متفرق مضامین

مطالباتِ تحریکِ جدید

(میرانجم پرویز۔مربی سلسلہ)

’’میں نے کہا ہے کہ مَیں نے تحریک جدید جاری کی، مگر یہ درست نہیں۔ میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی۔ اچانک میرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک نازل ہوئی۔ پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں، میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید، جو خدا نے جاری کی، میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی۔ میں بالکل خالی الذہن تھا۔ اچانک اللہ تعالیٰ نے یہ سکیم میرے دل پرنازل کی اورمیں نے اسے جماعت کے سامنے پیش کردیا۔ پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے۔‘‘ (حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے۱۹۳۴ء میں تحریکِ جدید کے نام سے جو تحریک جاری فرمائی اُس کا بنیادی مقصد اسلام احمدیت کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچانا تھا اور یہ پیغام پہنچانے کے لیے نہ صرف غیرمعمولی مالی وجانی قربانی کی ضرورت تھی بلکہ یہ بھی ضروری تھا کہ جماعت اپنی عملی اصلاح اور علمی وروحانی ترقی میں اعلیٰ معیار حاصل کرے تاکہ وہ اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کے قابل بن سکے۔یہ تحریک ایسے حالات میں شروع کی گئی جب دشمن جماعت کا نام نشان مٹا دینے کے درپے تھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ جماعت پر ہر طرح کے حملے کر رہا تھا۔ چنانچہ تحریک جدید کا ایک مقصد مخالفینِ احمدیت کے جماعت احمدیہ پر ہونے والےحملوں کا دفاع اور ان کا جواب دینا تھا۔

تحریک جدید کیا ہے؟

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’تحریک جدید دراصل اسلام کے احیا کا نام ہے۔جدید وہ صرف ان معنوں میں ہے کہ دنیا اس سے ناواقف ہو گئی تھی ورنہ وہ تحریک قدیم ہی ہے۔… رسول کریم ﷺ اور آپؐ کے صحابہ نے جس طرز پر زندگی بسر کی ہم تحریکِ جدید کے ذریعہ اس کے قریب قریب لوگوں کو لانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۳۰؍اپریل ۱۹۴۳ء، الفضل ۲۳؍مئی ۱۹۴۳ء)

اسی طرح فرمایا: ’’تمام لوگوں تک پہنچنے کے لیے ہمیں آدمیوں کی ضرورت ہے، ہمیں روپیہ کی ضرورت ہے، ہمیں عزم اور استقلال کی ضرورت ہے، اور ہمیں ان دعاؤں کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا دیں اور انہی چیزوں کے مجموعے کا نام تحریکِ جدید ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۲۷؍نومبر ۱۹۴۲ء۔ الفضل ۲؍دسمبر ۱۹۴۲ء)

فرمایا: ’’تحریک جدید کوئی نئی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ وہ قدیم تحریک ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ جاری کی گئی تھی۔انجیل کے محاورہ کے مطابق یہ ایک پرانی شراب ہے جو نئے برتنوں میں پیش کی جارہی ہے مگر وہ شراب نہیں جو بد مست کر دے اور انسانی عقل پر پردہ ڈال دے بلکہ یہ وہ شراب ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ لَا فِیۡہَا غَوۡلٌ وَّلَا ہُمۡ عَنۡہَا یُنۡزَفُوۡنَ (الصافات: ۴۷)یعنی اس شراب کے پینے سے نہ تو سر ڈکھے گا اور نہ بکو اس ہو گی کیونکہ اس کا سرچشمہ وہ الٰہی نور ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ دنیا میں لائے ایسا نور جو اس سے قبل دنیا کو کبھی نہیں ملا تھا۔‘‘ (انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ۱۵۷)

تحریک جدید کی غرض

فرمایا: ’’تحریک جدید کو اس لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ ہمارے پاس ایسی رقم جمع ہو جائے جس سے خدا تعالیٰ کے نام کو دنیا کے کناروں تک آسانی اور سہولت سے پہنچا دیا جائے۔ تحریکِ جدید کو اس لیے جاری کیا گیا تاکہ کچھ افراد ایسے میسر آ جائیں جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے وقف کر دیں اوراپنی عمریں اسی کام میں لگا دیں۔ تحریکِ جدید کو اس لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ عزم اور استقلال ہماری جماعت میں پیدا ہو جو کام کرنے والی جماعتوں کے اندر پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۲۷؍نومبر ۱۹۴۲ء۔ الفضل ۲؍دسمبر ۱۹۴۲ء)

تحریک جدید خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے

حضرت مصلح موعودؓ نے یہ تحریک خاص منشائے الٰہی سے جاری فرمائی۔ چنانچہ ایک موقع پرحضرت مصلح موعودؓ تحریک جدید کےاللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’میں نے کہا ہے کہ مَیں نے تحریک جدید جاری کی، مگر یہ درست نہیں۔ میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی۔ اچانک میرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک نازل ہوئی۔ پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں، میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید، جو خدا نے جاری کی، میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی۔ میں بالکل خالی الذہن تھا۔ اچانک اللہ تعالیٰ نے یہ سکیم میرے دل پرنازل کی اورمیں نے اسے جماعت کے سامنے پیش کردیا۔ پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ تحریک ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷؍نومبر۱۹۴۲ء مطبوعہ الفضل۲؍دسمبر۱۹۴۲ء)

تحریک جدید کن حالات میں شروع کی گئی؟

اس الٰہی تحریک کی بنیاد عین اُس وقت رکھی گئی جب احراری تحریک اپنے نقطہ عروج پر تھی اور احرار اپنے خیال میں (معاذاللہ) قادیان اور احمدیت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا فیصلہ کرکے قادیان کے پاس ہی اپنی کانفرنس منعقد کرنے والے تھے۔ یہ وہ دن تھے جب فضامیں احرار کے ان دعووں کی آوازگونج رہی تھی کہ ہم مینارۃ المسیح کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور قادیان کواس طرح مسمار کردیں گے کہ وہاں قادیان کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا اورایک وجود بھی ایسا نہیں رہے گا جوحضرت مسیح موعود علیہ السلام کانام لینے والاہو۔ یہ وقت جماعت کے لیے انتہائی نازک تھا، ہر طرف سے جماعت پر حملے ہو رہے تھے۔دشمن اپنی پوری طاقت اور پورے زور کے ساتھ حملے کے منصوبے بنا رہا تھا اور اپنے زعم میں جماعت کو نیست و نابود کرنے کو تیار کھڑا تھا۔اب کے بار یہ صرف احرار کا حملہ نہ تھا بلکہ حکومت بھی انہی کے ساتھ تھی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کے آغازسے پہلے۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۴ء کو فرمایا کہ ’’ آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی چنیدہ جماعت ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے مامور پر کامل یقین رکھتے ہیں، آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آپ نے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر رکھے ہیں اور آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ان تمام قربانیوں کے بدلے اللہ تعالیٰ سے آپ لوگوں نے جنت کا سودا کر لیا ہے۔…. سب سے پہلا مطالبہ جو مَیں آپ لوگوں سے کرتا ہوں اور جس کی آزمائش کے بعد مَیں دوسرا مطالبہ کروں گا یہ ہے کہ یہاں ایک جلسہ ہونے والا ہے ۔اس جلسہ کے متعلق مجھے یقینی طور پر اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ لوگ کوئی شورش اور فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔ پس میرا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ اگر واقعہ میں وہ اطلاعات در ست ہیں جو مجھے موصول ہوئیں تو مَیں اپنی جماعت کے ہر شخص کو یہ حکم دیتا ہوں کہ خواہ وہ مارا اور پیٹا جائے اپنا ہاتھ کسی پر مت اُٹھائے اور اپنی زبان مت کھولے بلکہ اگر وہ قتل بھی کر دیا جائے تو بھی اس کا حق نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اُٹھائے اور اُس کا حق نہیں کہ وہ اپنی زبان ہلائے۔ اگر ایسی حالت میں کوئی بھائی پاس سے گزر رہا ہو تو مَیں اسے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ہرگز اُس کی مدد نہ کرے۔ ہاں فوٹو کے لیے کیمرے موجود ہونے چاہئیں۔جن لوگوں کے پاس یہاں کیمرے ہیں وہ اپنے کیمروں کو تیار کرلیں اور جو باہر سے منگوا سکتے ہوں وہ باہر سے منگوالیں۔جہاں کہیں وہ ایسی حرکت دیکھیں جس سےانہیں معلوم ہو کہ پولیس اور اس کے افسر اپنے فرائض کو ادا نہیں کر رہے تو ان کا فرض ہوگا کہ وہ اس حالت کا فوٹو اُتار لیں، ہاتھ مت ہلائیں ، زبان مت کھولیں بلکہ کیمرے تیار رکھیں اور جب دیکھیں کہ پولیس اور اُس کے افسر اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کر رہے یا احمدیوں پر ظلم و تعدی ہو رہا ہے تو فوراً اس حالت کا فوٹو اُتار کر اسے محفوظ کر لیں۔پس اگر وہ روایات صحیح ہیں جو مجھے پہنچیں اور اگر ان لوگوں کا یہی ارادہ ہے کہ وہ فتنہ وفساد پیدا کریں تو اس اعلان کے بعد آپ لوگوں کی آزمائش ہو جائے گی اور پتہ لگ جائے گا کہ کہاں تک آپ لوگ دین کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں؟” (الفضل ۲۳؍اکتوبر۱۹۳۴ء)

