حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ڈنمارک 2016ء
ڈنمارک کی سر زمین سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ جو MTAکے ذریعہ تمام دنیا میں براہ راست نشرہوا
انفرادی و فیملی ملاقاتیں۔بیسیوں افراد جماعت نے اپنے پیارے امام سے ذاتی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں دورہ کی کوریج کے ذریعہ لاکھوں افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا
………………………
6؍مئی 2016ء بروز جمعۃ المبارک
………………………
صبح سوا چار بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف رہے۔
آج جمعۃ المبارک کا دن تھا اور ڈنمارک کی سر زمین سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ دوسرا خطبہ جمعہ تھا جو MTA کے ذریعہ دنیا بھر میں Live نشر ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے گیارہ سال قبل 9؍ ستمبر 2005ء کو حضور انور نے مسجد نصرت جہاں کوپن ہیگن میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا تھا جو MTA پر براہ راست Liveنشر ہواتھا۔
اپنے پیارے آقا کی اقتداء میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے ڈنمارک کی جماعتوں کے علاوہ ناروے، بنگلہ دیش، سویڈن، سپین، جرمنی، کینیڈا، برطانیہ اور بیلجیم کی جماعتوں سے احباب جماعت بڑی تعداد میں ڈنمارک پہنچے تھے۔ مسجد کے علاوہ دونوں بڑے ہالز اور مارکیز نمازیوں سے بھری ہوئی تھیں اور مجموعی طور پر حاضری چھ صد سے زائد تھی۔
………………………
خطبہ جمعہ
دو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ’’مسجد نصرت جہاں‘‘ میں تشریف لا کر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
تشہد، تعوذ، تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
تقریباً گیارہ سال پہلے مَیں یہاں آیا تھا۔ وقت گزرنے کا پتا نہیں چلتا۔ کئی بچے تھے جو آج جوان ہو گئے ہوں گے۔ کئی ایسے ہوں گے جو بچوں کے ماں باپ بن چکے ہوں گے۔ ظاہری طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہاں جماعت پر بہت فضل فرمایا ہے اور مسجد کے ساتھ ایک بڑا ہال، دفاتر، لائبریری اور دوسری سہولیات مل گئیں۔ اسی طرح مسجد کے سامنے جو مکان لیا تھا اس میں بھی بڑی وسعت پیدا ہو گئی اور مشنری کی رہائشگاہ، گیسٹ ہاؤس اور ایک بڑا ہال میسر آ گیا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں۔ اگر آپ کے گھروں کی آبادیاں بڑھی ہیں، اگر آپ کے مال بڑھے ہیں، جماعت کو ظاہری عمارتوں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی ہے تو یقینا ان باتوں پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہئے۔ یہ شکر گزاری کس طرح ہو اور اس کا کیا تقاضا ہے؟ ہم جو اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہیں، جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو مانا ہے جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی چلا گیا تو وہ اسے واپس لائے گا تو پھر ہمیں اپنی سوچیں بھی مومنانہ بنانی ہوں گی۔ ہمیں ظاہری شکرگزاری یا صرف منہ سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ کر خوش نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس طرح زندگی گزار رہے ہیں جو ایک مومن کی زندگی ہے اور جس کی تفصیل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیان فرمائی ہے اور جسے اس زمانے میں کھول کر ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
مَیں نے اُس وقت بھی یہاں کے احمدیوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی، جب میں گیارہ سال پہلے یہاں آیا تھا جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، اور اکثر اس طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں ایم ٹی اے کی سہولت اور نعمت عطا فرمائی ہے اس کے ذریعہ سے میری باتیں ہر احمدی تک پہنچ رہی ہیں بشرطیکہ وہ انہیں سننا چاہے۔ بہرحال مَیں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یا آپ کے باپ دادا کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی نیکی کی وجہ سے یہ فضل فرمایا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جاری رکھنے کے لئے ان نیکیوں میں بڑھنا اور اپنی حالتوں کو پہلے سے بہتر کرنا بھی ضروری ہے ورنہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہمارے قدم رک گئے یا دینی باتوں میں عدم توجہگی پیدا ہو گئی یا ہوتی رہی تو ہم اپنی نسلوں کو بھی دین سے دُور کرنے والے ہوں گے اور یوں انہیں اللہ تعالیٰ کے اس خاص فضل سے جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی محروم کرنے والے ہوں گے یعنی مسیح موعود کی بعثت اور اس کا ماننا۔ جن کے باپ دادا احمدی ہوئے اگر ان کی نسلیں دین سے دُور ہٹ گئیں تو وہ اپنے بڑوں کی، اپنے بزرگوں کی دعاؤں سے محروم رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ نیکی کا اجر دیتا ہے اور ضرور دیتا ہے۔ اگر کسی کی نیکی ہو اور خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہو تو اولادیں بھی اس سے فیض پاتی ہیںلیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ تمہیں اپنے عمل درست کرنے ہوں گے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا فیض ہمیشہ جاری رہے۔ جن کے بزرگ احمدی ہوئے ان بزرگوں نے تو اپنے عہد بیعت کو نبھایا اور دنیا سے رخصت ہوئے۔ اس خواہش اور دعا کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ان کی نسلیں بھی یہ عہد نبھانے والی ہوں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
