پروفیسر رابرٹ سراج الدینآف’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘
(تحقیق و تدوین عثمان مسعود جاوید۔ سویڈن)
(اس مضمون میں شامل پروفیسر سراج الدین صاحب کی تصاویر اور ان کی بابت تحقیق
خاکسار کے علم کے مطابق جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں پہلی بار شائع ہورہی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔مؤلف)
سراج الدین عیسائی کا تعارف:
رابرٹ سراج الدین صاحب، جن کا نام عیسائیت قبول کرنے سے پہلے ’’اسلم سراج الدین‘‘ تھا، لاہور مشن کالج (ایف سی کالج) میں تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ عیسائی پادریوں کی تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام سے پیچھے ہٹ گئے اور عیسائیت قبول کر لی۔ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے گفت و شنید کے لیے چند دن قادیان ٹھہرے جس کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔لاہور جا کر پھر عیسائی مذہب میں چلے گئے اور حضرت مسیح موعودؑ کو چار سوالات بھیجے جن کے جواب میں آپؑ نے کتاب ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ لکھی جو ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو شائع ہوئی۔سراج الدین صاحب نے جواب دیا نہ عیسائیت ترک کی۔Indian Christian Who is Who میں 164 نمبر پر سراج الدین صاحب کا درج ذیل تعارف ملتا ہے:
- Prof. RHEA SIRAJ-UD-DIN (1874- 1943) Son of a Muslim Medical practitioner with Government of Punjab. Forman Christian College, Lahore. Converted 1896. Lecturer and then Professor at F. C. C. (1898- 1937) One of the founders of the NMS of India. (Indian Christian Who is Who Page 91 by Dr. Mar Aprem)
ترجمہ: ۱۶۴۔ پروفیسر رِھی آ سراج الدین (۱۸۷۴۔۱۹۴۳) حکومت پنجاب کے لیے کام کرنے والے ایک مسلمان ڈاکٹر کے صاحبزادے تھے۔ فارمن کرسچن کالج لاہور۔ ۱۸۹۶ء میں عیسائی ہوئے۔ایف سی کالج کے لیکچرار اور پھر پروفیسر (۱۸۹۸۔۱۹۳۷)۔ہندوستان میں این ایم ایس کے بانیوں میں سے ایک۔
ڈاکٹر مارا پریم کی کتاب میں کتابت کی غلطیاں ہیں۔ سراج الدین صاحب کے نام میں آر سے رِھی آ صرف اسی کتاب میں ملا ہے۔ویسے زیادہ معروف نام رابرٹ سراج الدین یا آر سراج الدین ہے۔مذکورہ بالا حوالے میں ایف سی کالج میں نوکری کا دورانیہ بھی درست نہیں ہے ۔

(سراج الدین صاحب کھڑے ہوئے بائیں سے تیسرے نمبر پر)
٭… تصویر میں کھڑے ہوئے افراد (بائیں سے دائیں):
ایس۔ این۔ مکھرجی (لاہور)، ڈبلیو۔ ایس۔ رتناول (کلکتہ)، آر۔ سراج الدین (لاہور)، ای۔ اے۔ ڈی ایلوس (کینڈی)،
جے۔ ڈبلیو۔ این۔ ہینس مین (کلکتہ) ،جے۔ آر۔ چیٹامبر (لکھنؤ)، بی۔ پی۔ سرکار (کلکتہ)
٭… کرسیوں پر بیٹھے ہوئے افراد (بائیں سے دائیں):
جے۔ ایم۔ غلام مسیح (منی پوری، یو۔ پی۔) ،جی۔ ایس۔ ایڈی (مدراس)،
ایس۔ وی۔ کرمارکر (چیئرمین: بمبئی)، وی۔ ایس۔ ازاریاہ (سیکرٹری: پالام کوٹہ)
٭… فرش پر بیٹھے ہوئے افراد (بائیں سے دائیں):
کے۔ ٹی۔ پال (مدراس)، ایل۔ ٹی۔ آہ سون (رنگون)، این۔ سی۔ مکھرجی (الہ آباد)
٭… وہ افراد جو تصویر میں موجود نہیں ہیں:
راجہ سر ہرنام سنگھ، کے۔ سی۔ بنرجی، ایس۔ ستھیا نادھن ،آہ پوَن
(Source: Yale Divinity School Library, G. S. Eddy Papers, Record Group 32/IV/23/239.)
