئیں گے جو دوسروں کے ملکوں میں رہتے اور انہیں کے آئین و قوانین کے پابند تھے اور انہوں نے کبھی یہ نہ کہا کہ ہم ملک کو آزاد کرانے کے لیے آئے ہیں۔ پھرایسے بھی نبی گزرے ہیں جو اپنے ملکوں میں رہتے تھے لیکن ان کے ملک دوسروں کے قبضہ میں تھے۔ مگر انہوں نے کبھی یہ نہ کہا کہ ہم دوسروں کا قبضہ اس ملک سے اٹھانے کے لیے مامور ہوئے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ
یہ کام بھی نبیوں کا نہیں کہ وہ ملکوں کو آزاد کراتے پھریں۔ جب تمام کے تمام نبی نہ حکومت کے لیے آتے ہیں۔ نہ سلطنت کے لیے۔ نہ نبی کا فاتح ہونا ضروری ہے اور نہ ہی شریعت لانا تو معلوم ہوا ان کی غرض کچھ اور ہی ہوتی ہے۔
جب یہ بات ذہن نشین کر دی جائے گی۔ تو اس صورت میں ہر ایک شخص اس بات کی جستجو کرے گا کہ نبی کے آنے کی اصل غرض کو دیکھے اور جب لوگ اس طرف توجہ کریں گے تو پھر خود مقرر کردہ امر پر نبی کی سچائی بلکہ جس غرض کے لیے کوئی نبی آیا اس غرض کو مد نظر رکھ کر اسے پر کھیں گے۔ نہ کہ اس وزیر کی طرح کریں گے۔ جس کا قصہ اس طرح مشہور ہے۔

ایک مدعی نبوت ایک بادشاہ کے پاس آیا اور آکر کہا۔ اے بادشاہ میں نبی ہوں مجھے قبول کرو۔ بادشاہ نے وزیر سے اس کے متعلق پوچھا۔ وزیر نے کہا کہ اے بادشاہ ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہہ کر وہ ایک پرانا زنگ خوردہ بگڑا ہوا تالا لے آیا اور کہنے لگا۔ بادشاہ سلامت اسے کہئے۔ اگر یہ نبی ہے تو اس کو درست کر دے۔ بادشاہ نے مدعی نبوت کی طرف دیکھا تو اس نے جواب دیا۔ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ نہ کہ لوہار ہونے کا۔ مجھے اگر آزمانا ہے تو نبوت کے کسی کام پر آزماؤ۔ معلوم ہوتا ہے۔ اس وزیر کے نزدیک نبی وہ ہو سکتا تھا کہ جو چاہے سو کرے۔ اسی خیال سے وہ تالا لے آیا۔ ورنہ اگر وہ یہ تعریف نہ سمجھتا تو ایسا نہ کرتا۔ یہ نبی کے متعلق غلط خیال کا ہی نتیجہ تھا۔
پس اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ نبی کے کیا کام ہوتے ہیں۔ تو پھر کسی اور طرف جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جس کام کے لیے نبی آتا ہے اسے دیکھنا چاہیے اگر ایک مدعی نبوت اس کام کو کرلے تو یقیناً وہ سچا ہے خواہ لوگوں کے دماغوں میں ہزاروں کام ایسے ہوں۔ جو نبی نے نہ کئے ہوں۔ ان سے اس کو کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور نہ ہی ان کی بناء پر اس کی سچائی کو یا اس کی آمد کی ضرورت کو پرکھا جا سکتا ہے۔ پس
یہ سوال کہ حضرت مرزا صاحبؑ نے کیا کیا۔ ہمیں عام کرنا چاہیے اور سوال اٹھانے والوں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ نبی کا ایسا کام بتائیں۔ جو پہلے انبیاء نے کیا ہو۔
لیکن چونکہ جن لوگوں کو یہ سوال پیدا ہوا اور ہوتا ہے وہ اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں کہ میں ان سے پوچھ سکوں اور وہ دوست جس نے یہ سوال میرے سامنے پیش کیا ہے۔ شائد وہ بھی اس وقت یہاں موجود نہیں۔ اس لیے میں یہ سوال پیش کردینے پر ہی اکتفا نہیں کرتا اور نہ اس طرح اپنے آپ کو ذمہ داری سے سبکدوش سمجھتا ہوں اس لیے میں خود ہی بتاؤں گا جن کے رو سے کسی مدعی نبوت کو پرکھا جا سکتا ہے۔
اس سوال پر غور کرتے ہوئے ہم صاحب شریعت نبیوں کو علیحدہ رہنے دیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دو اورنبیوں کو مسلمان صاحب شریعت نبی بتاتے ہیں اور زبور اور انجیل دو کتابیں شریعت کی قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کے دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی شریعت کی بات نہیں۔ تاہم ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ ایسے چار نبی ہیں۔ سلسلہ موسویہ اور سلسلہ محمدیہ کے ان چار نبیوں کو الگ کر لینے کے بعد موسوی سلسلہ میں سینکڑوں ہزاروں انبیاء گزرے ہیں لیکن ان پر شریعت نہیں اتری۔ حضرت یحییٰؑ اور حضرت زکریا علیہ السلام پر کوئی کتاب نہیں اتری۔ حتیٰ کہ ایک بھی حکم نہیں جو ان پر اترا ہو اور نہ ہی وہ اس بات کے مدعی ہوئے اور نہ ہی مسلمانوں کا ان کے متعلق یہ دعویٰ ہے کہ ان پر شریعت اتری۔ بڑی بڑی تفسیر والوں نے بھی یہی لکھا ہے کہ ان پر کچھ نہیں اترا اور اگر کسی نے کہا بھی کہ ان پر کچھ اترا تو انہوں نے عقلاً اور نقلاً اس کا رد کر دیا۔ اس طرح شریعت کا سوال تو اڑ گیا
