خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں
’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی‘‘
حضرت مصلح موعودؓ نے یہ نعرہ جب مجلس خدام الاحمدیہ کو عطا فرمایا تو اس کا مقصد یہ باور کروانا تھا کہ نوجوانوں کے لیے دیگر علوم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق قائم کرنا از حد ضروری ہے۔… اس ماٹو پر عمل کرنے سے آپ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے والے ہو جائیں گے۔
(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی قوم اُس وقت تک پائیدار ترقی اور حقیقی اصلاح حاصل نہیں کر سکتی جب تک اُس کے نوجوان کردار، فکر اور عمل کے لحاظ سے مضبوط نہ ہوں کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان میں جذبۂ عمل بھی ہوتا ہے، جدت کا احساس بھی، قربانی کا جوش بھی اور مستقبل کو سنوارنے کی بے پناہ صلاحیت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ عالم میں اصلاح اور بقا کی بنیاد نوجوانوں کی تربیت اور درست سمت میں راہنمائی پر رکھی جاتی ہے۔
اگر نوجوان تعلیم، اخلاق اور کردار میں مضبوط ہوں تو پوری قوم کو سنوار دیتے ہیں، لیکن اگر وہ نفسِ امّارہ اور گمراہ کن رجحانات کا شکار ہو جائیں تو قوم بھی انتشار اور زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس لیے نوجوانوں کی سمت کا درست ہونا پوری قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔جوانی کی عمر ایک انسان کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اصلاحِ نفس بنیاد: حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ہےکہ آپ نے کسی بچے کو بارش میں کھیلتے دیکھ کر نصیحت فرمائی کہ بیٹا! ذرا احتیاط سے، کہیں گر کر چوٹ نہ لگ جائے۔ بچے نے برجستہ جواب دیا کہ امام صاحب آپ اپنی فکر کریں۔ میرے گرنے سے تو صرف مجھے نقصان ہو گا مگر آپ کے گرنے سے قوم گر جائے گی۔
اسی لیےحضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے ۵۲؍سالہ دور خلافت میں احباب جماعت کو قومی زندگی گزارنے کی طرف متوجہ رکھا اور خوب کھول کر قوموں کی ترقی اور زوال کے اسباب بتائے یہ بھی بتایا کن طریقوں کو اپنایا جائے تو قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ کیا عوامل ہوتے ہیں جو قوموں کو تباہی کے دہانے پر لے جاتے ہیں ۔
دیکھا جائے تو اس زمانے کا نوجوان دنیاوی چمک دمک اور جدید دور کے بے شمار فتنوں میں گھرا ہوا ہے۔ مادہ پرستی، بے راہ روی، سوشل میڈیا کی غیر محدود دنیا اور دل بہلانے والے لایعنی مشاغل نوجوانوں کو اُن کےمقاصد سے دُور لے جانے والے ہیں ۔ ایسے ماحول میں انتہائی ضروری ہے کہ انسان نفس پر قابو پانا جانتا ہو،کیونکہ ایک باکردار نوجوان اس روشن چراغ کی مانند ہے جو نہ صرف خود کو بلکہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی منور کر دیتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک موقع پر خدام کو مخاطب ہو کر فرمایا: ’’دنیا کا امام بننے سے پہلے اپنے نفس کا امام بننا ہو گا۔ اپنی کمزوریوں پر اطلاع پا کر اور ان کی حقیقت سے شناسائی حاصل کر کے ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا ہو گا…آپ نے تو دنیا کی اصلاح کرنی ہے اور آپ اپنی اصلاح کئے بغیر دنیا کی اصلاح نہیں کر سکتے۔‘‘(مشعلِ راہ جلد سوم صفحہ۴۹۲)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’دنیا کی اصلاح کرنے اور انقلاب لانے والی قومیں اپنی کمزوریوں پر نظر رکھتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ عملی اصلاح سے آپس کی لڑائیاں ، مال کی ہوس،ٹی وی اور دوسرے ذرائع پر بیہودہ پروگراموں کو دیکھنا ایک دوسرے کے احترام میں کمی وغیرہ سب برائیاں ختم ہوجائیں گی۔ آنحضرتﷺ پر ایمان لانے والوں میں چور، ڈاکو،فاسق و فاجر، جواری، شراب خوروغیرہ برائیوں میں مبتلا لوگ بھی تھے۔ حقیقی ایمان نے ان میں قوّتِ ارادی پیداکی۔ انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اب خدا تعالیٰ کے احکامات کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا۔انہوں نے اپنے اعمال کی کمزوری کو اس طرح پرے پھینکا جس طرح ایک تیز سیلاب کا ریلا ایک تنکے کو بہا کر لے جاتا ہے۔ اس لئے صحابہؓ کے اس اسوہ کو اپنانے کی کوشش کریں اور ہر گناہ کے خلاف اپنی قوت ارادی کو بلند کریں اور ہمیشہ اللہ اور رسول کے حکموں کو اپنی زندگیوں میں جاری کریں۔ اس کے لئے آپ کو میرے خطبات سے بہت راہنمائی ملے گی۔ انہیں سننے اور پڑھنے کی عادت ڈال لیں تو اس سے ان شاء اللہ نہ صرف آپ کی اپنی اصلاح ہو جائے گی بلکہ آپ دوسروں کی اصلاح کا فریضہ بھی احسن رنگ میں سرانجام دے سکیں گے۔‘‘( پیغام خدام الاحمدیہ جرمنی بحوالہ روز نامہ الفضل آن لائن ۹؍جنوری ۲۰۲۰ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مزید فرماتے ہیں: ’’ہمیشہ اپنے نفس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور حقیقی احمدی بن جائیں۔ آپ میں سے ہر ایک نَو جوان کو چاہئے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق قائم رکھے۔آپ اُن لوگوں کے نقش قدم پر مت چلیں جو دنیاوی آسائشیں اور اثر و رسوخ میسّر آنے پر اپنے دین کی راہوں سے بھٹک جاتے ہیں۔ آپ اُن لوگوں کے نقش قدم پر مت چلیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے خالق کو بھول گئے۔ آپ کو ایسا بننا ہے جو حقیقی طور پر بیعت کی شرائط پر عمل کرتے ہیں کیونکہ عہدوں کو پورا کرنا ایک ضروری امر ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ سب خدام جو میرے اس خطاب کو آج یوکے میں سُن رہے ہیں اور امریکہ میں سُن رہے ہیں یا دنیا میں کہیں بھی سُن رہے ہیں اللہ کرے کہ آپ اپنے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں۔ خدا کرے کہ آپ اُن نَوجوانوں میں شمار کئے جائیں جو اپنے لوگوں کی اصلاح کرنے کے فرائض کو بخوبی سرانجام دینے والے ہیں اور قوموں کی ترقی کے لئے صف ِاوّل میں کھڑے ہیں۔ مَیں دعا کرتا ہوں کہ آپ کبھی ایسے نَو جوان نہ بنیں جواپنی قوموں پر بوجھ بنتے ہیں اور قوموں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ یقینا ایسے نَو جوان اپنے مذہب کو بہت نقصان پہنچانے والے ہیں۔ (خدام الاحمدیہ انگلستان کے نیشنل اجتماع پر خطاب ۱۴؍جون ۲۰۱۵ بحوالہ الفضل انٹرنیشنل ۱۴؍اپریل ۲۰۱۷ء)
حضرت مسیح موعودؑ نوجوانوں کو مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں :’’اب وقت تنگ ہے میں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔ زمانہ انقلاب میں ہے۔ یہ آخری زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے۔ اس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقعہ دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آکر ختم ہوجاتی ہیں۔ اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔ اب اسکے بعد کوئی موقع نہ ہوگا۔ بڑا ہی بدقسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔‘‘(ملفوظات جلد۶ صفحہ۲۶۳،ایڈیشن۱۹۸۴)
جوان انسان تندرست و توانا ہوتا ہے اور اپنے جسمانی، ذہنی، اخلاقی، روحانی قویٰ کا استعمال بہترین انداز اور پوری قوّت و طاقت کے ساتھ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں جوانی کی عمر اور عنفوان شباب کا عالم بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں وہ اپنی بے پناہ قوت اور صلاحیت کے ساتھ تمام دینی و دنیاوی فرائض احسن طریق پر ادا کرتا ہے۔
نوجوانوں کا کردار تاریخ کے آئینے میں
