حاصل مطالعہ
انسان کے جھوٹا ہونے کی ایک علامت
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔ (مسلم، مقدمۃ الکتاب ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع، روایت نمبر ۷)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثالی مہمان نوازی
شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ماہ رمضان جوکہ سخت سردیوں کے ایام میں آیا۔ اس کے گذارنے کے لئے دارالامان آیا۔ حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی اُن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کتب خانہ کے انچارج اور مہتمم تھے اور کمرہ متصل مسجد مبارک میں کتب خانہ تھااور وہیں حکیم صاحب کا قیام تھا۔ خاکسار کے پہنچنے پر حکیم صاحب نے مجھے بھی اُسی کمرہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔ خاکسار نے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک گوشہ میں بستر لگا لیا۔ اور بہت آرام ولطف سے وقت گزرنے لگا۔ حضرت صاحب ہر نماز کے لئے اسی کمرہ سے گزر کر مسجد میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک دفعہ سحری کے وقت دروازہ کھلا۔ خاکسار سامنے بیٹھا تھا۔ یہ دیکھ کر کہ حضرت صاحب دروازہ میں کھڑے ہیں۔ تعظیماً کھڑا ہوگیا۔ حضور نے اشارہ سے اپنی طرف بلایا۔ میں جب آگے بڑھا (تو دیکھا) کہ حضور کے دونوں ہاتھوں میں دو چینی کے پیالے ہیں۔ جن میں کھیر تھی۔ حضور نے وہ دونوں پیالے خاکسار کو دیتے ہوئے فرمایا کہ جن احباب کے نام ان پر لکھے ہوئے ہیں دیکھ کر اُن کو پہنچادو، میں نے وہ حکیم صاحب کو پیش کئے۔ انہوں نے مسجد میں سے کسی کو طلب کر کے وہ پیالے اُن احباب کو پہنچا دئیے جن کے نام سیاہی سے لکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد پھر دروازہ کھلا۔ پھر حضرت صاحب دو پیالے پکڑا گئے۔ وہ بھی جن کے نام کے تھے ان کو پہنچا دئیے گئے۔ اس طرح حضرت صاحب خود دس گیارہ دفعہ پیالے لاتے رہے اور ہم اُن اشخاص کو مہمان خانہ میں پہنچاتے رہے۔ اخیر دفعہ میں جو دو پیالے حضور نے دئیے۔ اُن میں سے ایک پر حکیم صاحب کانام اور دوسرے پر میرا نام تحریر تھا۔ حکیم صاحب نے کھیر کھا کر کہا کہ آج تو مسیح کا من وسلویٰ اُتر آیا۔ (سیرت المہدی جلد۲ حصہ چہارم،روایت نمبر ۱۰۸۸، مطبوعہ قادیان ۲۰۰۸ء)
خلیفۂ وقت کا دل۔ دعاؤں کا خزینہ
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے زمانے کا واقعہ ہے۔ چودھری حاکم دین صاحب بورڈنگ کے ایک ملازم تھے۔ ان کی بیوی، پہلے بچے کی ولادت کے وقت بہت تکلیف میں تھی۔ اس کر بناک حالت میں رات کے بارہ بجے وہ حضرت خلیفۃالمسیح الاول رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر حاضر ہوئے۔ دروازہ پر دستک دی۔ آواز سن کر پوچھا کون ہے؟ اجازت ملنے پر اندر جا کر زچگی کی تکلیف کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ حضورؓ فوراً اٹھے، اندر جا کر ایک کھجور لےکر آئے اور اُس پر دعا کرکے انہیں دی اور فرمایا: ’’یہ اپنی بیوی کو کھلادیں اور جب بچہ پیدا ہوجائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔ ‘‘
چودھری حاکم دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں واپس آیا کھجور بیوی کو کھلا دی اور تھوڑی ہی دیر میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچی کی ولادت ہوئی۔ رات بہت دیر ہو چکی تھی میں نے خیال کیا کہ اتنی رات گئے دوبارہ حضور کو اس اطلاع کے لیے جگانا مناسب نہیں۔ نماز فجر میں حاضر ہوکر میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کھجور کھلانے کے بعد بچی پیدا ہوگئی تھی۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا وہ سننے اور یاد رکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ دلگداز الفاظ طبیعت میں رقت پیدا کر دیتے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: ’’میاں حاکم دین! تم نے اپنی بیوی کو کھجور کھلادی اور تمہاری بچی پیدا ہوگئی۔ اور پھر تم اور تمہاری بیوی آرام سے سوگئے۔ مجھے بھی اطلاع کردیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا۔ میں تو ساری رات جاگتا رہا اور تمہاری بیوی کے لئے دعا کرتا رہا!‘‘
چودھری حاکم دین صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا اور بے اختیار رو پڑے اور کہنے لگے: ’’کہاں چپڑاسی حاکم دین اور کہاں نورالدین اعظم۔‘‘ (مبشرین احمد صفحہ ۳۸ نیز اصحاب احمد جلد ۸ صفحہ ۷۱تا۷۲)
صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جذبۂ تبلیغ
حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’مَیں نے بیعت کر لی۔ حضرت اقدس کی کتابیں پڑھیں۔ ایک جوش پیدا ہوا اور تبلیغ شروع کر دی۔ اُن ایام میں میری تبلیغ کا طریق یہ تھا کہ جہاں چار پانچ آدمی اکٹھے بیٹھے دیکھتا، جاتے ہی السلام علیکم کہہ کر کہتا کہ مبارک ہو۔ لوگ متوجہ ہو کر پوچھتے کہ کیا بات ہے؟ میں کہتا کہ حضرت امام مہدی آ گئے ہیں۔ اس پر کوئی ہنسی اڑاتا۔ کوئی مخول کرتا۔ کوئی مزید تفصیل سے پوچھتا۔ غرضیکہ کسی نہ کسی رنگ میں بات شروع ہو جاتی اور میں تبلیغ کا موقعہ نکال لیتا۔‘‘(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد ۱۰صفحہ۳۲روایت حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ)
بےچینیاں اورپریشانیاں دور کرنے کا طریق
جون۲۰۱۲ء میں دورہ امریکہ کےدوران ایک طالبہ نے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پریشانیوں کےازالہ کے حوالہ سے سوال کیا تو آپ نے جواب دیتےہوئے فرمایا: ’’سوسائٹی میں، اپنےگھرمیں، اپنےسسرال والوں کےساتھ اور اپنے ماحول میں جو بھی بےچینیاں اورپریشانیاں پیدا ہوں وہ استغفار کرنے اور لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ العَظِیْمِ پڑھنےسےدورکی جاسکتی ہیں۔‘‘ (الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍اگست۲۰۱۲ء)
مزید پڑھیں: مطالباتِ تحریکِ جدید