کیونکہ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان لا تعداد انبیاء میں سے سب کے سب شریعت لے کرآئے تھے۔ بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف یہی دو نبی شریعت لائے تھے
اور اگر باقی دو کے متعلق بھی تھوڑی دیر کے واسطے ہم یہ تسلیم کرلیں کہ وہ بھی کتاب لائے تو دو کی جگہ چار سہی لیکن باقیوں کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ بھی شریعت لائے۔ پس
شریعت کا سوال درمیان سے اڑ گیا اور معلوم ہو گیا کہ ہر نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ شریعت لائے بلکہ بغیر شریعت لانے کے بھی ایک نبی نبی ہو سکتا ہے۔
اب
رہا حکومت کا سوال۔ حضرت یحییٰؑ اور زکریا علیہ السلام کے پاس حکومت بھی نہ تھی اور نہ ہی کسی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے متعلق اس قسم کے کام تھے۔
بلکہ قرآن کریم سے زکریاؑ کے یہ کام معلوم ہوتے ہیں کہ انہوں نے اولاد کے لیے دعا مانگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرورش اور ان کے متعلق مشورہ میں حصہ لیا۔ نمازیں پڑھتے، عبادت گاہوں میں رہتے تھے اور یہ کوئی ایسے کام نہیں تھے جو دوسرے لوگ نہ کر سکتے تھے۔ دعا ہے جو ہرایک شخص کر سکتا اور کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کفالت بھی کوئی ایسی چیز نہیں۔ ایک وارڈ (Ward) ہے اور وارڈ کوئی ایسی شے نہیں جو نبی ہی کرسکے دوسرا نہ کرسکے۔ پھر نمازیں پڑھنا اور پڑھانا۔ عبادت گاہوں میں رہنا یہ بھی ایسی باتیں ہیں کہ ہر ایک شخص کرتا اور کر سکتا ہے۔ پس ہمیں ان کے متعلق کوئی ایسا کام نظر نہیں آتا جسے دوسرے لوگ کر نہ سکتے ہوں اور دنیا والے بغیر اس کام کے کئے جانے کے رہ نہ سکتے ہوں۔ ایسا ہی بائبل ہے۔ اس سے بھی حضرت زکریاؑ کی کوئی ایسی بات نہیں ملتی جو صرف انہی کی ذات سے پوری ہو سکتی ہو بلکہ جتنی باتوں کا پتہ چلتا ہے وہ ایسی ہیں کہ سب لوگ انہیں کر سکتے ہیں۔
اسی طرح یحییٰ علیہ السلام کا بھی ایک ہی کام نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ حضرت عیسیٰ آگئے اور وہ سچے ہیں۔ پس یہ بھی کوئی ایسا کام نہیں کہ دنیا اس کی محتاج ہو اور دوسرے لوگ نہ کر سکتے ہوں۔ یہی کام حضرت نبی کریم ﷺ کے وقت حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے کیا۔ حضرت یحییٰؑ کے متعلق اگر َسَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا (آل عمران :۴۰) کہا گیا تو یہ بھی کوئی نرالی بات نہیں۔ سردار شریف الطبع بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ بات بھی حضرت یحییٰؑ سے خاص نہ رہی اور آنحضرتﷺ کے متعلق بھی یہ بات پائی جاتی ہے بلکہ درجہ اولیٰ آپﷺ میں ہے اور پھر جو کام حضرت یحییٰؑ نے نبی ہونے کی حیثیت میں کیا وہی کام آنحضرت ﷺ کے عہد میں غیر نبی اشخاص نے کیا اور لوگوں کو کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ آگئے اور وہ سچے ہیں اور ایسے لوگوں کے پیشرو حضرت ابو بکرؓ اورحضرت عمرؓ و دیگر صحابہ تھے۔
رہا یہ امر کہ حضرت عیسیٰؑ کی صداقت کو لوگوں پر ظاہر کیا۔ تو یہ کام بھی نبیوں کا نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کی صداقت کو اس طور سے ظاہر کریں۔ جس طور سے کہا جاتا ہے کہ حضرت یحییٰؑ نے کی۔
کیونکہ اس طرح یہ سوال پیدا ہو گا کہ خود حضرت یحییٰؑ کی صداقت کسی نبی نے ظاہر کی۔ پھر حضرت موسیٰؑ کی صداقت کس نبی نے آکے ظاہر کی۔ حضرت ابراہیمؑ کی صداقت کسی نبی نے آکے ظاہر کی۔ حضرت نوحؑ کی صداقت کسی نبی نے آکے ظاہر کی۔ حضرت آدمؑ کی صداقت کسی نبی نے آ کے ظاہر کی اور پھر دوسرے بے شمار نبیوں کی صداقت کس نے آکے ظاہر کی جو دنیا میں آتے رہے۔ پس
