یادِ رفتگاں

فہیم الدین ناصر صاحب مربی سلسلہ رومانیہ

(سعید الحسن شاہ۔ مربی سلسلہ سیرالیون)

مورخہ ۱۵؍ستمبر۲۰۲۵ء کو یہ افسوسناک اطلاع ملی کہ ہمارے ایک عزیز دوست، بھائی فہیم الدین ناصر صاحب مربی سلسلہ رومانیہ میدان عمل میں ہی کچھ دن بیمار رہنے کے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

یقیناًیہ شہادت کی موت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو پہنچانے کے لیے گھر سے دُور میدان عمل میں، جہاد اکبر کے دوران اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور اپنے پیاروں میں جگہ عطا فرمائے۔آمین

حضورانورایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ان کی بعض خوبیوں کا ذکر فرمایا اور یقیناً خلیفہ وقت کے ان الفاظ کے بعد کسی تعریفی کلمے کی گنجائش نہیں رہتی۔ خاکسار کی کچھ ذاتی یادیں ان سے وابستہ تھیں۔ سوچا اس بہانے شہید بھائی کا ذکر خیر ہو جائے۔

فہیم الدین ناصر صاحب ۱۴؍جولائی ۱۹۷۳ء کو مرزا مجید احمد صاحب مرحوم اور صفیہ بیگم صاحبہ (حال مقیم آسٹریلیا) کے ہاں پیدا ہوئے۔ ۱۹۸۹ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ جامعہ میں سات سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد یکم جولائی ۱۹۹۶ء کو شاہد کا امتحان پاس کیا اور فارغ التحصیل ہوئے۔

خاکسار کو فہیم الدین ناصر صاحب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا اور انہیں نہایت اعلی اخلاق کا مالک پایا۔ جب ۲۰۰۵ءمیں خاکسار کا تقرر گیمبیا کے لیے ہوا تو گیمبیا آنے سے پہلے وکالت تبشیر میں کچھ ماہ اکٹھے گزارنے کا موقع ملا۔ اس دوران پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مبلغین کے لیے چھ مہینے کے لیےانگلش کلاس کا بندوبست کیا گیا جس میں دیگر مبلغین کے علاوہ خاکسار کو فہیم الدین صاحب کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا اوراس دوران ان کی بہت ساری خوبیاں سامنے آئیں۔

فہیم صاحب نہایت درجہ کے محنتی ،اپنے کام کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرنے والے، ملنسار، پُرمزاح، شگفتہ مزاج، بردبار، عاجز اور نہایت خوش اخلاق تھے۔ بعض دفعہ اگر کسی بات پر دوستوں کے درمیان ہلکی سی تلخی کی بات بھی ہوتی تو اپنے تدبّر اور حلیمی سے موضوع بدل دیتے۔ اور یہ نظارہ کئی دفعہ دیکھنے کو ملا۔ ایک دفعہ ایک شادی کے دوران جس کے انتظامات ان کے ذمہ تھے کچھ تلخی سی پیدا ہونے لگی تو انہوں نے نہایت تدبّر اور عاجزی سے اسے بدل دیا اور ماحول پُرسکون ہو گیا۔

مذکورہ بالا انگریزی کلاس کے دوران اپنی حس مزاح کی وجہ سے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھتے اور کلاس میں قہقہوں کی برسات سی جاری ہو جاتی۔ گو فہیم صاحب سے کلاس سے پہلے بھی تعلق تھا۔ لیکن اس کلاس کے بعد دوستی کا یہ رشتہ بہت مضبوط ہو گیا اور وہ مربیان جو اس کلاس کا حصہ تھے ابھی تک جب کہ اس زمانے کو جس کو بیتے ہوئے بھی بیس سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا یاد کرتے ہیں۔ خاکسار کو گذشتہ جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کی سعادت نصیب ہوئی تو ایک اور دوست جو اس کلاس کا حصہ تھے اور اب بھی بیرون ملک خدمات بجا لا رہے ہیں جلسہ پر ملے۔ ہم کلاس کی یادوں میں کھو گئے اور بالخصوص فہیم صاحب کی کلاس کے دوران شگفتہ مزاجی کو یاد کرتے رہے۔ یہی تاثرات ان کے باقی کلاس فیلوز کے بھی ہیں۔ ان کے ایک کلاس فیلو مکرم منیر حسین صاحب مربی سلسلہ سیرالیون کہنے لگے کہ وہ تین چار سال تک سیٹ فیلو رہے ہیں۔ بہت اچھا وقت گزرا بہت نفیس طبیعت کے مالک تھے۔

فہیم صاحب جب بیرون ملک آگئے تو ان سے رابطہ بہت کم ہو گیا لیکن گاہے بگاہے ان کی خیریت کی اطلاع ملتی رہتی تھی۔ خاکسار کینیڈا گیا تو ان کے بڑے بھائی مکرم برہان صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کے دل کی ہلکی سی تکلیف کا ذکر کیا اور بتایا کہ اب الحمد للہ ٹھیک ہیں۔ لیکن اس شدید تکلیف اور پھر یوں اچانک اللہ کے حضور حاضر ہوجانا اس کا گمان نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے شہید بھائی کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام فیملی ممبرز کو صبر جمیل عطا فرمائے، بالخصوص ان کی ضعیف العمر والدہ صاحبہ کو جنہیں اس عمر میں یہ صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ پہلے ان کی سب سے چھوٹی بیٹی یعنی فہیم صاحب کی سب سے چھوٹی بہن دیار غیر میں فوت ہوگئیں اور اب فہیم صاحب۔ خاکسار نے ان سے تعزیت کی گو بہت صدمے میں تھیں لیکن کوئی بے صبری کے کلمات نہیں کہے اور اللہ کی رضا پر راضی تھیں اتنے صبر اور حوصلے والی عظیم خاتون کہ خاکسار کی اہلیہ جب ان سے تعزیت کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ پا سکیں اور شدید رنج کا اظہار کیا تو انہیں تسلی دینے لگیں کہ ہم اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔

اللہ تعالیٰ حضور انور کو ایسے سلطان نصیر عطا فرماتا چلا جائے۔ الحمد للہ ان کا مقام ان مربیان و واقفین کی زرّیں لسٹ میں آگیا جو دیار غیر میں جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔ جیسے حضرت عبید اللہ صاحبؓ ماریشس میں حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب سیرالیون میں اور کئی دیگر مبلغین بھی۔ اور ان کے ذریعے سے احمدیت کی روشنی ان ملکوں میں پھیلی اسی طرح اللہ کرے کہ رومانیہ کی سرزمین پر احمدیت کا پودا جس کو ہمارے شہید بھائی نے اپنے خون سے سینچا ہے ایک تن آور درخت بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button