وہ نیشنل مشنری سوسائٹی آف انڈیا (NMSI/NMS)، سیرامپور (حالیہ سری رامپور ) کے بانیوں میں سے تھےجس کا قیام کرسمس کے موقعےپر ۲۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء کو عمل میں لایا گیا تھا۔ اس روز چرچ کے راہنماؤں کا ایک اجلاس سیرامپور میں ولیم کیری (۱۷۶۱۔۱۸۳۴) کی تاریخی لائبریری میں منعقد ہوا تھا جو ہندوستان میں خدمات انجام دینے والے ایک معروف بپٹسٹ مسیحی مبلغ تھے۔ اس یادگار موقعے کا گروپ فوٹو بھی شامل اشاعت ہے۔ اس ادارے کے قیام کے مقاصد یہ تھے کہ برٹش انڈیا میں انڈینز کے اپنے پیسوں سے تبلیغ کی جائے نہ کہ ولایت کے پیسوں سے اور ایسے علاقوں میں اپنے مراکز کھولے جائیں جہاں ولایت کے مشنری نہیں جاتے نیز یہ سوسائٹی اپنا کوئی الگ کلیسا یا مذہبی فرقہ قائم نہیں کرے گی۔اس کے حوالے کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
Indigenous Movements and the Growth of The Home Missionary Society in India by Ms.J.Princy
سراج الدین صاحب سینٹ اینڈریوز برادر ہوڈ لاہور کے بھی بانی تھے جس کا کام معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کو عیسائی بنانا تھا۔
(In the Shadow of the Mahatma by Susan Billington Harper p84)
ایف سی کالج کے ۱۸۹۴ء کے طلبہ کی فہرست میں ان کا نام ہے۔۱۸۹۶ءمیں اسی کالج میں تدریس کا آغاز کیا اور بحیثیت پروفیسر ۱۹۳۶ء میں ریٹائر ہوئے۔
Mr. Siraj-ud-Din‘s name appears in the list of 1894. In 1896 he became a member of the staff and has continued teaching in the College until 1936 when he retired.
ترجمہ: مسٹر سراج الدین کا نام ۱۸۹۴ء کی فہرست میں موجود ہے۔ ۱۸۹۶ء میں وہ کالج کے عملے کے رکن مقرر ہوئے اور ۱۹۳۶ء تک کالج میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا، جب وہ ریٹائر ہوگئے۔

ریکارڈ کے مطابق انہوں نے شعبہ تاریخ میں اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا اور ان کا نام مولوی اسلم سراج الدین لکھا ہوا ہے۔
Maulvi Aslam Siraj-ud-Din joined the History Department.
ترجمہ: مولوی اسلم سراج الدین نے شعبہ تاریخ میں اپنی خدمات کا آغاز کیا
Retirement of Professor Siraj-ud-Din after 39 years.
