حضرت مسیح موعودؑ کے کارنامے(قسط اول)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۲؍ اکتوبر ۱۹۲۵ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے کارناموں کے مضمون پر روشنی ڈالی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
انسان ذات کے لحاظ سے، صفات کے لحاظ سے، منصب کے لحاظ سے، اظہار قدرت کے لحاظ سے خیال کرتا تھا کہ خدا ایک ہے اور ان سب چیزوں میں جو طاقتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ان کو ان میں رکھنے والا خدا ہی ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ یہی توحید کافی نہیں بلکہ جب انسان ان دونوں درجوں کو طے کرلے تو پھر یہاں تک آکے رک نہ جائے بلکہ اَور بھی ترقی کرے اور کامل مشاہدات کے ذریعہ معلوم کرے کہ واقعی ایک خدا ہے جس کا جلوہ ہر چیز میں نظر آتا ہے۔
تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
میں نے مثال کے طور پر پچھلے دو خطبوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ تعلیم توحید کے متعلق بیان کی تھی۔ جو آپؑ نے نور نبوت کے ذریعہ حاصل کرکے لوگوں تک پہنچائی اور بتایا تھا کہ جو کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا ہے وہ نہ مولویوں سے ہو سکتا تھا نہ ان کے کرنے کا تھا۔ نہ وہ کر سکے اور نہ وہ اب کر سکتے ہیں۔
آج بھی میں توحید ہی کی تعلیم کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ تحقیق بیان کرتا ہوں۔ جو بیشک قرآن کریم میں تو مذکور ہے اور آنحضرت ﷺ نے تو دنیا کو بتائی ہے لیکن مولویوں کو نظر نہ آئی اور حضرت مسیح موعود نے جو کچھ حاصل کیا وہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ ہی سے سیکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے پہلے دنیا نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی کہ توحید کیا ہے اور قرآن شریف اس کے متعلق کیا کہتا ہے۔ توحید قرآن میں تھی۔ مگر نہ کسی مولوی نے اس کی طرف خیال کیا۔ اور نہ کسی عالم نے۔ وہ خزانہ تھا مگر مخفی ۔ جس کو کوئی مولوی ہاتھ نہ لگا سکا۔ وہ ایک موتی تھا جو قرآن کریم کے علوم کے سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا تھا۔ جسے وہاں سے کوئی نہ نکال سکا کیونکہ اس تہہ میں سے اگر کوئی نکال سکتا تھا تو وہی غوطہ خور نکال سکتا تھا جو گہرا غوطہ لگا سکتا تھا۔ مگر مولویوں میں یہ ہمت نہ تھی۔
توحید کے متعلق جس چیز پر لوگوں نے زور دیا ہے اور مولوی اور علماء نے بھی جس پر زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی ذات میں کسی کو شریک نہ قرار دیا جائے۔ خدا کی صفات میں کسی کو اس کا شریک نہ قرار دیا جائے۔ خدا کے مرتبہ میں کسی کو شریک نہ سمجھا جائے اور خدا کے اظہار قدرت میں کسی کو اس کا شریک نہ بنایا جائے۔ جو کچھ بھی مولویوں نے لکھا اور جتنی بھی کتابیں علماء کی ہیں۔ ساری کی ساری جب توحید بیان کرتی ہیں۔ تو انہی باتوں میں اسے محدود کرتی ہیں۔ انہوں نے اس کی حد باندھ دی ہے۔ وہ ساری کی ساری یہی کہتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں خدا تعالیٰ کی صفات میں۔ خدا کے مرتبہ میں اور خدا تعالیٰ کے اظہار قدرت میں کسی کو شریک مت قرار دو۔ مولویوں کی نظر اس سے اوپر نہیں گئی اور ان کا سارا زور اسی پر ختم ہو گیا ہے۔
