صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۵)(قسط ۱۵۹)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

میڈورائینم
Medorrhinum
(The gonorrheal Virus)

بعض عورتوں کو شادی کے بعد بعض تکلیفیں آگھیرتی ہیں۔ مثلاً حیض کے ایام میں بے قاعدگی، درد اور اعصابی کمزوری وغیرہ انہیں بھی میڈو رائینم کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ میڈورائینم کا مریض سخت ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ اور اسی طرح بعض دفعہ اس کی ہتھیلیاں جلتی ہیں مگر اس کے باوجود ہاتھ باری باری ٹھنڈے بھی ہو جاتے ہیں۔ کبھی دایاں کبھی بایاں اور بعض دفعہ دونوں ہاتھ سخت ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ (صفحہ۵۸۴)

وجع المفاصل اور بائی کی عمومی دردوں میں اگر علامتیں ملتی ہوں تو اسے بہت مفید بتایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی بہت سی علامتیں عموماً سورج چڑھنے کے بعد سے سورج کے غروب ہونے تک رہتی ہیں لیکن بعض دوسری علامتیں رات کے وقت بہت بڑھ جاتی ہیں۔ رات کو بڑھنے والی تکلیفوں میں بھوتوں یا مردہ لوگوں کا خوابوں میں آنا اور ساری رات ڈراؤنی خوابیں آتے رہنا اس کی نمایاں علامت ہے۔ اسی طرح پیشاب کی تکلیفیں بھی رات کو بہت بڑھ جاتی ہیں۔ مریض کو باربار اٹھنا پڑتا ہے اور بعض دفعہ اس شدت سے پیشاب آتا ہےکہ کموڈ(Commode) تک پہنچنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے مریضوں کے پراسٹیٹ گلینڈز یعنی غدہ قدامیہ میں بھی ہرقسم کے ورم اور سوزش کی علامتیں ملتی ہیں۔ تھو جا بھی میڈور ائینم سے ملتی جلتی دوا ہے اور اس میں بھی اکثر تکلیفیں آدھی رات کے بعد بڑھتی ہیں۔ وجع المفاصل میں اگر پہلے میڈور ائینم دیا جائے تو اصل علامتیں کھل کر باہر آ جاتی ہیں اور علاج میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ (صفحہ۵۸۴۔ ۵۸۵)

میڈو رائینم کی ایک علامت جسم میں سوئیاں چبھنا اور چھپا کی نکلنا ہے جس کا شور سے بھی ایک خاص تعلق ہے۔ اگر شور زیادہ ہو اور اعصاب پر دباؤ ہو تو چھپاکی نکل آتی ہے۔ (صفحہ۵۸۵)

جوڑوں کی تکلیف میں جس میں بجلی کے کوندوں کی طرح درد کی لہریں اٹھیں اور چھاتی میں زیادہ شدت سے درد محسوس ہو، میڈورائینم مفید بتائی جاتی ہے۔ لیکیسس کی طرح میڈورائینم میں بھی سینہ کے بائیں طرف جلن کا احساس ہو تا ہے۔ (صفحہ۵۸۸)

جب کمر کی تکلیف کا ٹانگوں پر اثر ہوتو ایسا بھاری پن پیدا ہوجاتا ہےکہ لگتا ہےٹانگیں لکڑی کی بنی ہوئی ہیں۔ یہ بھی میڈورائینم کی ایک پہچان ہے۔ بعض اوقات تشنج سے بھی دوران خون بند ہوجاتا ہے اس دوا میں بھی تشنج پایا جاتا ہے، خاص طور پر پنڈلیوں میں۔ اگر زیادہ دیر کھڑے رہنے سے تشنج ہوجائے تو میگ فاس بھی مفید ہے لیکن میڈورائینم میں تشنج تلووں میں بھی ہوتا ہے اور پاؤں مڑنے اور اند رکی طرف سکڑنے کا احساس ہوتا ہے۔ میڈورائینم کی کئی تکالیف سورج کی تمازت سے بڑھتی ہیں۔ مرطوب موسم میں اور سمندر کے کنارے آرام آتا ہے۔ لیکن بعض تکلیفیں رات کو بڑھتی ہیں۔ (صفحہ۵۸۹)

