الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔
حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خانصاحبؓ
(گذشتہ سے پیوستہ۔ آخری قسط)
محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب رقمطراز ہیں کہ حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ کو آنحضرت ﷺ سے بےحد عشق تھا۔ ہزاروں حدیثیں ازبر یاد تھیں۔ آپؓ نے ’’شمائل ترمذی‘‘ کا انگریزی ترجمہ کیا جو Prophet at Home کے نام سے شائع ہوا۔ پھر قریباً دو ہزار احادیث کا ترجمہ بھی کیا جو The Wisdom of the Holy Prophet کے نام سے شائع ہوا۔ آنحضرتﷺ کی سوانح پر آپ نے Seal of the Prophets کے نام سے ایک معرکہ آراء کتاب لکھی جو بےحد مقبول ہوئی۔
اسلام پر ایک درجن سے زائد کتب کے مصنف مشہور مستشرق جناب کینتھ کریگ (Kenneth Cragg) کی کتاب Event of the Quran ایک دن حضرت چودھری صاحبؓ کے ہاتھ میں تھی اور آپؓ کی آنکھیں پُرنم تھیں۔ فرمایا کہ اس شخص نے باوجود عیسائی اور معاند اسلام ہونے کے اس کتاب میں قرآن کریم کو جو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور آنحضرتﷺ کا جس پیارے انداز میں ذکر کیا ہے اسے پڑھ کر میں اپنی طبیعت پر قابو نہ پا سکا۔ آنحضورﷺ کے اخلاق فاضلہ کا یہ کمال ہے کہ دوست تو دوست بیگانے بھی آپؐ کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پھر فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو مسٹر کریگ سے میری ملاقات کا انتظام کرو۔ چنانچہ خاکسار نے اُن کو کھانے پر مدعو کیا۔ حضرت چودھری صاحبؓ نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ انہوں نے باوجود عیسائی ہونے کے آنحضرتﷺ کو گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ مسٹر کریگ نے عرض کیا کہ میں محمدؐ کو ایک سچا اور پاک انسان سمجھتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کے لیے عظیم کام کیا ہے۔ اگرچہ عقیدۃً مجھے اُن کی بعض تعلیمات سے اختلاف ہے لیکن میں اُن کی بڑائی کا دل سے قائل ہوں۔
لندن مشن میں ایک مرتبہ جلسہ سیرت النبی ﷺ کی صدارت کے لیے مشہور مستشرق جناب منٹگمری واٹ (Montgomery Watt) کو دعوت دی گئی اور وہ خاص اس جلسہ میں شامل ہونے کے لیے ایڈنبرا سے لندن تشریف لائے۔ حضرت چودھری صاحبؓ نے اُن سے کہا کہ آپ کی کتاب ’’محمد ایٹ مکہ‘‘ پڑھ کر مجھے افسوس ہوا کہ آپ نے حضورﷺ کی ذات پر ناروا اور غلط اعتراضات کیے تھے اور مَیں نے یہ عہد کیا کہ آئندہ آپ کی کوئی کتاب نہیں پڑھوں گا کیونکہ آپ کا انداز دیانتدارانہ نہیں تھا۔ لیکن جب ایک دوست کے اصرار پر مَیں نے آپ کی کتاب ’’محمد ایٹ مدینہ‘‘ پڑھی تو مَیں نے محسوس کیا کہ آپ کا انداز وہاں مؤدبانہ تھا اور اپنی ناسمجھی کے نتیجہ میں جو غلط باتیں آپ نے لکھی ہیں وہ اس لیے نظرانداز کرنے کے قابل ہیں کہ آپ کا مطالعہ آنحضورﷺ کے اُسوہ کے بارے میں اتنا وسیع نہیں جتنا ایک مسلمان عالم کا ہو سکتا ہے۔ مسٹر واٹ نے کہا کہ آپ نے بالکل صحیح فرمایا ہے۔ پہلے میری معلومات کا دائرہ اتنا وسیع نہ تھا جتنا بعدمیں ہوا اس لیے دونوں کتب میں نمایاں فرق ہے۔
