حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ ڈنمارک 2016ء
مسجد نصرت جہاں(کوپن ہیگن) میں ورود مسعود اور والہانہ استقبال۔مسجد کے ساتھ نَو تعمیر شدہ مشن ہاؤس و دیگر عمارات کا معائنہ۔
علاقہ کی میئر اور کونسلرز کی حضور انور کے ساتھ ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو
یہ درست ہے کہ یہاں مذہبی آزادی ہے، آزادیٔ رائے ہے لیکن اگر یہ آزادی دوسروں کے جذبات مجروح کر رہی ہے
تو اس پر ہمیں کوئی حد لگانی پڑے گی تب ہی امن، رواداری اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔ (حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
انفرادی و فیملی ملاقاتیں۔بیسیوں افراد جماعت مرد و زن اور بچوں نے اپنے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ سے ذاتی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔
… … … … … …
04؍مئی 2016ء بروز بدھ
… … … … … …
آج حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سکنڈے نیویا کے ممالک ڈنمارک اور سویڈن کے لئے اپنا دوسرا سفر اختیار فرمایا۔
سال 2005ء میں جرمنی کا دورہ مکمل کرنے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 06؍ ستمبر 2005ء بروز منگل تا 11؍ستمبر 2005ء ڈنمارک کا پہلا دورہ فرمایا تھا۔
سال 2011ء میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جرمنی کے سفر میں اپنے ہمبرگ (Hamburg) قیام کے دوران 09؍ اکتوبر 2011ء کو صرف ایک دن کے لئے ڈنمارک کے شمال میں آباد شہر Nakskov تشریف لائے تھے اور دوسرے مختلف پروگراموں کے علاوہ یہاں مقیم البانین اور Kosovo کے احمدی احباب اور فیملیز نے شرف ملاقات پایا تھا۔
ڈنمارک کے باقاعدہ اس دوسرے دورہ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ کوپن ہیگن کے ساتھ ایک نیا مشن ہاؤس، دفاتر، وسیع ہالز، لائبریری اور رہائشی حصّہ، گیسٹ ہاؤسز وغیرہ تعمیر ہوئے ہیں اور ایک مکمل نیا کمپلیکس بنا ہے جس کا افتتاح اس سفر میں ہو گا۔
… … … …
لندن سے روانگی
ڈنمارک کے اس بابرکت سفر کا آغاز 04؍ مئی بروز بدھ 2016ء کو ہوا۔جب دوپہر ساڑھے بارہ بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ سے باہر تشریف لائے۔ اپنے پیارے آقا کو الوداع کہنے کے لئے احباب جماعت مسجد فضل لندن کے احاطہ میںجمع تھے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی اور اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور ایئرپورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایئرپورٹ پر آمد سے قبل سامان کی بکنگ، بورڈنگ کارڈ کے حصول اور امیگریشن کی کارروائی ایک خصوصی انتظام کے تحت مکمل ہو چکی تھی۔
ایک بج کر دس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ایئرپورٹ پر تشریف آوری ہوئی۔ پروٹوکول آفیسر نے حضور انور کو خوش آمدید کہا اور حضور انور سپیشل لاؤنج میں تشریف لے آئے۔ مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت یوکے، مکرم اخلاق احمد انجم صاحب (وکالت تبشیر لندن)، مکرم صاحبزادہ مرزا وقاص احمد صاحب (صدر مجلس خدام الاحمدیہ یوکے) اور مکرم سیّد محمد احمد ناصر صاحب (نائب افسر حفاظت خاص) ایئرپورٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو الوداع کہنے کے لئے ساتھ آئے تھے۔ اس سبھی احباب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے شرف مصافحہ حاصل کیا اور حضور انور کو الوداع کہا۔
