الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
آنحضورﷺ کی انگوٹھی
آنحضرت ﷺ نے جب مختلف فرمانرواؤں کو تبلیغ کی خاطر خطوط لکھنا چاہے تو صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ دنیوی حکمرانوں کا عام دستور ہے کہ وہ مُہرشدہ خط کے بغیر کسی خط کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اس پر آنحضورﷺ نے ایک چاندی کی انگوٹھی تیار کروائی جس میں ’’محمدرسول اللہ‘‘ کے الفاظ کندہ کروائے گئے۔ ترتیب یوں تھی کہ سب سے اوپر اللہ کا لفظ تھا ، اُس کے نیچے رسول اور پھر محمد کا لفظ رکھا گیا۔
آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد یہ انگوٹھی حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ میں رہی۔اُن کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں رہی اور اُن کے بعد حضرت عثمانؓ نے اسے پہنا۔ حتّٰی کہ ایک دن یہ انگوٹھی اُن کے ہاتھ سے اریس نامی کنوئیں میں گر کر کھوگئی اور اس کے بعد نہیں ملی۔
یہ معلومات ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر ۲۰۱۲ء میں شامل اشاعت ہیں۔
………٭………٭………٭………
طبقۂ نسواں کے لیے رحمت
آنحضورﷺ کی وسیع رحمت سے انسانیت کا ہر طبقہ مستفید ہوا۔ طبقہ نسواں تو اُس زمانے میں خصوصاً ظلم و ستم کا شکار تھا۔ وہ حیوانات کی طرح گردانی جاتی تھیں، ترکہ میں بانٹی جاتی تھیں اور بعض قبائل میں زندہ درگور کردی جاتی تھیں۔ تعدّد ازدواج کی قید نہ تھی۔ معمولی باتوں پر معلّقہ چھوڑ دی جاتی تھیں۔ ان حالات میں بیٹی کا پیدا ہوجانا ایک بدنامی سے کم نہ تھا۔ چنانچہ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ ’’اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غم سے سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ (اسے) ضبط کرنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس (خبر) کی تکلیف کی وجہ سے جس کی بشارت اسے دی گئی۔‘‘ (النحل:۵۹۔۶۰)
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔‘‘ (البقرۃ:۲۲۹)
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے اپنے کلام میں اُس دَور کی بہت عمدہ تصویرکشی کی ہے۔ فرماتی ہیں:
رکھ پیش نظر وہ وقت بہن! جب زندہ گاڑی جاتی تھی
گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دنیا میں تُو آتی تھی
جب باپ کی جھوٹی غیرت کا خوں جوش میں آنے لگتا تھا
جس طرح جنا ہے سانپ کوئی ، یوں ماں تیری گھبراتی تھی
یہ خونِ جگر سے پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے
جو نفرت تیری ذات سے تھی ، فطرت پر غالب آتی تھی
کیا تیری قدروقیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی!
تھا موت سے بدتر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی
وہ رحمت عالم آتا ہے، تیرا حامی ہو جاتا ہے
تُو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے
ان ظلموں سے چھڑواتا ہے
بھیج درود اُس محسن پر تُو دن میں سو سو بار
پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار
آنحضورﷺ کی رحمت سے عورتوں کا طبقہ بھی محروم نہیں رہا۔ اس حوالے سے ایک مضمون ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرو دسمبر ۲۰۱۲ء میں مکرم ریاض احمد باجوہ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا: جو دو یا تین بیٹیوں کی اچھی تربیت کرکے ان کے فرائض ادا کردے وہ میرے ساتھ جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند ہوگا۔ (اور آپؐ نے اپنی دو انگلیاں ملاکر دکھائیں)۔ عملی نمونہ آنحضورﷺ کا یہ تھا کہ فرماتے تھے: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے یہ بات دکھ دیتی ہے کہ کوئی اسے رنج پہنچائے۔
آپؐ نے فرمایا: علم کا حصول ہر مردوزن پر فرض ہے۔
آنحضورﷺ نے حق مہر مقرر فرماکر عورت کی توقیر میں اضافہ فرمایا۔ نیز فرمایا کہ عورت سے شادی چار اغراض کے لیے کی جاتی ہے یعنی حسن، مال و دولت، حسب و نسب یا نیکی۔ پھر نصیحت فرمائی کہ تم نیکی تقویٰ کے پہلو کو ترجیح دینا۔