شیخ سعدی کا مشہور قول ہے ’’درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری‘‘ کہ جوانی میں توبہ کرنا پیغمبروں کا شیوہ اور طریق رہا ہے۔ ہم اگر اپنے زمانہ پرنگاہ ڈالیں تو ہر تنظیم، تحریک، جماعت اور فو ج میں نوجوانوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک یہ ریڑھ کی ہڈی مضبوط نہ ہو، قوم سیدھی کھڑی نہیں رہ سکتی کیونکہ تمام سوسائٹیز، تنظیموں کا مستقبل نوجوانوں سے جُڑا ہوا ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوجیں یا حکومتیں سب سے پہلے اپنے مخالف طبقہ کے نوجوانوں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک تباہ اور نیست و نابود کرتے ہیں تا آئندہ کچھ سال تک یہ قوم اٹھنے نہ پائے۔ ابھی حال ہی میں یوکرائن، افغانستان، فلسطین میں اس بات کا مشاہدہ کر چکے ہیں ۔
مضمون میں آگے بڑھنے سے پہلے ہم مذہبی دنیا پر نظر ڈالیں تو اصحاب کہف میں بھی زیادہ تر نوجوان تھے۔ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والے جوان تھے۔ اصحاب الصفّۃ کی اکثریت بھی نوجوانوں پر مشتمل تھی اور جب ہم اسلام کے ابتدائی ایام کا جائزہ لیتے ہیں تو آنحضور ﷺ پر ایمان لانےوالےصحابہ کی بڑی تعداد نوجوان طبقہ سے تعلق رکھتی تھی۔ جن کی آنحضورﷺنے ایسی تربیت اور تنظیم فرمائی کہ یہ مستقبل کےسپہ سالار بنے۔ ان کے ہاتھوں میں اسلام کی باگ ڈور تھمائی گئی۔ حتّی کہ ہجرت مدینہ کے وقت بھی انہی تربیت یافتہ نوجوانوں نے بطور مربی اور استاد انصار بھائیوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدما ت کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’انبیاء علیہم السلام پر ابتدائے زمانہ میں ایمان لانے والے زیادہ تر نوجوان ہی ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ بوڑھے بوڑھے اس کے سلسلہ میں شامل ہوں اور چند روز خدمت کر کے وہ وفات پا جائیں اور سلسلہ کی تعلیم کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے والے کوئی نہ رہیں۔پس وہ بوڑھوں کی بجائے زیادہ تر نوجوانوں کو اپنے سلسلہ میں شامل کرتا ہے اور نوجوانوں کی جماعت کو ہی نبی کی تربیت میں رکھ کر درست کرتا ہے تاکہ وہ نبی کی وفات کے بعد ایک لمبے عرصہ تک اس کے لائے ہوئے نور کو دنیا میں پھیلا سکیں اور اس کی تعلیم کی اشاعت اور ترویج میں حصہ لے سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو آپؐ کے مقرب ترین صحابہؓ قریباً سارے ہی ایسے تھے جو عمر میں آپ سے چھوٹے تھے۔حضرت ابو بکرؓ آپ سے اڑھائی سال عمر میں چھوٹے تھے۔حضرت عمرؓ آپ سے ساڑھے آٹھ سال عمر میں چھوٹے تھے اور حضرت علیؓ آپ سے انتیس سال عمر میں چھوٹے تھے اسی طرح حضرت عثمانؓ ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی بیس سال سے لے کر پچیس سال تک آپؐ سے عمر میں چھوٹے تھے۔یہ نوجوانوں کی جماعت تھی جو آپؐ پر ایمان لائی اور اس جوانی کے ایمان کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی جماعت کو یہ فائدہ پہنچا کہ چونکہ یہ ایک لمبے عرصہ تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہے تھے اور پھر ان کی عمریں چھوٹی تھیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی یہ لوگ ایک عرصہ دراز تک لوگوں کو فیض پہنچاتے رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعوی نبوت کے بعد تئیس سال کے قریب زندہ رہے ہیں۔اب اگر ساٹھ سالہ بوڑھے ہی آپ پر ایمان لاتے اور نوجوان طبقہ اس میں شامل نہ ہو تا تو نتیجہ یہ ہو تاکہ ان میں سے اکثر مکہ میں ہی وفات پا جاتے اور مدینہ کے لوگوں کے لئے نئی ٹریننگ شروع کرنی پڑتی کیونکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ پہنچتے تو پہلی تمام جماعت ختم ہو چکی ہوتی اور آپؐ کو ضرورت محسوس ہوتی کہ ایک اور جماعت تیار کریں جو اسلام کی باتوں کو سمجھے اور آپ کے نمونہ کو دیکھ کر وہی نمونہ دوسروں کو اختیار کرنے کی تلقین کرے۔