دو بج کر دس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جہاز پر سوار ہونے کے لئے لاؤنج سے روانہ ہوئے۔ حضور انور کی گاڑی ایک خصوصی انتظام کے تحت جہاز کے قریب لائی گئی اور پروٹوکول آفیسر حضور انور کو جہاز میں سوار کروا کر واپس گئی۔
برٹش ایئرویز(British Airways) کی پرواز BA818 دو بج کر 35منٹ پر ہیتھرو(Heathrow) ایئرپورٹ لندن سے ڈنمارک کے کوپن ہیگن (Copenhagen) ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئی۔ ایک گھنٹہ پچاس منٹ کی پرواز کے بعد ڈنمارک کے مقامی وقت کے مطابق پانچ بج کر 25منٹ پر جہاز کوپن ہیگن کے ایئرپورٹ پر اترا۔ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک قدم تیسری بار ڈنمارک کی سر زمین پر پڑے۔ ڈنمارک کا وقت برطانیہ کے وقت سے ایک گھنٹہ آگے ہے۔
جونہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جہاز سے باہر تشریف لائے تو پروٹوکول آفیسر کے ساتھ مکرم محمد زکریاخان صاحب امیر و مبلغ انچارج ڈنمارک اور مکرم محمد اکرم محمود صاحب مبلغ ڈنمارک و صدر مجلس خدام الاحمدیہ ڈنمارک نے حضور انور کا استقبال کیا اور شرف مصافحہ حاصل کیا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی گاڑی جہاز کے دروازہ کے قریب ہی پارک کی گئی تھی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گاڑی میں سوار ہوئے اور بغیر کسی بھی امیگریشن پراسس(Immigration process) کے یہاں سے جماعتی مرکز ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ کے لئے روانگی ہوئی۔
مسجد نصرت جہاں کوپن ہیگن میں ورود مسعود اور والہانہ استقبال
چھ بجکر پندرہ منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مسجد نصرت جہاں میں ورود مسعود ہوا۔ احباب جماعت مرد و خواتین نے اپنے پیارے آقا کا استقبال کیا۔ بچیوں کے گروپ استقبالیہ گیت پیش کر رہے تھے۔ جونہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز گاڑی سے باہر تشریف لائے تو مکرم نعمت اللہ بشارت صاحب مبلغ سلسلہ ڈنمارک اور مکرم فلاح الدین صاحب مبلغ ڈنمارک نے حضور انور کو خوش آمدید کہا اور شرف مصافحہ حاصل کیا۔ محترم امۃ المنان صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ ڈنمارک نے حضرت بیگم صاحبہ مدّ ظلہا العالی کو خوش آمدید کہا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور اپنے رہائشی حصّہ میں تشریف لے گئے۔
آج کا دن جماعت ڈنمارک کے لئے بہت بابرکت اور خوشی و مسرت کا دن ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک قدم اس سر زمین پر پڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ سعادت اس جماعت کے لئے بہت خیر و برکت کا موجب بنائے۔
بعد ازاں چھ بجکر 40منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشریف لا کر مسجد نصرت جہاں میں نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔
… … …
مسجد نصرت جہاں کے ساتھ نَو تعمیر شدہ مشن ہاؤس و دیگر عمارات کا معائنہ
نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نئے تعمیر ہونے والے مشن ہاؤس اور دیگر عمارات کا معائنہ فرمایا۔
اس نئے کمپلیکس میں ‘‘ مسجد نصرت جہاں‘‘ سے ملحقہ جگہ پر لائبریری، دفاتر، آٹھ واش رومز، دو (2)لابی (Lobby)اور ایک جماعتی کچن تعمیر ہوا ہے۔ نیچے Basement میں لجنہ کے لئے نماز سینٹر تعمیر ہوا ہے۔ جس کا رقبہ 210 مربع میٹر ہے۔ اس کے علاوہ لجنہ کا دفتر اور ساؤنڈ سسٹم کا کمرہ اور ایک ٹیکنک روم ہے۔
