احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح
کہاجاسکتاہے کہ سب سے پہلا شائع شدہ الہام ۱۸۶۵ء میں ہونے والا الہام ہے: ’’ثَمَانِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذَالِکَ اَوْ تَزِیْدُ عَلَیْہِ سِنِیْنًا وَ تَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا۔ یعنی تیری عمر ۸۰ برس کی ہوگی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ۔ اور تُو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا۔‘‘
ماموریت کاآغاز اورتئیس سالہ زندگی کا معیار نبوت
[گذشتہ سے پیوستہ]حضرت بانئ سلسلہ احمدیہؑ نے کتنی تحدّی اور عزم کے ساتھ یہ دعویٰ پیش فرمایاہے۔ اب چاہیے تویہ تھا کہ حافظ محمدیوسف صاحب سب سے پہلے حضرت بانئ سلسلہ سے ثبوت مانگتے کہ جناب پہلے یہ تو ثابت کریں کہ آپؑ کے اس دعویٰ پر۲۳؍برس ہوئے بھی ہیں کہ نہیں؟ ۱۸۸۲ء میں آپؑ کی براہین شائع ہوئی ہے جس میں یہ الہام ہیں اورتب سے اب تک توصرف ۱۸؍برس بنتے ہیں۔ یاجس طرح بھی ہو حافظ صاحب اپنی تسلی کرتے کہ جناب پہلے آپ ثابت کریں کہ ۲۳؍برس کی مدت آپ کومل چکی ہے پھرہم دیکھیں گے۔ لیکن حافظ صاحب نے انصاف کے اس طریق کوچھوڑکروہ طریق اختیارکیا کہ جس سے آنحضرتﷺ کی شان اور صداقت پربھی حرف آنے لگا۔ کیونکہ یہ دلیل صرف حضرت بانئ سلسلہ نے ہی نہیں دی تھی بلکہ آپؑ سے پہلے ہندوستان کے علماء ہی نبیﷺ کی سچائی کے طورپرپیش کرچکے تھے اور مخالفین اسلام کولاجواب کرچکے تھے۔
آپؑ نے حافظ صاحب کوایک طرف تو۵۰۰؍روپے کی ایک بڑی رقم بطورچیلنج کے پیش کی کہ اگر تم کوئی ایسامدعی الہام پیش کرسکوکہ اس کواتنی عمرملی ہوتویہ روپے تمہارے اور دوسری طرف یہ بھی واضح فرمایا کہ میرے الہامات کومجھ پرہوئے ہوئے ۲۳؍برس کیا تیس۳۰؍برس ہونے کوہیں۔
ان مذکورہ بالا اقتباس کے پیش نظر اس امرکی تفصیل ہدیۂ قارئین کی جاتی ہے کہ ۱۹۰۰ء تک حضرت اقدس بانئ سلسلہ احمدیہ کے الہامات پرکس طرح یہ مدت پوری ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ان اقتباسات سے بخوبی واضح ہوتاہے کہ ۱۹۰۰ء میں تصنیف ہونے والے رسالہ اربعین میں حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے یہ الہامات جو اکیس برس سے براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہوئے۔
ہمارے معززقاری صاحبان میں سے کسی کے ذہن میں سوال پیداہوسکتاہے کہ براہین احمدیہ کے جس حصہ میں یہ الہامات شائع ہوئے ہیں یعنی حصہ چہارم میں اور کچھ حصہ سوم میں شائع ہوئے ہیں اوریہ دونوں حصے بالترتیب ۱۸۸۲ء اور ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئے تھے۔ سواس حساب سے ۱۹۰۰ء کے سن میں تو صرف ۱۸ یا ۱۶؍سال بنتے ہیں، ۲۱؍برس تونہیں بنتے۔ جبکہ حضرت اقدس علیہ السلام تحریرفرمارہے ہیں کہ اکیس برس سے براہین احمدیہ میں چھپ کرشائع ہوئے۔ تو خاکسارکے نزدیک حضرت اقدسؑ کے یہ الفاظ ایک حساب سے بعینہٖ سوفیصددرست ہیں۔ اوروہ یہ کہ براہین احمدیہ پریس سے طبع ہوکرجب بھی شائع ہو، حقیقی زمانہ اس کاوہ ہے کہ جب آپؑ نے اس کااصل مسودہ طباعت کے لیے پریس میں بھیج دیا۔اور وہ نہ تو ۱۸۸۲ء تھا اور نہ ہی ۱۸۸۴ء تھا بلکہ ۱۸۸۰ء بھی نہ تھا۔اصل سنہ یاسال جب براہین احمدیہ کامسودہ بغرض طباعت آپؑ نے پریس کے سپردکیا وہ ۱۸۷۹ء تھا۔ جیساکہ خاکسار نے گذشتہ اقساط میں براہین احمدیہ کی طباعت کے ضمن میں یہ تفصیلی بحث کی ہے۔ جس کے مطابق ۳؍دسمبر۱۸۷۹ء کوآپؑ نے براہین کی بابت ایک اشتہارشائع فرمایاتھا کہ یہ کتاب جنوری ۱۸۸۰ء میں زیرطبع ہوکر اس کی اجراء اسی مہینہ یافروری میں شائع اور تقسیم ہونی شروع ہوجائےگی۔ [مجموعہ اشتہارات جلداول صفحہ ۱۹] اس حساب کے مطابق بعینہٖ اکیس برس ہی ہوتے ہیں۔
