اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ…کیا تم عقل نہیں کروگے؟
ایک حقیقت افروز جائزہ!
(ابن ایس حمید ۔کیرلہ۔انڈیا)
قرآن کریم حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں نہایت واضح الفاظ میں فرماتا ہے: رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ (وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے)…اب اگر یہی حضرت عیسیٰؑ آخری زمانے میں ہمارے بعض دوستوں کے عقائد کے مطابق ایک عالمی دورے پر تشریف لائیں، اور صرف بنی اسرائیل ہی نہیں بلکہ پوری دنیا بلکہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے بھی جلوہ افروز ہوں تو پھر اس آیت کا کیا بنے گا؟
حضرت عیسیٰؑ کی زکوٰۃ: قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے (گہوارے میں ہی) اپنی زندگی کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: وَاَوۡصٰنِیۡ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمۡتُ حَیًّا (مریم:۳۰) (اور اس نے مجھے تاکید فرمائی ہے نماز کی اور زکوٰۃ کی، جب تک میں زندہ رہوں۔)
اب ذرا ٹھہر کر اس پر غور کیجیے! اگر (جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے)حضرت عیسیٰؑ گذشتہ دو ہزار سال سے آسمانوں پر اپنے اسی خاکی جسم کے ساتھ موجود ہیں، تو
۱۔ وہ وہاں زکوٰۃ کس کے حوالے کرتے ہوں گے؟
۲۔ زکوٰۃ کا مصرف کہاں ہوگا؟
۳۔ زکوٰۃ تو زمین کے ضرورت مندوں، مسکینوں، بیواؤں اور حاجت مندوں کا حق ہوتا ہے۔کیا وہاں کوئی ایسی فہرست موجود ہے؟
۴۔ کیا آسمانوں پر بھی کوئی غربت کی لکیر ہے یا وہاں بھی کوئی ایسا طبقہ موجود ہے جو زکوٰۃ کا مستحق ہو؟
رَجَعَ نہیں، نَزَلَ ہے: اگر یہ مان لیا جائے کہ دو ہزار سال پہلے تشریف لانے والے حضرت عیسیٰؑ ہی دوبارہ بعینہٖ وہی ہستی بن کر آئیں گے، تو بظاہر اس کے لیے لفظ رَجع (واپسی) استعمال ہوتا۔لیکن روایات میں رسولِ اکرم ﷺ نے نزل کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے معنی اترنا، ظاہر ہونا یا مبعوث ہونا ہے۔
نیزہ بازی اور تلوار بازی: علماء احادیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجّال کو باب لُدّ کے مقام پر نیزہ اور تلوار کے وار سے انجام تک پہنچائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ دجّال، حضرت عیسیٰؑ کو دیکھتے ہی یوں پگھلنے لگے گا جیسے پانی میں نمک گھل جاتا ہے۔ اب ذرا اس منظر کا تصور کیجیے۔
ایک طرف دیدار ہوتے ہی نمک کی طرح گھل جانے والی ہستی اور دوسری طرف اس کے خلاف نیزہ اور تلوار کی پوری تیاری!
معراج کا منظر: کیا صرف ایک ہی جسم موجود تھا؟ احادیثِ مبارکہ میں معراج کے واقعے کی تفصیلات نہایت وضاحت سے ملتی ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اس مبارک رات مختلف آسمانوں پر انبیائے کرام کی ایک بڑی جماعت سے ملاقات فرمائی، جن میں حضرت آدمؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ شامل تھے۔
یہاں ایک اہم فکری سوال پیدا ہوتا ہے جو روایتی عقائد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے:
باقی انبیاء کی حالت: پوری اُمّتِ مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت یحییٰؑ تک، جن جن انبیاء سے حضورﷺ کی ملاقات ہوئی، وہ سب کے سب وفات پاچکے ہیں۔استثناء صرف ایک کے لیے کیوں؟ اسی موجود فہرست میں حضرت عیسیٰؑ کا نام بھی آتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مجمع میں صرف حضرت عیسیٰؑ ہی تھے جو اپنے جسمِ عنصری (اسی مٹی کے جسم)کے ساتھ بیٹھے تھے؟ جبکہ باقی تمام انبیاء صرف روحانی طور پر موجود تھے؟ یکساں حالت یا امتیازی سلوک؟ جب حدیث کا سیاق و سباق تمام انبیاء کے لیے ایک جیسا ہےتو یہ تفریق کرنا کہ ایک نبی تو زندہ جسم کے ساتھ وہاں مقیم ہے اور باقی سب وفات یافتہ ہیں، عقل اور قرینِ قیاس سے باہر ہے۔
جھگڑا کس بات پر تھا ؟سولی پر چڑھانے پر یا قتل پر ؟ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ (النساء: ۱۵۸) اور وہ ىقىناً اسے قتل نہىں کرسکے اور نہ اسے صلىب دے (کر مار) سکے بلکہ ان پر معاملہ مشتبہ کر دىاگىا۔
ہمارے کچھ علماء نے حضرت عیسیٰؑ کے واقعے کو کسی تجسس بھرے فلمی کلائمکس میں بدل دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عین اس وقت جب دشمن سر پر پہنچے، ایک خاموش ‘‘اداکار‘‘ بدلا گیا (جسے وہ بے چارہ یہوداہ بتاتے ہیں)۔ گویا اوپر سے کوئی غیبی بٹن دبا، چہرہ بدلا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی!
