مکتوب افریقہ (ستمبر ۲۰۲۶ء)
براعظم افریقہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
بھارت کی معروف کیمیائی کمپنی ٹاٹا کیمیکلزکو کینیا چھوڑنے کی ہدایت
کینیا کے صدر ولیم روٹو نے بھارت کی معروف کیمیائی کمپنی Tata Chemicalsکو تمام آپریشنز ترک کر کے ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کمپنی کینیا کی جھیل ماگاڈی سے خام سوڈا ایش (Soda Ash) مقامی طور پر پروسیس کرکے شیشہ اور کیمیکلز بنانے کی بجائے براہ راست برآمد کر رہی تھی، جس سے ملک کو مطلوبہ معاشی فوائد حاصل نہیں ہو رہے تھے۔ Tata Chemicals افریقہ کی اس سب سے بڑی سوڈا ایش پیدا کرنے والی کمپنی ہے۔ اگست میں کینیا کی وزارت مائننگ نے رائلٹی کی عدم ادائیگی اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی بنا پرکمپنی کے آپریشنز معطل کر دیے تھے۔ اس کے جواب میںTata Chemicals نے معاملے کو قانونی طور پر حل کرنے کے ليےتمام دستاویزات جمع کروا نے کا اعلان کیا۔ ولیم روٹو نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے نئے سرمایہ کاروں کی نشاندہی کر لی ہے جو یہاں مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کارخانے لگا کر کینیا کے شہریوں کے لیے روزگار اور معاشی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔
کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق، ٹاٹا کیمیکلز کے پاس جھیل ماگاڈی پر مائننگ کے لیے اگلے ۳۰؍سال کا لیز معاہدہ موجود ہے۔ تنازعہ کے حل کے ليے کینیا کی وزارت مائننگ اور ٹاٹا کیمیکلز کے درمیان ایک اعلیٰ سطح کی Joint Technical Committee تشکیل دی گئی ہے تاکہ کمپنی تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کر کے کینیا میں ہی برقرار ہے۔
ایتھوپیا کے شمالی ریجن میں دوبارہ خانہ جنگی
ایتھوپیا کے شمالی خطے (ٹیگرے، امہارا اور افار) میں تقریباً چار سال کے تعطل کے بعد ۲۳؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو خانہ جنگی کا دوبارہ آغاز ہوا، جس نے ۲۰۲۲ء کے’’پریٹوریا امن معاہدے‘‘کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ خانہ جنگی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب ٹیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (TPLF) نے چھ دیگر مسلح گروپوں کے ساتھ مل کر ایتھوپین پیپلز فورسز الائنس فار سروائیول (EPFAS) بنایا اور وزیر اعظم ابی احمد کی وفاقی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے میکیلے، اکسوم اور شائر کے ہوائی اڈوں پر قبضہ کرتے ہوئے امہارا اور افار کے علاقوں میں پیش قدمی شروع کی۔ تازہ ترین حالات کے مطابق، ۴ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو وفاقی افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت میکیلےسمیت الماتا اور ادوا جیسے تمام اہم شہروں کا کنٹرول باغیوں سے واپس چھین لیا ہے، جس کے بعد ٹیگرے کے جنگجو اب دیہی اور پہاڑی علاقوں میں منتقل ہو کر گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔ جہاں سے وہ سپلائی لائنوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں جیسے امہارا کےفانو (Fano) جنگجو اور اورومو لبریشن آرمی (OLA) بھی اب حکومت کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ٹیگرے میں پرانی علاقائی انتظامیہ کو تحلیل کر کے نئی نگران حکومت تشکیل دے دی ہے تاکہ امن و امان کی بحالی کے ساتھ انتخابی ماحول سازگار بنا کر آئندہ چھ ماہ کے اندر خطے میں شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔
اس اندرونی تنازع نے ایک بڑے علاقائی بحران کو جنم دیا ہے کیونکہ ایتھوپیا نے پڑوسی ملک ارٹیریا پر باغیوں کی مدد کا الزام لگا کر یکم اکتوبر کو اسمارا میں اپنا سفارت خانہ بند کر کے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ شدید فضائی اور زمینی جنگ کی وجہ سے اب تک کم از کم ۶۰۰ اموات اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں، اور پورے خطے میں مواصلات و پروازیں معطل ہونے کی وجہ سے شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔
الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے ۵۱؍سالہ سفارتی تعلقات ختم
الجزائر نے متحدہ عرب امارات (UAE) کے ساتھ اپنے ۵۱؍سالہ قدیم سفارتی تعلقات کو باقاعدہ طور پر منقطع کر دیا ہے۔ الجزائر کی وزارت خارجہ نے ۱۰؍ستمبر کو اماراتی سفیر کو طلب کر کے ملک چھوڑنے کے لیے ۴۸؍گھنٹے کا وقت دیا اور اعلان کیا کہ امارات کی جانب سے مسلسل’’معاندانہ اور اشتعال انگیز اقدامات‘‘ کی وجہ سے دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ فیصلے کے بعد، الجزائر نے اماراتی شہری اور فوجی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں، البتہ تجارتی پروازوں کو سال ۲۰۲۶ء کے آخر تک عارضی استثنیٰ دیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس تاریخی سفارتی دراڑ کی بنیادی وجہ علاقائی تنازعات پر شدید اختلافات ہیں۔ الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی (ابراہیمی معاہدے) کا سخت مخالف ہے، جبکہ امارات اس کا حصہ ہے۔ مزید برآں، مغربی صحارا کے تنازع میں امارات الجزائر کے روایتی حریف مراکش کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے، اور الجزائر نے امارات پر لیبیا، مالی، نائیجر اور سوڈان جیسے افریقی ممالک میں مداخلت اور عدم استحکام پھیلانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
زمبابوے لیتھیم مینوفیکچرنگ میں سب سے آگے
زمبابوے کے لیتھیم مینوفیکچرنگ سیکٹر کے بارے میں افریقن انرجی چیمبر کی ’’اسٹیٹ آف افریقن انرجی ۲۰۲۶ء‘‘ رپورٹ کے مطابق، زمبابوے۲۰۳۰ء تک افریقہ کا سب سے بڑا لیتھیم پیدا کرنے والا ملک بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس کی سالانہ پیداوار ایک لاکھ ساٹھ ہزار ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے جو کہ مالی کی متوقع پچانوے ہزار ٹن پیداوار سے کہیں زیادہ ہوگی۔ سال ۲۰۲۶ء میں زمبابوے کو لیتھیم کنسنٹریٹ برآمدات سےتقریباً ۱ عشاریہ ۲۵؍ارب ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا ہے، جو پچھلے سال کی اسی مدت کے ۲۴۳ ملین ڈالر کے مقابلے میں بہت بڑا اضافہ ہے۔
ایک طرف عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور کلین انرجی کی منتقلی کے لیے لیتھیم کو ’’سفید سونا‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف زمبابوے کے عام شہریوں کو روزمرہ کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی اور ملک میں بیروزگاری، مہنگائی اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کی وجہ سے عوامی مایوسی پائی جاتی ہے۔ لیتھیم بوم نے زمبابوے کے شہریوں میں بیس سال پرانی ہیروں کی دریافت کی یادیں تازہ کر دی ہیں، جب ملک میں بڑے پیمانے پر معاشی خوشحالی کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں لیکن بدعنوانی اور ناقص انتظام کے باعث عام گھرانوں تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ سکے تھے، جس کی وجہ سے اب بھی عوام حکومت سے شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