اس کے کچھ دن بعد حالات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وقت بہت نازک ہے۔ ہر طرف سے مخالفت ہورہی ہے اور اس کا مقابلہ کرتے ہوئے سلسلہ کی عزت اور وقار کو قائم رکھنا آپ لوگوں کا فرض ہے …آخر ہم نے کیا قصور کیا ہے ملک کا یا حکومت کا کہ ہم سے یہ دشمنی اور عناد کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے؟ …ہم کسی کے گھر پر حملہ آور نہیں ہوئے، حکومت سے اس کی حکومت نہیں مانگی، رعایا سے اس کے اموال نہیں چھینے بلکہ …اپنی بیش قیمت جائیدادیں ان کو دے کر ہم میں سے بہت سے لوگ قادیان میں آگئے کہ امن سے خدا کا نام لے سکیں مگر پھر بھی ہم پر حملے کئے جاتے ہیں اور حکومت بھی ہمارے ہاتھ باندھ کر ہمیں ان کے آگے پھینکنا چاہتی ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ ہمارا قصور کیا ہے۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍اکتوبر۱۹۳۴ء از الفضل یکم نومبر۱۹۳۴ء)

اس تحریک کے آغاز کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ پر آپؓ نے فرمایا: ’’… یہ زمانہ ہمارے لیے نہایت نازک ہے۔ مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور مَیں اٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں۔ غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطرناک پیش آرہے ہیں بلکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم بیان نہیں کرسکتے….. تو سلسلہ کے خلاف ایسے سامان پیدا ہورہے ہیں کہ جو میری ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں … تو مَیں سمجھتا ہوں کہ وقت ایسا ہے کہ ہمیں اہم قربانی کی ضرورت ہے … آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کررہا ہے اور سارا زور لگارہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں اُسے گرادے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑ لیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑ لے …یاد رکھو! خداتعالیٰ کے لیے مرنے والے کو کوئی مار نہیں سکتا اس بات کو پلے باندھ لو اور جب تم یہ ارادہ کرلوگے کہ خداتعالیٰ کے لیے مرنا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت تم کو مار نہ سکے گی۔ ہاں تم پر وہ موت آئے گی جو نبیوں کو سچے دل سے ماننے والوں پرآتی ہے مگر ناکامی کی موت نہیں آسکتی کیونکہ تم جس پر گِرو گے وہ چکنا چور ہو جائے گا اور جو تم پر گِرے گا وہ بھی چکناچور ہو جائے گا۔” (رپورٹ مجلس شوریٰ منعقدہ ۱۹تا ۲۱؍اپریل۱۹۳۵ء، اختتامی خطاب)

تین ضروری احکام

اس کے بعد آپؓ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۹؍نومبر۱۹۳۴ء میں جماعت سے تحریک کے باقاعدہ مطالبات کرنے سے قبل تین نہایت ہی اہم احکام دیے ۔فرمایا: ’’پہلا حکم: ہر وہ شخص جس کے چندوں میں کوئی نہ کوئی بقایا ہے یاہر وہ جماعت جس کے چندوں میں بقائے ہیں وہ فوراً اپنے اپنے بقائے پورے کرے اور آئندہ کے لیے چندوں کی ادائیگی میں باقاعدگی کا نمونہ۔دکھلائیں۔

دوسرا حکم: اس ہفتہ کے اندر اندر ہر وہ شخص جس کی کسی سے لڑائی ہو چکی ہے ہر وہ شخص جس کی کسی سے بول چال بند ہے، وہ جائے اور اپنے بھائی سے معافی مانگ کر صلح کرلے اور اگر کوئی معاف نہیں کرتا تو اس سے لجاجت اور انکسار کے ساتھ معافی طلب کرے اور ہر قسم کا تذلل اس کے آگے اختیار کرے تاکہ اس کے دل میں رحم پیدا ہو اور وہ رنجش کو اپنے دل سے نکال دے اور ایسا ہو کہ جس وقت میں دوسرا اعلان کرنے کے لیے کھڑا ہوں اس وقت کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں جو آپس میں لڑے ہوئے ہوں۔ اور کوئی دو احمدی ایسے نہ ہوں جن کی آپس میں بول چال بند ہو۔ پس جاؤ اور اپنے دلوں کو صاف کرو۔ جاؤ اور اپنے بھائیوں سے معافی طلب کرکے متحد ہو جاؤ۔ جاؤ اور ہر تفرقہ اور شقاق کو اپنے اندر سے دور کر دو، تب خدا تعالیٰ کے فرشتے تمہاری مدد کے لیے اتریں گے۔ آسمانی فوجیں تمہارے دشمنوں سے لڑنے کے لیے نازل ہوں گی اور تمہارا دشمن خدا کا دشمن سمجھا جائے گا۔

تیسرا حکم: مجھے فوراً جلد سے جلد ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو سلسلہ کے لیے اپنے وطن چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے لیے تیار ہوں اور بھوکے پیاسے رہ کر بغیر تنخواہوں کے اپنے نفس کو تمام تکالیف سے گزارنے پر آمادہ ہوں۔ پس مَیں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو نوجوان ان کاموں کے لیے تیار ہوں وہ اپنے نام پیش کریں۔ نوجوانوں کی لیاقت کے متعلق مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یا تو وہ مولوی ہوں مدرسہ احمدیہ کے سندِ یافتہ یا کم سے کم انٹرنس پاس یا گریجوایٹ ہوں… شرط یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازم نہ ہوں اور نہ ہی تاجر ہوں اور نہ طالب علم ہوں۔ صرف ایسے نوجوان ہوں جو ملازمت کی انتظار میں اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہوں۔” (الفضل ۱۸؍نومبر ۱۹۳۴ء)

مطالباتِ تحریک جدید

اس کے بعدحضرت مصلح موعودؓ نے۲۳؍نومبر،۳۰؍نومبر اور ۷؍ دسمبر۱۹۳۴ء کے تین خطبات میں اپنی سکیم تفصیلی طور پر جماعت کے سامنے رکھی اور اسے۱۶؍دسمبر ۱۹۳۴ء کے ایک مطبوعہ اعلان میں ’’تحریک جدید‘‘ کے نام سے موسوم فرمایا۔ تحریک جدید کی سکیم ابتدائی طور پر ۱۹؍مطالبات پر مشتمل تھی۔ بعد میں ان میں مزید ۸؍مطالبات کا اضافہ کیا جس سے ان کی کل تعداد ۲۷؍ تک پہنچ گئی۔ مکرم محترم عبدالرحمٰن انور صاحب، جو حضرت مصلح موعودؓ عنہ کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے ہیں، وکیل الدیوان تحریک جدید کے طور پر بھی خدمات بجا لاتے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ ۲۷ مطالبات حضرت مصلح موعود ؓ کی زندگی میں ’’مطالباتِ تحریک جدید ‘‘ کے نام سے مرتب کرکے شائع کروا دیے تھے۔ اس کتاب کا چوتھا ایڈیشن دسمبر ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا جو ۱۸۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ اگرچہ خاکسار نے ان مطالبات کو اصل حوالہ جات سے لیا ہے تاہم مطالبہ نمبر ۲۲تا ۲۴ اسی کتاب سے لیے گئے ہیں۔

یہ مطالبات لمبے غور کے بعدتجویزکیے گئے ہیں

حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: ’’یہ مطالبات ہیں جو میں جماعت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ان میں سے ہر ایک لمبے غور اور فکر کے بعد تجویز کیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو سلسلہ کی ترقی میں ممد نہ ہو۔ان میں سے ہر ایک بیج ہے ایسا بیج جو بڑی ترقی پانے والا اور بہت بڑا درخت بنے والا اور دشمنوں کو زیر کرنے والا ہے۔ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نظر انداز کرنے والی نہیں اور ایک بھی ایسی نہیں کہ اس کے بغیر ہماری ترقی کی عمارت مکمل ہو سکے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ جس جس سے ہو سکے ان میں حصہ لے اور اس طرح سلسلہ کی ترقی کے وقت کو قریب لانے اور خدا تعالیٰ سے اجر حاصل کرنے کی کوشش کرے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