حدیث ہے: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال سے اچھا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ تمام لوگوں سے زیادہ نرم خُو تھے اور سب سے زیادہ کریم۔ عام آدمیوں کی طرح بلاتکلّف گھر میں رہنے والے۔ آپؐ نے کبھی تیوری نہیں چڑھائی۔ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔ اپنی ساری زندگی میں کبھی کسی بیوی پر ہاتھ نہ اٹھایا نہ کبھی کسی خادم کو مارا۔ جتنا وقت آپؐ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے تھے یہاں تک کہ آپؐ کو نماز کا بلاوا آجاتا تو مسجد تشریف لے جاتے۔
آنحضورﷺ نے فرمایا: ’جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔‘ اور جب کسی نے پوچھا کہ میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ تو تین بار فرمایا: تمہاری والدہ۔
جب آپؐ کی رضاعی والدہ تشریف لاتیں تو آپؐ اُن کی بہت عزت و تکریم فرماتے، اُن کے لیے اپنی چادر بچھادیتے۔ جب وہ روانہ ہوتیں تو کچھ نہ کچھ تحائف ضرور دیتے۔
اسلام نے پردے کا حکم بھی عورتوں کو پاکدامن رکھنے اور انہیں گندی نظروں سے بچانے کے لیے دیا۔ آنحضور ﷺ نے ایسے خاوند کو جو اپنی بیوی کے راز لوگوں میں بتائے بدترین مقام کا حقدار ٹھہرایا ہے۔ عورتوں کے حسن کے قصے سنانے سے منع فرمایا۔ عورت کو خلع کا حق دیا اور طلاق کی صورت میں اُس کے حقوق قائم فرمائے۔ عورت کی گواہی کو رائج فرمایا۔ قرآن کریم وہ واحد کتاب ہے جس نے عورت کو وراثت کا حق دیا۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک گروہ ایسا ہے جس نے عورتوں کو بالکل آزاد کردیا ہے۔ دین کا کوئی اثر ہی اُن پر نہیں ہوتا۔ بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے ایسی سختی کی ہے کہ عورتوں میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ پنجاب میں عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی ، دوسری پہن لی۔ یہ بڑی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ساری باتوں کا کامل نمونہ ہیں۔ آپؐ کی زندگی میں دیکھو کہ آپؐ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔ میرے نزدیک وہ شخص بزدل نامرد ہے جو عورت کے مقابلےمیں کھڑا ہوتا ہے۔ آنحضرتﷺ ایسے خلیق تھے کہ اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپؐ کو کھڑا کرتی تو آپؐ اُس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلددوم صفحہ ۳۸۷)
………٭………٭………٭………
حیرت انگیز کشف اور تحریک جدید
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ۱۸۹۱ء کا ایک معنی خیز کشف ہے جس میں آپؑ نے ایک حدیث کی روشنی میں روحانی فوج کی قیادت کرتے ہوئے ایک سردار کو دیکھا جس کا نام آسمان پر منصور تھا۔ اسی تسلسل میں حضورؑ نے فرمایا کہ ’’اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب مَیں نے اُس شخص کو جو زمین پر تھا، مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ مگر وہ چپ رہا اور اُس نے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ تب مَیں نے اُس دوسرے کی طرف رُخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا۔ اُسے مَیں نے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ وہ میری اس بات کو سُن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ تب مَیں نے دل میں کہا کہ اگرچہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔ اُس وقت مَیں نے یہ آیت پڑھی: کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً بِاِذْنِ اللّٰہِ … پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے، خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت مخفیہ نے میری نظر کو اُس کے پہچاننے سے قاصر رکھا۔‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد۳صفحہ۱۴۹)
