بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۷)
٭… ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد’’ایک وہ زمانہ تھا جو خدا کے ساتھ کوئی نہ تھا اور صرف وحدت اپنا جلوہ دکھلا رہی تھی۔‘‘کے حوالے سے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریرکیا کہ ۱۔ کیا اللہ تعالیٰ زمانہ اور وقت کے احاطے کے اندر ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے؟ ۲۔ کیا واقعی کوئی ایسا جہان ہے جسے جہان الست کہا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو پیدا فرمایا اور ہم نے بصورت ارواح خدا تعالیٰ سے ملاقات کی اور اسے پہچانا اورپھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمین پر ہماری آزمائش کے لیے اتارا؟ ۳۔ کیا ہم نے جہان الست میں بصورت ارواح آپس میں ملاقات کی اورہر روح نے اپنی من پسند روح کو منتخب کر کے فیصلہ کیا کہ میں نے زمین پر اس روح کے ساتھ رہنا ہے، کیونکہ آنحضورﷺنے فرمایا ہے کہ روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ان میں سے جو ایک دوسرے جیسی صفات سے آگاہ ہو گئیں ان میں الفت ہو گئی اور جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ عالم الست میں ہم نے بطور ارواح اپنے اپنے ساتھی اور رشتہ دار خود منتخب کر لیے تھے؟
٭… ۱۔ ہم جنس پسندی کیوں حرام ہےاگر ایسے لوگ کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہے، جبکہ یہ رجحان جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے؟۲۔ جدید دنیا میں صرف مرد ہی کیوں فیملی کی فلاح و بہبود کے ذمہ دار ہیں۔ عورتیں بھی تو برابری کی سطح پر اپنی فیملی کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں، کیا یہ صرف ایک شخصیت کو اہمیت دینے والی بات نہیں؟۳۔ قرآن مجید کی ۱۱۳ سورتوں سے قبل بسم اللہ کو شامل کیا جائے تو کچھ معجزات کا ظہور نہیں ہوتا لیکن اگر بسم اللہ کو شامل نہ کیا جائے توقرآن کریم میں جہاں لفظ سورج کا پہلی بار ذکر آتا ہے یعنی ۲:۲۵۸ اس آیت سے لے کر آخری آیت ۹۱:۱ تک اگر ان تمام آیات کو جمع کیا جائے تو ان کی تعداد سورج کی تپش ۵۷۷۸ Kelvin کے مطابق بنتی ہے؟ ۴۔ اسلام اور احمدیت پر ایمان لانے کی کیا وجہ ہے؟
سوال: آسٹریا سے ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد’’ایک وہ زمانہ تھا جو خدا کے ساتھ کوئی نہ تھا اور صرف وحدت اپنا جلوہ دکھلا رہی تھی۔ ‘‘ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ ۱۸۵) کے حوالے سے حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریرکیا کہ۱۔ کیا اللہ تعالیٰ زمانہ اور وقت کے احاطے کے اندر ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے؟ ۲۔ کیا واقعی کوئی ایسا جہان ہے جسے جہان الست کہا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو پیدا فرمایا اور ہم نے بصورت ارواح خدا تعالیٰ سے ملاقات کی اور اسے پہچانا اورپھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمین پر ہماری آزمائش کے لیے اتارا؟ ۳۔ کیا ہم نے جہان الست میں بصورت ارواح آپس میں ملاقات کی اورہر روح نے اپنی من پسند روح کو منتخب کر کے فیصلہ کیا کہ میں نے زمین پر اس روح کے ساتھ رہنا ہے، کیونکہ آنحضورﷺنے فرمایا ہے کہ روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ان میں سے جو ایک دوسرے جیسی صفات سے آگاہ ہو گئیں ان میں الفت ہو گئی اور جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ عالم الست میں ہم نے بطور ارواح اپنے اپنے ساتھی اور رشتہ دار خود منتخب کر لیے تھے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۵؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان امور کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب: آپ کے پہلے سوال کا جواب تو وہی ہے جو آپ نے خود لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد میں جو زمانہ اور دور کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ہے بلکہ ہمیں بات سمجھانے کے لیے استعمال فرمایا گیا ہے۔ حضور علیہ السلام دراصل یہاں یہ مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ ہمارے خدا کی صفات ہر زمانہ میں ظاہر ہوتی ہیں اور وہ کبھی بھی معطل نہیں ہوتیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات غیرمحدود اور وقت کی قید سے مبرا ہے۔ چنانچہ اسی کتاب میں ایک اور جگہ آپؑ فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہے زمین پر بھی ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے وَہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّفِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ (الزخرف:۸۵)یعنی زمین میں وہی خدا ہے اور وہی آسمان میں خدا۔ اور فرمایا کہ کسی پوشیدہ مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے۔ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ ۹۷)
ایک اَور جگہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:خدائے تعالیٰ کی خدائی اور الوہیت اس کی قدرت غیر محدودہ اور اسرار نامعدودہ سے وابستہ ہے جس کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیرلینا انسان کا کام نہیں ہے خداشناسی کے لئے یہ بڑا بھاری بنیادی مسئلہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں اس مسئلہ کی حقیقت سمجھنے اور اس پر عمیق غور کرنے سے سب الجھاؤ اور پیچ خیالات کا رفع ہوجاتا ہے اور سیدھا راہ حق شناسی اور حق پرستی کا نظر آنے لگتا ہے۔ (سرمہ چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۹۰)
فرمایا: خدا اپنی تمام خوبیوں کے لحاظ سے واحد لا شریک ہے کوئی بھی اس میں نقص نہیں۔ وہ مجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور مظہر ہے تمام پاک قدرتوں کا اور مبدأہے تمام مخلوق کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضو ں کا اور مالک ہے تمام جزا سزا کا اور مرجع ہے تمام امور کا اور نزدیک ہے باوجود دوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے۔ وہ سب سے اوپر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اَور بھی ہے۔ اور وہ سب چیزوں سے زیادہ پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس سے کوئی زیادہ ظاہر ہے۔ وہ زندہ ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ زندہ ہے۔ وہ قائم ہے اپنی ذات سے اور ہر ایک چیز اس کے ساتھ قائم ہے۔ اُس نے ہر یک چیز کو اٹھا رکھا ہے اور کوئی چیز نہیں جس نے اُس کو اُٹھا رکھا ہو۔ کوئی چیز نہیں جو اس کے بغیر خود بخود پیدا ہوئی ہے یا اس کے بغیر خود بخود جی سکتی ہے۔ وہ ہر یک چیز پر محیط ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ کیسا احاطہ ہے۔ وہ آسمان اور زمین کی ہریک چیز کا نور ہے اور ہریک نور اسی کے ہاتھ سے چمکا۔ اور اُسی کی ذات کا پرتوہ ہے۔ وہ تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ کوئی روح نہیں جو اس سے پرورش نہ پاتی ہو اور خود بخود ہو۔ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰صفحہ ۱۵۲تا۱۵۳)
۲۔ آپ کا دوسرا سوال کہ کیا واقعی کوئی ایسا جہان ہے جسے جہان الست کہا جاتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو پیدا فرمایا اور ہم نے بصورت ارواح خدا تعالیٰ سے ملاقات کی اور اسے پہچانا اورپھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں زمین پر ہماری آزمائش کےلیے اتارا؟ قرآن کریم کی آیت وَاِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَاَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی۔(الاعراف:۱۷۳) یعنی جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں میں سے ان کی اولادوں کو لیا اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ ٹھہرایا (اور پوچھا) کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہاہاں! ہاں! ہم (اس بات کی) گواہی دیتے ہیں۔ کے حوالے سے ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سارا تمثیلی کلام ہے۔ مفسرین و محدثین نے اس آیت کی مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔ کسی نے کہا کہ یہ عہد حضرت آدم علیہ السلام کی تمام ذریت سے جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اس طور سے لیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے آدم کی پشت سے تمام اولاد کو نکالا جو چیونٹیوں کی طرح نکل پڑی۔ پھر ان کو عقل اور گویائی عطا کرکے کہا کہ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ کہ کیا میں تمہارا خدا نہیں؟ سب نے کہا بَلٰى کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کہ میں تم پر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اور تمہارے باپ آدم کو گواہ کرتا ہوں تاکہ تم قیامت کو یہ نہ کہو کہ ہم کو خبر نہ تھی۔ تم کو معلوم رہے کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں تم میرا کسی کو بھی شریک نہ بنانا میں تمہارے پاس اس عہد کو یاد دلانے کے لیے اپنے رسول بھیجوں گا اور کتابیں نازل کروں گا، وہ تمہیں میرا عہد یاد دلائیں گے۔ سب نے اقرار کیا اور کہا ہم گواہ ہیں کہ تو ہی ہمارا رب اور معبود ہے۔ تیرے سوا اور کوئی نہ معبود ہے نہ رب ہے۔ اور سب نے اقرار کرلیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَسۡتُ بِرَبِّکُم قَالُوۡا بَلٰی(الاعراف:۱۷۳)یعنی میں نے رُوحوں کو پوچھا کہ کیا میں تمہارا پیدا کرنے والا نہیں تو تمام روحوں نے یہی جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ اس آیت کامطلب یہ ہے کہ روحوں کی فطرت میں یہی منقش اور مرکوز ہے کہ وہ اپنے پیدا کنندہ کی قائل ہیں اور پھر بعض انسان غفلت کی تاریکی میں پڑکر اور پلید تعلیموں سے متاثر ہوکر کوئی دہریہ بن جاتاہے اور کوئی آریہ اور اپنی فطرت کے مخالف اپنے پیدا کنندہ سے انکار کرنے لگتے ہیں۔ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ۱۶۷)
آپؑ مزید فرماتے ہیں:ایک اور دلیل اپنی ہستی پر قرآن شریف میں پیش کرتا ہے۔ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی (الاعراف:۱۷۳) یعنی میں نے روحوں کو کہا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ قصہ کے رنگ میں روحوں کی اس خاصیت کو بیان فرماتا ہے جو ان کی فطرت میں اُس نے رکھی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی روح فطرت کی رو سے خدا تعالیٰ کا انکار نہیں کر سکتی۔ صرف منکروں کو اپنے خیال میں دلیل نہ ملنے کی وجہ سے انکار ہے مگر باوجود اس انکار کے وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر ایک حادث کے واسطے ضرور ایک محدث ہے۔… اور مطلب آیت یہ ہے کہ انکار وجود باری صرف سفلی زندگی تک ہے ورنہ اصل فطرت میں اقرار بھرا ہوا ہے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی،روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۷۱)
آپ کے تیسرے سوال کہ کیا ہم نے جہان الست میں بصورت ارواح آپس میں ملاقات کی اورہر روح نے اپنی من پسند روح کو منتخب کر کے فیصلہ کیا کہ میں نے زمین پر اس روح کے ساتھ رہنا ہے، کیونکہ آنحضور ﷺنے فرمایا ہے کہ روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ان میں سے جو ایک دوسرے جیسی صفات سے آگاہ ہو گئیں ان میں الفت ہو گئی اور جو ایک دوسرے سے گریزاں رہیں وہ باہم مختلف ہو گئیں۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ عالم الست میں ہم نے بطور ارواح اپنے اپنے ساتھی اور رشتہ دار خود منتخب کرلیے تھے؟ کا جواب یہ ہے کہ آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نیک فطرت انسانوں کا میلان نیکوں کی طرف ہوتا ہے اور بدوں کا رجحان بد لوگوں کی طرف ہوتا ہے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’نیک فطرت انسان نیکوں کی صحبت اور بد فطرت بدوں کی صحبت میں سکون پاتا ہے۔ طبائع کی اس مماثلت کا مشاہدہ روز مرہ کی بات ہے۔ علاوہ ازیں دیکھا گیا ہے کہ بُرا انسان نیکوں کی صحبت میں نیک ہو جاتا ہے۔ یہ امر مذکورہ بالا کلیہ کے خلاف نہیں۔ کیونکہ انسان کی فطرت میں نیکی ودیعت کی گئی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: مَا مِن مَوْلُودٍ إلَّا يُولَدُ علَى الْفِطْرَةِ، فأبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ اَوْ يُنَصِّرَانِهِ۔ (صحیح بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبی فمات ھل یصلی علیہ)یعنی جو بھی بچہ اس دنیا میں آتا ہے وہ فطرت صحیحہ لے کر آتا ہے۔ بعدازاں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ پس نیکی کا یہ پیدائشی میلان صحبت صالحہ سے ابھرتا اور صحبت طالح سے مکدر ہوتا ہے۔ جو شخص ہمیں بظاہر بد نظر آتا ہے اور پھر نیک صحبت سے اصلاح پذیر ہو جاتا ہے، اس کی روح یقیناً ان ارواح میں سے ہے جو فطرتاً استعداد صالح رکھتی ہیں۔ انبیاء علیہم السلام جن کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا، وہ بلحاظ پیدائش ایک ہی زمرۂ ابرار سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کا عقیدہ ایک اور کردار بھی ایک۔