تحریک جدید کے مطالبات حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ میں

پہلا مطالبہ: سادہ زندگی۔ فرمایا: ’’آج سے تین سال کے لیے… ہر احمدی جو اس جنگ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہے یہ اقرار کرے کہ وہ آج سے صرف ایک سالن استعمال کرے گا۔ روٹی اور سالن یا چاول اور سالن یہ دو چیزیں نہیں بلکہ دونوں مل کر ایک ہوں گے۔ لیکن روٹی کے ساتھ دو سالنوں یا چاولوں کے ساتھ دو سالنوں کی اجازت نہ ہوگی …لباس کے متعلق میرے ذہن میں کوئی خاص بات نہیں آئی۔ ہاں بعض عام ہدایات میں دیتا ہوں مثلاً یہ کہ جن لوگوں کے پاس کافی کپڑے ہوں۔ وہ ان کے خراب ہو جانے تک اور کپڑے نہ بنوائیں پھر جو لوگ نئے کپڑے زیادہ بنواتے ہیں۔ وہ نصف پر یا تین چوتھائی پر یا ۵/۴ پر آجائیں …علاج کے متعلق میں کہہ چکا ہوں کہ اطباء اور ڈاکٹر سستے نسخے تجویز کیا کریں … خرچ سنیما اور تماشے ہیں۔ ان کے متعلق میں ساری جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ تین سال تک کوئی احمدی کسی سنیما سرکس تھیٹر وغیرہ غرض کہ کسی تماشہ میں بالکل نہ جائے … شادی بیاہ کا معاملہ ہے۔ چونکہ یہ جذبات کا سوال ہے اور حالات کا سوال ہے اس لیے میں یہ حد بندی تو نہیں کر سکتا کہ اتنے جوڑے اور اتنے زیور سے زیادہ نہ ہوں۔ ہاں اتنا مدنظر رہے کہ تین سال کے عرصہ میں یہ چیزیں کم دی جائیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳؍نومبر۱۹۳۴ء۔ الفضل ۲۹؍نومبر۱۹۳۴ء)

دوسرا مطالبہ: امانت فنڈ: فرمایا: ’’دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا ۵/۱ سے ۳/۱ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لیے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے۔ اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں یا دارالانوار کمیٹی کا حصہ یا حصے انہوں نے لیے ہیں (اخبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ)وہ سب رقم اس حصہ میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن حمدیہ کے پاس جمع کرادیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳؍نومبر۱۹۳۴ء۔ الفضل ۲۹؍نومبر۱۹۳۴ء)

تیسرا مطالبہ: دشمن کے گندے لٹریچرکاجواب۔ فرمایا: ’’تیسرا مطالبہ میں یہ کرتا ہوں کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندہ لٹریچر ہمارے خلاف شائع کررہا ہے اس کا جواب دیا جائے یا اپنا نقطہ نگاہ احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں پیدا کی جارہی ہیں انہیں دور کیا جائے۔ اس کے لیے بھی خاص نظام کی ضرورت ہے۔ روپیہ کی ضرورت ہے۔ آدمیوں کی ضرورت ہے اور کام کرنے کے طریقوں کی ضرورت ہے۔ طریق میں بیان نہیں کر تا، یہ میں اس کمیٹی کے سامنے ظاہر کروں گا جو اس غرض کے لیے بنائی جائے گی۔… اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ میری دی ہوئی ہدایات کے مطابق دشمن کے پروپیگنڈا کا بالمقابل پروپیگنڈا سے مقابلہ کرے۔ مگر اس کمیٹی کا کام یہ ہوگا کہ تجارتی اصول پر کام کرے۔ مفت اشاعت کی قسم کا کام اس کے دائرہ عمل سے خارج ہوگا۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳؍نومبر۱۹۳۴ء۔ الفضل ۲۹؍نومبر۱۹۳۴ء)

چوتھا مطالبہ: تبلیغ بیرون ہند۔ فرمایا: ’’چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے تو کیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں نہیں پھیل جاتے۔ اگر باہر نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دے گا۔ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں بھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی ہمیں کیا معلوم ہے کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتدا کہاں سے ہوتی ہے۔ قادیان بے شک ہمارا مذہبی مرکز ہے۔ مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت و طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہو سکتا ہے اور چین، جاپان، فلپائن، سماٹرا، جاوا، روس، امریکہ غرض کہ دنیا کے کسی ملک میں ہو سکتا ہے۔ اس لیے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ کچلنا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری مدنی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ ہمیں کیا معلوم ہے کہ کونسی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت کو قبول کرلیں گے۔اور ہمیں کیا معلوم کہ جماعت ک ایسی طاقت کہاں سے حاصل ہو جائے گی کہ اس کے بعد دشمن شرارت نہ کر سکے گا۔… مذہبی سلسلے ضرور ایک وقت دنیا کے توپ خانوں کی زد میں آتے ہیں اور وہ بھی ظلم و ستم کی تلوار کے سایہ کے بغیر ترقی ہی نہیں کر سکتے۔پس ان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مختلف ممالک میں ان کی شاخیں ہوں تا کہ ایک جگہ وہ ظلم و ستم کا تختہ مشق ہوں تو دوسری جگہ پر ان کی امن سے ترقی ہورہی ہو اور تاکہ ان کا مذہبی لٹریچر دشمن کی دست برد سے محفوظ رہے۔جو شخص بھی اس سلسلہ کو آسمانی تحریک سمجھتا ہے اُسے اس امر کے لیے تیار ہونا پڑے گا اور جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ حقیقت میں اس سلسلہ کو بالکل نہیں سمجھتا۔غرض سلسلہ احمدیہ کسی جگہ بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا اس لیے جب تک ہم سارے ممالک میں جگہ تلاش نہ کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۳؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۲۹؍نومبر۱۹۳۴ء)

پانچواں مطالبہ: تبلیغ کی خاص سکیم میں مالی حصہ. فرمایا: ’’جماعت سے قربانی کا پانچواں مطالبہ یہ ہے کہ تبلیغ کی ایک سکیم میرے ذہن میں ہے جس پر سو روپیہ ماہوار خرچ ہوگا اور اس طرح ۱۲۰۰روپیہ اس کے لیے درکار ہے۔ جو دوست اس میں بھی حصہ لے سکتے ہوں وہ لیں۔ اس میں بھی غرباء کو شامل کرنے کی میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ اس تحریک میں حصہ لینے کے لیے پانچ پانچ روپے دے سکتے ہیں۔ ‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ۲۳؍نومبر۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۲۹؍نومبر۱۹۳۴ء)

چھٹا مطالبہ: تبلیغی سروے. فرمایا: ’’چھٹا مطالبہ یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ وقف کنندگان میں سے پانچ افراد کو مقرر کیا جائے کہ سائیکلوں پر سارے پنجاب کا دورہ کریں اور اشاعت سلسلہ کے امکانات کے متعلق مفصل رپورٹیں مرکز کو بھجوائیں۔ مثلاً یہ کہ کس علاقہ کے لوگوں پر کس طرح اثر ڈالا جاسکتا ہے۔ کون کون سے بااثر لوگوں کو تبلیغ کی جائے تو احمدیت کی اشاعت میں خاص مدد مل سکتی ہے۔ کس کس جگہ کے لوگوں کے کس کس جگہ کے احمدیوں سے رشتہ داریاں ہیں کہ ان کو بھیج کر وہاں تبلیغ کرائی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پانچ آدمی جو سائیکلوں پر جائیں گے مولوی فاضل یا انٹرنس پاس ہونے چاہئیں۔ تین سال کے لیے وہ اپنے آپ کو وقف کریں گے۔ پندرہ روپیہ ماہوار ان کو دیا جائے گا۔ تبلیغ کا کام ان کا اصلی فرض نہیں ہو گا۔ اصل فرض تبلیغ کے لیے میدان تلاش کرنا ہو گا۔ وہ تبلیغی نقشے بنائیں گے۔ گویا جس طرح گورنمنٹ سروے (SURVEY) کراتی ہے وہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے پنجاب کا سروے کریں گے۔ ان کی تنخواہ اور سائیکلوں وغیرہ کی مرمت کا خرچ ملا کر سو روپیہ ماہوار ہو گا۔ اور اس طرح کل رقم جس کا مطالبہ ہے ساڑھے ستائیس ہزار بنتی ہے۔ مگر اس میں سے ساڑھے سترہ ہزار کی فوری ضرورت ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ۲۳؍نومبر۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۲۹؍نومبر۱۹۳۴ء)

