متفرق شعراء
صد شمائل ہوئے ہیں جلسے کے

صد شمائل ہوئے ہیں جلسے کے
ہم تو گھائل ہوئے ہیں جلسے کے
حاضری بیسیوں ممالک کی
سب ہی قائل ہوئے ہیں جلسے کے
صرف روحانیت کا ہے ماحول
یہ فضائل ہوئے ہیں جلسے کے
نعمتیں ہر طرح کی وافر ہیں
کیا وسائل ہوئے ہیں جلسے کے!
برکتیں، رحمتیں، ملاقاتیں
سب خصائل ہوئے ہیں جلسے کے
چند تھے مبتدی مگر اب تو
لاکھوں فاعل ہوئے ہیں جلسے کے
وہ تو ناکام ہی رہے ہیں جو
رہ میں حائل ہوئے ہیں جلسے کے
‘‘پاک استھان’’ ہی میں کیوں آخر
سب مسائل ہوئے ہیں جلسے کے؟
جلد دیکھیں گے رونقیں اک دن
ہم بھی سائل ہوئے ہیں جلسے کے
(ابن عبد المجيد)
مزید پڑھیں: تم حزیں بہ آزادی، شاد پا بجولاں ہم