پس اس وقت آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس عہد کو نبھانے والے ہیں جس کی تلقین ہمارے بزرگوں نے ہمیں کی تھی یا جس راستے پر ہمارے بزرگ ہمیں ڈالنا چاہتے تھے۔ یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا حقیقت میں ہم اپنا عہد بیعت نبھا رہے ہیں یا صرف روایتاً اپنے بڑوں کے بزرگوں کے دین پر قائم ہیں۔ صرف رشتہ داری اور معاشرتی تعلقات کی وجہ سے جماعت میں شامل ہیں اور ابھی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اسی طرح جنہوں نے خود احمدیت قبول کی ہے وہ یہ جائزے لیں کہ کیا ہم نے اپنے ایمان میں بڑھنے اور اپنے عملوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے یا کر رہے ہیں یا وہ ایک وقتی جذبہ تھا جس کی وجہ سے احمدیت کو قبول کر لیا۔ کسی بات سے متأثر ہو کر احمدیت قبول کر لی اور ابھی تک وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے دن تھے۔ فائدہ تو ہمیں تبھی ہو گا جب ہمارا ہر قدم ترقی کی طرف بڑھ رہا ہو گا۔ جو ترقی یافتہ ملکوں میں ہجرت کر کے آئے ہیں ان ممالک میں انہیں مسلسل یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں بہتر حالات نے انہیں دین سے دُور تو نہیں کر دیا؟ یورپ کی ترقی سے متأثر ہو کر دین کو بھول تو نہیں گئے؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں کوسوو، مشرقی یورپ سے آئے ہوئے بھی بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے احمدیت قبول کی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو مانا ہے، انہیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل فرمایا ہے۔
غرض کہ یہاں مختلف قسم کے لوگ ہیں۔ ہر طبقے اور ہر قسم کے لوگوں کو جو احمدیت میں شامل ہوئے، چاہے پیدائشی ہیں، چاہے بعد میں بیعت کر کے آنے والے ہیں، چاہے ہجرت کر کے آنے والے ہیں یا یہاں کے رہنے والے ہیں سب کو ان باتوں پر غور کرنا ہو گا کہ اب انہیں اسلام کی حقیقی تعلیم پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت میں آنے کا حق ادا کر سکیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
پس جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا پیدائشی احمدی ہوں، پرانے احمدی ہوں یا نئے آنے والے احمدی ہوں، ہر احمدی عورت اور مرد کو یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ بیعت کا حق ادا کر رہے ہیں یا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہم پر جو ذمہ داریاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالی ہیں انہیں ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا اپنی حالتوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کی اس رنگ میں تربیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا شعور ابتدا سے ہی پیدا ہو جائے؟ کیا ہمارے اپنے عمل اسلامی تعلیم کے مطابق ہمارے بچوں کے لئے نمونہ ہیں؟ کیا ہماری نمازیں، ہماری عبادتیں اور ہمارا ہر عمل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق ہے؟ یہ باتیں ہر ایک اپنے جائزے لے کر خود بہتر طور پر جان سکتا ہے۔ ان باتوں کی گہرائی جاننے اور اپنے جائزوں کے بہتر معیار مقرر کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری رہنمائی فرمائی ہوئی ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے بعض ارشادات پیش کرتے ہوئے افراد جماعت کو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے دنیاوی کاموں کو اپنی عبادت پر قربان کرتے ہیں یا اس کے الٹ ہے کہ ہماری عبادتیں ہمارے دنیاوی کاموں پر قربان ہو رہی ہیں؟ ایسے بھی ہیں جو اگر وقت پر نماز پڑھ بھی لیں تو گلے سے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں سے معاملات میں احسان کا سلوک کرو لیکن بہت سے ایسے ہیں جو احسان کا سلوک تو ایک طرف رہا دوسرے کے حق مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر ایسے بھی ہیں جو دنیا کا نقصان تو برداشت نہیں کرتے لیکن دین کا نقصان ہو رہا ہو تو برداشت کر لیتے ہیں۔ کتنے ہی ہم میں سے ایسے ہیں جو جذبات پر کنٹرول نہیں رکھتے۔ ذرا ذرا سی بات پر بھڑک جاتے ہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ الفاظ ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ایک نئی قوم زندوں کی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پس ہم نے ان زندوں میں شامل ہونے کے لئے بیعت کی ہے اس لئے اس کا حق ادا کرنے کے لئے آپ کی باتوں پر ہمیں توجہ دینی ہو گی تا کہ زندوں کی قوم میں شامل ہو سکیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف ارشادات کے حوالہ سے فرمایا کہ ہدایت مجاہدہ اور تقویٰ پر منحصر ہے۔ جب تک تقویٰ پیدا نہ ہو، جب تک انسان کوشش نہ کرے، جب تک اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر دین کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار نہ ہو، اُس وقت تک حقیقی ہدایت نہیں پا سکتا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ دل کو ہر لحاظ سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کہیں بھی دل کے اندر اندھیرا نہ ہو۔ کہیں بھی کسی قسم کے شرک کا پہلو نہ ہو۔ کہیں بھی کسی قسم کی بدعت کا خیال دل میں پیدا نہ ہو۔ اگر ایسا ہو تو پھر عبادتیں عبادتیں نہیں رہتیں، اللہ تعالیٰ ان کو قبول نہیں کرتا۔ فرمایا ’’اس کے منہ پر الٹا مارتا ہے۔ اور اگر دیکھتا ہے کہ اس کا دل ہر قسم کی نفسانی اغراض اور ظلمت سے پاک اور صاف ہے تو اس کے واسطے رحمت کے دروازے کھولتا ہے اور اسے اپنے سایہ میں لے کر اس کی پرورش کا خود ذمہ لیتا ہے۔‘‘ اور جب دل پاک ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر انسان سب کچھ کر رہا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی ہر قسم کی پرورش اس کی ضروریات کا خود ذمہ دار ہو جاتا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایاکہ پس ایک حقیقی احمدی کو اپنے دل کو ہر قسم کے شرک اور بدعات سے پاک کرنا ہو گا۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم نے بہت دعائیں کیں، بہت لمبی لمبی دعائیں کیں، بڑی دعائیں کیں اور قبول نہیں ہوئیں اپنے دلوں کو ٹٹولیں، جائزے لیں کہ کہیں کوئی مخفی شرک تو نہیں۔ کسی قسم کی بدعات میں تو ملوث نہیں۔ یا اور ایسی باتیں تو نہیں ہو رہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے بتایا کہ جماعت کے قیام اور بیعت کی غرض یہ تھی کہ ہم اسلام کی خاطر جان، مال، وقت اور عزت قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ یہ عہد ہم آج بھی کرتے ہیں لیکن عہدیداروں میں سے بھی ایسے بھی ہیں جو عُہدوں کی خواہش رکھتے ہیں کہ شاید محدود طور پر ہی کچھ نہ کچھ جاہ و حشمت کا وہاں سے اظہار ہو جاتا ہے۔ اگر عہدے ملتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوں اور پہلے سے بڑھ کر دین کی خدمت کا جذبہ ان میں پیدا ہو، اس طرف توجہ نہیں ہوتی اور صرف اپنے عُہدوں کا زعم ہوتا ہے۔ پس عہدیداروں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہمارے اخلاق کے بہتر ہونے، نیکیوں پر قائم ہونے اور برائیوں کو ترک کرنے کی طرف بھی حضور علیہ السلام کے ارشادات کے حوالہ سے خاص طور پر توجہ دلائی۔ اور بتایا کہ جو شخص اپنے ہمسائے کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔‘‘
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ’’ ضروری ہے کہ بار بار کشتی نوح کو پڑھو اور قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے موافق عمل کرو۔‘‘ اور یہ کہ ’’تم اپنے ایمانوں اور اعمال کا محاسبہ کرو کہ کیا ایسی تبدیلی اور صفائی کر لی ہے کہ تمہارا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہو جائے اور تم اس کی حفاظت کے سائے میں آ جاؤ۔‘‘
[حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس خطبہ جمعہ کا مکمل متن اسی شمارہ کے صفحہ 5تا 9 کی زینت ہے۔]

………………………
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس خطبہ جمعہ کا ڈینش زبان میں یہاں مقامی طور پر براہ راست ترجمہ کیا گیا۔
یہ خطبہ جمعہ تین بج کر پانچ منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور نے نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر جمع کر کے پڑھائی۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
انفرادی و فیملی ملاقاتیں
پروگرام کے مطابق سات بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے اور فیملیز ملاقاتیں شروع ہوئیں۔
آج شام کے اس سیشن میں 28 فیملیز اور خاندانوں کے 91 افراد نے اپنے پیارے آقا سے ملاقات کی سعادت پائی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
ہر فیملی نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف بھی پایا۔ ملاقات کرنے والی یہ فیملیز درج ذیل علاقوں سے آئی تھیں۔
Albertslund, Copenhagen, Hvidovre, Broendby, North Sealand, Amager, Jutland.