مذکورہ بالا کلیہ میں روحیں صف آراء فوجیں قرار دی گئی ہیں۔ ان کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔ شر و خیر میں جنگ ہمارا مشاہدہ ہے اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ میں ہی رحمت ربانی پنہاں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:وَلَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ۔اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّکَ ؕ وَلِذٰلِکَ خَلَقَہُمۡ ؕ وَتَمَّتۡ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ۔ (ھود:۱۲۰،۱۱۹) یعنی اگرتیرا رب اپنی ہی مشیت نافذ کرتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا (اور چونکہ اس نے ایسا نہیں کیا اور انہیں ان کی عقل پر چھوڑ دیاہے )وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔ سوائے ان کے جن پر تیرے رب نے رحم کیا ہے اور اسی رحم (کا مورد بنانے) کے لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور تیرے رب کا یہ فرمودہ ضرور پورا ہوگا کہ میں جہنم کو یقیناً (ان سب) جنّوں اور انسانوں سے (جو اختلاف کا موجب بنتے ہیں) پُر کروں گا۔‘‘ (شرح صحیح بخاری از سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ جلد ششم صفحہ۱۷۵،۱۷۴)
پس یہ سب تمثیلی کلام ہے، جو ہمیں سمجھانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے ورنہ انسانی پیدائش سے پہلے کائنات کی کیا حالت تھی، عالم ارواح سے کیا مراد ہے اور مرنے کے بعد کا عالم کیا ہو گا؟ ان امور کی کامل اور حقیقی معرفت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، انبیاء اور خلفاء نے ان امور کے بارے میں ہماری اتنی ہی راہنمائی فرمائی ہے، جتنی انہیں عالم الغیب والشہادہ خدا کی طرف سے عطا کی گئی تھی۔
سوال: جرمنی سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کسی نے مجھ سے یہ سوال کیے ہیں کہ۱۔ ہم جنس پسندی کیوں حرام ہےاگر ایسے لوگ کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہے، جبکہ یہ رجحان جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے؟۲۔ جدید دنیا میں صرف مرد ہی کیوں فیملی کی فلاح و بہبود کے ذمہ دار ہیں۔ عورتیں بھی تو برابری کی سطح پر اپنی فیملی کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں، کیا یہ صرف ایک شخصیت کو اہمیت دینے والی بات نہیں؟۳۔ قرآن مجید کی ۱۱۳ سورتوں سے قبل بسم اللہ کو شامل کیا جائے تو کچھ معجزات کا ظہور نہیں ہوتا لیکن اگر بسم اللہ کو شامل نہ کیا جائے توقرآن کریم میں جہاں لفظ سورج کا پہلی بار ذکر آتا ہے یعنی ۲:۲۵۸ اس آیت سے لے کر آخری آیت ۹۱:۱ تک اگر ان تمام آیات کو جمع کیا جائے تو ان کی تعداد سورج کی تپش ۵۷۷۸ Kelvin کے مطابق بنتی ہے؟ ۴۔اسلام اور احمدیت پر ایمان لانے کی کیا وجہ ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۱؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:
جواب:آپ کے پہلے سوال کے جواب میں تحریر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی کوئی چیز بے فائدہ اور بےمقصد پیدا نہیں کی جیسا کہ فرمایا: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔ (آل عمران:۱۹۲) اے ہمارے ربّ! تُو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ اور مرد و عورت کے ازدواجی تعلقات کا مقصد بقائے نسل ہے۔ اور بغیر مقصد اور شرعی حدود سے متجاوز یہ کام بھی صرف ایک عیاشی اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کے زمرہ میں آتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے،اس لیے وہ اسے پہچانے، اس کا تقدس قائم رکھے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ جبکہ ہم جنسی کی صورت میں تو نہ ازدواجی تعلق کا مقصد حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ہی انسانی پیدائش کے مقصد کو انسان پا سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے صرف ہم جنسی سے ہی منع نہیں فرمایا بلکہ اس نے زنا کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور اس کے نتیجے میں بھی انسان اپنی پیدائش کے مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوق قرار دے کر اسے جانوروں سے بہت بڑھ کر مقام عطا فرمایا ہے، اس لیے انسان کا جانوروں کی عادت کو اپنانا کسی فخر کی بات نہیں بلکہ یہ تو ایک قابل فکر اور قابل شرم بات ہے۔