لیکن ابھی مزیدعرض ہے کہ اکیس برس تو براہین احمدیہ کی اشاعت کوہوئے جبکہ دوست احباب میں زبانی ان کی اشاعت اس سے بھی پہلے ہوچکی تھی اور یہ مزیدسات سال قبل کاعرصہ ہے۔ جیساکہ اسی جگہ حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں:’’اور سات آٹھ برس پہلے زبانی طور پر شائع ہوتے رہے‘‘
اور ۱۸۷۹ء سے سات سال اورپیچھے چلیں تو یہ زمانہ ۱۸۷۲ء اور ۱۸۷۳ء کازمانہ بنتاہے کہ جب آپؑ کوکثرت سے مکالمات ومخاطبات کاسلسلہ شروع ہوا۔ اوریہی وہ زمانہ ہے کہ جس کاذکرکرتے ہوئے آپؑ نے اپنی تصنیف حقیقۃ الوحی میں لکھاکہ ’’سواس عاجز کے ظہورکایہی وقت تھا کیونکہ میری کتاب براہین احمدیہ صرف چندسال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی ہےاور یہ عجیب امرہے اور میں اس کوخداتعالیٰ کاایک نشان سمجھتاہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خداتعالیٰ کی طرف سے یہ عاجزشرفِ مکالمہ ومخاطبہ پاچکاتھا۔پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ جس میں میرادعویٰ مسطورہے تالیف ہوکرشائع کی گئی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۰۸)
لہٰذا ۱۹۰۰ء میں شائع ہونے والی اس تصنیف کی رُوسے آپؑ کے دعاوی اور الہامات کوہوئے ہوئے ۲۷/۲۸سال اور براہین احمدیہ میں لکھے ہوئے ۲۱؍سال ہوچکے تھے۔ البتہ آپؑ نے اپنے اس دعویٰ کی تشہیرایک اشتہارکے ذریعہ ۱۸۸۵ء میں فرمائی تھی جیساکہ آئندہ باب میں اس کا ذکرہورہاہے۔
یہاں یہ امربھی واضح رہے کہ ۱۲۹۰ہجری عیسوی سنہ کے مطابق ۱۸۷۳ء بنتاہے۔ جب کہ آپؑ کی عمرچالیس برس ہوچکی تھی۔ جس سے یہ اشارہ ملتاہے کہ آپ کی تاریخ پیدائش ۱۸۳۳ء ہوگی۔ [اس کی تفصیل گذشتہ اقساط میں آپ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کے باب میں ملاحظہ ہو۔]
سب سے پہلاشائع شدہ الہام
اس باب میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مکالمات ومخاطبات کی تفصیلات کاذکرہورہاہے تو مناسب معلوم ہوتاہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کے پہلے شائع شدہ الہام کی بابت بھی کچھ بیان کردیاجائے۔ ان تفصیلات میں جانے سے قبل ایک وضاحت یہ بھی ضروری ہے کہ جوبھی پہلاالہام ہو اس کایہ مطلب ہرگزنہیں ہوسکتا کہ اس سے پہلے کبھی آپؑ کوالہام گویاہواہی نہیں تھا۔ نہ جانے حضرت اقدسؑ سے خدائے رحیم وکریم کے کلام و الہام کاسلسلہ کب سے شروع ہواہوگا۔اس لیے اس سے بحث نہیں کہ پہلاالہام کب ہواہوگا۔ ہم صرف اس وقت اس تفصیل میں جارہے ہیں کہ حضرت اقدسؑ کی طرف سے بتایاجانے والا یاشائع کیاجانے والاپہلاالہام کون سا ہے۔
تاریخ وسیرت کی مختلف کتب میں حضرت اقدسؑ کے پہلے الہام کی بابت بیان ہوتاہے۔ کہیں ’’وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ‘‘ کوپہلاالہام لکھاگیااور کہیں ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ اور کہیں ’’ثمانین حولًا‘‘ کوپہلاالہام بیان کیاگیا۔
’’حیات طیبہ‘‘ مؤلفہ شیخ عبد القادر صاحب مرحوم صفحہ۳۰ پر ’’موجودہ تحقیق کی رو سے سب سے پہلا الہام‘‘ کے عنوان سے۱۸۶۸ء میں ہونے والے اس الہام کو سب سے پہلا الہام قرار دے رہے ہیں۔’’خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘۔یہ الہام براہین احمدیہ کے حوالہ سے درج کیا گیا ہے۔
جبکہ براہین احمدیہ میں کچھ اور بھی الہامات مذکورہیں۔ بلکہ اگریہ کہاجائے کہ حضرت اقدسؑ نے سب سے پہلے جس کتاب میں اپنے الہامات درج فرمائے وہ براہین احمدیہ ہی ہے۔ تویہ غلط نہ ہوگا۔