اگر ایسا ہو تا تو اسلام کے لئے کس قدر مشکلات ہو تیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔اس لئے ایسا انتظام فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو بجائے کسی نئی جماعت کی ٹرینگ کے وہی نوجوان جو مکہ میں آپ پر ایمان لائے تھے اس قابل ہو چکے تھے کہ فوجوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لیں۔چنانچہ گیارہ سال کا علیؓ مدینہ پہنچتے وقت چو بیس سال کا جوان تھا ۔اور سترہ سال کا زبیرؓ مدینہ جاتے وقت تیس سال کا جوان تھا۔یہی حال باقی نوجوان صحابہ ؓکا بھی تھا۔کوئی ان میں سے تیس سال کا تھا کوئی چونتیس سال کا تھا اور کوئی پینتیس سال کا تھا۔پس بجائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نئے سرے سے ایک جماعت بنانی پڑتی، جب آپ مدینہ میں پہنچے اور کام وسیع ہو گیا تو آپ کو انہی نوجوانوں میں سے بہت سے مدرس مل گئے جنہوں نے مکہ میں آپ سے سبق حاصل کیا تھا اور پھر اور دس سال تک مدینہ میں بھی انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی میں رہنے کا موقعہ مل گیا۔اور جب آپؐ کی وفات کا وقت آیا تو اسلام کو ابتدائی دَور میں نوجوانوں نے تقویت بہم پہنچائی اس وقت چوبیس سال کا علیؓ چونتیس سال کا جوان تھا اور ابھی ایک لمبا عرصہ کام کا ان کے سامنے پڑا تھا۔اسی طرح وہ زبیرؓ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لاتے وقت سترہ سال کا تھا وہ اس وقت چالیس سال کا جوان تھا۔تو یہ نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں باوجود تئیس سال آپ کے ساتھ کام کرنے کے، جب آپ فوت ہوئے تو ابھی ان کے سامنے ان کی زندگی کے بیس تیس سال کام کرنے کے لئے پڑے تھے اور پھر ہر ایک نے آپؐ کی وفات کے بعد اپنی اپنی عمر کے مطابق کام کیا …یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ نوجوانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت ڈالی اور وہی نوجوان درست ہو کر ایک لمبی عمر تک خدمت اسلام کرتے رہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مدینہ پہنچے تو اس وقت حضرت انس ؓکی عمر دس سال کی تھی۔دس سال وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں رہے اور جب بیس سال کے ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وفات پاگئے مگر خود حضرت انسؓ کی وفات ایک سو دس سال میں جاکر ہوئی۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے نوّے سال بعد تک انہیں لوگوں کو اسلام کی تعلیم سکھانے کا موقعہ ملا۔بوجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے وقت بہت نوجوان ہونے اور بہت لمبی عمر پانے کے یہ سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی تھے۔اب دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو کہاں تک ممتد کر دیا۔مگر بہر حال اس سلسلہ کا امتداد نوجوانوں کے ذریعہ ہی ہوا۔اگر ستّر اسّی سال کے بوڑھے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاتے تو وہ کہاں کام کر سکتے تھے۔اوّل تو ان کی حالتوں کا سدھرناہی مشکل تھا اور اگر وہ درست بھی ہو جاتے تو ان میں سے اکثر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں ہی فوت ہو جاتے اور اگر چند لوگ زندہ بھی رہتے تو پانچ سال،سات سال کے بعد وہ بھی ختم ہو جاتے اور جماعت میں کوئی ایسا شخص نہ رہتا جو اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف و آگاہ ہو تا۔