اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ
ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: بہت ساری لڑکیاں سوال کرتی ہیں کہ ہم اپنی دنیاوی تعلیم جو حاصل کر رہی ہیں ، اِس کے ساتھ جماعت کے لیے مفید وجود کس طرح بن سکتی ہیں؟
اگر لڑکیاں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو جس فیلڈ میں بھی ہوں، جس شعبے میں بھی ہوں، یا گھرداری کرنے والی خاتون ہوں، جماعت کے لیے ایک مفید وجود بن سکتی ہیں۔ آپ میں سے وہ بھی ہیں، جو چھوٹے بچوں کی مائیں ہیں یا جوان بچوں کی مائیں ہیں یا جوانی میں قدم رکھنے والے بچوں کی مائیں ہیں یا آئندہ ان شاء الله آنے والی نسلوں کی مائیں بننے والی ہیں، آپ سب کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، یہ آپ کی بنیادی سوچ ہونی چاہیے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی اصلاح کرنے والے ہیں اور اِس کے لیے ہمیں الله تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے، اپنی اصلاح کرتے ہوئے، اپنی دینی ، علمی، عملی اور روحانی حالت کو بہتر کرتے ہوئے ایک انقلاب لانا ہے۔ اِس کے لیے اسلامی تعلیم کے ذریعےوہ راستے تلاش کر کےاُن پر عمل کرنا ہے، جو ہماری نسلوں کو بھی محفوظ کرنے والے ہوں اور ہماری جماعت کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے ہوں۔
(حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۲۵ء پر مستورات سےخطاب)
(مرسلہ:قدسیہ محمود سردار۔ کینیڈا)