ساتواں مطالبہ: وقفِ رخصت۔ فرمایا: ’’اب میں ساتواں مطالبہ پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس وقت کی تبلیغی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر ان تمام مطالبات کے باوجود جو میں میں کر چکا ہوں ہماری تبلیغی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔… تبلیغ کی وسعت کے لیے ایک نیا سلسلہ مبلغین کا ہونا چاہیے اور وہ یہی ہے کہ سرکاری ملازم تین تین ماہ کی چھٹیاں لے کر اپنے آپ کو پیش کریں تاکہ ان کو وہاں بھیج دیا جائے جہاں ان کی ملازمت کا واسطہ اور تعلق نہ ہو۔ مثلاً گورداسپور کے ضلع میں ملازمت کرنے والا امرتسر کے ضلع میں بھیج دیا جائے۔ امرتسر کے ضلع میں ملازمت کرنے والا کانگڑہ یا ہوشیارپور کے ضلع میں کام کرے۔ گویا اپنی ملازمت کے علاقہ سے باہر ایسی جگہ کام کرے جہاں ابھی تک احمدیت کی اشاعت نہیں ہوئی۔ اور وہاں تین ماہ رہ کر تبلیغ کرے . میں سمجھتا ہوں وہ جماعت جو یہ کہتی ہے کہ وہ جان اور مال کی قربانیاں کرنے کےلیے ہر طرح تیار ہے اس کیلیے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ اس میں سے چار سو اصحاب ایسے نکلیں جو اپنی تین تین ماہ کی رخصت اپنے گھروں میں نہ گزاریں بلکہ دوسری جگہ دین کی خدمت میں صرف کریں وہاں بھی وہ اپنے ملازمت کے کام سے آرام پاسکتے ہیں۔ہاں زیادہ بات یہ ہوگی کہ وہاں ان کے ذریعہ جو جماعت قائم ہوگی اس کے نیک اعمال ان کے نامہ اعمال میں بھی لکھے جائیں گے۔ …ایسے اصحاب کا فرض ہو گا کہ جس طرح ملکانہ تحریک کے وقت ہوا وہ اپنا خرچ آپ برداشت کریں۔ ہم اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ انہیں اتنی دور بھیجا جائے کہ ان کے لیے سفر کے اخراجات برداشت کرنے مشکل نہ ہوں اور اگر کسی کو کسی دور جگہ بھیجا گیا تو کسی قدر بوجھ اخراجات سفر کا سلسلہ برداشت کرلے گا اور باقی اخراجات کھانے، پینے، پہننے کے وہ خود برداشت کریں۔ان کو کوئی تنخواہ نہ دی جائے گی نہ کوئی کرایہ سوائے اس کے جسے بہت دور بھیجا جائے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

آٹھواں مطالبہ: وقف زندگی۔ فرمایا: ’’ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو تین سال کے لیے اپنی زندگیاں وقف کریں۔… میں سمجھتا ہوں یہ قربانی کی روح کہ تین سال کے لیے دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا جائے ، اسلام اور ایمان کے رُو سے تو کچھ نہیں لیکن موجودہ زمانہ کی حالت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے۔… پس وہ ہمت اور جوش رکھنے والے نوجوان جو میری سکیم میں آنے سے باقی رہ جائیں وہ اپنے طور پر ایسے علاقوں میں چلے جائیں جہاں احمدیت ابھی تک نہیں پھیلی اور وہاں دورہ کرتے ہوئے تبلیغ کریں۔… چند معمولی دوائیں ساتھ رکھ کر عام بیماریوں کا جن کے علاج میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا، علاج بھی کرتے جائیں۔ ایسا معمولی علاج انہیں سکھایا جا سکتا ہے اور ارزاں ادویہ مہیا کی جا سکتی ہیں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

نواں مطالبہ: وقف رخصتِ موسمی۔ فرمایا: ’’نواں مطالبہ اس سلسلہ میں یہ ہے کہ جو لوگ تین ماہ دے سکیں کیونکہ بعض ایسے ملازم ہوتے ہیں جن کو اس طرح کی چھٹی نہیں ملتی جیسے مدرس ہیں یا جن کی تین ماہ کی رخصت جمع نہیں ہے یا جنہیں ان کا محکمہ تین ماہ کی رخصت نہ دینا چاہے ایسے لوگ ، جو بھی موسمی چھٹیاں یا حق کے طور پر ملنے والی چھٹیاں ہوں انہیں وقف کر دیں۔ ان کو قریب کے علاقہ میں ہی کام پر لگا دیا جائے گا۔میں سمجھتا ہوں اگر دوست چھٹیوں کو ہی معقول طریق پر تبلیغ میں صرف کریں تو تھوڑے عرصہ میں کایا پلٹ سکتی اور رنگ بدل سکتا ہے۔ہر عقلمند کو ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اپنی طاقت کو صحیح طور پر استعمال کرے اور جب ایسا ہو تو بہت سی چیزیں جو دوسری صورت میں وقت کو ضائع اور طاقت کو کم کرنے والی ہوتی ہیں طاقت کو بڑھا دیتی ہیں۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

ایک اور موقع پر فرمایا: ’’اپنی زندگیوں کوخدمتِ دین کے لیے وقف کرواورسال میں سے مہینہ دومہینے یاتین مہینے تبلیغ کے لیے دو تا انہیں ایک، دو یا تین ماہ کے لیے مختلف مقامات پر تبلیغ کے لیے بھیجا جا سکے… جس قدر ملازم، زمیندار، تاجراور پیشہ ور اور جنہیں چھٹیاں مل سکتی ہیں مَیں ان سب کوتحریک کرتا ہوں کہ ایک یادویاتین ماہ جتنا عرصہ کوئی دے سکے تبلیغ کے لیے دیں…. پس میں دوستوں کو نصیحت کرتاہوں کہ وہ اپنی چھٹیوں کو تبلیغ کےلیے وقف کریں۔” (تقریر فرمودہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۳۵ء مطبوعہ الفضل ۱۴؍مارچ۱۹۳۶ء)

دسواں مطالبہ: کوئی پوزیشن رکھنے والےلیکچرز دیں۔ فرمایا: ’’دسواں مطالبہ یہ ہے کہ اپنے عہدہ یا کسی علم وغیرہ کے لحاظ سے جو لوگ کوئی پوزیشن رکھتے ہوں۔ یعنی ڈاکٹر ہوں، وکلاء ہوں، یا اور ایسے معزز کاموں پر یا ملازمتوں پر ہوں جن کو لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایسے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں تاکہ مختلف مقامات کے جلسوں میں مبلغوں کے سوائے ان کو بھیجا جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگوں پر یہ اثر ہوتا ہے کہ مولوی آتے ہیں تقریریں کر جاتے ہیں اور یہ ان کا پیشہ ہے۔وہ لوگ ہمارے مولویوں کی قربانیوں کو نہیں دیکھتے اور انہیں اپنے مولویوں پر قیاس کر لیتے ہیں۔حالانکہ ان کے مولویوں اور ہمارے مولویوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہمارے مولوی حقیقی عالم ہوتے ہیں اور ان کے مولوی محض جاہل، مگر لوگ ظاہری شکل دیکھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ احمدی مولوی بھی عام مولویوں کی طرح ہی ہیں۔ لیکن تقریر کرنے والا کوئی وکیل، کوئی ڈاکٹر یا کوئی اور عہدہ دار ہو تو لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ اس جماعت کے سب افراد میں ، خواہ وہ کسی طبقہ کے ہوں ، دین سے رغبت اور واقفیت پائی جاتی ہے اور خواہ ان کے منہ سے وہی باتیں نکلیں، جو مولوی بیان کرتے ہیں مگر ان کا اثر بہت زیادہ ہو گا۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

گیارھواں مطالبہ: ریزروفنڈکا قیام۔ فرمایا: ’’گیارھواں مطالبہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے تحریک کی تھی کہ ۲۵ لاکھ سے ریزروفنڈ قائم کیا جائے اور اس طرح آمد کی ایسی صورت پیدا کی جائے کہ اس کے ساتھ ہنگامی کام کيے جاسکیں۔اب ہمارا بجٹ ایسا ہوتا ہے کہ ہم ہنگامی کام پر کچھ خرچ نہیں کر سکتے۔یہی دیکھو اس وقت کتنا بڑا ہنگامہ شروع ہے مگر بعض دفعہ دس میں روپیہ خرچ کرنے کیلیے بھی کام میں روک پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح بجٹ کی رقم سے زیادہ خرچ ہو جائے گا۔… دراصل خلیفہ کا کام نئے سے نئے حملے کرنا اور اسلام کی اشاعت کے لیے نئے سے نئے رستے کھولنا ہے مگر اس کے لیے بجٹ ہوتا ہی نہیں۔ سارا بجٹ انتظامی امور کے لیے یعنی صدر انجمن کے لیے ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سلسلہ کی ترقی افتادی ہورہی ہے اور کوئی نیا رستہ نہیں نکلتا … ہنگامی کاموں کے لیے تو بہت بڑی رقم ہونی چاہیے جس کی معقول آمدنی ہو۔ پھر اس آمدنی میں سے ہنگامی اخراجات کرنے کے بعد جو کچھ بچے اس کو اسی فنڈ کی مضبوطی کے لیے لگا دیا جائے تاکہ جب ضرورت ہو اس سے کام لیا جاسکے … جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک ہنگامی کاموں کے لیے بہت بڑی رقم خلیفہ کے ماتحت نہ ہو کبھی ایسے کام جو سلسلہ کی وسعت اور عظمت کو قائم کریں نہیں ہوسکتے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