یہ کام بھی نبوت کا کام نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کا کام ہے اور نہ ہی یہ کام خاصہ انبیاء معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب یہ کام دوسرے لوگ بھی کر سکتے ہیں جو نبی نہیں ہیں اور فی الواقع وہ کرتے رہے ہیں تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کام صرف نبیوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔
پس اس صورت میں کسی خاص نبی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کوئی ایسا کام نہیں کر رہا جو دوسرے نہیں کر سکتے اور صرف اس وجہ سے کہ چونکہ دوسرے لوگ بھی وہی کام کرسکتے ہیں جو یہ کر رہا ہے۔ اس کے ماننے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اگر ایک نبی کے متعلق ہم اس اصل کو قائم کریں گے اور اس کے ماتحت اس کا انکار کریں گے تو یہی اصل ہمیں دوسروں کے متعلق بھی قائم کرنا پڑے گا اور پھر ایک نہیں دو نہیں تمام کے تمام انبیاء کو جواب دینا پڑے گا۔ لیکن یہ بات قبول نہیں کی جا سکتی ہم باوجود اس کے پہلے نبیوں کے ایسے کام دیکھتے ہیں جو غیر نبی بھی کر سکتے اور کرتے تھے انہیں نبی مانتے ہیں۔
دراصل انبیاء دنیا میں مادی کام کرنے کے لیے نہیں آتے اور نہ ہی انسان کو مادی طور پر ان کے کاموں کو دیکھنا چاہیے۔ ان کے سب کام روحانی ہوتے ہیں اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
حضرت زکریا، حضرت یحییٰ، حضرت سلیمان اور حضرت ہارون علیہم السلام اور دوسرے انبیاء کے آنے کی غرض کوئی مادی کام کرنا نہیں تھی بلکہ روحانی کام کرنا تھی۔ اور پھر وہ بھی کوئی ایسے نہیں جو دوسرے نہ کر سکتے تھے مثلاً قرآن کریم سے ایک ہی کام حضرت ہارون علیہ السلام کا نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ حضرت موسیٰؑ کی غیر حاضری میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ بت مت پوجو۔ کیا یہ بات کوئی غیر نبی نہیں کہہ سکتا تھا۔
پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ جو کام مرزا صاحب نے کیا وہ مولوی بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے انہیں ماننے کی ضرورت نہیں ہم پوچھتے ہیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے کون سا ایسا کام کیا جو کوئی غیر نبی نہ کر سکتا تھا کہ انہیں مانتے ہو۔ امامت تھی وہ غیر نبی بھی کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نیابت کی اور بچھڑا پوجنے والوں سے کہا جلد بازی سے کام نہ لو۔ حضرت موسیٰؑ کو آ لینے دو۔ نبی چھوڑ مولوی چھوڑ ایک عام آدمی بھی یہ کہہ سکتا تھا۔ پس
ان انبیاء کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کا یہ کام نہیں۔ کہ وہ مادی کام کرے بلکہ اس کے کام روحانی ہوتے ہیں۔
حضرت ہارونؑ کے متعلق ہرگز یہ پتہ نہیں ملتا۔ کہ انہوں نے کوئی بڑا کام کیا اور نہ قرآن کریم سے نہ حدیث سے نہ انجیل سے اور نہ ہی کسی اور کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی ایسا تغیر پیدا کیا جسے ہم گنا سکیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے انہیں نبی بنا کر بھیجا اور مسلمان انہیں نبی مانتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت مرزا صاحب نے ایسے کام کئے جو بعض پہلے نبیوں نے نہیں کئے۔ اور
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے بعض پہلے نبیوں سے کئی گنا زیادہ ایسے کام کئے ہیں اور اگر بعض مادی نتائج بھی نظر آئیں۔ تو باوجود معترضوں کے اعتراضوں کے ماننا پڑے گا کہ حضرت مرزا صاحب نبی ہیں۔ اس کے لیے معیار نبوت پر بحث ہو گی ورنہ پہلے اسلام کا انکار کرنا پڑے گا۔
چونکہ میرے نزدیک انبیاء کے کام مادی نہیں ہوتے روحانی ہوتے ہیں اور ایسے مخفی ہوتے ہیں کہ بعض وقت وہ ظاہر بھی نہیں ہوتے۔ جیسا کہ حضرت زکریاؑ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق کوئی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیوں آئے اور بھی کئی انبیاء ہیں جن کے آنے کے متعلق معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے آنے کی کیا غرض تھی۔
(الفضل ۵؍ستمبر ۱۹۲۵ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حضرت بانی سلسلہ احمدیہؑ کے کارہائے نمایاں(قسط اوّل)