ترجمہ: انتالیس سال بعد پروفیسر سراج الدین کی ریٹائرمنٹ
(THE HISTORY OF THE FORMAN CHRISTIAN COLLEGE SELECTIONS FROM THE RECORDS OF THE COLLEGE 1869 -1936 pages 24, 68, 74)

۱۹۰۶ء سے ۱۹۱۰ء تک کے جو ایف سی کالج کے پروسپیکٹس دستیاب ہیں ان کے مطابق یہ مولوی آر سراج الدین بی اے اسسٹنٹ پروفیسر آف فلاسفی اور ہسٹری تھے۔یعنی نام سے اسلم رخصت ہو چکا تھا اور آر داخل ہو گیا تھا۔ ۱۹۱۱ء کے پروسپیکٹس سے مولوی بھی ختم ہو گیا اور یہ آر سراج الدین بی اے اسسٹنٹ پروفیسر آف فلاسفی اینڈ ہسٹری تھے۔
موصوف کنیئرڈ کالج لاہور کے بورڈ آف ممبرز میں بھی شامل تھے۔ کنیئرڈ کالج کی ایک کتاب میں ان کا نام اور ان کی فیملی کے نام یہ دیے گئے ہیں: پروفیسر رابرٹ سراج الدین، مسز رابرٹ سراج الدین، مس جوئس سراج الدین، مس جمیلہ سراج الدین، احسان سراج الدین، اسلم سراج الدین، مس روبی سراج الدین۔ان کی ایک صاحبزادی جمیلہ سراج الدین پہلی ہندوستانی طالبہ تھیں جنہیں انگلینڈ میں پڑھائی کے لیے سٹیٹ سکالرشپ دیا گیا تھا۔پنجاب گورنمنٹ نے ہائی کمشنر فار انڈیا کے ذریعے انہیں پنجاب کی خواتین کے لیے پہلی انڈسٹریل انسٹرکٹریس مقرر کیا تھا۔
(CELEBRATING KINNAIRD-Pioneering Women‘s Higher Education in the Punjab by Vivienne Stacey PDF pages 21,22)

(پروفیسر سراج الدین کرسیوں پر بائیں سے چوتھے نمبر پر) (تصویر بشکریہ ایف سی کالج آرکائیوز)
پروفیسر رابرٹ سراج الدین کی وفات ۱۹۴۳ء میں ہوئی۔حضرت مسیح موعودؑ کی تصنیف لطیف ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ‘‘ ان پر قرض رہی۔

اُن کی صاحبزادی جمیلہ سراج الدین درمیان میں کھڑی ہیں) (تصویر بشکریہ ایف سی کالج آرکائیوز)
عطاء الحق قاسمی صاحب رقم طراز ہیں:
ان دِنوں راقم الحروف کا دفتر وارث روڈ پر ہے اور ڈاکٹر احمد حسن بتاتے ہیں کہ یہاں ہندو اور عیسائیوں کی اکثریت تھی صرف دو مسلمان گھرانے یہاں رہائش پذیر تھے ان میں ایک جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماموں حافظ قرآن سید معراج الدین کابھی تھا جو بیوی سمیت عیسائی ہو گیا تھا۔
(https://jang.com.pk/news/1284902)
مجھے سب سے پہلے ایک دوست مشہود بٹ صاحب حال مقیم یوکے سے پاکستان میں معلوم ہوا تھا کہ سراج الدین صاحب سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ صاحب کے سگے ماموں تھے۔ اگر یہ درست ہے تو عطاء الحق قاسمی صاحب کا سراج الدین کی بجائے معراج الدین لکھنا سہو معلوم ہوتا ہے۔جماعت کے محققین کو دعوت ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس ضمن میں اپنی تحقیقات سے دنیا کو مستفید کریں۔

(تصویر بشکریہ ایف سی کالج آرکائیوز)
حضرت مسیح موعودؑ اور سراج الدین صاحب:
ایچ۔ اے۔ والٹر، ایم۔ اے نے لکھا ہے:
“R. Siraj-ud-Din, now professor of philosophy in Forman Christian College, Lahore, and an elder in the Presbyterian Church, spent several months with Ahmad at Qadian during the period when he was weighing the claims of Christianity…” (THE RELIGIOUS LIFE OF INDIA THE AHMADIYA MOVEMENT page 46)
’’آر۔ سراج الدین، جو اس وقت فارمن کرسچن کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر اور پریسبیٹیرین چرچ کے ایک سرپرست ہیں، نے کئی ماہ احمد کے ساتھ قادیان میں گزارے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب وہ عیسائیت کے دعووں پر غوروفکر کر رہے تھے۔‘‘