پس ابتدائی زمانہ میں نوجوانوں کا اسلام میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت تھی اور یہی وہ تدبیر تھی جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کا مقابلہ کیا اور اس نے نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار کر دی جس نے آپ کی شاگردی میں رہ کر آپ سے تعلیم حاصل کی حتّی کہ بعض نے تو اپنا بچپن آپ کی نگرانی میں ہی گزارا جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں کہ وہ گیارہ سال کی عمر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ کا تربیت یافتہ گروہ دنیا میں موجود رہا اور اس نے اپنی تعلیم اور تربیت سے ایک اور نئی اور اعلیٰ درجہ کی جماعت پیدا کر دی جو ان کی وفات کے بعد اسلام کے جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں تھامی رہی۔(مشعل راہ جلد اول صفحہ ۱۸۱-۱۸۳)
ان تاریخی حقائق کو پیش نظر رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو جو ترقیات اور فتوحات نصیب ہوئیں، وہ ان نوجوان صحابہؓ کی مرہون منت تھیں۔حضرت علی،حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عمار بن یاسر، حضرت خالد بن ولید، حضرت عمرو بن العاص، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین ،پھر بعد کی اسلامی تاریخ میں محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی جیسے نوجوان مسلم سپہ سالاروں نے اپنے کارناموں سے تاریخ رقم کی۔ اور دوسری قومیں آپ نوجوان سالاروں کے رعب و دبدبہ سے کانپتی رہی۔علمی میدان میں مفسرین و محدثین جیسےشاہ ولی اللہ محدث دہلوی،ا مام غزالی اور ابن تیمیہ نے اپنی جوان سالی میں ہی اسلامی تاریخ میں معرکے انجام دیے۔
تعلیم و تربیت ، شعورو ترقی کی بنیاد
چنانچہ اگر نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، تحقیق کی روح کو سمجھتے ہوں، اپنے میدان میں مہارت رکھتے ہوں اور علم کے ساتھ حکمت سے بھی بہرہ ور ہوں تو قوم ترقی کے سفر میں کبھی پیچھے نہیں رہتی۔ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں بلکہ شعور اور کردار کا مجموعہ ہے۔جس قوم کے نوجوان بیدار و باشعور ہوں اس قوم کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس جس قوم کے نوجوان غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہوں وہ قوم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی ترقی کا ضامن ہے اور نوجوان نسل ہی صیح معنوں میں کسی قوم کی افرادی قوت ہے۔ انہی کے بارے میں اقبال نے کہا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر
پھرایسی تعلیم،جوبہترین تربیت کے ساتھ حاصل کی جائے، نہ صرف انسان کے دل کی آنکھیں کھول دیتی ہے،بلکہ شخصیت میں مزید نکھار بھی پیدا کرتی ہے۔فرد،خاندان،قوم اور ملک کی کامیابی کے لیے اسی تعلیم کی ضرورت ہے۔یہ انسان کے خیالات اور طبیعت میں ،اس کے ارادوں میں،اس کے انداز گفتگو میں اور طرزِ فکر میں وسعت ،گہرائی اور مثبت تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعہ انسانی شخصیت کی ہمہ جہتی نشوونما ہوتی ہے جس سےانسان کے سوچنے سمجھنے،غوروفکرکرنے،رائے قائم کرنے اور فیصلہ کرنے میں اعتدال پسندی، فیصلہ کرنے سے پہلے مسئلہ کے جملہ مثبت اور منفی پہلوؤں کاگہرائی کے ساتھ مطالعہ،فریق ثانی کی بات سننے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس طرزِ فکر کے پروان چڑھنے میں درسی مضامین کے ساتھ غیر درسی پروگراموں اور کھیلوں کابھی دخل ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھناچاہیے کہ ہم اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر کس قدر توجہ دے رہے ہیں اوران کے سوچنے سمجھنے کی کس قسم کی صلاحیت کوپروان چڑھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ا یسے ذرائع اختیار کرنے چاہئے جن سے قوم کے دماغ کی تربیت ہو اور خصوصاً نوجوانوں کے دماغ کی تربیت ہو کیونکہ زیادہ تر کاموں کی ذمہ داری آئندہ نوجوانوںپر ہی پڑنے والی ہے۔ ( خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل ۱۹۳۸ءمطبوعہ اخبار الفضل ۱۰؍اپریل۱۹۳۸ءصفحہ۴)
