متفرق مضامین

تقویٰ،کی،اہمیت،و،برکات

(مدیحہ مصور۔کینیڈا)

عربی لغت کے اعتبار سے تقویٰ کا مادہ و۔ق۔ی۔(وقیٰ) ہے جس کےمعنی کسی چیزکی حفاظت کرنے، کسی مضر اور نقصان دہ چیز سے بچنے کے ہیں۔مذہبی اصطلاح میں تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہےجوانسان کو گناہ میں مبتلا ہونے سے روکتی ہے اور خیر کی طرف رغبت اور شر سے نفرت پیدا کرتی ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ (الحج:۳۳ )اور جو کوئی شعائر اللہ کو عظمت دے گا تو یقیناً یہ بات دلوں کے تقویٰ کی علامت ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کا مرکز دل ہے۔ جب انسان کا دل نیک اور پاک ہوگا تو جسم کے سارے اعضاء پر اس نیکی کا اثرہوگا۔ لیکن اگر دل فاسد اور ناپاک خیالات کی آماجگاہ ہو تو سارے اعضاء میں فسق و فجور کا رنگ نمایاں طور پر نظر آئے گا۔
ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :اَلتَّقْوٰى ھٰھُنَا(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ والآداب) تقویٰ یہاں ہے۔آپﷺ نے یہ الفاظ تین دفعہ دہرائے۔
یہ حدیث بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ تقویٰ کا اصل مقام دل ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم کا خلاصہ تقویٰ ہے۔ تمام اسلامی احکامات کا مقصد انسانی عمل میں تقویٰ کی روح کو پیدا کرنا ہے۔ اسلامی عبادت میں تمام ارکان نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج سب کی غرض تقویٰ کا حصول ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوْنَ(البقرۃ: ۲۲)اے لوگو تم عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام فرماتے ہیں :’’ یہ جو فرمایا کہ یہ کتاب متقین کی ہدایت ہے یعنی ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ تو اتّقا جو افتعال کے باب پر ہے اور یہ باب تکلف کے لیے آیا کرتا ہے۔ یعنی اس میں اشارہ ہے کہ جس قدر یہاں ہم تقویٰ چاہتے ہیں وہ تکلف سے خالی نہیں، جس کی حفاظت کے لیے اس کتاب میں ہدایات ہیں۔ گویا متقی کو نیکی کرنے میں تکلیف سے کام لینا پڑتا ہے۔‘‘(ملفوظات،جلد اوّل، صفحہ ۱۸،ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تقویٰ کے مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
”تقویٰ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایسا خوف یا ایسی تڑپ جو اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے بے چین رکھے۔ پس یہ بے چینی دل کو تقویت دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بناتی ہے۔ دنیا دار کی بے چینی اس کے برعکس دلوں پر حملہ کرنے والی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا، محسن میں شمار ہونے والا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بنتا ہے۔“ (خطبہ جمعہ، ۳ /فروری ۲۰۱۲ء،بمقام مسجد بیت الفتوح لندن،مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل)
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں متقیوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَلٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ… وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ( البقرۃ:۱۷۸ )اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کا ایک نقشہ کھینچا ہے جو کہ ایک معیار ہے۔ جس سے اہل تقویٰ کو غیر اہل تقویٰ سے ممتاز کیا جا سکتا ہے۔
تقویٰ کی برکات
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لیے بے شمار انعامات اور بیش قیمت ثمرات کے پانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ جن میں سے چند انعامات کا ذکر پیشِ خدمت ہے۔ایک انعام جو کہ بہت بڑا انعام ہے۔ اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعائیں سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ (المائدۃ:۲۸ )گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ یہ اُس کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
دوسرا انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کے کاموں کا خود متکفل بن جاتا ہے اور اس کے لیے رزق کے ایسے سامان پیدا کرتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ؕ وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَایَحۡتَسِبُ۔ (الطلاق:۴،۳ )
اور جو اللہ سے ڈرے اس کے لیے وہ نجات کی کوئی راہ بنا دیتا ہے۔اور وہ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کر سکتا۔
تیسرا انعام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو اپنے قرب سے نوازتا ہے اور اپنا دوست بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَاللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُتَّقِیۡنَ( الجاثیہ: ۲۰ )جبکہ اللہ متقیوں کا دوست ہوتا ہے۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ بَلٰی مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ( آل عمران:۷۷ ) ہاں، کیوں نہیں! جس نے بھی اپنے عہد کو پورا کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو اللہ متقیوں سے محبت کرنے والا ہے۔
چوتھا انعام یہ ہے کہ متقیوں کو اسی دنیا میں بشارتیں ملتی ہیں۔ یہ بشارتیں سچی خوابوں اور الہامات اور مکاشفات کے ذریعہ سے ملتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں متقی کے بارے میں فرماتا ہے۔
لَھُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ (یونس:۶۵ )ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اورآخرت میں بھی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”جو متقی ہوتے ہیں ان کو اسی دنیا میں بشارتیں سچے خوابوں کے ذریعہ ملتی ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ صاحب مکاشفات والہامات ہو جاتے ہیں۔ مکالمۃ اللہ کا شرف حاصل کرتے ہی وہ بشریت کے لباس میں ہی ملائکہ کو دیکھ لیتے ہیں۔“(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء،صفحہ۳۶،بحوالہ تفسیرحضرت مسیح موعودؑجلد۴صفحہ ۳۶۰)
متقی تمام اخروی نعمتوں کے وارث ہوں گے۔تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ کَانَ تَقِیًّا۔(مریم:۶۴ ) یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ (القلم:۳۵ )یقیناً متقیوں کے لیے ان کے رب کے حضور نعمتوں والی جنتیں ہیں۔
متقی تمام قسم کی بھلائیاں اور کامیابیاں اور برکات حاصل کریں گے۔
اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ مَفَازًا (النبا:۳۲ )لَہُمۡ فِیۡہَا مَا یَشَآءُوۡنَ ؕ کَذٰلِکَ یَجۡزِی اللّٰہُ الۡمُتَّقِیۡنَ(النحل:۳۲ )ان کے لیے ان میں وہی کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ اسی طرح اللہ متقیوں کو جزا دیا کرتا ہے۔
قرآن مجید سے پتاچلتا ہے کہ متقیوں کو وقتی طور پر تکالیف اورمصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابتلابھی آتے ہیں۔ لیکن اُن کا انجام دونوں جہان میں اچھا ہوتا ہے۔وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (القصص:۸۴ )اورانجام تو متقیوں کا ہی ہے۔پھروَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی (طٰہٰ :۱۳۳ )اور نیک انجام تقویٰ ہی کا ہوتا ہے۔
یہ چند انعامات ہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں متقیوں کے لیےاور انعامات کابھی وعدہ کیا گیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
” ہماری جماعت کے لیے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے۔ تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی رُوبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔“(ملفوظات جلد اول، صفحہ ۹، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کی حقیقی راہوں پرقدم مارنےکی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بنائے۔ آمین۔


مزید پڑھیں: انسان کی زندگی کا اصل مقصود تقویٰ کا حصول ہے جس کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ انسان گناہوں سے بچ سکے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button