٭…حضرت چودھری صاحبؓ سے ایک دفعہ ماریشس کی ایک خاتون ملنے آئیں اور واپس جاکر آپؓ کی خدمت کے جذبہ کے پیش نظر آپ سے شادی کی پیشکش کی۔ آپؓ نے اس خاتون کو جوابی مکتوب میں لکھوایا: ’’آپ کی تجویز میرے لیے باعث عز ّو شرف ہے۔ لیکن میری بہت سی کمزوریاں اسے قبول کرنے میں مانع ہیں۔ گذشتہ دس برسوں میں میری زندگی نے ایسا رُخ اختیار کیا ہے جسے بدلنا باوجود خواہش کے میرے لیے ممکن نہیں کیونکہ یہ رُخ میں نے خود ہی اختیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں اپنی اس زندگی سے کاملاًمطمئن اور خوش ہوں۔ چند باتیں قابل غور ہیں: پہلی یہ کہ میرے پاس کوئی زائد وقت نہیں۔ مَیں صبح چار بجے اُٹھتا ہوں۔ سوا چھ بجے کے قریب اپنے گھر سے سوا دو میل کی چہل قدمی کرتا ہوا Peace Palace میں واقع اپنے چیمبر میں پہنچ جاتا ہوں۔ ساڑھے چھ بجے شام اپنے گھر واپس آتا ہوںاور کھانے و نمازوں سے فراغت کے بعد نو بجے شب سونے کے لیے تیار ہو جاتا ہوں۔ اپنے احباب اور ملاقاتیوں سے بھی اپنے چیمبر میں ہی ملتا ہوںجیسا کہ آپ سے ملاقات کا موقع بھی وہیں ملا۔ زندگی کے اس تسلسل سے میں شاذ ہی اِدھر اُدھر ہوتا ہوں اور وہ بھی کسی انتہائی مجبوری کے پیش نظر۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں اپنے ذاتی اخراجات کے لیے اس سے زیادہ علیحدہ نہیں کرتا جس سے بمشکل میری ضروریات پوری ہو سکیں۔ بقیہ آمد رفاہِ عامہ کے ایسے کاموں کے لیے وقف ہے جو مَیں نے اپنے اوپر واجب کر رکھے ہیں۔ اس رقم میں سے مَیں اپنی کسی ضرورت کے لیے کچھ نہیں لیتا۔
تیسری بات یہ کہ جہاں تک ذاتی محبت اور پیار کا تعلق ہے یہ مجھے بفضلہ تعالیٰ اپنی بیٹی اور نواسے نواسیوں سے مل جاتا ہے۔ مجھے اُن سے اور اُنہیں مجھ سے دِلی محبت ہے۔ وہ میرے لیے حقیقی اور دائمی مسرت و انبساط کا باعث ہیں۔
چوتھی یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وفادار، مخلص اور پیار کرنے والے احباب کا ایک وسیع حلقہ میسر ہے جو مجھ سے بے لوث محبت کرتے ہیں۔ میری کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور بوقت ضرورت میری راہنمائی کے لیے مجھے تنبیہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ بھلا ۷۸ برس کی عمر میں مجھے اَور کیا چاہیے؟ کیا مناسب ہوگا کہ میں اپنی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کرلوں؟ اگر مَیں نے ایسا کیا تو میں مسلسل بدمزگی کا شکار ہوجائوں گا۔ میرے خیال میں مجھے اللہ تعالیٰ کے بےپایاں فضلوں اور بےشمار رحمتوں کا شکر گزار ہونا چاہیے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے یہ اندازہ ہو کہ گویا کسی چیز کی کمی تھی جسے پورا کیا گیا ہے۔