نوجوانوں کا کردار: خدمت ، قربانی اور امدادباہمی
اس کے ساتھ کوئی قوم اُس وقت تک عظمت حاصل نہیں کرتی جب تک اُس کے نوجوان خدمتِ خلق،امداد باہمی اور قربانی کے جذبے سے سرشار نہ ہوں۔حضرت بانیٔ جماعت احمدیہؑ نے اپنی جماعت کو امداد باہمی اور خدمت کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ’’یہ دستور ہونا چاہيے کہ کمزور بھائيوں کی مدد کی جاوے اور ان کو طاقت دی جاوے۔يہ کس قدر نامناسب بات ہے کہ دو بھائی ہيں ۔ايک تیرنا جانتا ہے اور دوسرا نہيں۔تو کيا پہلے کا یہ فرض ہونا چاہيے کہ وہ دوسرے کوڈ وبنے سے بچاوے يا اس کو ڈوبنے دے۔اس کا فرض ہے کہ اس کو غرق ہونے سے بچائے۔اسی ليے قرآن شريف میں آيا ہے: وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى(المائدة:۳)کمزور بھائيوں کا بار اُٹھاؤ۔عملی ايمانی اور مالی کمزوريوں ميں بھی شريک ہوجاؤ۔بدنی کمزوريوں کا بھی علاج کرو۔کوئی جماعت جماعت نہيں ہو سکتی جب تک کمزوروں کو طاقت والے سہارا نہيں ديتے اور اس کی يہی صورت ہے کہ اُن کی پردہ پوشی کی جاوے۔ ‘‘
نیز فرمایا: ’’جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔پردہ پوشی کی جاوے۔جب يہ حالت پيدا ہو تب ايک وجود ہو کر ايک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہيں اور اپنے تئيں حقيقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہيں…اب تم ميں ايک نئی برادري اور نئی اخوت قائم ہوئی ہے۔پچھلے سلسلے منقطع ہو گئے ہيں۔خدا تعالیٰ نے يہ نئی قوم بنائی ہے جس ميں امير غريب بچے جوان بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل ہيں۔پس غريبوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے معزز بھائيوں کی قدر کريں اور عزت کريں اور اميروں کا فرض ہے کہ وہ غريبوں کي مدد کريں ان کو فقير اور ذليل نہ سمجھیں،کيونکہ وہ بھی بھائي ہيں گو باپ جدا جدا ہوں مگر آخر تم سب کا روحانی باپ ايک ہی ہے اور وہ ايک ہی درخت کی شاخيں ہيں۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ۲۶۳ تا۲۶۵)
اس حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجلس خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ تم اپنے عمل سے اپنے آپ کو مفید وجود بناؤ۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرو نہ صرف اپنے مذہب کے غریبوں اور مسکینوں کی بلکہ ہر قوم کے غریبوں اور بے کسوں کی۔ تادنیا کو معلوم ہو کہ احمدی اخلاق کتنے بلند ہوتے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل ۱۹۳۸ء مطبوعہ اخبار الفضل ۱۰؍اپریل ۱۹۳۸ءصفحہ۱۱)
جماعت کے عہدے دار رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں اور انہی لوگوں کو چنا جاتا ہے جو دیانت دار اور اعلیٰ روایات کی پاسداری کرتے ہیں۔ جماعت میں ذیلی تنظیموں کے علاوہ مختلف پیشہ ور ماہرین کی تنظیمیں بھی قائم ہیں۔ مثلاً ڈاکٹرز، انجینئرز اور وکلاء کی جو امام وقت کی ہدایات کے تحت دنیا بھر میں جماعت اور انسانیت کی خدمت کے کاموں کو منظم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزیدفرماتے ہیں:’’یہ وہم اپنے دلوں سے نکال دو کہ لوگ تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہوجاؤ تعاون کرنے والے خو د بخود آملیں گے۔تم اگر نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہوجاؤ تو مَیں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ لوگوں پر اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔… یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی نیک کام کو جاری کیا جائے اور وہ ضائع ہوجائے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ تم نیک کام کرو اور خدا تمہیں قبولیت نہ دے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل ۱۹۳۸ء مطبوعہ اخبار الفضل ۱۰؍اپریل ۱۹۳۸ء صفحہ۹)
