بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۶)
٭… ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میںحدیث نبویﷺاللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ۔ کے حوالے سے لکھا کہ خَمِيسِ کا کیا مطلب ہےاور اس حدیث کے کیا معانی ہیں؟نیز یہ کہ مسجد محمود جرمنی سے ملحقہ جِم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر لگی ہوئی ہے، بعض اوقات چھوٹے بچوں والی مائیں وہاں نماز پڑھتی ہیں، چونکہ وہ تصویر سامنے لگی ہوئی ہے، جو مجھے مناسب نہیں لگتی، اس لیے آپ کو بتا رہی ہوں اور راہنمائی کی درخواست ہے۔
٭… ۱۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی محبت پیدا کر کے کرنی چاہیے یا اس کے خوف سے کرنی چاہیے؟ ۲۔قرآن مجید میں جو بعض سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات کا استعمال کیا گیا ہے، حضورﷺکو اس کا علم کیوں نہیں دیا گیا؟
٭… حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے؟‘‘ کے انگریزی ترجمے کے تعارف میں لکھا ہے کہ ایک شخص گناہ اس لیے کرتا ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ درست نہیں، میں خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کامل یقین نہیں کہ گناہ کے بعد لازماً سزا ملے گی اس لیے میں گناہ کرتا ہوں۔ اس لیے اس حصہ کو تبدیل کیا جائے تا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق ہو۔
٭… شیطان اور نفس میں کیا فرق ہے، کیا یہ ایک اندرونی چیز ہے یا پھر اس میں کوئی بیرونی قوت بھی ہے، اور شیطان، نفس، ابلیس اور قوت ارادی کا کیا مطلب ہے؟کہا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے، مگر گناہ تو رمضان میں بھی انسان سے ہوتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
سوال: امریکہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میںحدیث نبویﷺاللّٰهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُوْرِهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب التجارات بَاب مَا يُرْجَى مِنْ الْبَرَكَةِ فِي الْبُكُورِ)کے حوالے سے لکھا کہ خَمِيسِ کا کیا مطلب ہےاور اس حدیث کے کیا معانی ہیں؟نیز یہ کہ مسجد محمود جرمنی سے ملحقہ جِم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر لگی ہوئی ہے، بعض اوقات چھوٹے بچوں والی مائیں وہاں نماز پڑھتی ہیں، چونکہ وہ تصویر سامنے لگی ہوئی ہے، جو مجھے مناسب نہیں لگتی، اس لیے آپ کو بتا رہی ہوں اور راہنمائی کی درخواست ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۵؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان امور کے بارہ میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب: اصل میں خَمِيسِ کا لفظ عربی زبان میں جمعرات کے دن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور اس حدیث کے عام معنے تو یہ ہیں کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی کہ اے اللہ! میری اُمّت کے لیے جمعرات کی صبح میں برکت کے سامان رکھ دے۔ تاریخ و احادیث کے مطابق حضورﷺ اگرچہ ہفتہ کے مختلف دنوں میں اپنے سفروں کا آغاز کرتے رہے ہیں۔ لیکن آپ نے کئی سفرجمعرات کے دن شروع فرمائے اور آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ جمعرات کو سفر کا آغاز فرمائیں۔ (بخاری کتاب الجہاد بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ۔ شرح بخاری جلد ۵ صفحہ ۳۰۴)
پس اس قسم کی روایات کی روشنی میں اس حدیث کا یہی مطلب بنتا ہے کہ چونکہ اس زمانہ میں کئی کئی دنوں کے سفر ہوتے تھے، اس لیے حضورﷺ نے لوگوں کو توجہ دلائی کہ اگر کوئی مجبوری نہ ہوتو جمعرات کو سفر کا آغاز کیا جائے تاکہ اگلے روز تک کسی مناسب جگہ یا منزل پر پہنچ کر جمعہ جو ایک نہایت مبارک دن ہے، اس کی عبادات کو پورے التزام کے ساتھ ادا کیا جائے۔