براہین احمدیہ میں ہی صفحہ نمبر ۶۵۹ پر ایک ا َور الہام کا بھی ذکر ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’…اس سخت حزن اور غم کی حالت میں نہایت شدت سے الہام ہوا کہ جو آہنی میخ کی طرح دل کے اندر داخل ہو گیا۔ اور وہ یہ تھا ڈگری ہوگئی ہے مسلمان ہے۔‘‘ یہی الہام نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۲۱ پر ۱۸۶۸ء کے سن کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔
نزول المسیح جلد ۱۸ صفحہ ۵۲۱ پرہی ۱۸۶۸ءکے ایک اَور الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’عین سجدہ کے وقت میں مجھے الہام ہوا لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلیٰ۔ ‘‘یہی الہام براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۵۸ حاشیہ پر بھی موجود ہے۔ ایک حساب سے یہ الہام ۱۸۶۷ء کا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ۱۸۷۹ء میں براہین احمدیہ میں اس کو درج کرتے ہوئے فرمایا: ’’عرصہ تخمیناً بارہ برس کا ہوا ہے…‘‘ (روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۷) ۱۸۷۹ء میں سے ۱۲ سال منہا کریں تو یہ ۱۸۶۷ءکا الہام ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ایک اَور الہام ’’وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِیْ الْاَرْضِ‘‘ کی بابت ۱۰؍اگست ۱۹۰۲ء میں فرمایا: ’’تیس برس سے زیادہ عرصہ ہوا … مجھے الہام ہوا۔‘‘ ( تذکرہ صفحہ ۱۱ ایڈیشن چہارم) اس حساب سے یہ الہام ۱۸۷۲ء سے بھی کئی سال پہلے کا الہام ہو سکتا ہے۔
اسی طرح حضور علیہ السلام اپنی تصنیف ’’تریاق القلوب‘‘ میں اپنے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی بابت ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اور اسی بارے میں ایک الہام بھی تھا جس کے الفاظ مجھے یاد نہیں رہے۔ غرض اس خواب ا ور الہام کے مطابق جو میری دعا کے قبول ہونے پر دلالت کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا بخشی اور اس کے بعد ۱۵؍برس تک پوری تندرستی کے ساتھ وہ زندہ رہےاور پھر قضائے الٰہی سے فوت ہو گئے۔ میں نے اس الہام اورا س خواب کو بہت سے لوگوں کے پاس بیان کیا تھا۔‘‘ (تریاق القلوب صفحہ ۳۹،روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۱) حضرت مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی تاریخ وفات ۹؍جولائی ۱۸۸۳ء ہے۔ اس حساب سے یہ الہام بھی ۱۸۶۸ء کا بنتا ہے۔
روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۶ اور صفحہ ۴۱۹پر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ثَمَانِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذَالِکَ اَوْ تَزِیْدُ عَلَیْہِ سِنِیْنًا وَ تَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا۔ یعنی تیری عمر ۸۰ برس کی ہو گی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ۔ اور تُو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا۔‘‘اوراس کے ساتھ آپؑ تحریرفرماتے ہیں: ’’یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے۔‘‘ حضور علیہ السلام کی یہ تصنیف ۱۹۰۰ء کی ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ۱۸۶۵ء کا الہام ہو گا۔