اس کے علاوہ مسجد نصرت جہاں کے بالمقابل سڑک کے دوسری طرف ایک نہایت پرانا اور خستہ ہال Villa 1991ء میں خریدا گیا تھا۔ اس عمارت کو گرا کر یہاں 363 مربع میٹر پر مشتمل Basement تعمیر کی گئی ہے جس میں آٹھ دفاتر ہیں اور 180 مربع میٹر کا ایک وسیع ہال ہے اور ایک سٹور بھی شامل ہے۔
اس بیسمنٹ کے اوپر 120 مربع میٹر کا مربی ہاؤس تعمیر کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ دو کمروں اور کچن وغیرہ کی سہولت پر مشتمل ایک گیسٹ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ اس طرح اس Villa کی جگہ کُل 727مربع میٹر کی عمارات تعمیر ہوئی ہیں۔ سب تعمیرات کو ملا کر مجموعی طور پر 1209ء مربع میٹر کی نئی تعمیر ہوئی ہے۔ یہ سارا کمپلیکس ہی بہت خوبصورت ہے۔ معائنہ کے دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد نصرت جہاں سے ملحقہ دفاتر اور لائبریری کے وزٹ کے بعد نیچے لجنہ کے نماز ہال میں تشریف لے گئے۔ اس موقع پر امیر صاحب ڈنمارک نے بتایا کہ ہال کا ایک حصّہ مسجد سے آگے ہے اس لئے ہال میں دیوار کے ساتھ ایک نشان لگا دیا گیا ہے تاکہ اس سے پچھلی صفوں میں نماز پڑھی جائے۔ اس پر حضور انور نے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ صرف نشان لگانا کافی نہیں بلکہ باقاعدہ سامنے ایک روک ہونی چاہئے کہ اس سے پیچھے ہی رہنا ہے۔بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بیرونی اطراف سے بھی عمارت کا معائنہ فرمایا اور امیر صاحب ڈنمارک سے مختلف امور کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ اس کے بعد حضور انور ان عمارات کے اُس حصّہ میں تشریف لے آئے جہاں Basement میں آٹھ دفاتر اور ایک بڑا ہال تعمیر کیا گیا ہے۔ دفاتر کے معائنہ کے بعد حضور انور ہال میں تشریف لے آئے جہاں خواتین حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آمد کی منتظر تھیں۔ خواتین نے اپنے پیارے آقا کا دیدار حاصل کیا اور بچیوں کے گروپ نے کورس کی شکل میں دعائیہ نظمیں اور خیر مقدمی گیت پیش کئے۔ حضور انور قریبًا پچیس منٹ یہاں رونق افروز رہے۔ اس دوران بچیاں نظمیں پڑھتی رہیں اور خواتین شرف دیدار سے فیضیاب ہوتی رہیں۔ حضور انور نے از راہ شفقت تمام بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
بعد ازاں حضور انور نے گیسٹ ہاؤس کا معائنہ فرمایا اور پھر اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
پروگرام کے مطابق نو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد نصرت جہاں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصّہ میں تشریف لے گئے۔
… … … …
احمدیہ مشن ڈنمارک کی مختصر تاریخ
ڈنمارک میںجماعت کے مشن کی ابتدا ستمبر 1958ء میں ہوئی جب مکرم سیّد کمال یوسف صاحب مبلغ سلسلہ سویڈن سے پہلی مرتبہ ڈنمارک پہنچے۔ اُس وقت جماعتی تنگدستی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے لوگوں سے لفٹ لے کر اپنا سفر مکمل کیا۔ کچھ دیر یوتھ (youth) ہوسٹل میں رہے۔ بعد میں فیملی گیسٹ کے طور پر مختلف مکانوں میں رہے۔
ڈنمارک کے پہلے مقامی احمدی عبد السلام صاحب میڈسن(مرحوم) تھے۔ انہوں نے 1958ء میں بیعت کی۔ انہوں نے قرآن کریم کا ڈینش زبان میں ترجمہ کیا اور اعزازی مبلغ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔
ڈنمارک کے دار الحکومت کوپن ہیگن میں سکنڈے نیویا کی سب سے پہلی مسجد ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ کا سنگ بنیاد 06؍مئی 1966ء کو رکھا گیا۔ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے مکرم چوہدری سَر محمد ظفر اللہ خان صاحب، چوہدری عبد اللطیف صاحب مبلغ جرمنی، بشیر احمد رفیق صاحب مبلغ انگلستان کی معیّت میں مسجد مبارک قادیان کی اینٹ جوکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پہلے سے ہی بھجوائی ہوئی تھی بطور سنگ بنیاد رکھی۔
خواتین نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے مالی قربانیاں پیش کیں اور یہ مسجد خواتین کے چندوں سے تعمیر کی گئی۔ مسجد کا نام حضرت امّ المومنین رضی اللہ عنہا کے نام پر ‘‘ مسجد نصرت جہاں‘‘ رکھا گیا۔ یہ مسجد فن تعمیر کے لحاظ سے منفرد حیثیت کی حامل ہے اور اِس بہترین نمونے نے پورے ڈنمارک میں شہرت حاصل کی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پہلے دورہ ڈنمارک میں 21؍جولائی 1967ء بروز جمعۃ المبارک کو ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ کا افتتاح فرمایا۔
مکرم سید میر مسعود احمد صاحب مرحوم مبلغ انچارج ڈنمارک نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود جگہ کی تلاش اور حصول میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ اس مسجد کی تعمیر پر مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپے لاگت آئی۔ یہ تمام رقم احمدی خواتین نے صدر لجنہ مرکزیہ حضرت سیدہ امّ متین مریم صدیقہ صاحبہ کی نگرانی میں اکٹھی کی۔ اکثر نے اپنے سارے کے سارے زیور چندہ میں دے دیئے۔ ابتدا میں رقم کا اندازہ دو لاکھ تھا۔ پھر تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ اخراجات بڑھتے رہے اور پانچ لاکھ روپے تک پہنچ گئے۔ لجنہ نے یہ ساری رقم پوری کر دی۔ ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ ان مساجد میںسے ایک ہے جو خالصۃً خواتین نے اپنے چندوں سے تعمیر کی ہیں۔ قبل از یں اس ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ کے ساتھ ایک چھوٹا سا مشن ہاؤس تھا اور ایک مشترکہ کچن تھا اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا دفتر تھا۔ بیسمنٹ (Basement) میں ایک سٹور اور ایک 32 مربع میٹر کا ہال تھا اور دو چھوٹے واش روم تھے۔ دو چھوٹے کمرے تھے ایک خدام الاحمدیہ کے دفتر کے لئے اور دوسرا کمرہ MTAکے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اس طرح اوپر نیچے ملا کر سارا تعمیراتی رقبہ 201مربع میٹر بنتا ہے۔

اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کے ساتھ اس ملحقہ تعمیراتی حصّہ کو ختم کر کے ایک بڑے حصّہ پر نئی تعمیرات ہوئی ہیں اور اسی طرح مسجد کے بالمقابل سڑک کے دوسری جانب بھی بڑی وسیع تعمیرات ہوئی ہیں۔ ان تعمیرات میں دو ہالز، بڑی تعداد میں دفاتر، لائبریری، مشن ہاؤس، مربی ہاؤس اور گیسٹ ہاؤس، سٹور اور متعدد واش رومز وغیرہ ہیں جس کی قدرِ تفصیل قبل ازیں گزر چکی ہے۔ اس نئے کمپلیکس کا افتتاح انشاء اللہ العزیز جمعہ کے روز ہو گا۔
… … … …
05مئی 2016ء بروز جمعرات
… … … …