ہم دیکھ چکے ہیں کہ سراج الدین صاحب ۱۸۹۶ء میں ہی ایف سی کالج میں تدریس کا آغاز کر چکے تھے اس لیے والٹر کی سراج الدین صاحب کے کئی ماہ قادیان رہنے کی بات درست نہیں ہو سکتی۔والٹر کو الفاظ کا چناؤ بہتر کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کے جملے
“during the period when he was weighing the claims of Christianity”
(ترجمہ: یہ وہ زمانہ تھا جب وہ عیسائیت کے دعووں پر غور وفکر کر رہے تھے۔) سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سراج الدین صاحب ابھی مسلمان تھے لیکن تحقیق کے مرحلے سے گزر رہے تھے اور قادیان سے واپس جا کر عیسائیت پر ان کی تحقیق کا خاتمہ ہوا۔امر واقعہ یہی ہے کہ عیسائیت تو وہ ۱۸۹۶ء میں ہی اختیار کرچکے تھے جیسا کہ کتاب Indian Christian Who is Who کا حوالہ بھی دیا جا چکا ہے ہاں حضرت مسیح موعودؑ سے قادیان جا کر ملنے کی جو برکت عطا ہوئی تھی وہ یہ تھی جو حضرت مسیح موعودؑ نے خود بیان فرمائی ہے: ’’پھر قادیان میں آکر نئے سرےمسلمان ہوئے اور اقرار کیا کہ میں نے بپٹسمہ لینے میں جلدی کی تھی اور نماز پڑھتے رہے‘‘ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۳۸)
حضرت مسیح موعودؑ کے اس حوالے سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ سراج الدین صاحب مسلمان ہو گئے تھے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’میں نے ایک بشپ کے لیکچر کا خلاصہ پڑھا تھا۔ اس نے بیان کیا ہے کہ ہم ۲۰ لاکھ عیسائی کر چکے ہیں تو یہ لوگ اس قسم کے تھے جو دوسروں کے اعتراضات سے متاثر ہو گئے اور ایمان کمزور ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے مذہب کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے اور عیسائیت کو قبول کر لیا۔سراج الدین عیسائی بھی ایسے ہی آدمیوں میں سے تھا۔یہ لوگ کسی صادق کی صحبت میں کامل زمانہ نہیں گزارتے اور طرح طرح کی خواہشوں کے اسیر اور پابند ہو کر اپنے مذہب اور ایمان جیسی قیمتی چیز کے بدلے عیسائیت خرید لیتے ہیں۔‘‘(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ ۱۳۶، ۱۳۷ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

عیسائیت قبول کرنے والے منشی عبدالحق بی۔اے ابن مولوی چراغ الدین صاحب قصوری مدرس مشن سکول لاہور جب حضرت مسیح موعودؑ سے خط و کتابت کے بعد حضورؑ کی دعوت پر ۲۳؍ دسمبر ۱۹۰۱ء کو قادیان پہنچے تاکہ حضرت مجدد صدی چہاردہمؑ سے گفت و شنید کر سکیں تو انہیں حضرت مہدی معہودؑ نے سراج الدین صاحب کے متعلق یہ بھی فرمایا تھا:
’’میں آپ کو بار بار یہی کہتا ہوں کہ جب تک آپ کی سمجھ میں کوئی بات نہ آوے اسے آپ بار بار پوچھیں ورنہ یہ اچھا طریق نہیں ہے کہ ایک بات کو آپ سمجھیں نہیں اور کہہ دیں کہ ہاں سمجھ لیا اس کا نتیجہ بُرا ہوتا ہے۔سراج الدین جو یہاں آیا تھا اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ فائدہ نہ اٹھایا… آپ اس سے پوچھتے تو سہی کہ پھر وہ یہاں رہ کر نمازیں کیوں پڑھتا تھا اور کیا اس نے نہیں کہا تھا کہ میری تسلی ہو گئی میرے سامنے ہو تو میں اس کو حلف دے کر پوچھوں۔‘‘(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ ۴۴۸، ۴۴۹ ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