خاندان اور معاشرہ کی ذمہ داری
نوجوانوں کی اصلاح صرف اُن کی اپنی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر، درسگاہ، معاشرہ اور مذہبی ادارے سب مل کر یہ فریضہ ادا کرتے ہیں۔ والدین بچوں کے پہلے مربی ہوتے ہیں، اساتذہ ان کے راہنما اور گرو ، اور معاشرہ اُن کے کردار کو جِلا بخشتاہے۔ اگر ان تمام شعبوں میں یکساں ہم آہنگی ہو تو نوجوان ایک صحت مند ماحول میں پروان چڑھتے ہیں۔ ایک طرف جہاں اس کا گہراتعلق تعلیم وتربیت سے ہے وہیں دوسری طرف بہترسماجی ماحول،گھر اور پڑوس،گھریلواور خاندانی روایات،حلقۂ احباب وغیرہ سے بھی ہے جن سے اس کارات دن سابقہ پڑتا ہے۔ یہی چیزیں انسان کی سوچ میں مثبت اور غیرجانبدارانہ انداز پیدا کرتی ہیں۔انہیں سے فرد میں اعتدال پسندی،استدلال میں معقولیت،افہام و تفہیم کا جذبہ،افراد اور واقعات میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادت،صحت مند تنقید کا مزاج،اختلافی مسائل میں دوسروں کی بات سننے اور دوسروں کے نقطہ ٔنظر کوسمجھنے کی عادت،احساس ذمہ داری،مؤثر اور باوقارانداز گفتگو،اپنی بات کو دلیل کے ساتھ ثابت کرنے کی عادتیں پیداہوتی ہیں۔یہی تعلیم کا اعلیٰ ترین مقصد ہے اور اسی میں قوموں کی ترقی کا رازپوشیدہ ہے،جس ملک اور معاشرے میں ایسے افراد بکثرت ہوں گے،وہ معاشرہ زیادہ پرسکون،امن پسند،کم سے کم اختلاف کے ساتھ جیواور جینے دوکے اصولوں پر عمل کرنے والا معاشرہ ہوگا،وہاں بھی اختلافات ہوں گے اس لیے کہ اختلاف رائے انسانی زندگی میں ناگزیر ہے،لیکن ان اختلافات کو وہ اپنے اعلیٰ اور مثبت طرز فکر کی وجہ سے تخریب کا باعث نہیں بننے دیں گے۔بلکہ ان میں سے بھی تعمیر کا پہلو نکال لیں گے۔اس طرح کے طرز فکر کوپیدا کرنے میں اہم ترین کردار سمجھدار ماں باپ،پھر تربیت یافتہ استاد،پھرپورے معاشرے اور قومی وسائل کا ہوتاہے۔
’’…حقیقت یہ ہے کہ ملکوں اور قوموں کے حالات میں خرابی اسی وقت پیدا ہونی شروع ہوتی ہےجب وہ اپنے آپ کو اخلاقی ذمہ داریوں سے آزاد سمجھنے لگ جاتی ہیں۔ حالانکہ جس طرح افراد پر اخلاقی ذ مہ داری ہے۔ ویسے ہی قوموں پر بھی ہے۔ جس طرح ایک فرد کے لئے لالچ، حِرص، ظلم، جھوٹ نقصان دہ ہیں اسی طرح قوموں ملکوں اور حکومتوں کے لئے بھی یہ اُمور ناپسندیدہ ہیں۔ جس طرح ایک فرد کے لئے اگر وہ اچھے اخلاق پیدا کرنا چاہے اور سوسائٹی کا مفید رکن بننا چاہےیہ ضروری ہے کہ وہ کمزوروں کی امداد کرےاور ان کے لئے ترقی کے سامان پیدا کرےاور اپنے بھائی کو حقیر نہ سمجھے اسی طرح قوموں اور ملکوں اور حکومتوں کے لئے بھی ان امور کی ویسی ہی ضرورت ہے، اور جب تک دنیا کی اقوام اور حکومتیں اس اصل کو مد نظر نہ رکھیں گی کبھی دنیا میں امن قائم نہ ہوگا …لیکن اگر دنیا یہ فیصلہ کرلےکہ سب کی سب اقوام انسانی افراد کی طرح اپنے آپ کو اصول اخلاق کے تابع سمجھیں گی اور ان پر اس طرح کاربند ہوں گی جس طرح کہ انسانی افراد کی نسبت اُمید کی جاتی ہے کہ وہ کاربند ہوں تو یقیناً ملک گیری کی ہوس نہ صرف ایک قوم کے دل سے بلکہ سب قوموں کے دل سے اور نہ صرف ایک وقت کے لئے بلکہ ایک لمبے عرصہ تک کے لئے نکل جائے گی۔‘‘ (تقریرسر محمد ظفر اللہ خاں صاحب بحوالہ الفضل انٹرنیشنل ۱۶؍مارچ ۲۰۲۱ء )
نوجوانوں کی اصلاح