اس کے علاوہ ناروے سے آنے والے احباب نے بھی شرف ملاقات پایا۔
ملاقاتوں کا یہ پروگرام آٹھ بج کر 45منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
سوا نو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے رہائشی حصہ میں تشریف لے گئے۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں کوریج
اللہ تعالیٰ کے فضل سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بھی کوریج ہو رہی ہے۔
ڈنمارک کے نیشنل T.V چینلDRنے اپنی 6؍ مئی 2016ء کی شام نو بجے کی خبروں میں جماعت کے حوالے سے خبر نشر کی۔ خبر میں بتایا گیا کہ آج سے ٹھیک پچاس سال قبل 6؍مئی1966ء کو ڈنمارک کی پہلی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس وقت کی Videoکی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں جس میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کو سنگ بنیاد رکھتے ہوئے دکھایا گیا۔
خبر میں بتایا گیا کہ آج مسجد نصرت جہاں میں یہ دن منایا جا رہا ہے۔ اس دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ T.V چینل پورے ملک میں دیکھا جاتا ہے۔ اس نیشنل T.V چینل کے اس پروگرام کو دیکھنے والوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ ہے۔
ڈنمارک کے T.V-2 پر مسجد نصرت جہاں سے Live دو منٹ کی نشریات ہوئیں۔ اس میں مسجد کے حوالے سے سوالات کئے گئے جس کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ یہ مسجد پچاس سال سے یہاں قائم ہے اور معاشرہ میں امن پھیلانے کا موجب رہی ہے۔ ہمسایوں کے حوالہ سے بتایا گیا کہ ہمیشہ پیار اور محبت کا تعلق سب کے ساتھ رہا ہے اور رواداری کے ساتھ یہ سارا عرصہ گزرا ہے۔ مزید یہ بتایا گیا کہ آج اسی حوالہ سے ہماری جماعت کے خلیفہ نے یہاں سے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ہے جس میں ہمارے خلیفہ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمام احمدی سب کے لئے نمونہ بن کر رہیں اور دوسروں کے حقوق ادا کریں۔ آخر پر جرنلسٹ نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ کے خیال میں یہ مسجد آج سے پچاس سال بعد بھی قائم رہے گی جس پر انٹرویو دینے والے نوجوان نے جواب دیا کہ انشاء اللہ یہاں سو سال بعد بھی مسجد موجود ہو گی۔
اس T.V چینل کو دیکھنے والوں کی تعداد 2ملین ہے۔
مسجد کے علاقہ کے لوکل اخبار ’’ Hvidovre Avis‘‘ کا نمائندہ جمعہ کے موقع پر مسجد نصرت جہاں آیا۔ اس نے اس موقع کی تصاویر لیں اور خطبہ جمعہ کے نوٹس بھی لئے۔ اس اخبار کی اشاعت ہفتہ وار پچاس ہزار کی تعداد میں ہوتی ہے۔ اس لئے اگلے ہفتہ کے شمارہ میں انشاء اللہ جماعت کے حوالہ سے خبر نشر ہو جائے گی۔
………………
(باقی آئندہ)