بارھواں مطالبہ: پنشنرزاپنے آپ کوخدمتِ دین کے لیے پیش کریں۔ فرمایا: ’’بارھواں مطالبہ یہ ہے کہ جب یہ کام کیے جائیں گے تو مرکز میں کام بڑھے گا۔ … موجودہ حالات میں کام چل ہی نہیں سکتا جب تک زائد آدمی کام کرنے والے نہ ہوں مگر بجٹ پہلے ہی پورا نہیں ہوتا تو اور آدمی کس طرح رکھے جاسکتے ہیں؟ اس لیے میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ بیسیوں آدمی جو پنشن لیتے ہیں اور گھروں میں بیٹھے ہیں خدا نے ان کو موقع دیا ہے کہ چھوٹی سرکار سے پنشن لیں اور بڑی سرکار کا کام کریں، یعنی دین کی خدمت کریں۔اس سے اچھی بات ان کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے؟ بیسیوں ایسے لوگ ہیں جو پنشن لیتے ہیں اور جنہیں اپنے گھروں میں کوئی کام نہیں ہے میں ان سے کہتا ہوں کہ خدمت دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کریں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

تیرھواں مطالبہ: طلبہ کوتعلیم کے لیے مرکزبھیجیں۔ فرمایا: ’’تیرھواں مطالبہ یہ ہے کہ باہرکے دوست اپنے بچوں کوقادیان کے ہائی سکول یامدرسہ احمدیہ میں، جس میں چاہیں، تعلیم کے لیے بھیجیں۔ مَیں عرصہ سے دیکھ رہاہوں کہ ہمارے مرکزی سکولوں میں باہر سے دوست کم بچے بھیج رہے ہیں۔… لیکن اس طرح ہمارے بچوں کی تربیت ایسی نہیں ہوتی جیسی کہ ہم چاہتے ہیں۔میرا تجربہ یہ ہے کہ یہاں پڑھنے والے لڑکوں میں سے بعض جن کی پوری طرح اصلاح نہ ہوئی وہ بھی الا ماشاء اللہ جب قربانی کا موقع آیا تو یکدم دین کی خدمت کی طرف لوٹے اور اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کر دیا۔یہ ان کی قادیان کی رہائش کا ہی اثر ہوتا ہے۔ایک لڑکے کو میں نے آوارگی کی وجہ سے قادیان سے کئی بار نکلوایا لیکن جب وہ اپنے وطن میں گیا اور اس علاقہ کے لوگ جب آئیں تو یہی کہیں کہ وہ خدمت دین کے جوش اور شوق کی وجہ سے ہمارے لیے نمونہ ہے۔اسے سل کی بیماری ہوگئی تھی حتی کہ اسے خون آنے لگ گیا مگر با وجود ایسی حالت کے تبلیغ میں سرگرمی سے مصروف رہتا اور لوگ کہتے اس کا نمونہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہے۔غرض قادیان میں پرورش پانے والے بچوں میں ایسا بیج بویا جاتا ہے اور سلسلہ کی محبت ان کے دلوں میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ خواہ ان میں سے کسی کی حالت کیسی ہی ہو جب دین کی خدمت کےلیے آواز اٹھتی ہے تو ان کے اندر سے لبیک کی سر پیدا ہو جاتی ہے الا ما شاء اللہ لیکن اس وقت میں ایک خاص مقصد سے یہ تحریک کر رہا ہوں۔ایسے لوگ اپنے بچوں کو پیش کریں جو اس بات کا اختیار دیں کہ ان بچوں کو ایک خاص رنگ اور خاص طرز میں رکھا جائے اور دینی تربیت پر زور دینے کے لیے ہم جس رنگ میں ان کو رکھنا چاہیں رکھ سکیں۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

چودھواں مطالبہ: اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے جماعت سے مشورہ کریں۔ فرمایا: ’’چودھواں مطالبہ یہ ہے بعض صاحب ِحیثیت لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلاناچاہتے ہیں، اِن سے مَیں کہوں گا کہ بجائے اس کے کہ بچوں کے منشاء اورخواہش کے مطابق ان کے متعلق فیصلہ کریں یاخوداپنے دوستوں سے مشورہ کریں،وہ اپنے لڑکوں کے مستقبل کوسلسلہ کے لیے پیش کردیں۔ اس کےلیے ایک کمیٹی بنادی جائے گی اس کے سپر دایسے لڑکوں کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ وہ کمیٹی ہر ایک لڑکے کے متعلق جو فیصلہ کرے اس کی پابندی کی جائے۔اب یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک لڑکا آئی سی ایس کی تیاری کرتا ہے تو سب اسی طرف چلے جاتے ہیں۔اگر وہ سارے کے سارے پاس بھی ہو جائیں تو اتنی جگہیں کہاں نکل سکتی ہیں جو سب کومل جائیں؟ لیکن اگر لڑکوں کو علیحدہ علیحدہ کاموں کے لیے منتخب کیا جائے اور ان کے لیے تیاری کرائی جائے تو پھر انہیں ملازمتیں حاصل کرنے میں بھی کامیابی ہوسکتی ہے اور سلسلہ کی ضرورتیں بھی پوری ہو سکتی ہیں۔موجودہ حالات میں جو احمدی اعلیٰ عہدوں کی تلاش کرتے ہیں وہ کسی نظام کے ماتحت نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بعض صیغوں میں احمدی زیادہ ہو گئے ہیں اور بعض بالکل خالی ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اعلیٰ تعلیم ایک نظام کے ماتحت ہو اور اس کے لیے ایک ایسی کمیٹی مقرر کر دی جائے کہ جو لوگ اعلیٰ تعلیم دلانا چاہیں وہ لڑکوں کے نام اس کمیٹی کے سامنے پیش کر دیں پھر وہ کمیٹی لڑکوں کی حیثیت، اُن کی قابلیت اور اُن کے رُجحان کو دیکھ کر فیصلہ کرے کہ فلاں کو پولیس کے محکمہ کے لیے تیار کیا جائے ، فلاں کو انجینئر نگ کی تعلیم دلائی جائے، فلاں کو بجلی کے محکمہ میں کام سیکھنے کے لیے بھیجا جائے ، فلاں ڈاکٹری میں جائے، فلاں ریلوے میں جائے وغیرہ وغیرہ یعنی ان کےلیے الگ الگ کام مقرر کریں تا کہ کوئی صیغہ ایسا نہ رہے جس میں احمدیوں کا کافی دخل نہ ہو جائے۔اب صرف تین یا چار صیغوں میں احمدیوں کا دخل ہے اور باقی خالی پڑے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس بارے میں معمولی سا نظام قائم کرنے سے سلسلہ کو بہت بڑی طاقت حاصل ہوسکتی ہے اور وہ لڑکے جن کی زندگیاں ضائع ہو جاتی ہیں بیچ سکتے ہیں اور کئی نو جوان جو اچھے اور اعلیٰ درجہ کے کام نہیں کر رہے کرنے لگ جائیں گے اور کئی محکموں میں ترقی کرنے کا رستہ نکل آئے گا۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

پندرھواں مطالبہ: بے کار دنیا میں نکل جائیں خود کمائیں اور کھائیں اور تبلیغ کریں۔ فرمایا: ’’پندرھواں مطالبہ جو جماعت سے بلکہ نوجوانان جماعت سے یہ ہے کہ …وہ نوجوان جوگھروں میں بے کاربیٹھے روٹیاں توڑتے ہیں اورماں باپ کومقروض بنارہے ہیں انہیں چاہیے کہ وطن چھوڑدیں اور نکل جائیں۔جہاں تک دوسرے ممالک کا تعلق ہے اگر وہ اپنے لیے صحیح انتخاب کر لیں تو ۹۹ فیصدی کامیابی کی امید ہے۔کوئی امریکہ چلا جائے، کوئی جرمنی چلا جائے ، کوئی فرانس چلا جائے ، کوئی انگلستان چلا جائے، کوئی اٹلی چلا جائے، کوئی افریقہ چلا جائے غرض کہیں نہ کہیں چلا جائے اور جا کر قسمت آزمائی کرے۔وہ کیوں گھروں میں بے کار پڑے ہیں؟ باہر نکلیں اور کمائیں پھر خود بھی فائدہ اُٹھا ئیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔جو زیادہ دور نہ جانا چاہیں وہ ہندوستان میں ہی اپنی جگہ بدل لیں۔مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بعض نوجوان ماں باپ کو اطلاع دیے بغیر گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ یہ بہت بری بات ہے۔جو جانا چاہیں اطلاع دے کر جائیں اور اپنی خیر و عافیت کی اطلاع دیتے رہیں۔مدراس کے بمبئی کے علاقہ میں چلے جائیں، بمبئی کے بہار میں، پنجاب کے بنگال میں۔غرض کسی نہ کسی دوسرے علاقہ میں چلے جائیں۔رنگون کلکتہ بمبئی وغیرہ شہروں میں پھیری سے ہی وہ کچھ نہ کچھ کما سکتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض ہونے سے بچا سکتے ہیں، لیکن اگر کسی کو ناکامی ہوتو کیا نا کامی اپنے وطن میں رہنے والوں کو نہیں ہوتی ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ باہر نکل کر جدوجہد نہ کریں اور سلسلہ کے لیے مفید وجود نہ بنیں اور بے کار گھروں میں پڑے رہیں؟” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