حضورﷺ کے اس ارشاد کی تعمیل میں جمعرات کے دن سفر کا آغاز کرنے والوں کی نیت چونکہ نیک ہوتی ہے کہ اگلے روز تک اپنی منزل پر پہنچ کر جمعہ کے بابرکت دن کی برکات کو حاصل کیا جائے، اس لیے حضورﷺ نے اس حدیث میں ایسے لوگوں کو برکت کی دعا دی ہے۔
بعض علماء نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، لیکن میرے نزدیک تو اس حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے اسے ضعیف کہا جائے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ حضورؐ نے دراصل ایسے لوگوں کو برکت کی دعا دی ہے جو اس نیت کے ساتھ جمعرات کو سفر کا آغاز کرتے ہیں کہ وہ جمعہ کی برکات سے محروم نہ رہیں اور کسی مناسب جگہ پر پہنچ کر جمعہ کی عبادات کو التزام کے ساتھ ادا کر سکیں۔
باقی جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کی بات لکھی ہے تو اس بارہ میں آپ امیر صاحب کو بتا دیں کہ اس تصویر کی جگہ بدل دی جائے اور اسے قبلہ رخ نہ لگایا جائےبلکہ دائیں یا بائیں کسی سائیڈ پر اس تصویر کو لگا دیا جائے۔ تاکہ اگر کوئی غیر از جماعت احباب مسجد دیکھنے آتے ہیں اور جم وغیرہ کا بھی وزٹ کرتے ہیں تو وہاں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھ سکیں تاکہ وہاں پر اس تصویر کے لگانے کا وہ مقصد پورا ہو سکے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصویر کے بارہ میں بیان فرمایا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اوّل خواہشمند ہوتے ہیں جو اُس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے۔ اور اکثر اُن کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کا ذب۔ اور وہ لوگ باعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں لہذا اُس ملک کے اہل فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علم فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کا ذب نہیں ہے۔ اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ یسوع یعنی عیسی علیہ السلام کی تصویر ہے۔ پس اس غرض سے اور اس حد تک میں نے اس طریق کے جاری ہونے میں مصلحتاًخاموشی اختیار کی۔ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۶۶)
سوال:پاکستان سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا۔ ۱۔ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی محبت پیدا کر کے کرنی چاہیے یا اس کے خوف سے کرنی چاہیے؟ ۲۔ قرآن مجید میں جو بعض سورتوں کے شروع میں حروف مقطعات کا استعمال کیا گیا ہے، حضورﷺکو اس کا علم کیوں نہیں دیا گیا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۵؍جولائی ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:
جواب: آپ کے پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت دونوں طرح ہی کرنی چاہیے، اس سے محبت کی وجہ سے بھی اور اس کی ناراضگی کے خوف کی وجہ سے بھی۔ جس طرح ایک بچہ اپنے والدین سے محبت کرتا ہے لیکن اسے ہر وقت یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ اس کے والدین اس سے ناراض نہ ہو جائیں۔ اسی طرح ایک انسان کو بھی اپنے رب سے محبت کرنی چاہیے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی بہت بےنیاز ہے اس لیے اس کے جلال، اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی کی وجہ سے ہر وقت اس کی ناراضگی سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے۔ پس ان دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے سجدے میں اللہ تعالیٰ سے حصول ذوق عبادت کی دعا کیا کریں۔