صوفیاء اس سے اوپر گئے ہیں۔ انہوں نے مولویوں سے ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی توحید نہیں ہے کہ خدا کی ذات میں خدا کی صفات میں۔ خدا کے مرتبہ میں اور خدا کے اظہار قدرت میں کسی کو شریک نہ قرار دیا جائے۔ اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ خدا ہے اور ایک ہی ہے تو یہ کوئی توحید نہیں۔ ایسا ہی اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خالق اور محی کی صفات صرف خدا ہی کے لیے ہیں۔ تو اتنا کہہ دینا توحید کی حقیقت کو پورا نہیں کر دیتا۔ بلکہ
توحید یہ ہے کہ اسباب پر کسی قسم کا بھروسہ نہ کیا جائے۔
دیکھو خدا کے سوا کوئی نہیں جو اولاد عطا کرے۔ اس لیے اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ فلاں شخص نے بیٹا دیا۔ خواہ وہ ساتھ یہ بھی کہے کہ خدا سے حاصل کر کے دیا ہے۔ خواہ ’’باذن اللہ‘‘ ہی اس کا نام رکھے۔ پھر بھی یہ شرک ہے۔ اسی طرح اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں شخص کی مدد سے میں فلاں کام کر لوں گا یا خود ذریعہ اور سبب کا پتہ لگا کر فلاں مشکل کو حل کرلوں گا یا روپے کے ذریعے اس کو درست کرلوں گا تو یہ بھی سب شرک ہے۔ ایسا ہی اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں علاج کے ذریعے مرض دور کر لوں گا یا یہ سمجھتا ہے کہ کپڑوں کے ذریعہ میں سردی یا گرمی سے اپنے آپ کو بچالوں گا یا پانی سے پیاس بجھالوں گا یا کھانے سے بھوک مٹالوں گا یا علم سے جہالت دور کر لوں گا تو وہ بھی مشرک ہے کیونکہ وہ اسباب پر حصر کرتا ہے اور اسباب بنانے والے کو چھوڑتا ہے۔
مولوی کی نظر یہاں تک نہیں گئی۔ وہ عام طور پر اسی حد تک رہے ہیں کہ خدا کی صفات، ذات اور اظہار قدرت میں کسی کو شریک کرنا شرک ہے اور جو اس سے آگے بڑھے ہیں وہ صحیح راستہ پر نہ رہے اور جدھر صوفیاء لے جانا چاہتے تھے ادھر نہیں گئے بلکہ اور طرف چلے ۔ یعنی قدری اور جبری بن گئے۔ یہ بھی اسباب ہی کے پیچھے گئے۔ جبریوں نے تو کہہ دیا کہ جو فعل انسان سے سرزد ہوتا ہے وہ خدا ہی کراتا ہے۔ اس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ چور اگر چوری کرتا ہے تو خدا ہی کراتا ہے۔ ڈاکو اگر ڈاکہ ڈالتا ہے تو خدا ہی ڈلواتا ہے۔ قاتل اگر قتل کرتا ہے تو خدا ہی قتل کراتا ہے کیونکہ سب کام خدا ہی کراتا ہے لیکن نادان نہیں جانتے ۔ اگر خدا ہی یہ سب کام کراتا ہے۔ اگر خدا ہی کہتا ہے کہ تو فلاں کے ہاں چوری کر۔ اگر خدا ہی کہتا ہے کہ فلاں جگہ ڈاکہ ڈال۔ اگر خدا ہی کہتا ہے تو فلاں شخص کو قتل کر دے ۔ غرض اگر خدا ہی تمام اس قسم کے کام کرنے کے لیے بندوں سے کہتا ہے۔ تو پھر اس قسم کے کام کرنے پر سزا کیوں دیتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک فعل خود کرائے اور پھر اس کے کرنے پر سزا بھی دے۔ ان کے مقابلہ میں قدریوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ خدا انسان سے کوئی فعل نہیں کراتا۔ بلکہ اس انسان کو ہر کام کرنے کا اختیار دے دیا ہے اور انسان جو کچھ کرتا ہے اس میں وہ مختار ہے اس پر کسی کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے اختیار کے مطلب کو ہی غلط سمجھا۔ وہ کہتے ہیں انسان کو خدا نے اختیار دیا ہوا ہے۔ جو چاہے کرے لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ اگر اختیار ہے تو پھر سزا کیسی۔ اسی طرح تقدیر کا مسئلہ ہے۔ اسے بھی مولویوں نے نہایت برے طریق پر بیان کیا ہے۔ میں اس وقت اس میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ یہ علیحدہ مسئلہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پر بھی ایسی روشنی ڈالی ہے کہ اس میں کوئی مشکل نہیں رہے گی ۔
صوفیاء نے توحید کے متعلق جو تعلیم دی۔ گو وہ مولویوں کے خیال سے اعلیٰ تھی۔ اور اس کا علم انہوں نے خدا تعالیٰ سے حاصل کیا تھا لیکن پھر بھی وہ اس تعلیم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توحید کے متعلق بیان فرمائی ہے۔ مولویوں نے تو کہا تو خدا کو ایک سمجھ۔ اس کی ذات میں اسے ایک سمجھ۔ اس کی صفات میں اسے ایک سمجھ۔ اس کے منصب میں اس کو ایک سمجھ۔ اس کے اظہار قدرت میں اسے ایک سمجھ ۔ یہی توحید ہے۔ لیکن صوفی یہاں تک نہیں ہے بلکہ انہوں نے اس سے آگے قدم بڑھایا۔ اور یہ کہا کہ
تو خدا کو ایک بھی سمجھ اور اپنے عمل سے بھی ایسا ہی ثابت کر۔ یہ نہ کر کہ تیری زبان تو کہے کہ خدا ایک ہے اور تیرا دل خدا کے سوا اوروں کو حاجت برار سمجھے۔ یعنی اسباب پر بھروسہ کرے۔
جب تو روٹی کھاتا ہے تو یہ خیال نہ کر کہ روٹی سے پیٹ بھرے گا۔ بلکہ یہ یقین کر کہ خدا نے ہی روٹی کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ بھوک مٹا سکے۔ اسی طرح جب تو پانی پیتا ہے تو یہ یقین رکھ کہ خدا ہی سیری دے گا تو ہوگی۔ ورنہ پانی کی یہ طاقت نہیں کہ پیاس بجھا سکے۔ اگر تو بیمار ہو تو بیشک علاج کر ۔ لیکن وہ یقین ہرگز نہ رکھ کہ اس علاج سے مجھے فائدہ ہو گا بلکہ یہ سمجھ کہ خداتعالیٰ نے اس میں وہ صفت رکھ دی ہے کہ جس سے شفا ہوتی ہے اگر وہ ان صفتوں کو ان اشیاء میں پیدا نہ کرے تو یہ اپنے آپ کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔
پس اس بات پر یقین رکھ کہ روٹی اگر بھوک مٹاتی ہے۔ پانی اگر پیاس بجھاتا ہے۔ علاج اگر مرض دور کرتا ہے۔ تو یہ سب خدا ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ نہ کہ ان میں اپنے آپ کوئی ایسی طاقت ہے جو فائدہ پہنچا سکے۔ یہ سب باتیں خدا نے ہی ان میں رکھی ہیں اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان چیزوں سے وہ ان طاقتوں کو لے بھی لے۔ پس جس طرح تو خدا کو سمجھتا ہے کہ ہے اور جس طرح تو یہ یقین کرتا ہے کہ وہ ایک ہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایمان لا کہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہو رہا ہے اور پھر اس ایمان کو اس طرح ظاہر کر کہ اپنے ہر قول و فعل سے اس کا ثبوت دے۔ صوفیاء نے یہ توحید پیش کی ہے۔ مولویوں کی نظر یہاں تک نہیں پہنچی۔ وہ ان سے بہت نیچے رہے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک شخص شفاف پالش شدہ میز میں اپنی شکل دیکھ لے۔ ان لوگوں نے خدا کی شکل ایک پالش شدہ میز میں دیکھی ۔ لیکن صوفیاء نے شیشے میں دیکھی ۔ جو زیادہ صاف طور پر نظر آئی۔ چونکہ شیشے میں جو شکل نظر آتی ہے وہ کسی پالش شدہ چیز پر سے نظر آنے والی شکل سے زیادہ واضح ہوتی ہے اس لیے صوفیاء نے جو کچھ دیکھا وہ مولویوں سے زیادہ واضح طور پر دیکھا اور یہ صاف بات ہے کہ مولویوں نے جو شکل دیکھی وہ شیشے میں نظر آنے والی صورت سے کیسی بھونڈی ہو گی۔ صوفیاء نے تو خدا کی شکل کو اس طرح دکھایا جس طرح شیشہ میں شکل دیکھی جائے۔ لیکن مولویوں نے اس سے زیادہ کچھ نہ دکھایا۔ جیسے پالش شدہ چیز میں دھندلی سی شکل نظر آجائے۔ غرض صوفیاء مولویوں سے آگے بڑھ گئے۔
لیکن حضرت مسیح موعود ؑنے اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھایا اور توحید کو پورے طور پر سمجھایا۔ اور خدا تعالیٰ کو اس کے اصل رنگ میں دکھایا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام “آئینہ کمالات اسلام” میں فرماتے ہیں :(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے “آئینہ کمالات اسلام” کے صفحہ ۲۲۳، ۲۲۴ میں حسب ذیل سطور ارقام فرمائی ہیں جن کی تشریح اور توضیح حضرت خلیفہ المسیح الثانیؓ نے اس موقع پر کی ہے۔
’’یاد رہے کہ توحید کے تین درجے ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنے جیسی مخلوق کی پرستش نہ کریں۔ نہ پتھر کی نہ آگ کی ۔ نہ آدمی کی نہ کسی ستارہ کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسباب پر بھی ایسے نہ گریں کہ گویا ایک قسم کا ان کو ربوبیت کے کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں۔ بلکہ ہمیشہ مسبب پر نظر رہے۔ نہ اسباب پر ۔ تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الٰہیہ کا کامل مشاہدہ کرکے ہر ایک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی ۔ غرض ہر ایک چیز نظر میں فانی دکھائی دے۔ بجز اللہ تعالیٰ کی ذات کامل الصفات کے۔ یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہو جائیں۔ ‘‘)
۱۔ توحید کے تین درجے ہیں۔ سب سے ادنیٰ درجہ تو یہ ہے کہ انسان یہ خیال کرے کہ خدا اپنی ذات میں، اپنی صفات میں، اپنے منصب میں اور اپنے اظہار قدرت میں لا شریک ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور کوئی اس قابل نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے ۔
یہ ادنیٰ درجہ کی توحید ہے۔
دوسرا درجہ توحید کا اس سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کی تفصیل میں خیال کرے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں۔ یہ میں اپنے آپ نہیں کرتا بلکہ خدا نے کہا ہے کہ ایسا کر۔ اس لیے کرتا ہوں اور جن چیزوں سے میں فائدہ اٹھاتا ہوں۔ ان میں فائدہ پہنچانے کی قوت خدا نے ہی رکھی ہے اور اسی کے حکم سے وہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔ ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
گویا وہ یہ خیال کر لے کہ میں اس بات سے اس لیے فائدہ اٹھاتا اور ان سے کام لیتا ہوں کہ خدا نے وہ پیدا کئے ہیں۔ نہ اس لیے کہ میں انہیں فائدہ پہنچانے والا سمجھتا ہوں۔ جب یہ یقین اور یہ ایمان پیدا کرلے کہ خدا تعالیٰ نے ہی یہ قانون بنائے ہیں۔ جن کے ماتحت سب کچھ ہو رہا ہے۔ تو سمجھ سکتا ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ہو رہا ہے۔ غرض یہ تعلیم کہ روٹی کھانے میں خدا نے پیٹ بھرنے کی طاقت رکھی ہے یا پانی پینے میں ایسی صفت رکھ دی گئی ہے کہ وہ پیاس بجھا سکے۔ یا علاج میں یہ طاقت خدا نے پیدا کر دی ہے کہ صحت ہوجائے۔ ورنہ ان میں کوئی طاقت نہیں ہے اور نہ مجھے ان پر کسی قسم کا بھروسہ ہے۔ یہ دوسرے درجہ کی توحید ہے اور اس یقین کے ساتھ ایک شخص صرف صوفیاء والی توحید پر پہنچتا ہے۔ یہ دونوں توحیدیں عقائد پر اثر کرتی تھیں۔
انسان ذات کے لحاظ سے صفات کے لحاظ سے منصب کے لحاظ سے اظہار قدرت کے لحاظ سے خیال کرتا تھا کہ خدا ایک ہے اور ان سب چیزوں میں جو طاقتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ان کو ان میں رکھنے والا خدا ہی ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ یہی توحید کافی نہیں بلکہ جب انسان ان دونوں درجوں کو طے کرلے تو پھر یہاں تک آکے رک نہ جائے بلکہ اور بھی ترقی کرے اور کامل مشاہدات کے ذریعہ معلوم کرے کہ واقعی ایک خدا ہے جس کا جلوہ ہر چیز میں نظر آتا ہے۔
(جاری ہے)