سولھواں مطالبہ: اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ فرمایا: ’’سولھواں مطالبہ یہ ہے کہ جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔ ذلت کے معنی تو یہ ہوئے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض کام ذلت کا موجب ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہمارا کیا حق ہے کہ اپنے کسی بھائی سے کہیں کہ وہ فلاں کام کرے جسے ہم کر ناذلت سمجھتے ہیں؟ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے کام کرنا چاہيے۔امراء تو اپنے گھروں میں کوئی چیز ادھر سے اٹھا کر ادھر رکھنا بھی عار سمجھتے ہیں، حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بیسیوں دفعہ برتن مانجتے اور دھوتے دیکھا ہے اور میں نے خود بیسیوں دفعہ برتن مانجھے اور دھوئے ہیں اور کئی دفعہ رومال وغیرہ کی قسم کے کپڑے دھوئے ہیں…. مجھے یاد ہے میں چھوٹا سا تھا، سات آٹھ سال کی عمر ہوگی، ہم باہر کھیل رہے تھے کہ کوئی ہمارے گھر سے نکل کر کسی کو آواز دے رہا تھا کہ فلانے مینہ آ گیا ہے اوپلے بھیگ جائیں گے، جلدی آؤ اور ان کو اندر ڈالو۔حضرت خلیفۂ اول رضی اللہ عنہ درس دے کر ادھر سے جارہے تھے۔ انھوں نے اس آدمی سے کہا کیا شور مچارہے ہو؟ اس نے کہا کوئی آدمی نہیں ملتا جو او پلے اندر ڈالے۔ آپ نے فرمایا تم مجھے آدمی نہیں سمجھتے؟ یہ کہہ کر آپ نے ٹوکری لے لی اور اس میں اوپلے ڈال کر اندر لے گئے۔آپ کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی شامل ہو گئے اور جھٹ پٹ اوپلے اندر ڈال دیے گئے۔ اسی طرح اس مسجد کا ایک حصہ بھی حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ نے بنوایا تھا۔ ایک کام میں نے بھی اسی قسم کا کیا تھا مگر اس پر بہت عرصہ گزر گیا ہے۔میں نے اپنی جماعت کے لوگوں کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کے لیے کئی بار کہا ہے مگر توجہ نہیں کرتے کہ ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور یہ احساس مٹا دیں کہ فلاں آقا ہے اور فلاں مزدور۔ اگر ہم اس لیے آقا بنتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے تو یہ بھی ظاہر کرنا چاہيے کہ ہمارا حق نہیں کہ ہم آقا بنیں اور جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے آقا بنے کا حق ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

سترھواں مطالبہ: بے کارنہ رہیں جوکام بھی ملے وہی کریں۔ فرمایا: ’’سترھواں مطالبہ یہ ہے کہ جو لوگ بیکار ہیں وہ بیکار نہ رہیں۔ اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سے چھوٹا جو کام بھی انہیں مل سکے وہ کرلیں۔ اخباریں اور کتابیں ہی بیچنے لگ جائیں۔ ریزروفنڈ کے لیے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کردیں۔ غرض کوئی شخص بیکار نہ رہے خواہ اسے مہینہ میں دو روپے کی ہی آمدنی ہو،کیونکہ دو بہرحال صفر سے زیادہ ہیں۔ بعض بی اے کہتے ہیں ہم بے کار ہیں، ہمیں کوئی کام نہیں ملتا۔میں انہیں کہتا ہوں دو روپے بھی اگر وہ کما سکیں تو کمائیں۔میں نے جس قدر حساب پڑھا ہے اس سے مجھے یہی معلوم ہؤا ہے کہ دو ر و پے صفر سے زیادہ ہوتے ہیں۔ غرض کوئی احمدی نکما نہ رہے۔ اسے ضرور کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہیے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

اسی طرح ایک اور موقع پرفرمایا: ’’مَیں جماعت کوتوجہ دلاتا ہوں کہ تحریک جدید تمھیں اُس وقت تک کامیاب نہیں کرسکتی جب تک رات دن ایک کرکے کام نہ کرو… مَیں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ محنت کی عادت ڈالو،بے کاری کی عادت کوترک کردو،فضول مجلسیں بناکرگپیں ہانکنااوربکواس کرناچھوڑدو۔ حقہ اوردیگرایسی لغوعادتوں میں وقت ضائع نہ کرواورکوشش کروکہ زیادہ سے زیادہ کام کرسکو۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ۲۲؍جنوری۱۹۳۷ء مطبوعہ الفضل ۳؍فروری۱۹۳۷ء)

اٹھارھواں مطالبہ: مرکزمیں مکان بنائیں۔ فرمایا: ’’اٹھارھواں مطالبہ باہر کے دوستوں سے میں یہ کرتا ہوں کہ قادیان میں مکان بنانے کی کوشش کریں۔اس وقت تک خداتعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں لوگ مکان بنا چکے ہیں مگر ابھی بہت گنجائش ہے۔جوں جوں قادیان میں احمدیوں کی آبادی بڑھے گی ہمارا مرکز ترقی کرے گا اور غیر عنصر کم ہوتا جائے گا۔ غیرعنصر کو کم کرنے کے دو ہی طریق ہیں یا تو یہ کہ وہ یہاں سے چلا جائے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ یا یہ کہ ہماری آبادی بڑھنے سے ان کی آبادی کی نسبت کم ہو جائے اور یہ ہمارے اختیار کی بات ہے۔جب ہم اپنے آپ کو بڑھاتے جائیں گے تو غیر عنصر خود بخود کم ہوتا جائے گا۔ہاں یا درکھو! کہ قادیان کو خدا تعالیٰ نے سلسلہ احمدیہ کا مرکز قرار دیا ہے اس لیے اس کی آبادی انھی لائنوں پر چلنی چاہيے جو سلسلہ کے ليے مفید ثابت ہوں۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

اُنیسواں مطالبہ: دعا۔ فرمایا: ’’ایک اورچیزباقی رہ گئی ہے جوسب کے متعلق ہے گوغرباء اس میں زیادہ حصہ لے سکتے ہیں۔ دنیوی سامان خواہ کس قدر کیے جائیں آخر دنیاوی سامان ہیں اورہماری ترقی کاانحصاران پرنہیں بلکہ ہماری ترقی خدائی سامان کے ذریعہ ہوگی اور یہ خانہ اگرچہ سب سے اہم ہے مگراسے مَیں نے آخرمیں رکھا ہے اوروہ دعاکاخانہ ہے۔ وہ لوگ جوان مطالبات میں شریک نہ ہوسکیں اوران کے مطابق کام نہ کرسکیں وہ خاص طورپردعا کریں کہ جولوگ کام کرسکتے ہیں خداتعالیٰ انہیں کام کرنے کی توفیق دے اوران کے کاموں میں برکت ڈالے… پس وہ لولے لنگڑے اور اپاہج جو دوسروں کے کھلانے سے کھاتے ہیں، جو دوسروں کی امداد سے پیشاب پاخانہ کرتے ہیں اور وہ بیمار اور مریض جو چارپائیوں پر پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاش ہمیں بھی طاقت ہوتی اور ہمیں بھی صحت ہوتی تو ہم بھی اس وقت دین کی خدمت کرتے۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کے لیے بھی خدا تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔ وہ اپنی دعاؤں کے ذریعہ خداتعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور چارپائیوں پر پڑے پڑے خداتعالیٰ کا عرش ہلائیں تاکہ کامیابی اور فتح مندی آئے۔ پھر وہ جو اَن پڑھ ہیں اور نہ صرف اَن پڑھ ہیں بلکہ کند ذہن ہیں اور اپنی اپنی جگہ کُڑھ رہے ہیں کہ کاش ہم بھی عالم ہوتے، کاش ہمارا بھی ذہن رسا ہوتا اور ہم بھی تبلیغِ دین کے لیے نکلتے، ان سے میں کہتا ہوں کہ ان کا بھی خدا ہے جو اعلیٰ درجہ کی عبارت آرائیوں کو نہیں دیکھتا، اعلیٰ تقریروں کو نہیں دیکھتا بلکہ دل کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے سیدھے سادھے طریق سے دعا کریں خدا تعالیٰ ان کی دعا سنے گا اور ان کی مدد کرے گا۔…

پس کوئی یہ مت سمجھے کہ اسے عبارت آرائی نہیں آتی کیونکہ خدا تعالیٰ الفاظ کو نہیں دیکھتا۔اگر اعلیٰ درجہ کے الفاظ میں اس سے التجا کی جائے تو اسے بھی سنتا ہے اور اگر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اس کے درِ اجابت کو کھٹکھٹایا جائے تو بھی کھولتا ہے اور پکارنے والے کی دعا سنتا ہے۔ پس وہ لوگ جومجبوری اورمعذوری کی وجہ سے کسی مطالبہ کوپوراکرنے میں حصہ نہیں لے سکتے،میں نے ایسی تجویزبتائی ہے کہ اس میں وہ سب شریک ہوسکتے ہیں اور یہ سب سے اعلیٰ اورسب سے زیادہ ضروری تجویزہے۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍نومبر ۱۹۳۴ء۔ الفضل ۹؍دسمبر۱۹۳۴ء)