الہامات کے سنہ ا ور تاریخوں کو معین کرنے کے لیے کوئی طالب علم جب حضور علیہ السلام کی تحریرات کو دیکھتا ہے تو اس کو بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان تحریرات میں سنہ اور سال ایک موٹے اندازے کے طور پر لکھے گئے ہیں اور جب تک کوئی ایسا قوی قرینہ موجود نہ ہو تب تک کسی سنہ یا سال یا تاریخ کو معین کرنا ایک مشکل امر ہو سکتا ہے۔ سنہ ا ور تاریخ کی تعیین کے لیے ایک پہلو یہ بھی پیش نظر رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے سب سے پہلی دفعہ باقاعدہ طور پر الہامات براہین احمدیہ میں شائع فرمائے ہیں۔ اور براہین احمدیہ کے بارے میں یہ واضح رہنا چاہیے کہ یہ ۱۸۷۹ء میں طباعت کے لیے پریس میں جا چکی تھی۔ وہ الگ بات ہے کہ اس کا ایک حصہ ۱۸۸۰ء میں شائع ہوا اور دوسرا ۱۸۸۲ء میں لیکن یہ تاخیر طباعت اور پریس کی طرف سے تھی نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے مسودہ کی تحریر کی وجہ سے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بعض جگہ ان امور کو بیان بھی فرما دیا ہے۔ مثلاًضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں براہین احمدیہ کے کچھ الہامات درج کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: ’’اس قدر الہام تو ہم نے بطور نمونہ کے براہین احمدیہ میں سے لکھے ہیں۔ لیکن اس اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لے کر آج تک …‘‘(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۹،روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۶۶) ضمیمہ تحفہ گولڑویہ جولائی ۱۹۰۰ء کی تصنیف ہے اور اس میں سے ۲۱؍سال منہا کیے جائیں تو ۱۸۷۹ء بنتا ہے جو کہ براہین احمدیہ کے مسودہ کی تصنیف اور پریس میں بغرض طباعت بھیجنے کی اصل تاریخ ہے۔
اسی طرح اگر کسی الہام کے سنہ اور تاریخ کی بابت تحقیق کرنا مقصود ہو اور وہ الہام براہین احمدیہ میں موجود ہو تو نہ صرف یہ کہ ہماری نظر ۱۸۷۹ءکے اوپر مرکوز رہنی چاہیے بلکہ اس سے چند سال پہلے کی طرف بھی دھیان رہنا چاہیے۔ یعنی اگر کوئی الہام براہین احمدیہ میں موجود ہے تو ضروری نہیں کہ وہ ۱۸۷۹ءکا ہی ہو بلکہ وہ اس سے کئی سال پہلے کا بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ حضورؑ اسی کتاب ضمیمہ تحفہ گولڑویہ میں فرماتے ہیں: ’’اوّل میں براہین ا حمدیہ کے وہ مکالمات الٰہیہ لکھتا ہوں جو اکیس برس سے براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہوئے اورسات آٹھ برس پہلے زبانی طور پر شائع ہوتے رہے۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۴،روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۵۸)
اس مختصرسی بحث اور چندایک حوالہ جات کے پیش نظر یہ کہاجاسکتاہے کہ سب سے پہلا شائع شدہ الہام ۱۸۶۵ء میں ہونے والا الہام ہے: ’’ثَمَانِیْنَ حَوْلًا اَوْ قَرِیْبًا مِّنْ ذَالِکَ اَوْ تَزِیْدُ عَلَیْہِ سِنِیْنًا وَ تَرٰی نَسْلًا بَعِیْدًا۔ یعنی تیری عمر ۸۰ برس کی ہو گی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ۔ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا۔ ‘‘
اور اس کے بعد پانچ الہامات وہ ہیں جو ۱۸۶۸ء کے قرار دیے جا سکتے ہیں اور ان میں سے بھی ایک الہام : ’’لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی‘‘ ۱۸۶۷ء کا بھی ہو سکتا ہے جبکہ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘ کا الہام براہین احمدیہ میں درج بیان کے مطابق ۱۸۶۹ء کا بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ حضور علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ ’’۱۸۶۸ء یا ۱۸۶۹ء میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا…‘‘ (براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۰، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۱حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳) واللّٰہ اعلم بالصواب
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے




