ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۶)(قسط ۱۶۰)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
ملی فولیم
Millefolium
(Yarrow)
ملی فولیم کا جریان خون سے خاص تعلق ہے اور بالعموم اس کا جریان خون سرخ ہوتا ہےمگر بورک (Dr.Boericke) نے بھی اسے صرف سرخ خون کے جریان تک محدود رکھا ہوا ہے اوروریدوں(Veins) سے اس کا کوئی تعلق نہیں جوڑا لیکن کینٹ (Dr.Kent) اس کے متعلق پہلے فقرہ میں ہی اس کو ویری کوزوینز (Vericose Veins) میں چوٹی کی دوا بتاتا ہے۔ اس ليےوہ اس کے اخراج خون کو ہمیشہ سرخ نہیں بلکہ عموماً سرخ بیان کرتا ہے۔ بہر حال اگرچہ اکثر سرخ خون ہی نکلتا ہےمگر جریان خون کی خوا ہ وہ کالا ہی ہو یہ اولین دوا ہے۔ اس سے بڑھ کر جریان خون کی علامات شاید ہی کسی اور دوائی میں پائی جاتی ہوں۔ اگر کینسر کے زخموں سے خون کا جریان زیادہ ہو تو اس کی روک تھام میں بھی یہ مفید ہوسکتی ہے۔ کینسر کے زخم پرخالص شہد کا لیپ باربار لگانے سے بھی افاقہ ہونا ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ (صفحہ۶۰۱)
جن لوگوں میں جریان خون کا رجحان ہو اگر انہیں آپریشن سے پہلے ملی فولیم کی ایک ہزار طاقت میں ایک خوراک دے دی جائے تو وہ آپریشن کے دوران پیدا ہونے والی جریان خون کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہیں گے۔ ملی فولیم کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ خون کو جمنے نہیں دیتی اور clot نہیں بنتے۔ وہ ایلو پیتھک دوائیں جو خون کے جریان کو روکنے کے ليے استعمال ہوتی ہیں عموماً خون کو گاڑھا کر دیتی ہیں جبکہ ہو میو پیتھک دوائیں خون کو صحت مند رکھتے ہوئے بہنے سے روکتی ہیں۔ ملی فولیم اس لحاظ سے بہت اچھی دوا ہے اور جریان کو روکتی ہے مگر خون بے ضرورت گاڑھا نہیں کرتی۔ دل کی طرف خون کا دوران زیادہ ہو جائے تو اس میں بھی ملی فولیم اچھی ہے۔ عموماً ہیجانی کیفیت میں ایسا ہو تا ہے۔ عام طور پر ایکونائٹ فائدہ مند ہو گی لیکن ملی فولیم بھی اچھا اثر دکھاتی ہے۔ ملی فولیم عموما ًبوڑھے اور کمزور لوگوں نیز عورتوں اور بچوں کی بیماریوں میں مفید ہے۔ (صفحہ۶۰۲۔ ۶۰۳)
عورتوں میں حیض کا خون رک جانےسے تشنج اور مرگی کے دورے پڑنے لگیں یا سخت محنت مشقت کرنےکی وجہ سے رحم سے خون جاری ہوجائے توملی فولیم اس کے ليے مفید دوا ہے۔ (صفحہ۶۰۳)
میوریٹیکم ایسڈم
Muriaticum acidum
جن مریضوں میں ہو میو پیتھک میور یٹک ایسڈ کی ضرورت پڑتی ہے ان کے اعصاب تیزابیت سے خواہ کتنا ہی متاثر ہو جائیں، ان کا دماغ بالکل صاف اور ٹھیک رہتا ہے۔ لیکن ایسڈفاس جن مریضوں میں کارگر ثابت ہوتا ہے ان کی علامتیں اور عضلات میوریٹک ایسڈ کے بر عکس ہوتی ہیں۔ میوریٹک ایسڈ میں جسم پہلے بگڑتا ہے۔ دماغ کی سب سے آخر پر باری آتی ہے جبکہ ایسڈ فاس کے مریضوں کی دماغی علامتیں پہلے بگڑتی ہیں اور ذہنی کمزوری کے نتیجہ میں جسمانی بیماریاں بعد میں پیدا ہوتی ہیں۔ مریض کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو جاتی ہے، دماغی طاقت رفتہ رفتہ کم ہونے لگتی ہے اور یادداشت خراب ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی علامتیں کچھ عرصہ کے بعد آہستہ آہستہ عضلاتی کمزوریوں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ ایسڈ فاس کا مریض عضلاتی مریض بننے میں بہت وقت لیتا ہے۔ اگر اس دوا سے اس کی دماغی علامات کا علاج جلد کیا جائے تو عضلات پربداثر پڑے گا ہی نہیں۔ میوریٹک ایسڈ کے مریض کو سنبھالنا نسبتاً آسان ہے کیونکہ اگر دماغ موت کے قریب بھی صحیح رہے اور نفسیاتی کیفیات پر کوئی بداثر ظاہر نہ ہوا ہو تو ایک دو خوراکوں سے اسے آرام آ جائے گا۔ کیونکہ تیزابیت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا ضعف جتنا خطرناک ہو تا ہے اتنا ہی جلدی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے اور لمبا گہرا اثر باقی نہیں چھوڑتا۔ یہی حال سلفیورک ایسڈ کا ہے۔ (صفحہ۶۰۷۔ ۶۰۸ )
میورٹیک ایسڈ کے بعض مریض گوشت دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے لیکن اکثر مریض شوق سے گوشت کھاتے ہیں۔ بعض دفعہ شدید بھوک اور پیاس محسوس ہوتی ہے۔ بعض مریضوں میں چھونے سے زود حسی اتنی بڑھ جاتی ہےکہ ناقابل برداشت ہوجاتی ہےحتیٰ کہ مریض اپنے آپ کو چادر سے ڈھانپنا بھی پسند نہیں کرتا۔ اس کی تکلیفیں مرطوب موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔ آدھی رات سے ذرا پہلے بیماری میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بائیں طرف لیٹنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔ (صفحہ۶۰۸-۶۰۹ )