تحریک جدید کے دورِ ثانی کے مطالبات: فرمایا: ’’تحریک جدید کے دوسرے دور کی تحریک سے میری غرض یہی ہے کہ ہم دنیا میں اسلامی تعلیم کو قائم کریں۔ اسلامی تعلیم اس وقت مٹی ہوئی ہے اور ہم یہ کہہ کر اپنے دل خوش کر لیتے ہیں کہ اس کا قیام، حکومت سے تعلق رکھتاہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ تعلق رکھنے والی باتیں بہت تھوڑی ہیں اور ان کا دائرہ بہت ہی محدود ہے۔ باقی زیادہ تر ایسی ہیں کہ حکومت کے بغیر بھی ان کو رائج کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی توحید اور عرفان کی خواہش دل میں رکھنا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا صفاتِ الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا کرنا اور پھر اس کو دنیا میں رائج کرنا، قربِ الٰہی کے حصول کی کوشش کرنا؛ امانت، دیانت، راستبازی وغیرہ سینکڑوں باتیں ہیں جن کا حکومت سے کوئی واسطہ نہیں۔ ‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ۱۴؍جنوری۱۹۳۸ء۔ الفضل ۲۱؍جنوری ۱۹۳۸ء)

بیسواں مطالبہ: اسلامی تمدن کاقیام: فرمایا: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اصل غرض جو آپ کو الہام میں بتائی گئی یہی ہے کہ یحیی الدین ویقیم الشریعۃ کہ وہ دین کو زندہ اور شریعت کو قائم کرے گا۔ہرجگہ تمام دوستوں کو اکٹھا کرکے ان سے پھرعہد لیاجائے کہ وہ اسلامی تمدن اوراس کی تعلیم کے مطابق اپنی زندگی بسرکریں گے اوراحیاءِ دین اورقیامِ شریعت کرکے اپنی بنیادوں کو مضبوط کریں گے تاقلیل سے قلیل عرصہ میں وہ تمدن قائم ہوجائے جس کو دینِ حق قائم کرنا چاہتا ہے اورجس کوقائم کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ۱۴؍جنوری۱۹۳۸ء۔ الفضل ۲۱؍جنوری ۱۹۳۸ء)

اکیسواں مطالبہ: قومی دیانت کاقیام۔ فرمایا: ’’اگر ہماری جماعت اپنی دیانت کا سکہ بٹھا دے اور اس لحاظ سے اپنی شہرت قائم کر لے تو اقتصادی مشکلات کا خود بخود حل ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں لوگ خود آ آ کران کو روپیہ دیں گے۔مسلمانوں میں جب تک دیانت قائم تھی تجارت کا یہی اصول تھا۔ جب تاجروں کا قافلہ روانہ ہونے لگتا تو لوگ آآکر روپیہ دے جاتے تھے اور پھر واپس آکر منافع ان میں تقسیم کر دیتے تھے۔ پس اگر لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جا کر ان کا روپیہ محفوظ رہے گا تو نہ صرف احمدی بلکہ دوسری قوموں کے لوگ بھی بخوشی اپنا روپیہ دے سکتے ہیں۔ مگر یہ بات انفرادی دیانت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ شہرت ہمیشہ قومی دیانت ہی پکڑتی ہے اور اسی وقت لوگ اپنا روپیہ دینے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں جب یہ بات عام طور پر تسلیم کی جا چکی ہو کہ احمدی بددیانت نہیں ہو سکتا۔ اگر تم سچائی کا معیار بلند قائم کرلو تو اگر ایک شخص تم پر الزام لگانے والا ہو تو سو اس کی تردید کے لیے گھڑا ہو جائے گا اور کہے گا: ہرگز نہیں، احمدی جھوٹے نہیں ہو سکتے۔ اخلاقی لحاظ سے اصولی صداقتیں چار ہیں۔ دیانت، صداقت، محنت اورقربانی۔ اور اگر یہ چارتم اپنے اندرپیداکرلو تویقیناً تم کامیاب ہوسکتے ہو۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ۱۴؍جنوری ۱۹۳۸ء الفضل ۲۱؍ جنوری۱۹۳۸ء)

بائیسواں مطالبہ: عورتوں کے حقوق کی حفاظت۔ فرمایا: ’’عورتوں کے حقوق برابردیے جائیں اور ان کاخاص خیال رکھاجائے، خصوصًا جب کہ ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے احساسات کا خاص خیال رکھناضروری ہے۔ لہٰذا یا تو دوسری شادی نہ کی جائے اور اگرکی جائے توپوراانصاف کرے اور اگر انصاف نہ کر سکے تو ایک کو طلاق دے دے۔… جو احمدی دو بیویوں میں انصاف نہیں کر سکتا وہ احمدی نہیں ہے۔” (مطالبات تحریکِ جدید، تالیف مکرم عبد الرحمن انور صاحب۔ ایڈیشن ۱۹۴۶۔صفحہ ۱۳۶)

تئیسواں مطالبہ: راستوں کی صفائی۔ فرمایا: ’’اپنے ہاتھوں سے کام کرکے تمام راستوں کو فراخ اورسیدھا کیا جائے اوراونچی نیچی جگہوں کو ہموارکیا جاوے اورگندگی کو دور کیا جاوے تاکہ دیکھنے والا دیکھتے ہی سمجھ لے کہ احمدی جماعت کامحلہ یاگاؤں ہے۔” (مطالبات تحریکِ جدید، تالیف مکرم عبد الرحمن انور صاحب۔ ایڈیشن ۱۹۴۶۔صفحہ ۱۳۶)

چوبیسواں مطالبہ: احمدیہ دارالقضاء کاقیام۔ فرمایا: ’’سوائے ان مقدمات کے کہ جن کے متعلق قانون کہتاہے کہ ان کوعدالتوں میں لے جانا ضروری ہے باقی سب مقدمات کا فیصلہ شریعت کے مطابق کیاجائے اوراس ضرورت کے لیے ہرجماعت میں پنچائتیں اور بورڈ بن جائیں۔” (مطالبات تحریکِ جدید، تالیف مکرم عبد الرحمن انور صاحب۔ ایڈیشن ۱۹۴۶۔صفحہ ۱۳۷)

پچیسواں مطالبہ: وقفِ اولاد۔ فرمایا: ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ اولاد قربان کرنے سے نسل بڑھتی ہے اور اگرکوئی چاہتاہے کہ اس کی نسل بڑھے اورپھیلے اوراسے اوراس کی نسلوں کوعزت ملے تواس کاطریق یہ ہے کہ اپنی اولاد کو دین کی راہ میں قربان کر دے۔ یہ ایک ایسا گر ہے کہ ہمارے دوستوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اگروہ چاہتے ہیں کہ ان کی نسلیں دنیا پرچھاجائیں اور ہزاروں سال تک ان کا نام عزت کے ساتھ زندہ رہے تووہ اسوۂ ابراہیمی پرعمل پیراہوں۔ اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کوئی رشتہ نہ تھا جو ان کو اتنی برکت دے دی۔ ہر شخص جو آپ کے نقشِ قدم پر چلے اور اپنے نفس اور اپنی اولاد کو خدا تعالیٰ کے رستے میں قربان کر دے ان برکات سے حصہ پا سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو عطا کیں۔ ایمان کی کم از کم علامت یہ ہونی چاہیے کہ ہر خاندان ایک لڑکا دے اور جو یہ بھی نہیں کرتا وہ گو شرم وحیا کی وجہ سے منہ سے تو نہیں کہتا مگر عملی طور پر یہی کہتا ہے کہ فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ۔ (المائدة:۲۵)… میں مستقل طور پر دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح ہر احمدی اپنے اوپر چندہ دینا لازم کرتا ہے اسی طرح اپنے لیے لازم کرے کہ وہ کسی نہ کسی کو دین کے لیے وقف کرے گا۔جن کے ہاں اولاد نہ ہو یا ہو مگر بڑی عمر کی ہو یا جن کے ہاں لڑکیاں ہی ہوں لڑکے نہ ہوں تو وہ ایک دیہاتی مبلغ یا مدرسہ احمدیہ کے ایک طالب علم کا ماہوار خرچ دیں یا چند دوست مل کر ایک طالب علم کا خرچ برداشت کریں۔‘‘ (خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ۹؍جنوری۱۹۴۱ء۔ الفضل ۱۷؍جنوری۱۹۴۱ء)

