گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
دعا کی طاقت
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ’’ایک بزرگ کسی شہر میں بہت بیمار ہوگئے اور موت تک حالت پہنچ گئی تب اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔دوست حیران ہوئے کہ یہ عابد زاہد آدمی ہیں۔یہودیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی کیوں خواہش کرتے ہیں شاید اِس وقت حواس درست نہیں رہے۔انہوں نے پھر پوچھا کہ یہ آپ کیا فرماتے ہیں؟ بزرگ نے کہا کہ تم میرے فقرہ پر تعجب نہ کرو۔میں ہوش سے بات کرتا ہوں اور اصل واقعہ یہ ہے کہ تیس سال سے میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے موت طوس کے شہر میں آوے پس اگر آج میں یہاں مر جاؤں تو جس شخص کی تیس سال کی مانگی ہوئی دعا قبول نہیں ہوئی وہ مسلمان نہیں ہے۔میں نہیں چاہتا کہ اِس صورت میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو کر اہل اسلام کو دھوکا دوں اور لوگ مجھے مسلمان جان کر میری قبر پر فاتحہ پڑھیں۔قدرت خداوندی وہ اس وقت تندرست ہوگیا اور پھر دس پندرہ سال کے بعد شہر طوس میں بیمار ہو کر فوت ہوگیا۔‘‘
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 169۔ایڈیشن 1988ء)
سوال جواب
سٹوڈنٹس اور بچے رمضان کا کیسے اہتمام کریں؟
٭…آسٹریلیا کی واقفاتِ نو کے پروگرام گلشن وقف نو مورخہ 12؍اکتوبر 2013ء میں ایک بچی نے حضور انور کی خدمت اقدس میں سوال کیا کہ ہم رمضان کے روزے کس عمر میں رکھنا شروع کریں؟اس استفسار کا جواب عطا فرماتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
’’روزے تم پر اس وقت فرض ہوتے ہیں جب تم لوگ پوری طرح Matureہو جاؤ۔ اگر تم سٹوڈنٹ ہو اور تمہارے امتحان ہو رہے ہیں تو ان دنوں میں اگر تمہاری عمرتیرہ، چودہ،پندرہ سال ہے تو تم روزے نہ رکھو۔ اگر تم برداشت کر سکتی ہوتو پندرہ سولہ سال کی عمر میں روزے ٹھیک ہیں۔ لیکن عموماً فرض روزے جو ہیں وہ سترہ، اٹھارہ سال کی عمر سے فرض ہوتے ہیں، اِس کے بعد بہرحال رکھنے چاہئیں۔ باقی شوقیہ ایک، دو، تین، چار روزےاگر تم نے رکھنے ہیں تو آٹھ دس سال کی عمر میں رکھ لو، فرض کوئی نہیں ہیں۔ تمہارے پہ فرض ہوں گےجب تم بڑی ہو جاؤ گی، جب روزوں کو برداشت کر سکتی ہو۔… برداشت اُس وقت ہوتی ہے جب تم جوان ہو جاتی ہو،کم از کم سترہ اٹھارہ سال کی ہو جاؤ تو پھر ٹھیک ہے۔ پھر روزے رکھو۔ سمجھ آئی؟تمہارے اماں ابا کیا کہتے ہیں؟ دس سال کی عمر میں تم پر روزہ فرض ہو گیا ہے؟ لیکن عادت ڈالا کرو۔چھوٹے بچوں کو بھی دو تین روزے ہر رمضان میں رکھ لینے چاہئیں تا کہ پتہ لگے کہ رمضان آ رہا ہے۔ لیکن روزے نہ بھی رکھنے ہوں تو صبح اٹھواو ر اماں ابا کے ساتھ سحری کھاؤ، نفل پڑھو، نمازیں باقاعدہ پڑھو۔ تم لوگوں کا، سٹوڈنٹس کا اور بچیوں کا رمضان یہی ہے کہ رمضان میں اٹھیں ضرور اور سحری کھائیں، اہتمام کریں اوراس سے پہلے دو یا چار نفل پڑھ لیں۔ پھر نمازیں باقاعدہ پڑھیں۔قرآن شریف باقاعدہ پڑھیں‘‘۔
(بنیادی مسائل کے جوابات قسط ایک۔ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 30؍اکتوبر 2020ء)
رمضان میں گھروں کو سجانا
ایک خادم نے سوال کیا کہ سوشل میڈیا پر اِس طرف بڑھتا ہوا رجحان نظر آ رہا ہے کہ ایسے احمدی جن کے چھوٹے بچے ہیں وہ اپنے گھروں کو رمضان کے لیے سجاتے ہیں جیسے نماز پڑھنے کی جگہ کو سجانا اور اس کے نیچے تحائف رکھنا اور عید کی انتظار میں بچوں کےلیے کیلنڈر کی اس طرز پر تیاری کرنا جیسے عیسائیت میں کیلنڈر تیار کیا جاتا ہے۔ پیارے حضور ہم اپنے بچوں کو ایسے کاموں سے کیسے روک سکتے ہیں؟
حضور انورنے فرمایا کہ دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ عمل کے پیچھے کیا نیت ہے۔ اگر تو وہ رمضان میں اپنے گھروں کو اس لیے سجاتے ہیں تا کہ اپنے بچوں کو رمضان کی اہمیت سمجھا سکیں تو اِس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر تو انہوں نے اپنے کیلنڈر رمضان کے روزوں کو گننے کےلیے یعنی پہلا دوسرا تیسرا چوتھا اور پانچواں روزہ وغیرہ بنائے ہیں، بچوں کو بتانے کی خاطر کہ پہلا دوسرا تیسرا چوتھا روزہ ہے اور 29یا 30 دنوں بعدہم عید منائیں گے جو بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ تب بچے عید کی اہمیت کے بارے میں پوچھیں گے تو پھر آپ ان کو بتا سکتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمیں نماز عید میں شامل ہونا چاہیے یہاں تک کہ ایسی عورتیں جن کو مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے جانے کی اجازت نہیں بھی ہے تو اُن کو بھی مسجد میں عید کا خطبہ سننے کےلیے جانا چاہیے بلکہ نماز گاہ کے باہر بھی بیٹھا جا سکتا ہے تا ہم یہ ہرایک پر فرض اور لازم ہے۔اور جب وہ دنوں کو گن رہے ہوں گے تو آپ ان کو بتا سکتے ہیں کہ روزہ کیا ہے اور اسلام میں 30روزے کیوں رکھے جاتے ہیں اور یہ سابقہ انبیاء کی تمام امتوں پر اُن کے اپنے دَور میں فرض تھے جیسا کہ قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے مگر ان کا روزہ رکھنے کا طریق مختلف تھا۔ اگر تو یہ نیت ہے کہ رمضان اور عید سے متعارف کروایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں البتہ اگر صرف نقل کرنا مقصود ہے کہ چونکہ عیسائی ایسا کرتے ہیں اس لیے ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے اور آپ (بچوں) کو روزےکا پس منظر نہیں بتاتے، روزوں اور عید کی اہمیت نہیں بتاتے تو پھر یہ غلط ہے۔تو اس میں ایک لطیف فرق ہے۔ ہم ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ایک شخص نے اِس نیت سے ایسا کیا ہے۔ اگر تو وہ شخص کہتا ہے کہ میری نیت نیک تھی تو ہمیں یہ کہنے کا حق نہیں کہ نہیں تم غلط ہو، مَیں جانتا ہوں کہ تمہاری نیت نیک نہیں ہے۔ آپ اور ہم تو خدا نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ کٹر نہ بنیں۔
(الفضل انٹرنیشنل 8؍جولائی 2022ء)