نوٹ: منشی عبدالحق صاحب اعجاز المسیحؑ کی تاب نہ لا سکے اور الحمدللہ مسلمان ہو گئے۔ بعد میں ایک رسالہ ’’برہان الحق‘‘ تالیف کیا اور چھوٹے چھوٹے رسالے بھی لکھے۔(بحوالہ سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل صفحہ ۱۳۳ از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ) ۱۱؍جنوری ۱۹۰۲ء مطابق ۳۰؍ رمضان المبارک کو صبح کی سیر کے دوران میں انہوں نے اپنا خط جو سراج الدین صاحب کے نام لکھا تھا پڑھ کر سنایا اور پھر حضرت مسیح موعودؑ نے بہت تقریر کی۔ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۲ء کی صبح کی سیر میں بھی یہ خط پڑھ کر منشی عبدالحق صاحب نے سنایا ۔ اس کا نام رسالہ سراج الحق تھا۔(بحوالہ اصحابِ احمد جلد دوم سیرت حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ صفحہ ۵۶۳، ۶۵۳، ۶۵۴ از ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے)
سراج الدین صاحب نے ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ کا کوئی جواب نہیں دیا اور حضرت مسیح موعودؑ پر الزام لگایا کہ شہرت کے بھوکے ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’یہ بھی مسٹر سراج الدین نے کہا تھا کہ مرزا صاحب شہرت پسند ہیں۔میں نے چار سوال پوچھے تھے ان کا جواب چھاپ دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس میں تو شہرت پسندی کی کوئی بات نہیں ہے۔ہم کیوں حق کو چھپاتے۔ اگر چھپاتے تو گنہگار ٹھہرتے اور معصیت ہوتی۔خدا نے جب مجھے مامور کر کے بھیجا ہے تو پھر میں حق کا اظہار کروں گا اور جو کام میرے سپرد ہوا ہےاسے مخلوق کو پہنچاؤں گا۔ اور اس بات کی مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی شہرت پسند کہے یا کچھ اور۔آپ ان کو پھر خط لکھیں کہ وہ یہاں کچھ دن اور رہ جاویں…‘‘(ماخوذ از ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲)(خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ ۲۹؍ اپریل ۲۰۱۶ء خطبات مسرور جلد ۱۴ صفحہ ۲۴۳، ۲۴۴)(نوٹ: ملفوظات کے نئے ایڈیشن ۲۰۲۲ء میں یہ حوالہ ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد دوم صفحہ ۴۴۹ پر ہے۔)

پھر اسی پر اکتفا نہیں کی حضرت مسیح موعودؑ کی حیات میں ہی ان کے خلاف لکھا لیکن ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ کا ردّ نہ لکھ سکے۔۱۹۰۷ء میں سراج الدین صاحب کا حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف ایک مضمون The Missionary Review of the World کے اکتوبر ۱۹۰۷ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا جس کا ذکر ایچ اے والٹر نےThe Religious Life of India The Ahmadiya Movement pages 46,47 میں بھی کیا ہے۔اس مضمون کا عنوان مسٹر سراج الدین نے Mirza Gulam Ahmad, A False Messiah of India رکھا تھا جس میں موصوف ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ کا تو کہیں نام بھی نہیں لیتے البتہ اعتراضات کرتے چلے جاتے ہیں اور آخر میں لکھتے ہیں:
“The Mirza will, of course, pass away and his work will perish” (God Forbid)(The Missionary Review of the World October 1907 page 756)
ترجمہ: ’’مرزا یقیناً فو ت ہوگا اور اس کا کام فنا ہو جائے گا‘‘ (معاذ اللہ)
آج سراج الدین صاحب توحیات نہیں لیکن یہ عیسائی پادری تو دنیا میں موجود ہیں۔اگر حضرت مسیح موعودؑ کی ساری کتب کو ایک طرف رکھ کر صرف ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ ہی دیکھ لی جائے تو آج تک اس کتاب کا ردّ کسی مسیحی ویب سائٹ پر نہیں دیکھا گیا۔ اگر برٹش انڈیا میں کسی نے بھی ردّ کیا ہو تو سامنے لایا جائے تاکہ دنیا بھی دیکھ لے کہ علمی برتری کس فریق کو حاصل ہے۔
