کلام حضرت مسیح موعود ؑ

قرآن کریم

کاش جانت میل عرفاں داشتے

کاش سعیت تخم حق را کاشتے


کاش تیرا دل معرفت الٰہی حاصل کرنے کی رغبت رکھتا کاش تیری کوشش سچائی کا بیج ہوتی


خود نگه کُن از سر انصاف و دیں

از گماںہا کے شود کار یقیں


تو آپ انصاف و عدل سے غور کر کہ گمان کس طرح یقین کا کام دے سکتا ہے!


ہر که را سُویش درے بکشوده است

از یقیں نے از گماںہا بوده است


جس کا دروازہ خدا کی طرف کھل گیا وہ یقین کی وجہ سے کھلا ہے نہ کہ شبہات کی وجہ سے


قدر فرقاں نزدَت اے غدّار نیست

ایں ندانی کت جز از وے یار نیست


اے غدار ! تو قرآن کی قدر کو نہیں جانتا تجھے کیا پتہ کہ اس جیسا تیرا کوئی اور مونس نہیں


وحی فرقاں مُردگاں را جاں دہد

صد خبر از کوچهٔ عرفاں دہد


قرآن کی وحی مُردوں میں جان ڈالتی ہے اور معرفتِ الٰہی کی سینکڑوں باتیں بتاتی ہے


از یقیں ہا مے نماید عالمے

کاں نہ بیند کس بصد عالم ہمے


اور یقینی علوم کا ایسا جہان دکھاتی ہے جو کوئی سو جہانوں میں بھی نہیں دیکھ سکتا

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۶۰ بحوالہ درثمین فارسی جلد اول مترجم ۷۲ و۷۳)

مزید پڑھیں: بے ثباتیٔ دنیا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button