۲۔ آپ کا دوسرا سوال کہ جدید دنیا میں صرف مرد ہی کیوں فیملی کی فلاح و بہبود کے ذمہ دار ہیں۔ عورتیں بھی تو برابری کی سطح پر اپنی فیملی کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں، کیا یہ صرف ایک شخصیت کو اہمیت دینے والی بات نہیں؟ تو اس کا جواب ہے کہ اسلام نے میاں بیوی کے حقوق و فرائض بڑی وضاحت سے بیان فرما دیے ہیں اور ہر صنف کو اس کے قویٰ اور طاقت کے مطابق ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ اس لیے اس تقسیم میں کسی کمی یا زیادتی کی بات نہیں۔ مرد کو اس کی طاقت کے مطابق گھر کا سربراہ بنایا اور اہل خانہ کے نان و نفقہ اور ان کی دیگر مالی ضروریات پوار کرنے کا اسے ذمہ دار بنایا ہےجبکہ بچوں کی پیدائش، ان کی پرورش اور تربیت کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد اگرچہ بظاہر طاقتور اور جفاکش ہوتا ہے اور محنت اور دوڑدھوپ کر سکتا ہے لیکن بچہ کا حمل اٹھانے اور اسے پیدا کرنے والے نہ تو جسمانی اعضاء اسے عطا کیے گئے ہیں اور نہ وہ ان چیزوں کی طاقت رکھتا ہے۔ اسی طرح بچوں کی پرورش اور تربیت کے حساب سے بھی اس کے اعصاب بہت کمزور ہوتے ہیں، وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر بچوں کو سنبھالنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جبکہ عورت کو اس اعتبار سے بہت مضبوط اعصاب اور زبردست حوصلہ اور صبر عطا کیا گیا ہے، جو بچہ کی تربیت اور نگہداشت کے لیے ایک لازمی جزو ہے۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھی اس حقیقت کو مانتی ہے کہ عورت مرد کی نسبت کمزور ہے، اسی لیے تو دنیا میں مختلف کھیلوں کے مردوں اور عورتوں کے الگ الگ مقابلے کروائے جاتے ہیں۔
۳۔ باقی آیات کی گنتی کی جمع تقسیم اور سورج کے درجہ حرارت کے متعلق آپ کے سوال میں بیان امور آپ کی ذوقی تشریح ہے کیونکہ آیات کی تعداد میں اختلاف صرف بسم اللہ کو سورت کا حصہ قرار دینا یا نہ دینا ہی نہیں ہے بلکہ آیات کی تعداد میں اس کے علاوہ بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ چنانچہ بعض نے آیات کی کل تعداد ۶۲۳۶؍بیان کی ہے، جبکہ اس کے علاوہ بعض نے ۶۲۲۶، بعض نے۶۲۱۷، بعض نے ۶۲۱۴، بعض نے ۶۲۱۰؍اور بعض نے ۶۲۰۴؍بیان کی ہے۔
ہمارے نزدیک بسم اللہ سمیت آیات کی کل تعداد ۶۳۴۸؍بنتی ہے۔ کیونکہ ہم بسم اللہ کو باقاعدہ ایک آیت شمار کرتے اور اسے ہر اس سورت کا حصہ قرار دیتے ہیں، جس کے آغاز میں وہ نازل ہوئی ہے۔ اور ہمارا یہ موقف آنحضورﷺکے ارشادات پر مبنی ہے۔ (صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب حجۃ من قال البسملۃ آیۃ من اوّل کل سورۃ)
۴۔ جہاں تک اسلام اور احمدیت پر ایمان لانے کی بات ہے تو اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل کر دیا اور آنحضورﷺکو قرآن کریم کی صورت میں وہ شریعت عطا فرمائی جس میں پہلے تمام مذاہب کو ملنے والی تعلیمات کو جمع کردیا گیا ہے۔ اور جو ایک کامل ضابطۂ حیات پر مبنی اور قیامت تک کے لیے ہے۔ جس کی پابندی کرنا ہر اس انسان کا فرض ہے، جس تک اس کا پیغام پہنچ جائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو آنحضورﷺکی پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ کے روحانی فرزند اور غلام صادق کے طور پر آپ ہی کے دین کی خدمت اور تبلیغ کے لیے مبعوث ہوئے۔ اور جن پر ایمان لانے اور بیعت کرنے کی حضورﷺنے اس شدت سے تاکید فرمائی کہ فرمایا: فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن بَاب خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ) یعنی جب تم اسے دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ تمہیں برف کے پہاڑوں سے گھٹنوں کے بل چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ مہدی ہے۔
پھر آپؑ اور آپؑ کے ذریعہ قائم ہونے والی خلافت احمدیہ کے زمانے میں، جو دراصل آنحضورﷺکا ہی زمانہ ہے،قرآن و حدیث میں بیان پیشگوئیوں کے مطابق دین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے لیے پریس، اخبارات، نقل و حمل اور انٹر نیٹ جیسے جو بے شمار ذرائع پیدا ہوئے ہیں، ان کے ذریعہ اسلام کا پیغام اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہا ہے۔ اور ہر سعید روح اس دین واحد کی طرف دیوانہ وار چلی آ رہی ہے۔
پس جس کی فطرت نیک ہے، جو اپنی زندگی کے حقیقی مقصد کو پانا چاہتا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بھیجے انبیاء کی حقیقی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے، اس کے لیے اسلام اور احمدیت پر ایمان لانا ضروری ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۶)