٭…نماز سے اپنی محبت کے حوالے سے حضرت چودھری صاحبؓ نے یہ واقعہ خود سنایا کہ ایک بار بادشاہ کی والدہ ملکہ Mary نے مجھے بطور شاہی مہمان قصر بیڈمنٹن (گلاسٹرشائر) میں دعوت دی۔ یہ ایک ہندوستانی کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ محل میں پہنچنے پر لارڈ کلاڈ ہملٹن نے مجھے ملکہ کی خدمت میں حاضری کے آداب پر لیکچر دیا اور یہ بھی کہا کہ ملکہ کی حاضری کے وقت اپنی گھڑی کو نہ دیکھوں، ایسا کرنا بےادبی میں شامل ہے۔ جب ملکہ تشریف لائیں اور گفتگو شروع ہوئی تو یہ ملاقات خلاف معمول لمبی ہو گئی۔ دورانِ ملاقات مجھے خیال آیا کہ میری عصر کی نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے یہ کہیں ضائع نہ ہو جائے۔ اس پریشانی میں مَیں نے ملکہ کی نظر بچا کر اپنی گھڑی کو دیکھا۔ ملکہ بےحد زیرک تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تمہیں کسی اَور سے بھی ملنا ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ ملکہ معظمہ کی ملاقات سے بڑھ کر اَور کونسی ملاقات ہو سکتی ہے۔ لیکن میں نے گھڑی کو دیکھنے کی گستاخی اس لیے کی ہے کہ مجھے مالکِ کُل جہان کے دربار میں بھی حاضری دینی ہے اور عصر کی نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ ملکہ نے فرمایا: ’’بے شک اپنے خالق کی عبادت اور اس کے احکامات کی تعمیل ہم سب پر فرض ہے۔‘‘ ملکہ معظمہ فوراً اُٹھ کھڑی ہوئیں اور اپنی سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ظفراللہ خان سے اس کی نمازوں کے اوقات دریافت کرکے مجھے اس کی اطلاع دو۔ نیز اگر میں کسی وقت ظفراللہ خان سے محو گفتگو ہوں اور ان کی نماز کا وقت ہوجائے تو مجھے بتا دیا جائے۔ … اس کے بعد جب بھی مَیں ملکہ کی خدمت میں حاضر ہوتا وہ بار بار پوچھتی تھیں کہ آپ کی نماز کا وقت تو نہیں ہو گیا؟
٭…حضرت چودھری صاحبؓ کی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے ریٹائرمنٹ کا قصہ بھی بہت ایمان افروز ہے۔ ۱۹۷۲ء میں آپؓ کا نام بطور جج دوبارہ انتخاب کے لیے بھجوایا گیا۔ آپ کو یقین تھا کہ آپ مزید ۹ سال کے لیے منتخب ہوجائیں گے لیکن ایک رات آپؓ نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا۔ آپؑ نے کمال شفقت سے فرمایا: ظفراللہ! اب دنیا کے ان جھمیلوں کو چھوڑ کر بقیہ زندگی کلیۃً خدمت دین کے لیے وقف کردو۔ چنانچہ صبح اٹھ کر آپؓ نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنا نام واپس لے لیااور فوراً لندن چلے آئے کہ مبادا دیگر جج صاحبان آپؓ کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں۔ آپؓ چاہتے تو خواب کی تعبیر کسی اَور رنگ میں کرسکتے تھے لیکن آپؓ نے کسی دنیوی عہدہ یا ذرائع آمدن کی پرواہ نہیں کی۔
٭…حضرت چودھری صاحبؓ کو پاکستان سے بہت محبت تھی۔ فرمایا کرتے تھے کہ۱۹۴۷ء میں تقسیم ملک کے وقت مَیں نے فیصلہ کرلیا کہ مَیں فیڈرل کورٹ آف انڈیا سے علیحدہ ہوجائوں گا اور لاہور جا کر وکالت کے پیشہ سے منسلک ہوجائوں گا۔ پنڈت نہرو صاحب نے مجھے ہندوستان میں رہنے کے لیے اعلیٰ عہدوں کی پیشکش کی لیکن مَیں آمادہ نہ ہوا۔ انہی دنوں نواب سر حمیداللہ خان والیٔ بھوپال دہلی تشریف لائے ۔ انہوں نے مجھے دعوت دی کہ کچھ عرصہ کے لیے بطور مشیر اُن کے پاس بھوپال آجائوں۔ مَیں نے اس وجہ سے کہ نواب صاحب ہمیشہ میرے ساتھ بہت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے، اُن کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ بھوپال پہنچا تو کھانے کی میز پر نواب صاحب نے فرمایا : ظفراللہ خان! آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے کہ بھوپال میری مدد کے لیے تشریف لائے ہیں لیکن ہم نے آپس میں بات نہیں کی ہے کہ آپ کی خدمات کا معاوضہ کیا ہوگا؟ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں کسی معاوضہ کی لالچ میں آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوا۔ آپ سے تعلقِ اخوّت و محبت کی وجہ سے میں نے آپ کی پیشکش کو قبول کیا ہے۔ نواب صاحب نے فرمایا کہ آپ کی ماہوار تنخواہ چالیس ہزار روپے ہوگی۔ اس پر کوئی ٹیکس بھی نہیں ہوگا۔ نیز ہم نے آپ کی رہائش کے لیے اپنے محل کا ایک آرام دہ حصہ مخصوص کر لیا ہے۔ آپ کی فیملی کا کھانا شاہی باورچی خانہ میں بلامعاوضہ تیار ہوا کرے گا۔
پھر نواب صاحب نے چھ نہایت خوبصورت بڑی موٹریں مع ڈرائیورز دیں۔ مَیں نے عرض کیا مجھے تو صرف ایک گاڑی کی ضرورت ہوگی۔ وہ فرمانے لگے ایک گاڑی سے تو دل اکتا جاتا ہے اس لیے یہ سب گاڑیاں آپ کے لیے ہیں۔
کچھ عرصہ بعد قائد اعظم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا کہ تم فوراً پاکستان آجائو، ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔ انہوں نے مجھے پاکستان کا وزیرخارجہ مقرر کر دیا۔ تنخواہ چار ہزار روپے ماہوار ملنے لگی جس پر ٹیکس بھی دینا پڑتا تھا۔ شروع میں لمبے عرصہ تک کراچی کے ایک ہوٹل میں دو کمروں میں رہائش رہی۔ ایک موٹر ملی۔ باوجود ان نامساعد حالات کے، مَیں نے پاکستان کی خدمت کا عزم کیااور کسی پریشانی کی کوئی پرواہ نہ کی۔
(یہ تھی چودھری صاحب کی وطن سے محبت کی کیفیت!)
٭…سر خضر حیات خان ٹوانہ صاحب تقسیم ملک سے قبل متحدہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے تھے۔ ایک بار وہ لندن تشریف لائے اور پکاڈلی کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہوئے۔ حضرت چودھری صاحبؓ کا وہ بےحد احترام کرتے تھے۔ آپؓ اُن کو ملنے گئے تو اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری نے استقبال کیا۔ ہوٹل کا سارا فلور خان صاحب کے لیے بُک تھا۔ لفٹ پر بھی اُن کے ملازم مامور تھے۔ وہ ایک وسیع ڈرائنگ روم میں تشریف فرما تھے۔ اردگرد ان کے خدام باادب ایستادہ تھے۔ انہوں نے نہایت پُرتپاک انداز میں آپؓ کااستقبال کیا اور بتایاکہ وہ جب بھی لندن آتے ہیں توہوٹل کا یہ پوراوِنگ ان کے لیے ریزرو ہوتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ اپنے کچن کاسٹاف، نوکر چاکر وغیرہ بھی لاتے ہیں۔ پھر بتایا کہ اس سال میری بیوی بچے میرے ساتھ نہ آسکے، تاہم یہ ساراونگ میرے لیے ریزرو ہے۔ آپؓ نے فرمایا: جب آپ کے اہل و عیال آپ کے ساتھ نہیں آئے تو پھر اتنی بڑی جگہ ریزرو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو رقم کا ضیاع ہے۔ انہوں نے کہا: ’’میری ساری زندگی اسی طرح گزری ہے۔ ہمیں خدا نے بہت دولت دی ہے اور دولت تو ہوتی ہی انسان کے آرام کے لیے ہے۔‘‘ پھر اُن کے پوچھنے پر آپؓ نے فرمایا کہ ’’مَیں احمدیہ مشن ہائوس میں اِن کے ساتھ والے فلیٹ میں رہتا ہوں اور کھانا بھی ان کے ساتھ کھاتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا: چودھری صاحب! آپ کو بھی اللہ نے بہت دولت دی ہے۔ … آپ بڑے سے بڑے مکان میں رہائش اختیارکرسکتے ہیں۔ پھر یوں فقیری اختیار کرنے کی کیاضرورت ہے؟ آپؓ نے جواب دیا: ’’خضر! اس طرح فقیری میں زندگی گزارکرغریبوں، محتاجوں، بیوائوں اورناداروں کی خدمت کرنے میں جو لطف، سکون و اطمینان ہے، کاش وہ مَیں بیان کرسکتا!…‘‘
٭…ایک بار آپؓ نے ارشاد فرمایا کہ پاکستان جانے کے لیے کسی سستی ایئرلائن کاٹکٹ خرید لائو۔ مَیں نے اپنی بےوقوفی سے کئی بار عرض کیا کہ آپ کو فرسٹ کلاس میں سفرکرنا چاہیے لیکن آپؓ یہ سن کر خاموش رہے۔ بہرحال بُکنگ ہوگئی۔ اُسی شام مجھے اس ائیر لائن کے جنرل مینیجر کافون آیا کہ کیا یہ وہی ظفراللہ خان ہیں جو پاکستان کے وزیرخارجہ اور انٹرنیشنل کورٹ کے صدر تھے۔ مَیں نے کہا: ہاں یہ وہی ہیں۔ اس نے کہا: اگرممکن ہو تووہ آپؓ سے ملناچاہیں گے۔ میں نے اگلے دن انہیں چائے پر بلایا۔ وہ تشریف لائے اور حضرت چودھری صاحبؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ ہماری ایئرلائن سے آپؓ سفرکرنے والے ہیں تو مَیں نے فوراً اپنے ہیڈآفس سے رابطہ کرکے انہیں بتایا۔ اس پر مجھے ہیڈآفس سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ اُن کے ٹکٹ کو فرسٹ کلاس میں بدل دیا جائے اور انہیں VIP کی تمام سہولیات میسرکی جائیں اور فلائٹ کے دوران ان کی خدمت کے لیے ایئرہوسٹس مخصوص کی جائیں اور ان سے اکانومی اور فرسٹ کلاس کے درمیان کے کرایہ کا فرق قبول نہ کیا جائے۔
جب وہ صاحب چلے گئے تو حضرت چودھری صاحبؓ نے میراہاتھ پکڑ کر نہایت جذباتی اندازمیں پُرنم آنکھوں کے ساتھ فرمایا: ’’آپ باربارمجھے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کو کہہ رہے تھے اور مَیں اس بات پر مُصر تھا کہ مَیں اکانومی سے ہی سفر کروں گا اور رقم بچاکرغریبوں پرخرچ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس بحث و مباحثہ کو آسمان سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی محبت کااظہار یوں کیا کہ اس نے ایئر لائن کے جنرل مینیجر کو تحریک کی کہ ظفراللہ خان جو ہماراایک عاجز بندہ ہے اور ہمیں پیارا ہے، اسے فرسٹ کلاس میں سفر کرائو۔ خواہ اس کے پاس اکانومی کاٹکٹ ہی کیوں نہ ہو!‘‘
٭…حضرت چودھری صاحبؓ صحیح معنوں میں ایک عارف باللہ وجود تھے۔ عبادت آپ کی روح کی غذا تھی۔ اعلیٰ ترین سطحوں کے اجتماعات ، میٹنگز، ملاقاتوں میں کبھی آپ نے نماز قضا نہیں ہونے دی۔ دیکھنے والوں نے ہمیشہ آپ کو تہجد کا پابند پایا۔ لندن مشن کی تیسری منزل سے آپ ہر نماز کے لیے باوجود پیرانہ سالی اور کمزوری کے اتنی ساری سیڑھیاں چڑھتے اور اترتے۔ نماز جمعہ کے لیے اوّل وقت تشریف لاتے اور ہمیشہ پہلی صف میں تشریف فرما ہوتے۔
٭…حضرت چودھری صاحبؓ کا ذکرخیر کرتے ہوئے مکرمہ سلیمہ ناہید رفیق صاحبہ (اہلیہ محترم بشیر احمد رفیق خان صاحب)لکھتی ہیں کہ حضرت چودھری صاحبؓ کو سالہاسال مَیں نے بہت قریب سے دیکھا اور مَیں علیٰ وجہ البصیرت کہہ سکتی ہوں کہ خلفائے احمدیت کے بعد مَیں نے ان کو بہت عظیم پایا۔ آپؓ کھانے کے معاملہ میں نہایت سادگی پسند تھے۔ دس سالوں میں ایک دفعہ بھی کبھی کھانے میں نقص نہیں نکالا۔ بس جو بھی کھانا ان کے آگے رکھ دیا،کھا لیا۔ مَیں اکثر بااصرار پوچھتی کہ اپنی من پسند کوئی چیز بتائیں تو اُن کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ اس بات کا دھیان رکھ کر کہ مَیں ذیابیطس کا مریض ہوں،آپ جو بھی پکائیں گے مَیں شوق سے کھالیا کروں گا۔ دہی اور شہدآپ کو بہت پسند تھے۔ آئس کریم بھی شام کے کھانے میں پسند فرماتے تھے۔ غذا کی مقدار بہت تھوڑی تھی۔
آپ عمر کے لحاظ سے میرے والد صاحب سے بھی زیادہ عمر کے تھے۔ اگر میرے خاوند مصروفیت کی وجہ سے کھانے کے وقت پر گھر نہ پہنچ سکتے تو آپؓ مقررہ وقت پر تشریف لاتے۔ مَیں میز پر کھانا پیش کرتی۔ آپؓ سارا وقت نظر نیچی رکھتے۔ بات بھی کرتے تو نظر ہرگز اُوپر نہ اٹھاتے۔ یہی حال میری بچیوں کے ساتھ تھا۔ ان سے بعض اوقات گھنٹوں باتیں کرتے رہتے تھے لیکن مجال ہے جو دورانِ گفتگو نظر اُونچی کی ہو۔ مجھے عام طور پر ’’خانم‘‘ کے لفظ سے مخاطب فرمایا کرتے تھے۔
ٹیلی ویژن گھر میں رکھنا آپؓ کو پسند نہ تھا۔ بچوں کو بھی اس سے دُور رہنے کی تلقین فرماتے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ ٹیلی ویژن آنے سے لوگوں میں اعلیٰ ادبی ذوق ختم ہوتاجارہا ہے اور وقت ضائع ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایک دفعہ میرے بیٹے نے عرض کیا کہ اگر ٹی وی کا استعمال صرف خبروں کے لیے ہو تو پھر بھی آپ کو اعتراض ہوگا؟ فرمانے لگے: مَیں تم سے زیادہ باخبر رہتا ہوں اور مجھے دنیابھر کی خبریں اخبارات سے معلوم ہو جاتی ہیں۔ اخبار پڑھنے سے نہ صرف خبریں معلوم ہوتی ہیں بلکہ انگریزی زبان پر بھی قدرت پیدا ہوتی ہے۔
اگرچہ آپؓ کو بوجہ ذیابیطس، وقت پر کھانا کھانے کی عادت تھی لیکن جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ تشریف لاتے تو مجھے فرمایا کرتے کہ آپ ساری توجہ حضورؒ کے آرام پر دیں۔ میرے پاس بسکٹ وغیرہ ہیں۔ وقت پر کھانانہ مل سکا تو بسکٹ کھالیا کروں گا۔ لیکن حضورؒ کو بھی حضرت چودھری صاحبؓ کے آرام کا بےحد خیال رہتا تھا۔ ایک دفعہ حضورؒ نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اس بات پر سختی سے کاربند رہو کہ حضرت چودھری صاحب کو ہم سے پہلے کھانا بھجوایا جائے۔
………٭………٭………٭………