ایک پورا مجمع، جلاد، سپاہی اور گواہ سب کے سب ایک ہی وقت میں ’اجتماعی اندھیرے‘ کا شکار ہو گئے۔ یعنی شناختی پریڈ نہیں ہو رہی تھی بلکہ کوئی جادو کا شو چل رہا تھا!
قرآن کریم کا اصل بیان: مقصد کیا تھا؟ذرا سنجیدگی سے قرآن پڑھیے، وہاں کوئی جاسوسی ناول نہیں چل رہا۔ اللہ تعالیٰ کسی ’شناختی تبدیلی‘ کی جرح نہیں فرما رہا، بلکہ یہودیوں کے اس تکبر آمیز دعوے کو کلیةً غلط ثابت کر رہا ہے کہ ’ہم نے عیسیٰ ابنِ مریم کو قتل کر دیا!‘
جواب ملا: تمہارا تیر نشانے پر بیٹھا ہی نہیں۔نہ تم انہیں قتل کر سکے، نہ سولی کے ذریعے ان کا کام تمام کر سکے۔ یعنی تمہارا ’اعلانِ فتح‘ محض ایک خام خیالی تھی۔
اسٹیج بدلا یا تقدیر؟بات یہ نہیں تھی کہ اسٹیج پر اچانک کردار بدل گیا اور تماشائیوں کوبیوقوف بنا دیا گیا۔
اصل بات یہ تھی کہ جس مقصد (لعنتی موت)کے لیے سولی کا منصوبہ بنایا گیا تھا، وہ ناکام ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم کسی اور کو عیسیٰؑ سمجھ کر سولی چڑھاتے رہے اور پورا شہر پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کا منہ دیکھتا رہا؛ بلکہ یہ فرمایا کہ تمہارا دعویٰ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔نتیجہ بالکل صاف ہے:حضرت عیسیٰؑ اس صلیبی موت سے معجزانہ طور پر نجات پاگئے، اور دشمن ہاتھ ملتے رہ گئے۔ یہ کسی ’باڈی ڈبل‘ کا کمال نہیں تھا، بلکہ خدا کی تدبیر تھی جس نے موت کے مہیب جبڑوں سے اپنے نبی کو نکال لیا!
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس زمانے کے عینی شاہد- یہودی اور عیسائی- دونوں یہی کہتے ہیں کہ سولی پر چڑھایا جانے والا شخص عیسیٰؑ ہی تھے۔ صدیوں بعد یہ کہنا کہ دراصل کوئی اَور تھا،یہ ایک من گھڑت بات ہے۔ نہ قرآن میں اس کی صراحت ملتی ہے، نہ بائبل میں یہ ذکر کہ ’اصل میں کس کو سولی دی گئی‘ اس پر کوئی تاریخی جھگڑا کھڑا ہوا تھا۔اور اگر مَا صَلَبُوْهُ کا مطلب یہ لیا جائے کہ سرے سے سولی دی ہی نہیں گئی، تو پھر یہوداہ کو سولی دیے جانے کی پوری داستان کیوں ترتیب دی جائے؟ جب سولی تھی ہی نہیں (بقول بعض حضرات)، تو یہوداہ کے لیے سولی کہاں سے آگئی؟
آخر سوال وہی رہ جاتا ہے:بحث قتل کے دعویٰ کی تھی یا چہرہ بدلنے کے کسی ڈرامے کی؟
ہمارے کچھ دانشوروں نے سولی کے واقعے کو کسی پرانی بلیک اینڈ وائٹ فلم کا سنسنی خیز سین بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عین اس وقت جب سپاہی گرفتاری کے لیے پہنچے، ایک ’جادوئی تبدیلی‘ ہوئی اور یہوداہ کا چہرہ بدل کر حضرت عیسیٰؑ جیسا کر دیا گیا۔ گویا وہاں کوئی میک اپ آرٹسٹ بیٹھا تھا جس نے پلک جھپکتے میں ایسا ماسک پہنایا کہ دشمن تو دشمن، گھر والے بھی دھوکا کھا گئے!