مجلس خدام الاحمدیہ کا ماٹو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے کہ ’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی‘‘۔ اس ارشاد کی روشنی میں سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجلس خدام الاحمدیہ یوکے کے سالانہ اجتماع ۲۰۱۹ء کے موقع پر فرمایا: ’’حضرت مصلح موعودؓ نے یہ نعرہ جب مجلس خدام الاحمدیہ کو عطا فرمایا تو اس کا مقصد یہ باور کروانا تھا کہ نوجوانوں کے لیے دیگر علوم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے پختہ تعلق قائم کرنا از حد ضروری ہے۔ … اس ماٹو پر عمل کرنے سے آپ اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے والے ہو جائیں گے۔ اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہماری جماعت اور ہماری قوم کی ترقی کا تعلق ہمارے نوجوانوں کی روحانی اور اخلاقی حالت سے ہے۔ اگر ہر خادم اللہ کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو اور اخلاقی برائیوں اور گناہوں سے بچنے والا ہو تو قوم کی ترقی روکی نہیں جا سکتی۔‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۱۰؍ستمبر ۲۰۱۹ء صفحہ۱۶)
ایک اَور خطاب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’یاد رکھیں کہ قوموں کی زندگی صرف ایک نسل کی زندگی نہیں ہوتی بلکہ ترقی کرنے والی قومیں، دنیا کو اپنے زیر اثر لانے والی قومیں، ایک کے بعد دوسری نسل میں وہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں جن سے اُن کی ترقی کی رفتار کم نہ ہو اور جماعت احمدیہ تو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اُس نے آنحضرتﷺ کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔ پس اپنی اصلاح اور تربیت کی طرف توجہ دیں گے تو اس اہم کام کو پورا کرنے والے بھی ہونگے۔ اگر اس فکر سے آزاد ہونا ہے کہ قوم اصلاح کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہر دن یہ خوش خبری دینے والا دن ہے۔ ہر دن اس خوش خبری کے ساتھ طلوع ہورہا ہے کہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے قوم ترقی یذیر ہے تو اُس کا بہترین حل یہ ہے کہ نوجوان نسل کا ہر قدم روحانی اور اخلاقی لحاظ سے ترقی کی طرف اُٹھنے والا قدم ہو۔ اسی لئے حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ پس یہ نعرہ صرف اور صرف بینر پر لکھ کر لٹکانے کے لئے نہیں ہے یہ نعرہ لگانے کے لئے نہیں ہے یا خدام الاحمدیہ کے پروگراموں کے اُوپر پرنٹ کرنے کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ خدام الاحمدیہ کی انتظامیہ کے لئے بھی ایک چیلنج ہے کہ تم اپنے مقصد میں تب ہی کامیاب ہوسکتے ہو جب تم اپنے اور اپنے ساتھیوں کے قدم روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف لے جارہے ہوگے۔ ورنہ یہ عہدے اور یہ سرگرمیاں، یہ Activities، یہ پروگرام، یہ سب بے فائدہ ہیں۔
اس لئے عہدیداروں کو، نیشنل عاملہ کے عہدے دار ہوں یا ریجنل عاملہ ہو یا مقامی عاملہ ہو یا مختلف دوسرے عہدے دار ہوں، ہر لیول کے عہدیداروں کے اپنے معیار بھی بلند ہونے چاہئیں تاکہ دوسرے بھی اُن سے سبق حاصل کریں۔ لیکن یہ نعرہ عام خادم کے لئے بھی ایک ٹارگٹ مہیا کر رہا ہے کہ تم اپنے آپ کو معمولی نہ سمجھو۔ تم نے اس زمانے کے امام کو مان کر ایک عہد کیا ہے اور اب اس کو پورا کرو۔ اپنی روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف توجہ کرو تمہارا ہر قدم نیکی کی طرف اٹھنے والا قدم ہو۔ کیونکہ اب تمہاری ترقی سے، تمہاری اصلاح سے جماعت کی ترقی وابستہ ہے…‘‘ (مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن ۹ دسمبر ۲۰۰۵ء)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں احسن رنگ میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جس روز امریکہ کے لاکھوں لوگ آسمان سےمسیحؑ کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہے