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح سوا چار بجے مسجد نصرت جہاں میں تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصّہ میں تشریف لے گئے۔
صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔ دو بجے حضور انور نے مسجد نصرت جہاں میں تشریف لا کر نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔ اس دوران حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے امیر صاحب ڈنمارک کو ہدایت فرمائی کہ لجنہ کے ہال کی طرف جانے والے جو دونوں راستے ہیں ایک راستہ پر سیڑھیاں ہیں اور دوسرے راستہ پر rampہے۔ ان دونوں راستوں پر دونوں طرف ریلنگ (railing) لگا دیں تاکہ نیچے اترنے میں سہولت رہے۔
مسجد نصرت جہاں کے علاقہ کی میئر اور کونسلرز کی حضور انور کے ساتھ ملاقات
بعد ازاں پروگرام کے مطابق سات بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لائے جہاں مسجد کے علاقہ Hvidovreمیونسپلٹی کی میئر Won. Helle Adelborgصاحبہ نے اپنے چار کونسلرز Annette Sjobeckصاحبہ، Maria Durhuus صاحبہ، Kenneth F. Christensenصاحب اور Kashif Ahmadصاحب کے ساتھ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت پائی۔ مؤخر الذکر کاشف احمد صاحب احمدی نو جوان ہیں۔
میئر (Mayor)صاحبہ نے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ اس مسجد کے علاقہ کی میئر ہیں اور باقی میرے ساتھ اس علاقہ کے کونسلرز ہیں۔
ڈنمارک میں ملکی سطح پر آج رخصت کا دن تھا۔ حضور انور نے میئر صاحبہ سے دریافت فرمایا کہ آج یہاں رخصت کیوں ہے؟ اس پر بتایا گیا کہ آج کرسچن کی رخصت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے تھے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: اور کوئی دوسرا ملک تو اس تاریخ کو رخصت نہیں مناتا اور ہمسایہ ملک سویڈن میں بھی آج کوئی ایسی رخصت نہیں ہے۔
حضور انور نے فرمایا:آجکل ریفیوجی کرائسز کی وجہ سے بارڈرز فری نہیں ہیں اور کافی چیکنگ ہو رہی ہے۔اس پر میئر نے عرض کیا کہ ہمیں بھی ا س بات کا افسوس ہے کہ سخت چیکنگ ہو رہی ہے۔
حضور انور نے فرمایا: ہم سب کو متحد ہونا چاہئے اور دنیا کے امن پر اپنا فوکس کرنا چاہئے۔ امن کے قیام سے ہی یہ سب مشکلات دُور ہوں گی۔
میئر نے عرض کیا کہ یہاں احمدیہ کمیونٹی بہت پُر امن ہے۔ بڑے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اُس مسیح علیہ السلام کو مانا ہے جو اس زمانہ میں آیا ہے اور جس نے یہ اعلان کیا کہ وہ عیسیٰ مسیح کے نقش قدم پر آیا ہے اور جس طرح پہلے مسیح نے عمل کیا اور تعلیم دی مَیں بھی اسی طرح کروں گا اور میرے ماننے والے بھی اسی طرح کریں گے۔ پس احمدیوں نے چونکہ اس زمانہ میں آنے والے مسیح علیہ السلام کو مانا ہے اس لئے ان کے لئے یہ بات لازمی ہے کہ وہ امن پسند ہوں اور ہر ایک کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آنے والے اور دوسروں کا خیال رکھنے والے ہوں۔
میئر نے عرض کیا کہ کیا حضور انور نے یہ نئی تعمیرات دیکھی ہیں؟ اس پر حضور انور نے فرمایا:میں کل آیا ہوں۔ کچھ وقت کے بعد میں نے یہ ساری نئی تعمیرات دیکھی ہیں۔ آپ سب کا شکریہ کہ آپ نے اجازت دی۔ آج ہم جس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں یہ بھی نئی جگہ ہے اور بڑی اچھی ہے ورنہ پہلے تو ایسی جگہیں نہیں ہوتی تھیں۔