میور یٹک ایسڈ میں باوجود اس کے کہ جلد حساس ہوتی ہے، اندرونی طور پر فالج کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ اس قسم کے تضادات دوا کو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔ جسم بےجان محسوس ہو تا ہے مگر جلد کے اوپر ہلکے سے چھونے سے بھی جھر جھری آ جاتی ہے۔ ایگیریکس، سٹیفی سیگریا اور اوگزیلک ایسڈمیں بھی احساس کی تیزی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پکرک ایسڈ بھی بہت حساس دوا ہے۔ اگر ان دواؤں میں دباؤ مضبوط ہو تو قابل برداشت ہو تا ہے لیکن ہلکا ہاتھ برداشت کرنا مریض کے ليے مشکل ہوتا ہے اور وہ ہاتھ جھٹک دیتا ہے۔ میوریٹک ایسڈ میں بازو اور ٹانگیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اور ان میں بوجھل پن محسوس ہو تا ہے۔ اکثر اخراجات غیر اختیاری ہوتے ہیں، نبض تیز اور کمزور ہوتی ہے۔ (صفحہ۶۰۹)
نیٹرم کاربونیکم
Natrum carbonicum
(Carbonate of Sodium)
نیٹرم کا رب سوڈیم اور کاربن کا مرکب ہے اور ان دونوں کی علامتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔ نیٹرم کارب کے مریض کو ہلکے شور سے بھی جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کےکاغذ کی سرسراہٹ سے بھی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوجاتی ہے۔ نیٹرم کارب کا مریض ان خاص علامتوں سے پہچانا جاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ شور خواہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو اگر ایک ہی سطح پر جاری رہے تو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر آوازوں کا زیر وبم اعصاب پر سخت برا اثر ڈالتا ہے۔ شور کی اونچ نیچ ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اچانک کوئی دھماکہ ہو یا شور پڑجائے تو یہ نیٹرم کارب کے مریض کے ليے بہت مضر ثابت ہوتا ہے۔ ایسے مریض کو ڈرایا جائے تو دل بند ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس ليے اس بارہ میں محتاط رہنا چاہيے۔ (صفحہ۶۱۱)
نیٹرم کارب میں ٹخنوں کی مستقل کمزوری کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پاؤں اکثر رپٹ جاتے ہیں۔ ایسی مستقل کمزوری جو کسی کے مزاج میں داخل ہو اور کسی حادثے یا چوٹ کا نتیجہ نہ ہو، اس میں نیٹرم کارب بہت مفید ہے۔ ویسے ٹخنوں میں موچ کے ليے سب سے مؤثر دوائیں روٹا (Ruta) یا بیلس (Bellis) ہیں۔ سخت موچ کے بداثرات کے ليے آرنیکا کی اونچی طاقت بیلاڈونا سے ملا کر دی جائے تو فوری طور پر فائدہ مند ہوتی ہے اور مرض کا کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔ لیکن اگر شروع میں یہ دوا نہ دی جائے تو باقی رہ جانے والے اثرات میں روٹا مفید ہے۔ بعض دفعہ بیلس یا رسٹاکس کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ نیٹرم کارب ٹخنوں کی اندرونی کمزوری کی وجہ سے موچ آتے رہنے کے رجحان کو دور کرتی ہے۔ (صفحہ۶۱۴)
نیٹرم کارب کا مریض زیادہ تر غمگین اور پریشان رہتا ہے۔ مسلسل غم کے خیالات میں ڈوبا رہتا ہے۔ حوصلہ پست ہوجاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے۔ ذہن کمزوری محسوس کرتا ہے۔ موسم کی تبدیلی اور سردی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ بادلوں کی گھن گرج کے دوران بہت بے آرامی محسوس کرتا ہے۔ موسیقی سے تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ کچھ مخصوص لوگوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ کھانا کھانے کےبعد بدمزاجی اور چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے۔ ذرا سی بھی ذہنی تھکاوٹ سے سر میں درد ہوتا ہے جو سورج یا گیس کی روشنی میں بڑھ جاتا ہے اور چکر بھی آتے ہیں۔ جسمانی یا ذہنی محنت سے تکلیفیں بڑھتی ہیں اور بہت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ چلتے ہوئے لڑکھڑاتا ہے۔ عضلات میں اینٹھن محسوس ہوتی ہے۔ غدودوں میں ورم یا سختی پائی جاتی ہے۔ سرد ہوا کے جھونکے سے نفرت ہوتی ہے۔ بظاہر یہ علامات لو لگنے کے نتیجہ میں نہیں پیدا ہونی چاہئیں لیکن بعض انسانوں پر لو لگنے کے یہی دائمی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ مزاج کے لحاظ سے نیٹرم کا رب ٹھنڈی دوا ہے۔ (صفحہ۶۱۴)
مریض صبح بہت جلد اٹھ جاتا ہےاور صبح پانچ بجے ہی اس کی تکلیفیں زیادہ ہوتی ہیں۔ صبح کے وقت پسینہ بھی بہت آتا ہے۔ پاؤں کے تلووں میں جلن محسوس ہوتی ہے۔(صفحہ۶۱۵)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۵)(قسط ۱۵۹)