مرکری کے مرکبات
Mercurius

مرکری (پارہ) بہت اہم اور گہرا اثر رکھنے والی دوا ہے جو جسم کے ہر حصہ اور خلیہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر مرکری کا زہر ایک دفعہ جسم میں داخل ہو جائے تو اس کے بداثرات سے نجات حاصل کرنا اگر ناممکن نہیں تو امر محال ضرور ہے۔ یہ بھی آرسینک کی طرح بہت گہرے اور دائمی اثرات کا حامل ہے لیکن آرسینک کا زہر اپنے بداثرات کو آئندہ نسل میں منتقل نہیں کرتا بلکہ تمام تر اثرات اس ایک وجود میں سمیٹے رکھتا ہے جسے آرسینک دیا گیا ہو۔ وہ جب تک زندہ رہے گا آرسینک کے اثرات کے ساتھ زندہ رہے گا۔ جب مر جائے گا تو ان کے سمیت مٹی میں دفن ہوجائے گا اور اس کا ایک ذرہ بھی بداثر کے طور پر اگلی نسل میں منتقل نہیں ہو گا۔ مگر مرکزی ایسی خطرناک چیز ہے کہ اس کے بداثرات نسل در نسل جاری رہتے ہیں۔ (صفحہ۵۹۱)

آتشک کی بیماری کا بھی بعینہ یہی مزاج ہے اس لیے مرکری آتشک کی چوٹی کی دوا سمجھی جاتی ہے۔ آتشک کے لیے ایک اور دوا سیفیلینم (Syphilinum) بھی بہت مفید ہے جو سفلس(آ تشک) کے مادہ سے ہی تیار کی جانے والی دوا ہے۔ اگر یہ بہت اونچی طاقت میں دی جائے تو فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اگر براہ راست فائدہ نہ بھی پہنچائے تو دوسری دواؤں کو مؤثر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور مرکری جیسی دواؤں کے ذریعہ علاج کو آسان بنا دیتی ہے۔ مرکری کی اس بنیادی صفت کو ذہن نشین کر لیں کہ یہ وہ زہر ہے جو عمر بھر ساتھ دیتا ہے اور اگلی نسل میں بھی چلتا ہے۔ اس سے زیادہ وفادار مگر خوفناک زہر کم دیکھا گیا ہے۔ تمام زہروں میں منفی اثرات کی گہرائی کے لحاظ سے یہ سب سے خطرناک ہے۔ اس کا اثر ہڈیوں اور اعصابی خلیوں پر بھی پڑتا ہے۔ خون، جلد، دل، اندرونی جھلیوں اور اعصابی ریشوں کو متاثر کر کے ہڈیوں میں اتر جاتا ہے اور پھر دماغ پر بھی حملہ کرتا ہے۔ (صفحہ ۵۹۱۔ ۵۹۲)

مرکری کی عام علامات جو ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کے زبان زد عام ہیں ان میں منہ سے رال کا بہنا، بہت پسینہ آنا، گلےکی خرابی اور خوفناک بدبو وغیرہ ہیں۔ مرکری کا مریض ہمیشہ متعفن ہوتا ہے اس سے ایسی خطرناک اور تیز بو آتی ہے کہ اس کا بیان کرنا مشکل کام ہے، صرف تجربہ سے ہی معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اگر مرکری کا صحیح استعمال کیا جائے تو اس کی بیماریاں اندر سے اچھل کر باہر جلد پر نمودار ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات شدید خارش اور رسنے والے زخم اور ناسور پیدا ہو جاتے ہیں جن کی سطح سفیدی مائل ہوتی ہے۔ عموما ًجلد پر سفید رنگ کے چٹاخ بن جاتے ہیں۔ ایک دفعہ میرے پاس ایک ایسا مریض آیا جس کی رانوں کے اردگرد نہایت گہرے اور تکلیف دہ سفید رنگ کے ناسور تھے۔ کسی دوا سے آرام نہ آرہا تھا۔ میں نے اسے مرکری استعمال کروائی۔ اللہ کے فضل سے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔ ( صفحہ۵۹۲)

مرکری کی ایک علامت یہ ہے کہ جسم پر سفید رنگ کے چٹاخ پڑ جاتے ہیں جو پھلبہری کی طرح ہوتے ہیں لیکن پھلبہری نہیں ہوتے اور پھلبہری کی طرح بڑھتے اور پھیلتے نہیں ہیں۔ اگر مرکری کی مزاجی علامتیں ملتی ہوں تو بعض دفعہ یہ پھلبہری کی بھی بہت مؤثر دوا ثابت ہوتی ہے۔ ایک مریض کا سارا جسم پھلبہری کے داغوں سے بھر گیا تھا۔ اس میں چونکہ مرکری کی دوسری علامات موجود تھیں میں نے ایک ہزار کی طاقت میں مرکری استعمال کروائی۔ ایک ہفتہ میں اتنا نمایاں فرق پڑا کہ جب وہ مجھے ملنے آیا تو میں اسے پہچان بھی نہ سکا۔ سب داغ غائب ہو گئے اور دوبارہ کبھی اسے یہ مرض نہیں ہوا۔ جب مرکری جلد پر اثر دکھاتی ہے تو اندرونی طور پر غدودوں پر کوئی بداثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن جب غدودوں پر اثر کرتی ہے تو جلد پر ضرور کوئی بیماری ظاہر ہوتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ غدودوں کو ٹھیک کر کے بیماری کو باہر دھکیلا گیا ہے۔ (صفحہ۵۹۲۔ ۵۹۳)

ہڈیوں کی دردیں جو مستقل بیماری کی شکل اختیار کر لیں ان میں مرکری مفید ہے لیکن اس کی پہچان یہ ہے کہ ان ہڈیوں میں جہاں جلد اور ہڈی کے درمیان گوشت کی زیادہ تہیں نہ ہوں وہاں دردیں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہیں یعنی جلد سے چپٹی ہوئی ہڈیوں میں درد کا احساس ہو تا ہے۔ غدودوں اور ہڈیوں میں اگر ناسور مزمن ہو جائیں تو مرکری کو فراموش نہیں کرتا چاہیے۔ مرکری کی خاص علامت یہ ہے کہ جوڑوں میں درد کے ساتھ پیپ بننے کا رجحان بھی ہوتا ہے۔ چونکہ مرکری کے مریض کا مزاج آتشک کے مریض کے مشابہ ہو تا ہے اس لیے ہڈیوں میں ناسور اور سوزش کے علاوہ پیپ بھی بنتی ہے۔ ڈاکٹر عموماً اس پیپ کو پچکاری کے ذریعہ باہر نکالتے ہیں۔ اگر مرکری کو چھوٹی طاقت میں شروع کر کے آہستہ آہستہ طاقت بڑھائی جائے تو بہت مفید نتائج ظاہر ہونگے۔ ایک دم شروع میں اونچی طاقت میں مرکری دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ مزمن بیماریوں میں دوا کی طاقت کو رفتہ رفتہ اونچا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن علاج کا آغاز چھوٹی طاقت سے کرنا چاہیے۔ یہی محفوظ طریق علاج ہے۔ (صفحہ۵۹۳۔ ۵۹۴)

مرکری کا ایک خاصہ یہ ہے کہ جوڑوں اور بائی کے دردوں میں ورم اور سوزش ضرور ملتے ہیں۔ بسترکی گرمی اور پسینہ آنےسے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ پسینہ بہت آتا ہےلیکن اس سے مریض بہتر محسوس نہیں کرتا۔ باربار پسینہ آتا ہےلیکن بے چینی اسی طرح قائم رہتی ہے۔ اگر گلے کے غدود متورم ہوں اور بخار ہو جائے تو پسینہ آنے سے بخار ٹوٹنے کی بجائے مرض اور بھی گہرائی میں اتر جاتا ہے۔ مرکری کی دو تین خوراکیں دینے سے دبا ہوا بخار پہلے ابھرتا ہے اور پھر ٹوٹنے لگتا ہے۔ بار بار کا پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے اور ایک ہی دفعہ بہت کھل کر پسینہ آتا ہے۔ (صفحہ۵۹۴)

اگر جلد پر زخم بننے لگیں جو ناسور کی شکل اختیار کر لیں اور ان کے کنارے ابھرے ہوئے ہوں اور خدشہ ہو کہ گینگرین نہ ہو جائے تو اس صورت میں مرکسال کی بجائے مرک کار زیادہ بہتر دوا ہے۔ ان دونوں کی علامتوں میں نمایاں فرق یہ ہے کہ مرکسال نسبتا ًنرم لیکن مزمن دوا ہے۔ مرک کار کی بیماریوں میں شدت پائی جاتی ہے اور یہ مقابلتاً زیادہ تیزی سے اثر کرتی ہے۔ حاد اور مزمن دونوں بیماریوں میں اس کا تیز اثر کرنا ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ لمبی چلنے والی پیچش جس میں آؤں اور خون آرہا ہو، مرکسال دیں۔ مگر مرک کار اس وقت فائدہ دیتی ہے جب پیچش کا فوری نوعیت کا حملہ ہو اور اجابت کے باوجود درد ختم ہونے میں نہ آئے اور خون کا اخراج مسلسل ہونے لگے۔ (صفحہ۵۹۴-۵۹۵)

مرکری کا مزاج بدلتا رہتا ہے۔ بیماریوں کی شدت میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ بلڈ پر یشر کبھی زیادہ ہو جاتا ہے اور کبھی کم۔ ایسا بخار جو اچانک زیادہ ہو جائے اور اچانک کم ہو جائے یعنی کسی ایک جگہ قرار نہ پکڑے تو اس کے لیے مرکسال بھی ایک امکانی دوا ہے جس کا جائزہ لینا چاہیے۔ (صفحہ۵۹۵)

مرکری میں گینگرین کی علامت ہونٹوں، گالوں اور مسوڑھوں پر ظاہر ہوتی ہے۔ جلد سیاہ ہو کر بھیانک شکل اختیار کرلیتی ہے۔ آتشک میں بھی انہی جگہوں پر بیماری کی علامتیں بھیانک رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ناک بھی متاثر ہوتا ہے اور اس کی ہڈیاں اندر سے کھائی جاتی ہیں۔ منہ کے ناسور بھی مرکری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

جب مرکری کی علامات بڑھ جاتی ہیں تو عمومی نقاہت سے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں اور کچھ اٹھانے کی طاقت نہیں رہتی۔ چائے کی پیالی اٹھانی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ (صفحہ۵۹۵)

مرگی سے ملتی جلتی بچوں کی بیماریوں اور اعضاء کی بے اختیار حرکت میں جو بلا ارادہ شروع ہو جائے، مرکری ایک امکانی دوا ہے۔ (صفحہ۵۹۵)

مرکری کی بیماریاں سردی اور گرمی دونوں موسموں میں بڑھ جاتی ہیں۔ ہوا کا جھونکا بھی ناقابل برداشت ہوجاتا ہے۔ (صفحہ۵۹۶)

گرمیوں میں اچانک پیچش شروع ہو جائے تو ایکونائٹ اور ایپی کاک کے علاوہ مرکری بھی مفید ہے۔ مرکری کی ایک علامت یہ ہے کہ معمولی سی محنت سے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے۔ دل کے مقام پر کمزوری کا احساس ہو تا ہے۔ رات کے وقت تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تمام اعضاء کانپتے ہیں خصوصاً ہاتھ اور پاؤں۔ اعضاء میں جھٹکے بھی لگتے ہیں۔ غیر معمولی بھاری پن، تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہوتی ہے اور کھچاؤ محسوس ہو تا ہے جو رات کو بستر کی گرمی میں بڑھ جا تا ہے۔(صفحہ۵۹۹)

رحم اور چھاتی کے کینسر میں اگر چہ مرکری مکمل شفا بخشنے کی صلاحیت نہیں رکھتی مگر تکلیف کو کم کر دیتی ہے اور آرام پہنچاتی ہے۔ ہاں وہ گلٹیاں جو کینسر نہ ہوں مرکری سے شفا پا جاتی ہیں۔ مرکری کی ایک قسم پروٹو آئیوڈائیڈ (Proto iodide) سینے کے کینسر میں بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر کینٹ سینے کے کینسر کی وجہ سے پیدا ہونے والے درد میں پروٹو آئیوڈائیڈ 100کی طاقت میں استعمال کرواتے تھے۔ جب بھی درد اٹھے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے تجربہ میں آیا کہ انڈے کے برابر رسولی اس دوا کے استعمال سے بالکل ختم ہو گئی۔ یہ دوا دائیں طرف کی تکلیف میں زیادہ اثر دکھاتی ہے۔ جبکہ اس کی دوسری قسم Bin iodide بائیں طرف کی تکلیفوں میں مفید ہے۔ (صفحہ ۵۹۹۔ ۶۰۰)

مرکری کے مریض کی تکلیفیں رات کو بڑھ جاتی ہیں۔ سیفیلینم اور سلفر میں بھی یہ بات پائی جاتی ہےمگر سلفر میں بستر میں لیٹنے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔ یعنی بستر کی گرمی تکلیف کو بڑھا دیتی ہےجبکہ مرکری کی تکلیفوں کا رات سے تعلق ہے۔ مریض بستر میں داخل ہو یا نہ ہو ، رات مصیبت بن جاتی ہے۔ (صفحہ۶۰۰)

(نوٹ: ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۴)(قسط ۱۵۸)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button