کتاب ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘کی اہمیت اور برکات:
حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحبؓ کو ایک مکتوب میں حضورؑ نے لکھا: ’’…آج کل مخالفین کا زور حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔لاہور تو آج کل گویا آتش کدہ ہے۔ہر روز نئے نئے فتنہ پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔مجھے معلوم نہیں کہ رسالہ ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ آپ کے پاس پہنچا ہے یا نہیں۔اور رسالہ ’’سراج منیر‘‘ اور ’’حجۃ اللہ‘‘ اور ’’استفتاء‘‘ اور چودھویں صدی کے اخبار کا جوابی اشتہار آپ کو پہنچا ہے یا نہیں۔ان میں سے اگر کوئی رسالہ یا اشتہار نہ پہنچا ہو تو مطلع فرماویں۔ تا آپ کو بھیج دیا جاوے…‘‘(مکتوبات احمد جلد چہارم صفحہ ۲۰۵، ۲۰۶ مکتوب نمبر ۴۸ مورخہ ۹ جولائی ۱۸۹۷ء)
حضرت مسیح موعودؑ کے ایک صحابی حضرت شیخ محمد حسین صاحب ڈھینگڑہؓ کی دلچسپ روایت پیش خدمت ہے:
’’جب میں نے گوجرانوالہ میں میٹرک پاس کر کے لاہور کے ایف۔سی کالج میں داخلہ لیا تو ان ایام میں کالج کے پروفیسروں میں ’’سراج الدین‘‘ بھی تھا۔جس کے سوالات کے جوابات میں حضرت اقدسؑ نے وہ مشہور معروف رسالہ لکھا تھا جس کا نام ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ ہے۔سراج الدین انجیل بھی پڑھاتا تھا اور تاریخ بھی۔میں اس پر سوالات کرتا تھا۔شروع شروع میں تو وہ سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر بعد ازاں میں جب بھی سوال کرنا چاہتا تو وہ کہتا آپ بیٹھ جائیں۔اس کا دوسرے لڑکوں پر بہت اچھا اثر پڑتا۔مجھے خوشی ہوتی اور فخر محسوس ہوتا کہ یہ پادری حضرت اقدس کے ایک ادنیٰ غلام کے مقابلہ میں آنے سے بھی ڈر محسوس کرتا ہے۔ ‘‘(لاہور تاریخ احمدیت صفحہ۳۳۶، ۳۳۷از شیخ عبدالقادر سابق سوداگرمل)
یہ تو وہ عظیم المرتبت کتاب ہے جو مغربی پاکستان میں ڈیڑھ ماہ پابندی کا شکار رہی اور اسے پابندی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے غیر احمدی مسلمانوں نے بڑی بے قراری سے حکومت پاکستان سے احتجاج کیا۔ تفصیل تاریخ احمدیت جلد۲۲ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ازدیاد ایمان کے لیے تین حوالہ جات پیش خدمت ہیں:
(۱) ’’…حکومت مغربی پاکستان کی بے تدبیری قابلِ ماتم ہے کہ اس نے ایک ایسے کتابچے کو ضبطی کے لیے منتخب کیا جو عیسائیوں کے خلاف ہے لیکن آج سے ستر اسّی سال قبل شائع ہوا۔عیسائی حکومت کے زمانے میں دو چار بار چھپا مگر اس نے اسے ضبط نہ کیا…‘‘ (المنبر لائل پور ۱۷/۲۴ مئی ۱۹۶۳ء صفحہ ۳۔۴ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۲۲ صفحہ ۵۰،از مولانا دوست محمد صاحب شاہد)
(۲) ’’…مقامِ حیرت ہے کہ اس کتاب پر ہمارے عیسائی بھائیوں کو عیسائی حکومت کے دور اقتدار میں مسلسل پچاس سال تک اعتراض کرنے اور انگلی اٹھانے کی توفیق نہ ہوئی۔ قیام پاکستان کے بعد بھی پندرہ سال تک ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والا مضمون رہا۔ اب پورے سڑسٹھ برس کے بعد اس میں دل آزاری کا پہلو نظر آیا۔ہمارے خیال میں حکومتِ مغربی پاکستان کو اس کتاب کے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے چونکہ اس اقدام سے ہماری تمام تبلیغی جماعتوں کو بڑے تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس ایک مثال کو سامنے رکھ کر ہمارے عیسائی دوست ان گنت ایسی کتابوں پر انگلی دھر دیں گے۔ جن میں عیسائیت کےخلاف ذرا سا بھی مواد مل سکے گا۔ جہاں تک ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ نامی رسالے کا ذکر ہے۔اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو۔ بلکہ انہیں کے الفاظ سے اور ان کی کتابوں سے جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس لیے آزادیٔ مذہب کے نام پر ہم حکومت مغربی پاکستان سے بہ ادب گذارش کرتے ہیں کہ وہ اپنا حکم واپس لے کر حق پسندی کا ثبوت دے۔‘‘(پندرہ روزہ طوفان ۲۳ مئی ۱۹۶۳ء بحوالہ الفضل ۲۸ مئی ۱۹۶۳ ء صفحہ ۱۰ )
(۳) ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ نامی کتاب اس ملک میں گزشتہ پچھتر سال سے بار بار چھپتی اور بِکتی چلی آرہی تھی۔ حامیٔ دین ِمسیح حکومتِ برطانیہ کے دَور میں اس کتاب سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا اور نہ اسے عیسائیوں کی دل آزاری کا باعث سمجھا گیا اور نہ ہی اس پر منافرت پھیلانے کا کوئی الزام عائد ہو سکا لیکن اب مسلمانوں کی اپنی حکومت ہے، اب پاکستان میں بڑھتے ہوئے عیسائی اثرات نے اس کتاب کو ضبط کرا دیا ہے۔۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرے‘‘۔(’’تنظیم اہل حدیث ‘‘ لاہور ۲۴ مئی ۱۹۶۳ء بحوالہ الفضل ۳۱ مئی ۱۹۶۳ء صفحہ ۴)
پس ایسی کتاب جس پر پابندی اٹھوانے کے لیے غیراحمدی مسلمانوں نے کوششیں کیں ہر احمدی کو اس کا پڑھنا اور اس کے دلائل سے فائدہ اٹھانا لازم ہے۔
اس ضمن میں حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں:’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔میں نے ایک دفعہ جامعہ کی آخری کلاس تھی یا پاس کر چکے تھے، ان کو کہا کہ اس کو پڑھو اور نوٹ کرو کہ اس کے اندر کتنے دلائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عیسائیت کی تردید میں دیئے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام بڑا عجیب ہے۔ایک لڑکے نے کہا، بیس دلائل دیئے ہیں۔کاپی پر لکھے ہوئے تھے۔دوسرے نے کہا، تیس دلائل دیئے ہیں اور جو سب سے ذہین بچہ تھا، اس نے کہا 54 دلائل دیئے ہیں۔اور دلائل اس سے بھی زیادہ تھے۔لیکن بہرحال بہت ذہین بچہ تھا، اس نے دوسروں سے قریباً تین گنا زیادہ دلائل نکالے۔ ایک ایک فقرے میں بعض دفعہ دودو دلیلیں ہوتی ہیں، اپنے مخالف کی دلیل کو توڑنے کے لئے اور اسلام کی حقانیت اور عظمت کو قائم کرنے کے لئے۔پس یہ وہ علم ہے، جس کے متعلق کہتے ہیں، اس کو پھیلاؤ۔میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ نہ پھیلاؤ۔میری تو زندگی اور روح اس میں ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام روحانی خزائن دنیا کے لئے لے کر آئے، وہ دنیا کے ہاتھ میں چلے جائیں۔اور اس وقت دنیا اس سے محروم ہے۔وہ اس سے محروم نہ رہے۔بلکہ خد تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنے۔‘‘(ارشاد فرمودہ ۳ اپریل ۱۹۷۷ء بر موقع مجلس شوریٰ تحریک جدید ایک الہٰی تحریک جلد پنجم صفحہ ۴۴۹، ۴۵۰)
آخر میں مسیحی بھائیوں اور بہنوں سے عاجزانہ درخواست ہے کہ مسیحیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنا نہ کرنا بعد کی بات ہے لیکن سرے سے نہ پڑھنا اور پیدائشی طور پر ہی اپنے آپ کو سچا سمجھنا یہ درست طریق نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو بھی حضرت مسیح موعودؑ کی کتب پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
مزید پڑھیں: کیا عصر کے بعد نماز کسوف ادا کرنا جائز ہے؟