لیکن ذرا اس ’لاوارث خاموشی‘ پر غور کریں:
یہوداہ کا سکوت: کیا سولی پر چڑھتے وقت یہوداہ کے منہ میں دہی جما ہوا تھا؟ وہ بے چارہ کم از کم اتنا تو چلاتا کہ ’’بھائیو! میں عیسیٰ نہیں ہوں، تمہارا اپنا مخبر ہوں!‘‘ مگر نہیں، وہ خاموشی سے سولی پر چڑھ گیا جیسے اسے اپنی نئی شناخت سے بہت پیار ہو۔
اخلاقِ نبوی کا سوال: دوسری طرف، یہ تصوّر کرنا کتنا عجیب ہے کہ حضرت عیسیٰؑ بحفاظت اوپر جا رہے تھے اور نیچے ایک بے گناہ (یا کوئی اَور) ان کے نام پر سولی چڑھ رہا تھا، مگر انہوں نے مڑ کر ایک بار بھی یہ نہیں کہا: ’’ارے ظالمو! اسے چھوڑ دو، مَیں تو یہ رہا!‘‘ کیا ایک نبی کی غیرت اور اخلاق یہ گوارا کر سکتے ہیں کہ ان کی جگہ کوئی اَور سولی پر لٹک جائے اور وہ خاموشی سے نکل جائیں؟ یہ تو کسی جاسوسی فلم کا مفرور کردار ہی کر سکتا ہے، اللہ کا جلیل القدر نبی نہیں!
آدھا سفر اور لوکیشن کی خرابی!: ہمارے روایتی عقائد نے معراج کے واقعے کو ایک ایسی پہیلی بنا دیا ہے جس میں منطق ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ صحیح بخاری کی حدیثِ معراج بتاتی ہے کہ جب رسولِ اکرمﷺ ساتوں آسمانوں کی حدیں پار کرکے، سدرۃ المنتہیٰ سے بھی آگے گزر گئے اور وہاں اپنے رب کے حضور ’’قربِ خاص‘‘ پایا، تو راستے میں آپﷺ کی ملاقات دیگر انبیاء سے بھی ہوئی۔دلچسپ منظر یہاں شروع ہوتا ہے:روایت کے مطابق حضرت عیسیٰؑ آپﷺ کو چوتھے آسمان پر ملے۔
اب ذرا حساب لگائیے! قرآن کہتا ہے کہ رَفَعَهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ (النساء : ۱۵۹) اللہ نے حضرت عیسیٰؑ کو ’اپنی طرف‘ اٹھا لیا۔بلکہ عیسیٰؑ سے وعدہ بھی کیا تھا کہ رَافِعُكَ (آل عمران: ۵۶) تجھے میں اپنی طرف اٹھاؤں گا!
اب سوال یہ ہے کہ پھر حضرت عیسیٰؑ نے ’اوپر‘ جاتے ہوئے راستے میں چوتھے آسمان پر قیام فرما لیا اور پھر آگے جانا بھول گئے؟یہ تو وہی بات ہوئی کہ کسی کو شاہی محل میں مدعو کیا جائے، لیکن وہ بیچارہ گیٹ کیپر کے پاس ہی ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جائے اور کہے کہ ’بس جی، میری منزل یہیں تک تھی!‘
اگر اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا تھا تو وہ چوتھے آسمان پر کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ وہاں پہنچ کر تھک گئے تھے یا راستہ بھول گئے تھے؟ یا پھر (نعوذ باللہ) اٹھانے والے کے زور میں اتنی ہی سکت تھی کہ صرف چوتھے آسمان تک پہنچا سکا؟
مشن امپوسیبل۔ بنی اسرائیل سے گلوبل ٹور تک۔ قرآن کریم حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں نہایت واضح الفاظ میں فرماتا ہے: رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ (وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے)۔یعنی مشن متعین، قوم متعین، مخاطب متعین۔ بات صاف اور سیدھی۔اب اگر یہی حضرت عیسیٰؑ آخری زمانے میں ہمارے بعض دوستوں کے عقائد کے مطابق ایک عالمی دورے پر تشریف لائیں، اور صرف بنی اسرائیل ہی نہیں بلکہ پوری دنیا بلکہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے بھی جلوہ افروز ہوں تو پھر اس آیت کا کیا بنے گا؟ کیا بعثت کی حد بندی وقتی تھی؟ یا پھر اسے بھی منسوخ کی فہرست میں شامل کریںگے؟!
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا (محمد: ۲۵)پس کىا وہ قرآن پر تدبر نہىں کرتے ىا دلوں پر اُن کے تالے پڑے ہوئے ہىں!
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :
وہ لغو دیں ہے جس میں فقط قصہ جات ہیں
اُن سے رہیں الگ جو سعید الصفات ہیں