میئر نے کہا کہ یہ مسجد بڑی خوبصورت ہے اور میرے خیال میں سکینڈے نیویا کی پہلی مسجد ہے۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: اپنے فن تعمیر کے لحاظ سے آپ کے ایریا میں یہ خوبصورت بلڈنگ ہے اور یہ بلڈنگ Listedہونی چاہئے۔ حضور انور نے فرمایا: اب نیچے ایک بڑا ہال بھی تعمیر ہوا ہے۔ آپ اپنا فنکشن بھی یہاں کر سکتی ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ حضور انور آجکل کہاں رہتے ہیں اور دنیا کے ممالک کے دورے وغیرہ کرتے ہیں، حضور انور نے فرمایا : میں آجکل لندن میں رہتا ہوں۔ میں دنیا کے مختلف ممالک میں جہاں پر ضرورت ہوتی ہے دورہ پر جاتا ہوں۔ دنیا بھر میں ہمارے مشن ہیں۔ بعض بہت نئے ہیں اور بعض بہت پرانے ہیں۔ جب نئی مساجد اور سنٹرز تعمیر ہوتے ہیں یا کوئی سپیشل پروگرام، Eventsہوتے ہیں تو میں جاتا ہوں۔ گزشتہ سال نومبر میں، مَیں جاپان گیا تھا۔ وہاں ہماری پہلی مسجد کا افتتاح ہوا تھا۔ تو ایسے خاص مواقع پر میں سفر کرتا ہوں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دریافت فرمانے پر میئر نے بتایا کہ اُس کے علاقہ میں 41کونسلرز ہیں اور علاقہ کی آبادی 55ہزار ہے اور ان میں سے 35ہزار ووٹ دینے کے اہل ہیں جن کی عمر 18سال یا اس سے زائد ہے جو ووٹر لسٹ میں شامل ہیں۔
اس پر حضور انور نے فرمایا: اس کا مطلب ہے کہ آپ کے علاقہ کی آبادی کا تیسرا حصّہ 18سال کی عمر سے کم ہے۔ اس لحاظ سے آپ کے نو جوان کم ہو رہے ہیں۔ اپنی نوجوان نسل کی تعداد بڑھائیں۔ آپ کو اپنی فیملیز بڑھانی چاہئیں۔
حضور انور نے فرمایا: آپ کا یہ علاقہ بہت اچھا ہے، تازہ ہوا ہے اور خوشگوار فضا ہے۔ ایک اچھا ماحول ہے۔
ایک خاتون کونسلرMaria صاحبہ نے سوال کیا کہ آپ کو اسلام کی تبلیغ اور امن کے قیام کے لئے کیا چیلنج در پیش ہیں اور آپ کی پرسیکیوشن بھی ہو رہی ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا: اسلامی ممالک خاص کر پاکستان میں ہمارے خلاف حکومتی طور پر پرسیکیوشن ہو رہی ہے۔ باقاعدہ قانون بنا ہوا ہے۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، بحیثیت مسلمان عمل نہیں کر سکتے اور اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر ظاہر نہیں کر سکتے یہ باقاعدہ قانون بنا ہوا ہے۔
دوسرے ممالک انڈونیشیا، ملائشیا وغیرہ میں حکومتی سطح پر کوئی ایسا قانون تو نہیں ہے لیکن ہمیں کو اپنے حقوق سے محروم کیا جاتا ہے اور ہم کھل کر تبلیغ نہیں کر سکتے اور اپنا پیغام نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن اس کے باوجود ان ممالک میں ہماری کمیونٹی مسلسل بڑھ رہی ہے اور لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔
افریقن ممالک میں، ساؤتھ امریکن ممالک میں ہماری تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چیلنج تو ہر جگہ پر ہیں اور یہ گیم کا حصّہ ہیں۔ جب فٹ بال کھیلیں تو کامیابی کے حصول کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے اور دوسری طرف سے مشکلات سامنے آتی ہیں۔ تو جتنا بڑا منصوبہ ہے، ہدف ہے اتنی ہی زیادہ مشکلات ہیں جن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود ہماری ترقی ہو رہی ہے۔ ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں اور یہ ساری دنیا سے شامل ہوتے ہیں اور یہ شامل ہونے والے امن پسند لوگ ہیں۔ اگر آپ کا پیغام اچھا ہے، محبت والا ہے تو قبول کیا جاتا ہے۔ اگر اچھا نہ ہوتا تو ردّ کر دیا جاتا۔
لیکن یہ جو شدّت پسند لوگ ہیں اور ان کا جو شدّت پسند پیغام ہے اس نے وقتی طور پر، کچھ حد تک attractکیا ہے۔ لیکن لمبا عرصہ اس کی کشش نہیں رہ سکتی۔ اب جو نوجوان یورپ سے جا کر ان تنظیموں کے ساتھ شامل ہوئے ہیں تو جب کچھ عرصہ بعد ان کو اصل حقیقت کا پتہ چلا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ اب اس صورتحال سے باہر نکلیں۔ لیکن ان کو واپس آنا مشکل لگ رہا ہے۔ اسی تگ و دَو میں یا تو مارے جاتے ہیں اور یہ ان جہادی تنظیموں کے مظالم کا نشانہ بنتے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: ہمارا پیغام ایسا ہے کہ لاکھوں لوگ احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ عرب ممالک میں ہماری حکومتی سطح پر بھی اور وہاں کے علماء کی طرف سے بھی مخالفت ہے لیکن اس کے باوجود عرب ممالک میں بھی لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں۔
ایک کونسلر نے کہا کچھ نہ کچھ تو آپ لوگوں کو خطرہ ہو گا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: میں پاکستان میںخود بھی قید رہا ہوں۔ مجھ پر یہ الزام تھا کہ ایک بس سٹینڈ کے قریب ایک بورڈ پر قرآن کریم کی آیت کو مٹانے کی کوشش کی ہے جو کہ سراسر غلط تھا تو اس طرح مخالفین بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگاتے ہیں اور پھر پرسیکیوشن بھی ہوتی ہے۔
اس پر کونسلر نے عرض کیا کہ یورپ میں رہتے ہوئے میرے لئے ایسی پرسیکیوشن کے بارہ میں سوچنا بھی مشکل ہے۔ یہاں ہم آزاد ہیں مذہبی آزادی ہے، بات کرنے کی، تبلیغ کرنے کی آزادی ہے جس طرح چاہیں بات کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کا اظہار کر سکتے ہیں۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اگرچہ یہاں بات کرنے کی آزادی ہے لیکن آپ Anti-Semitic ایکشن ظاہر نہیں کر سکتے، یہودیوں کے خلاف بات نہیں کر سکتے۔ جرمنی میں یہ قانون ہے کہ تم کسی ملک کے سربراہ کو استہزاء کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔
ابھی ترکش صدر کا کارٹون بنایا گیا تو جرمن چانسلر نے کہا کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔ چنانچہ جس نے ایسا کیا اُس کے خلاف مقدمہ شروع کر دیا گیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: یہ بات درست ہے کہ مذہبی آزادی ہے، آزادی رائے ہے، تبلیغ کی، پیغام پہنچانے کی آزادی ہے۔ لیکن اگر یہ آزادی دوسروں کے جذبات مجروح کر رہی ہے تو اس پر کہیں کوئی حَد لگانی پڑے گی۔ کوئی راستہ نکالنا پڑے گا تب ہی امن، رواداری اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: جو بات میں نے آزادی رائے کے حوالہ سے کی ہے اس پر ہر عقلمند آدمی مجھ سے اتفاق کرے گا۔ کیتھولک پوپ نے کہا تھا کہ اگر کوئی میرے اچھے دوست ماں کے خلاف گالی دیں تو پھر اس کو تیار رہنا چاہیے کہ اسے مکّا پڑے گا۔ عیسائیوں کو پوپ کی بات سننی چاہئے۔ پوپ لوگوں کے جذبات کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مَیں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ اس پہلو سے اصل عیسائیت کی تعلیم پر عمل کر رہا ہے۔
حضور انور نے فرمایا:مغربی دنیا میں اظہار آزادی کی یہ انتہا ہے کہ دوسرے کا مذاق اڑا دیتے ہیں۔ کارٹون بنا کر مذاق کرتے ہیں اور مسلمان دنیا میں آزادی کے نام پر یہ انتہا ہے کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے۔ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کا قتل و غارت ہو جاتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم امن قائم کریں۔
اسلام کہتا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے۔ مذہب کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مذہب کے حوالہ سے اسی نے ہی فیصلہ کرنا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ ایک دوسرے کا احترام کرے۔ انسانی اقدار اہم ہیں ان کا خیال رکھیں۔ مذہب کا معاملہ خدا کے ہاتھ پر رہنے دیں۔اگر مذاہب والے ایک دوسرے کو ماریں گے، قتل کریں گے تو پھر کون، کس مذہب پر چلے گا۔ پھر مذہب کا کیا فائدہ؟ ایک دوسرے کو مارتے ہوئے سب مر جائیں گے۔
حضور انور نے فرمایا: اگر ہم اس اصول پر قائم ہوں کہ ہم سب انسان ہیں اور ہم نے انسانی اقدار قائم کرنی ہیں اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے تو تب دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ حضور کب سے خلیفہ ہیں، حضور انور نے فرمایا کہ مَیں گزشتہ 13 سال سے اس منصب پر ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا: میں 2005ء میں یہاں آیا تھا۔ اُس وقت یہ بلڈنگ نہ تھی۔ اب یہاں نئی تعمیرات ہوئی ہیں۔ یہاں ہماری لوکل کمیونٹی ہے۔ بہت سے لوگ فیملیز انتظار میں ہیں وہ مجھے ملیں گے اور میں ان سے ملوں گا جیسے لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں اور پیاروں سے ملتے ہیں اور آپس میں مل کر خوشی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہماری ملاقاتیں ہوں گی۔
میئر اور کونسلرز کے ساتھ یہ میٹنگ سات بجکر 25منٹ پر ختم ہوئی۔ آخر پر ان سبھی مہمانوں نے حضور انور کے ساتھ تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔
… … … … …
انفرادی و فیملی ملاقاتیں
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے دفتر تشریف لے آئے جہاں پروگرام کے مطابق فیملیز کی ملاقاتیں شروع ہوئیں۔
آج 25فیملیز کے 84 افراد نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔ ہر ایک نے اپنے پیارے آقا کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو قلم عطا فرمائے اور چھوٹی عمر کے بچوں اور بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔
ملاقات کرنے والی یہ فیملیز ڈنمارک کے درج ذیل علاقوں سے آئی تھیں: Hvidovrf، Broendby، Albertslund، Amager، Aarhus، Copenhagen۔
آج ملاقات کرنے والوں میں بعض فیملیز، خاندان ایسے تھے جو اپنی زندگی میں پہلی بار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے مل رہے تھے۔ ان کے جذبات، احساسات اور خوشی و مسرت کا اظہار ان کے چہروں سے عیاں تھا۔ سبھی اپنی اس خوش نصیبی اور سعادت پر بے حد خوش تھے کہ آج ان کی زندگی میں پہلی بار ایسا بابرکت دن آیا کہ انہوں نے خلیفۃ المسیح کے قرب میں چند لمحات گزارے۔ اللہ تعالیٰ ان برکتوں اور سعادتوں کو دائمی بنا دے اور ہماری نسلیں بھی ان برکتوں سے فیض پائیں۔ آمین
ملاقاتوں کا یہ پروگرام آٹھ بجکر 25 منٹ تک جاری رہا۔ بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔
سوا نو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ‘‘مسجد نصرت جہاں‘‘ میں تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے رہائشی حصّہ میں تشریف لے گئے۔
… …
(باقی آئندہ)
٭ …٭ …٭