برکینا فاسو میں حکومتی سربراہی میں سونا پراسس کرنے کا منصوبہ
برکینا فاسو کے دارالحکومتOuagadougou میں ۲۸؍ستمبر کو فوجی راہنما کیپٹن ابراہیم تراورے کی صدارت میں سونا پراسس کرنے والی جدید ترین ریفائنری کا افتتاح کیا گیا۔ فیکٹری۵ ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور جس کی تعمیر پر ۱۱؍ارب CFA (تقریباً ۱۹؍ملین ڈالر) کی لاگت آئی ہے جسے حکومت نے مقامی نجی شعبے اور قیمتی دھاتوں کی کمپنی (SONASP) کے اشتراک سے خود فنڈ کیا ہے۔ ریفائنری کے پہلے مرحلے کی سالانہ صلاحیت ۱۶۴ ٹن خام سونا صاف کرنے کی ہے، جو کہ ملک کی موجودہ سالانہ پیداوار ۹۴؍ٹن سے کافی زیادہ ہے۔ مستقبل میں اس کی صلاحیت کو ۵۱۵ ٹن سالانہ تک بڑھایا جائے گا تاکہ ہمسایہ ممالک کے سونے کو بھی یہیں پروسیس کیا جا سکے۔
حکومت کا بنیادی مقصد ملک کی سب سے بڑی برآمدی دھات یعنی سونے کی سپلائی چین پر مکمل خودمختاری حاصل کرنا ہے ماضی میں خام سونا سوئٹزرلینڈ اور جنوبی افریقہ بھیجا جاتا تھا جس سے ٹیکس اور دیگر فوائد ضائع ہو جاتے تھے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے لگ بھگ ۱۰۰ براہ راست اور ۵ ہزارسے زائد بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی اور غیر قانونی سونا اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو کچلا جا سکے گا جس کی کمائی سے القاعدہ اور داعش سے وابستہ جنگجو ملک میں شورش کو فروغ دے رہے تھے۔
افریقی ممالک میں ایبولا وائر س کا پھیلاؤ
افریقا میں ایبولا وائرس (Ebola Virus) کی تازہ ترین وبا مئی ۲۰۲۶ء میں جمہوریہ کانگو (DRC) سے شروع ہوئی اور اب یہ تاریخ کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن چکی ہے، جسے عالمی ادارہ صحت (WHO) نے عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے رکھا ہے۔ یہ حالیہ لہر ایبولا کی ایک نایاب قسم بندوبوگیو وائرس Bundibugyo Virusکی وجہ سے پھیلی ہے، جس کی تاحال کوئی باقاعدہ منظور شدہ ویکسین یا حتمی دوا دستیاب نہیں ہے۔ یہ وبا کانگو سے نکل کر اب افریقا کے پانچ ممالک تک پھیل چکی ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ۲۰؍اکتوبر کو نائیجیریا میں یوگنڈا سے سفر کر کے آنے والی ایک سفارت کار کی اہلیہ میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ۴۴؍قریبی افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل کینیا میں کیسز کی تعداد بڑھ کر ۸ ہو چکی ہے، جہاں پہلے مریض کی ہلاکت کے بعد ان کا علاج کرنے والے طبی عملے کے ارکان بھی وائرس کا شکار ہوئے۔ یوگنڈا بھی اس سے شدید متاثر رہا ہے۔ ۔ اب تک اس وبا سے ۹۷۰۰ء سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ۴۶۹۰ء سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی وجہ سے شرح اموات تقریباً ۴۸؍فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے افریقا، ایشیا اور یورپ کے مابین لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی اور جنگی حالات کے پیش نظر ۲۲؍ممالک میں ایبولا کے خلاف ہائی الرٹ جاری کر دیا ہےجن میں صومالیہ، جبوتی اور سوڈان کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ امریکہ اور جرمنی کی جانب سے خطے میں امدادی وسائل اور قرنطینہ کے سخت ضوابط نافذ کرنے کے لیے ہنگامی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
سکول میں لگنے والی آگ سے متعدد بچےجاں بحق
ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگوکے شہر بوکاوو کے گنجان آبادی والے علاقے کڈوٹو میں واقع دو ملحقہ اسکولوں میں ۱۰؍ستمبر کو لگنے والی ہولناک آگ اور اس کے بعد مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں ۲۹؍ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ جن میں کم از کم ۲۸؍اسکول کے بچے شامل تھے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسکول کے قریب واقع ایک لکڑی کے مکان میں لگنے والی آگ تیزی سے اسکول کی عمارتوں تک پھیل گئی، جس سے خوفزدہ بچوں نے جان بچانے کے لیے بالائی منزلوں سے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں اور زیادہ تر اموات شعلوں، دم گھٹنے اور کچلے جانے کی وجہ سے ہوئیں۔
اس سانحے میں ۲۵؍سے زائد بچے شدید زخمی ہیں جن میں سے ۲۱؍کی حالت انتہائی نگہداشت کے وارڈ (ICU) میں تشویشناک ہے، جبکہ اس آگ نے اسکولوں کے علاوہ آس پاس کے تقریباً ۳۰۰ سے ۵۰۰ لکڑی کے مکانات کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا ہے۔
براعظم افریقہ کے متعدد ممالک میں شدت پسندی کے واقعات
ستمبر ۲۰۲۶ء براعظم افریقہ کے متعدد ممالک شدت پسندی اور لڑائی کی لپیٹ میں رہے۔ جن ایک کی مختصر تفصیل پیش ہے۔ مالی:ستمبر کے وسط میں مالی کے ایک فوجی بیس کیمپ(Dioura) پر دہشت گردوں نے بڑا حملہ کیا اور کم از کم ۵۰؍سے ۸۰؍مالین فوجیوں اور ۵ روسی پیرا ملٹری اہلکاروں کو ہلاک کر دیا، جبکہ درجنوں فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ اس کے علاوہ ۱۸؍ستمبر کو دارالحکومت باماکو کے قریبی سیکیورٹی چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا۔
صومالیہ: ۱۷؍ستمبر کو دہشت گرد گروپ الشباب نے مغربی صومالیہ میں سرحد پر ایتھوپیا کے فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ الشباب نے ۱۶۷ ایتھوپین فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ جوابی کارروائی میں ۵۰؍سے زائد عسکریت پسند بھی مارے گئے۔ ایتھوپیا نے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے۔ اس واقعہ سے قبل ۴ ستمبر کو امریکی افریقا کمانڈ (AFRICOM) نے بھی صومالیہ میں الشباب کے خلاف بڑا ڈرون حملہ کیا تھا۔
برکینا فاسو:ستمبر کے ابتدائی ہفتے میں شمالی برکینا فاسو میں اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کے ساتھ شدید جھڑپوں میں متعددسرکاری فوجی اور ۳۶؍رضاکار جنگجو ہلاک ہوئے۔ عسکریت پسندوں نے بیرو ن ممالک جانے والے تجارتی ٹرکوں کو بھی نشانہ بنایا۔
جنوبی افریقہ : ستمبر میں جنوبی افریقہ کے دو بڑے شہروں میں مسلح گینگز نے بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔ ۲۳؍ستمبر کو ڈربن کے قریب ایک ہاؤس پارٹی میں فائرنگ سے ۱۱؍افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ۲۶؍ستمبر کو جوہانسبرگ کی ایک بار میں خودکار ہتھیاروں سے ۱۷؍افراد اور اسی رات کیپ ٹاؤن میں ۱۰؍مزید افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ جنوبی افریقہ میں غیر ملکیو ں کی بے دخلی کی مہم چل رہی ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی حالات ابتری کی طرف جا رہے ہیں۔
نائیجیریا میں ستمبر کے وسط میں بوکو حرام اور آئی ایس ڈبلیو اے پی کی جانب سے اسکولوں اور گرجا گھروں پر حملوں کے مبینہ الرٹس کے باعث ملک بھر میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہا، جس پر نائیجیرین فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تاہم کوئی افسوس ناک واقعہ پیش نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: سیرالیون کا ایک اور دیوانہ : بلالِ احمدیت پا سعیدو بنگورا