چھبیسواں مطالبہ: وقفِ جائیداد وآمد۔ فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے اب اسلام کی فتح کی ایک بنیاد رکھ دی ہے تویقیناً اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اوراحمدیت کی اشاعت کے لیے ہم سے نئی قربانیوں کا مطالبہ کرنے والا ہے۔ساری جماعت بےشک چندے دیتی ہے اوربہت دیتی ہے،قربانیاں کرتی ہے اوربہت کرتی ہے۔ مگریہ قربانیاں اسلام کی اشاعت کے لیے کافی نہیں۔ پس مَیں تجویز کرتا ہوں اور اس تجویزکے مطابق سب سے پہلے میں اپنے وجود کو پیش کرتا ہوں کہ ہم میں سے کچھ لوگ جن کواللہ تعالیٰ توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لیے وقف کردیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے ان سے مطالبہ کیاجائے گا انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لیے پیش کرنے میں قطعًا کوئی عذرنہیں ہوگا۔ میں سب سے پہلے اس غرض کے لیے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔… جن کی جائیدادیں نہیں ہیں ان کے دل میں اگر خواہش ہوکہ وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوں تو وہ اپنی آمدنیاں وقف کر سکتے ہیں۔” (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰؍مارچ ۱۹۴۴ء۔ الفضل ۱۴؍مارچ۱۹۴۴ء)

ستائیسواں مطالبہ: حِلفُ الفضول۔ فرمایا: ’’درحقیقت یہ اس زمانہ کی اہم نیکی ہے اورہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں بالخصوص امیرلوگ غریبوں کو لوٹتے ہیں اور اس لوٹنے میں راحت محسوس کرتے ہیں…شاید اسی وجہ سے خداتعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے…یہ عہد کریں کہ ہم کسی کا حق نہیں ماریں گے اورجہاں پتہ لگے گاکہ کوئی کسی کاحق ماررہا ہے ہم وہاں جا پہنچیں گے اورخواہ کوئی ہم سے پوچھے یا نہ پوچھے ہم ضروراس میں دخل دیں گے کہ اس کا حق ملنا چاہیے…اسی طرح ہماری جماعت کے چند افراد یہ عہد کرلیں کہ ہم دیانت وامانت کوقائم کریں گے اورجہاں پتہ لگے گا کہ کسی کی حق تلفی ہورہی ہے۔ چاہے کوئی پوچھے یا نہ پوچھے ہم چودھری بن کرجا پہنچیں گے اورکوشش کریں گے کہ مظلوم کا حق دلایا جائے۔”۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴؍جولائی ۱۹۴۴ء۔ الفضل ۲۲؍جولائی۱۹۴۴ء)

مطالبات کا خلاصہ:

حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: ’’ان مطالبات کا خلاصہ چار باتیں ہیں۔ اول جماعت کے افراد میں عملی زندگی پیدا کرنا، خصوصاً نوجوانوں کے اندر بیداری اور علمی جوش پیدا کرنا۔ دوسرے جماعتی کاموں کی بنیاد بجائے مالی بوجھ کے ذاتی قربانیوں پر زیادہ رکھنا۔ تیسرے جماعت میں ایک ایسا فنڈ تحریک جدید کا قائم کر دینا جس کے نتیجے میں تبلیغ کے کام میں مالی پریشانیاں روک پیدا نہ کریں۔ چوتھے جماعت کو تبلیغی کاموں کی طرف پہلے سے زیادہ توجہ دلا دینا۔‘‘ (رپورٹ مجلس مشاورت، اپریل ۱۹۳۹ صفحہ۳۔ بحوالہ مطالبات تحریک جدید صفحہ ۴)

نیز فرمایا: ’’تبلیغ اور تعلیم وتربیت دو نہایت ہی اہم کام ہیں اور انہی دونوں کاموں کو تحریک جدید میں مدِ نظر رکھا گیا ہے۔ تعلیم وتربیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سادہ غذا،سادہ لباس، خود ہاتھ سے کام کرنا، سینما کا ترک، غریبوں کی امداد، بورڈنگ تحریک جدید اور ورثہ وغیرہ کام تجویز کیے گئے ہیں۔ اور یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جن کو کسی بھی وقت ترک نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (خطبہ جمعہ ۱۸؍نومبر ۱۹۳۸ء۔ روزنامہ الفضل ۲۴؍نومبر ۱۹۳۸ء)

مطالبات تحریک جدید اور جماعت کا فرض

فرمایا: ’’اگر تم نے دیانت داری سے احمدیت کو قبول کیا ہے، اگر تم یقین رکھتے ہو کہ سلسلہ احمد یہ سچا ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ محمدﷺ کی پیروی میں خدا تعالیٰ کی پیروی ہے اور مسیح موعود کی پیروی میں محمدﷺ کی پیروی ہے۔تو اے مردو اور عورتو! تم تحریک جدید کے اغراض اور مقاصد میں میرے ساتھ تعاون کرو اور انصاراللہ بن جاؤ۔مجھے تم سے کوئی غرض نہیں۔اگر تم میرے ان مطالبات پر عمل کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر راضی کر لو گے اور اگر تم ان مطالبات پر عمل نہیں کرو گے تو اپنے خدا کو اپنے اوپر ناراض کر لو گے۔‘‘(الفضل ۱۶؍جون ۱۹۵۹ء۔ بحوالہ انوار العلوم جلد ۱۵ صفحہ ۱۶۸)

فرمایا: ’’ہماری جماعت کو ہمیشہ یہ امر مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بغیر قربانیوں کے اور بغیر منہاج نبوت پر چلنے کے دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو ان سے زیادہ پاگل اور کوئی نہیں ہو سکتا۔… یہ باتیں ایسی ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے جاگتے اور کھاتے پیتے ہر وقت اور ہر لمحہ اپنی بیویوں، اپنے بچوں، اپنے دوستوں، اپنے عزیزوں اور اپنے رشتہ داروں کے کانوں میں ڈالنی چاہییں اور انہیں ان باتوں پر راسخ اور مضبوط کرنا چاہیے کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے اور خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتیں مشکلات کے بغیر ترقی نہیں کرتیں۔ پس ان باتوں کو دہراؤ اور دہراتے چلے جاؤ، یہاں تک کہ یہ باتیں تمہارا ورد اور وظیفہ بن جائیں اور اگر ایک چھوٹے سے بچے سے بھی سوال کیا جائے کہ احمدیت کی ترقی کا کیا ذریعہ ہے تو وہ کہہ اٹھے کہ ہم بغیر قربانی اور جان دینے کے ترقی نہیں کر سکتے اور میں اس کے لیے تیار ہوں۔ ایک عورت سے اگر پوچھا جائے تو وہ بھی یہی جواب دے۔ غرض ہر شخص کے ذہن میں یہ باتیں ڈالی جائیں اور اس کے ماتحت جماعت میں ایسا ماحول اور بیداری پیدا کی جائے کہ قربانیاں کرنا کوئی مشکل کام نہ رہے۔‘‘ (تقریر حضرت مصلح موعودؓ در مجلس مشاورت اپریل ۱۹۳۸ء۔ رپورٹ مشاورت صفحہ ۱۳۸)

فرمایا: ’’ترقیات اور کامیابیوں کی بشارتیں ہمیں ملی ہیں اور ان شاء اللہ تعالیٰ وہ حاصل ہو کر رہیں گی لیکن ان کے حصول کے لئے حسب سنت اللہ ہمیں قربانیوں کی ضرورت ہے اور حسب احکام شریعت کچھ تدابیر اختیار کرنے کی بھی لیکن میں نے پورے غور کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ قربانیاں بالعموم جبری اور لازمی نہ ہوں بلکہ اختیاری ہوں تا کہ ہر شخص اپنے حالات اور اخلاص کے مطابق کام کر سکے۔میرا ارادہ ہے کہ اس سکیم کو پیش کرتے ہوئے میں اپنی جماعت سے والنٹیئر زطلب کروں گا اور ان لوگوں کو بلاؤں گا جو خوشی سے اس تحریک میں شامل ہوں۔اس میں شبہ نہیں کہ اس کے نتیجہ میں ممکن ہے بعض لوگ جو کام کے قابل ہوں شامل نہ ہوں مگر جو شخص اپنے اندر کام کی طاقت رکھتے ہوئے شامل نہیں ہوگا وہ خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگا اور اُس کا یہ عذر ہر گز سنا نہیں جائے گا کہ اس تحریک میں شامل ہونا اپنی مرضی پر موقوف رکھا گیا تھا کیونکہ اس میں شامل ہونا اختیاری ہوگا مگر جو شخص شامل ہونے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اس خیال کے ماتحت شامل نہیں ہوگا کہ خلیفہ نے شمولیت کو اختیاری قرار دیا ہے وہ مرنے سے پہلے اس دُنیا میں یا مرنے کے بعد اگلے جہاں میں پکڑا جائے گا۔ہاں جو شخص نیک نیتی سے یہ سمجھے کہ اُس کے حالات مساعدت نہیں کرتے وہ اس سے مستثنی ٰسمجھا جائے گا۔”(خطبہ جمعہ فرمودہ ۹؍نومبر ۱۹۳۴ء مطبوعہ الفضل۱۸؍دسمبر۱۹۳۴ء)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: علم کی اہمیت اور اس کے حصول کے ذرائع

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button