قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
دُور شو از کبر تا رحم آیدش
بندگی کن بندگی مے بایدش
کبر سے دُور ہو کہ اُسے تجھ پر رحم آئے۔بندگی کر کیونکہ اُسے تو بندگی درکار ہے
زندگی در مُردن و عجز و بکاست
ہر کہ افتادست او آخر بخاست
زندگی تو مر نے، عاجزی اور رونے سے ہے جو (اُس کے آگے) گر گیا وہی نجات پائے گا
ہست جامِ نیستی آبِ حیات
ہر کہ نوشیدست او رَست از ممات
نیستی کا جام ہی (اصل میں ) آبِ حیات ہے جس نے وہ پی لیا وہ موت سے خلاصی پا گیا
عاقِل آں باشد کہ جوید یار را
واز تذلّل ہا بر آرد کار را
عقلمند وہ ہے جو خدا کو تلاش کرتا ہے اور اپنا سارا معاملہ عجز و نیاز سے نکالتا ہے
ابلہے بہتر ازاں عقل و خرد
کت بچاہِ کبر و نخوت افگند
اُس عقل و دانش سے بیوقوفی اچھی جو تجھے کبر و نخوت کے کنوئیں میں ڈال دے
طالبِ حق باش و بیروں از خودآ
خودروی یا ترک کُن بہرِ خدا
خدا کا طالب ہو اور خودی سے باہر آ اور خدا کے لئے خود روی کو ترک کر
من ندانم ایں چہ ایمان ست و دیں
دم زدن در جنبِ ربّ العالمین
میں نہیں جانتا کہ یہ کون سادین و ایمان ہے کہ نا پاک انسان خدا کے مقابلے میں دعویٰ کرے
تو کجا واں قادرِ مطلق کُجا
توبہ کُن ایں ابلہی ہا کم نما
تُو کہاں اور وہ قادر مطلق کہاں! توبہ کر اور ایسی بیوقوفیاں ظاہر نہ کر
یک دمے گر رشحِ فیضش کم شود
ایں ہمہ خلق و جہاں برہم شود
اگر خدا کے فیض کا چھینٹا ایک لمحہ کے لئے کم ہو جائے۔تو یہ تمام خلقت اور جہان زیروز بر ہو جائے
پست ہستی لاف استعلا مزن
واز گلیمِ خویش بیروں پا مزن
تو ایک حقیرسی ہستی ہے بڑائی کی لاف نہ مار۔اور اپنی چادر سے پاؤں باہر نہ نکال
عابد آں باشد کہ پیشش فانی است
عارف آں کو گویدش لاثانی است
بندہ وہ ہے جو خدا کے سامنے ہیچ ہے، عارف وہ ہے جو اسے لاثانی کہتا ہے
خویشتن را نیک اندیشیدۂ
اے ہداک اللّٰہ بد فہمیدۂ
تو نے اپنے تئیں نیک خیال کر لیا ہے خدا تجھے ہدایت دے۔کیسا غلط سمجھا ہے
مزید پڑھیں:ضرورتِ الہام