حضرت مسیح موعودؑ کا یہ عظیم الشان رؤیا تحریک جدید کی شکل میں ظاہر ہوا جس کی بنیاد حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۳۴ء میں رکھی۔ حضورؓ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعودؑ کی یہ پیشگوئی تحریک جدید میں حصہ لینے والوں پر ہی چسپاں ہوتی ہے۔ (ماخوذ از خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۸؍نومبر۱۹۳۸ء)
اس سے قبل حضرت قاضی محمد ظہورالدین اکمل صاحبؓ نے تحریر فرمایا: آج رات کوئی دو بجے جب میری روح گداز ہوکر آستانۂ الوہیت پر بہ رہی تھی، یک دم یہ بات میخ آہنی کی طرح میرے قلب میں گڑ گئی کہ حضورؑ کا یہ کشف تحریک جدید میں قربانیاں کرنے والوں کے ذریعہ پورا ہورہا ہے۔ جب آفتاب طلوع ہوا تو مجھے اس بات کی فکر ہوئی کہ مَیں ان پاکیزہ روحوں کی تعداد معلوم کروں جو اس پاک جہاد میں حصہ لے رہے ہیں۔ (ماخوذ از الفضل۱۶؍نومبر۱۹۳۸ء)
چنانچہ انہوں نے حضرت منشی برکت علی خان صاحبؓ فنانشل سیکرٹری تحریک جدید سے معیّن تعداد معلوم کی تو وہ ۵۴۲۲؍تھی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت قاضی صاحبؓ کے مضمون کو پڑھ کر اس پر صاد کیا اور پانچ ہزار سے زائد تعداد کے متعلق فرمایا: چونکہ ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ نادہند ہوتے ہیں اس لیے اگر ان کو نکال دیا جائے تو پانچ ہزار ہی تعداد بنتی ہے۔ علاوہ ازیں کسور بالعموم اعداد میں شمار نہیں کیے جاتے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ درحقیقت انہی لوگوں کے متعلق یہ کشف ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کئی سال سے میرا یہ خیال ہے کہ یہی وہ فوج ہے جس کے ملنے کی حضرت مسیح موعودؑ کو خبر دی گئی تھی۔ چند دن پہلے مَیں یہ سوچ رہا تھا کہ تحریک جدید میں قربانی کرنے والوں کو آئندہ نسلوں کے لیے بطور یادگار بنانے کے لیے، ان کے ناموں کو محفوظ رکھنے کے لیے اور اس غرض کے لیے کہ آئندہ آنے والی نسلیں اُن کے لیے دعائیں کرتی رہیں، کوئی یادگار قائم کروں۔ (ماخوذ از الفضل ۲۴؍نومبر۱۹۳۸ء)
ابوداؤد کی ایک حدیث میں امام مہدی کے ہراول دستے کے سربراہ کا نام منصور بتایا گیا ہے۔ (حدیث نمبر۴۲۹۱)
نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی کتاب ’’حجج الکرامہ‘‘ میں امام مہدی کے متعلق پیشگوئیاں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مشرق سے ایک شخص جس کا نام منصور یا شعیب بن صالح ہوگا اور پانچ ہزار افراد کے ساتھ ظہور کرے گا اور مہدی کو شناخت کرکے اس کی ہمراہی میں ہوجائے گا اور مہدی اُس کو اپنے ہراول دستے کا کمانڈر مقرر کرے گا۔ اگر مضبوط پہاڑ بھی اُس کے سامنے آئیں گے تو وہ اُن کو منہدم کرتے ہوئے اُس کے لیے راہ ہموار کرے گا جیسا کہ قریش نے آنحضرتﷺ کے لیے ہموار کی تھی۔ (صفحہ۳۶۹)
پس منصور کا نام تو حدیث، حضورؑ کے کشف اور ’’حجج الکرامہ‘‘ میں مشترک ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ کے مذکورہ خطبہ جمعہ کے بعد حضرت مولوی کرم داد صاحبؓ آف دوالمیال نے حضرت مسیح موعودؑ کے کشف کو احادیث اور ’’حجج الکرامہ‘‘ میں بیان کردہ پیشگوئیوں کی روشنی میں تحریک جدید پر چسپاں کرتے ہوئے الفضل میں شائع کروایا۔ (الفضل ۷؍دسمبر۱۹۳۸ء)
حضرت مصلح موعودؓ کی یہ خواہش اس طرح پوری ہوئی کہ تحریک جدید کے پہلے انیس سالہ دور میں حصہ لینے والے پانچ ہزار احباب کے نام اور قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے ۱۹۵۹ء میں ایک فہرست شائع کردی گئی۔ پھر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۵؍نومبر۱۹۸۲ء میں تحریک فرمائی کہ ان خوش نصیب مجاہدین کی قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے اور اُن کی اولادیں اُن کی طرف سے چندہ ادا کرتی رہیں۔ بعدازاں سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۳؍نومبر۲۰۰۶ء کے خطبہ جمعہ میں یہ خوشخبری دی کہ دورِ اوّل کے تمام کھاتے جاری ہوچکے ہیں۔
حضورؑ کے کشف اور دیگر پیشگوئیوں کے حوالے سے یہ مختصر تاریخی مضمون مکرم عبدالسمیع خان صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۸؍اگست ۲۰۱۴ء کی زینت ہے۔
………٭………٭………٭………
مزید پڑھیں: چاند اور اس کے اہم فلکیاتی و روایتی نام