۲۔ حروف مقطعات کے بارہ میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ حضورﷺکو تو ان حروف کا علم یقیناً دیا گیا ہو گا، ہمیں پتہ نہیں۔ لیکن حضورﷺنے کسی الہٰی حکمت کے ماتحت ان کے معانی کوعام طور پر بیان نہیں فرمایا۔ تاہم جب یہود نے حضورﷺ کے سامنے ان حروف سے سالوں کی تعداد مراد لی اور ان حروف کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو آپؐ نے ان معانی کا انکار نہیں کیا، بلکہ یہود کے دریافت کرنے پر قرآنی وحی میں نازل شدہ مزید حروف بھی آپ نے انہیں بتائے۔ (فتح البیان فی مقاصد القرآن جزء اوّل صفحہ ۷۰، ۶۹ مطبوعہ۱۹۹۲ء مکتبہ عصریا بیروت۔ زیر آیت نمبر۲ سورۃ البقرہ)
مفسّرین نے بھی ان حروف کے بارہ میں اپنی مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ کسی نے ان حروف کو الٰہی اسرار قرار دیا ہے، کسی نے کہا کہ یہ وہ حروف ہجاء ہیں جن سے قرآن کا معجزانہ کلام بنا ہے، کسی نے انہیں سورتوں کا نام بتایا ہے، کسی نے کہا کہ یہ قسمیں ہیں جو ان سورتوں کے مضامین پر اللہ تعالیٰ نے کھائی ہیں۔ اور بعض نے انہیں بامعانی کلام کا خلاصہ قرار دیا ہے۔ اور بعض نے کہا کہ ان حروف میں دراصل اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر ہے جن کی تشریح بعد کی سورت میں کی گئی ہے، اور ان صفات کے پہلے حروف یا بعض اہم حروف کو مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لیے سورت کے شروع میں بیان کر دیا گیا ہے۔ مغربی محققین نے بھی ایک اوٹ پٹانگ مطلب یہ بیان کیا ہے کہ دراصل یہ حروف ان کاتبوں کے نام ہیں جنہوں نے آنحضور ﷺ کے حکم سے یہ سورتیں لکھیں تھیں۔
بہرحال ان سب باتوں کے باوجود ایک بڑی واضح حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ان حروف کو وحی کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔(سنن ترمذی کتاب فضائل القرآن بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ الْقُرْآنِ)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی حروف مقطعات کی ایک بے نظیر تفسیر بیان فرمائی ہے(تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ ۸۷ تا ۱۰۰۔ مطبوعہ یوکے ۲۰۲۳ء) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حروف اپنے اندر بہت سے معانی اور بہت سے اسرار رکھتے ہیں، اور انہیں سورتوں کے آغاز میں بے معنی طور پر ہر گز نہیں رکھا گیا۔ یہ قرآن کریم کے مضامین کے لیے قفل کا کا م دیتے ہیں، پہلے انہیں سمجھا جائے گا پھر ان مضامین تک انسان کی رسائی ہو گی۔ ان حروف مقطعات میں آئندہ آنے والی سورتوں کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، جب یہ مقطعات بدلتے ہیں تو قرآن کریم کا مضمون بھی جدید ہو جاتا ہے۔ یہ حروف صفات الہٰیہ پر دلالت کرتے ہیں اور ہر حرف کسی ایسی صفت پر دلالت کرتا ہے جس کی تفصیل اس سورت میں پائی جاتی ہے۔ ان حروف میں حروف کی عددی قیمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جس قدر عدد ان حروف کے بنتے ہیں اس قدر زمانہ کے حالات پر ان سے خاص طورپر روشنی پڑتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ تفسیر کبیر سے پڑھ سکتی ہیں۔
سوال: یوکے سے ایک دوست نےحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے؟‘‘ کے انگریزی ترجمہ کے تعارف میں لکھا ہے کہ ایک شخص گناہ اس لیے کرتا ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ درست نہیں، میں خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کامل یقین نہیں کہ گناہ کے بعد لازماً سزا ملے گی اس لیے میں گناہ کرتا ہوں۔ اس لیے اس حصہ کو تبدیل کیا جائے تا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق ہو۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۷؍جولائی ۲۰۲۴ء میں اس امر کے بارہ میں میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب: یوں لگتا ہے کہ آپ کو یہ پوری کتاب پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا اور آپ نے صرف کتاب کا تعارف پڑھ کر یہ سوال اپنے ذہن میں بنا لیا ہے۔ محترم چودھری محمد علی صاحب ایم اے جنہوں نے یہ تعارف لکھا ہے، انہوں نے یہ تعارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیمات کے عین مطابق لکھا ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف مقامات پر حقیقی ایمان اور عرفان کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت فرمائی ہے، بلکہ اس کتاب میں بھی حضور علیہ السلام نے اس مضمون کو بڑی گہرائی اور تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں: گناہوں سے پاک ہونے کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں کیونکہ گندی زندگی درحقیقت مرنے سے بدتر ہے۔ تو میں اس سوال کے جواب میں نہ صرف پُرزوردعویٰ سے بلکہ اپنے ذاتی تجربہ سے اور اپنی حقیقت اس آزمائشوں سے دیتاہوں کہ درحقیقت گناہوں سے پاک ہو نے کے لیے اس وقت سے جو انسان پیدا ہوا آج تک جو آخری دن ہیں صرف ایک ہی ذریعہ گناہ اور نافرمانی سے بچنے کا ثابت ہوا ہے اور وہ یہ کہ انسان یقینی دلائل اور چمکتے ہوئے نشانوں کے ذریعہ سے اس معرفت تک پہنچ جائے کہ جو درحقیقت خدا کو دکھا دیتی ہے اور کھل جاتا ہے کہ خدا کاغضب ایک کھا جانے والی آگ ہے اور پھر تجلی حسن الٰہی ہوکر ثابت ہوجاتا ہے کہ ہریک کامل لذّت خدا میں ہے یعنی جلالی اور جمالی طورپرتمام پردے اٹھائے جاتے ہیں۔ یہی ایک طریق ہے جس سے جذبات نفسانی رُکتے ہیں اور جس سے چار ناچار ایک تبدیلی انسان کے اندر پید ا ہو جاتی ہے۔ اس جواب کے وقت کتنے لوگ بول اٹھیں گے کیاہم خدا پر ایمان نہیں رکھتے؟ کیا ہم خدا سے نہیں ڈرتے اور اس سے محبت نہیں رکھتے؟ اور کیاتما م دنیا بجز تھوڑے افراد کے خدا کو نہیں مانتی اورپھر وہ طرح طرح کے گنا ہ بھی کرتے ہیں اور انواع واقسام کے فسق وفجور میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ ایمان اور چیز ہے اور عرفان اورچیز ہے۔ اور ہماری تقریر کا یہ مدعا نہیں ہے کہ مومن گناہ سے بچتا ہے بلکہ یہ مدعا ہے کہ عارف کامل گناہ سے بچتا ہے یعنی وہ کہ جس نے خوف الٰہی کا مزہ بھی چکھا اور محبت الٰہی کا بھی۔ شاید کوئی کہے کہ شیطان کو معرفت کامل حاصل ہے پھر وہ کیوں نافرمان ہے۔ اس کا یہی جواب ہے کہ اس کو وہ معرفت کامل ہرگز حاصل نہیں ہے جو سعیدوں کو بخشی جاتی ہے۔ انسان کی یہ فطرت میں ہے کہ کامل درجہ کے علم سے ضرور وہ متاثر ہوتا ہے اور جب ہلاکت کی راہ اپنا ہیبت ناک منہ دکھاوے تواس کے سامنے نہیں آتا مگر ایمان کی حقیقت صرف یہ ہے کہ حسن ظن سے مان لے۔ لیکن عرفان کی حقیقت یہ ہے کہ اس مانی ہوئی بات کو دیکھ بھی لے۔ پس عرفان اور عصیان دونوں کا ایک ہی دل میں جمع ہونا محال ہے۔ جیسا کہ دن اور رات کا ایک ہی وقت میں جمع ہوجانا محال ہے۔ (گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے، روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۴۲،۶۴۱)
اس حصے کا انگریزی ترجمہ آپ اس کتاب کے انگریزی ترجمے کے صفحہ ۲۱ اور ۲۲ سے پڑھ سکتے ہیں۔
پس اصل بات یہ ہے کہ عرفان الہٰی اور صرف ایمان میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ صرف ایمان ایک ابتدائی صورت ہے اور عرفان یہ ہے کہ اس چیز کو جس پر وہ ایمان لاتا ہے اپنی روحانی آنکھ سے دیکھ بھی لے۔
سوال: یوکے سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ شیطان اور نفس میں کیا فرق ہے، کیا یہ ایک اندرونی چیز ہے یا پھر اس میں کوئی بیرونی قوت بھی ہے، اور شیطان، نفس، ابلیس اور قوت ارادی کا کیا مطلب ہے؟کہا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے، مگر گناہ تو رمضان میں بھی انسان سے ہوتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۷؍جولائی ۲۰۲۴ء میں اس مسئلہ کے متعلق درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔ حضورانور نے فرمایا:
جواب: شیطان وہ وجود ہے جو خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ہوا اور جس نے قیامت تک انسانوں کو خدا تعالیٰ کے راستہ سے برگشتہ کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ اس لحاظ سے شیطان انسانوں کا کھلا کھلا دشمن ہے اور وہ ہر وقت انسانوں کو گناہوں اور غلط کاموں پر اکسانے اور انہیں برائی کی تحریکات کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دشمن سے ہر وقت محتاط رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا۔ (بنی اسرائیل:۵۴) یعنی شیطان بے شک انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔
نفس کا لفظ مختلف معانوں میں آتا ہے۔ انسان کے دل میں جو خیالات پیدا ہوتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ عام محاورہ میں ہم کہتے ہیں کہ نفس کو مارو۔ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں جو شیطانی خیالات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ختم کرو تاکہ اس کی جگہ نیک نفس یعنی ایسے خیالات جگہ لیں، جو خدا تعالیٰ کے فرشتے انسانوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔
قرآ ن کریم اور احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس پر قابو پانے، اس کی اصلاح کرنے اور اس میں بہتری پیدا کرنے کی قدرت اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے نفس کی تین حالتیں (امارہ، لوامہ اور مطمئنہ) بیان فرمائی ہیں۔ (یوسف:۵۴۔ القیامۃ:۳۔ الفجر:۲۸) نیز حدیث میں آتا ہے کہ بہادر وہ نہیں جو کُشتی میں مدمقابل کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (صحیح بخاری کتاب الادب بَاب الْحَذَرِ مِنْ الْغَضَبِ۔ شرح بخاری جلد۱۴ صفحہ۵۳۵)
پس شیطان تو انسان کو صرف برائی کی طرف راغب کرتا ہے اور نفس میں اللہ تعالیٰ نے دونوں چیزوں کا اختیار رکھا ہے، چاہے تو برائی کا راستہ اختیار کر ے اور چاہے تو نیکی اور تقویٰ کے راستہ پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کا وارث ہو جائے۔ نفس مطمئنہ کا مطلب یہی ہے کہ وہ انسان جو اس دنیا میں بھی اپنے رب کی رضاپر مطمئن ہو جائے اور آخرت میں ملنے والے انعامات سے بھی اطمینان پا جائے۔
باقی رمضان المبارک میں شیطان کے جکڑے جانے، جہنم کے دروازے بند ہونے اور جنت کے دروازے کھولے جانے کے بارہ میں جو حدیث میں آیا ہے یہ سب مجازی اور استعاراتی کلام ہےاور اس سے مراد یہ ہے کہ رمضان جس میں روزوں، تلاوت قرآن کریم اور ذکر الہٰی وغیرہ کے نتیجہ میں لوگوں میں عبادات کی کثرت ہو جاتی ہے اور ان میں نیکیوں کی ایک رَو چل پڑتی ہے۔ نیز خود روزہ بھی شہوانی طاقت جو گناہوں اور بدیوں کی جڑ ہے میں کمی کا باعث ہوتا ہےاس لیے اس مہینہ میں شیطان کو ایسے لوگوں کو نیکی کے راستہ سے ہٹانے اور برائی کی طرف راغب کرنے میں کامیابی نہیں ہوتی اور اس مہینہ میں کی جانے والی نیکیوں کے نتیجہ میں بہت سے لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ کی توفیق ملتی ہے، جس کے نتیجہ میں وہ جہنم کی آگ سے بچ جاتے اور جنت کی نعماء کے وارث بنتے ہیں۔ جو شیطان کی ناکامی کی علامت ہے اور جس کے نتیجہ میں شیطان خود کو بیٹریوں میں جکڑا ہوا محسوس کرتا ہے، کیونکہ اسے اپنے کام اور مقصد میں کامیابی نہیں مل رہی ہوتی۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۲۵)




