الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ

حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ (یکے از ۳۱۳؍اصحاب احمدؑ) ولد سلطان بخش صاحب کی سیرت کا بیان روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۵؍مارچ ۲۰۱۴ء میں مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ نہایت نیک اور صوفی مزاج بزرگ تھے۔ محکمہ ریلوے میں ملازم تھے اور لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام سننے کے بعد ابتدا میں ہی ایمان لے آئے۔ آپؓ کی بیعت کا اندراج ’’رجسٹر بیعتِ اولیٰ‘‘میں ۷؍فروری۱۸۹۲ء کی تاریخ میں درج ہے۔ حضورعلیہ السلام نے ۳۱۳؍کبار صحابہ مندرجہ ’’انجام آتھم‘‘ میں آپؓ کا نام ۲۱۶ویں نمبر پر درج فرمایا ہے۔

آپؓ حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کے چچا تھے جن کی والدہ اُن کے بچپن میں وفات پاگئی تھیں۔ چنانچہ اُن کی پرورش اور دیکھ بھال اُن کی چچی حضرت برکت بی بی صاحبہؓ (اہلیہ محترمہ حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ) نے کی تھی۔

حضورعلیہ السلام اور خلافت سے حضرت شیخ مولابخش صاحبؓ کو جو عقیدت تھی اس کا اندازہ اُس نصیحت آموز خط سے ہوسکتا ہے جو آپؓ نے اپنے بھتیجے کو لکھا تھا اور حضرت عرفانیؓ نے اس کا ایک حصہ اخبار بدر میں شائع کردیا۔ قادیان میں رہائش کو ایک آزمائش قرار دیتے ہوئے آپؓ لکھتے ہیں:

یہ باغ عدن دنیا میں ہے اس لیے شیطان کی آزمائش کا بھی اندیشہ ضروری ہے اس لیے مَیں تم کو تاکید کرتا ہوں کہ سب پھل کھانا مگر خودپسندی اور عیب چینی کا پھل نہ کھانا۔ (رَبَّنَا لَاتُشْمِتْ بِنَاالْاَعْدَاءَ وَلَاتَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْن۔ آمین) قادیان رہنے میں تجھ کو یہ بھی تاکید کرتا ہوں کہ زیادہ اختلاط عوام الناس سے کرنا اچھا نہیں۔ نہ تکبر و انانیت کی رُو سے بلکہ بےجا تکلّفی کے سبب سے بھی کیونکہ اس سے بےلطفی پیدا ہوجاتی ہے جس کا آخری نتیجہ بدمزگی، رنجش اور بدگمانی پیدا کرتا ہے۔ اپنے کام سے فارغ ہوکر خلوت میں لکھنے پڑھنے میں مصروف رہنا چاہیے۔ اپنی سیلف ریسپیکٹ کا خیال بھی ضروری ہے۔ حضرت اقدسؑ کے وعظ وپند سے مستفیض ہونا اور اُن کی عملی زندگی کے رنگ سے رنگین ہونے کی سعی کرنا چاہیے۔ اور مولانا نورالدین صاحبؓ اور مولانا عبدالکریم صاحبؓ جیسے اشخاص کی صحبت سے فیض اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ لوگ علاوہ دنیوی امور میں تجربہ اور وجاہت رکھنے کے دینی امور میں صادق اور راسخ الایمان ہیں۔ تکبر سے بچنا اور سب سے خندہ پیشانی سے ملنا۔ ہر ایک کام خشیۃاللہ سے شروع کرنا چاہیے۔ کیونکہ سلیمان کہتا ہے کہ خدا کا خوف حکمت کا آغاز ہے اور قرآن کہتا ہے کہ جس کو حکمت دی گئی اُسے خیرکثیر دی گئی۔ امام کے پاس بیٹھنا، اس کے ساتھ کھانا کھانا کوئی مشکل کام نہیں مگر ہر وقت دعا مانگنی چاہیے کہ خداتعالیٰ صدق نیت عطا کرے اور ایسا نہ ہو کہ ہم کسی کے لیے ٹھوکر کا پتھر بن جائیں۔ یہودااسکریوطی بھی مسیحؑ کے ساتھ رہتا تھا اور پطرس بھی۔ پس ہمیشہ دعا اور استغفار کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس مبارک عہد پر قائم رکھے جو امام الوقت کے ہاتھ پر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو اپنی ضرورتوں کا متکفّل نہیں بنانا چاہیے اور نہ اُس کی رضاجوئی کو چھوڑ کر اپنی غرض کو پیش نظر رکھ کر کوئی کام کرنا چاہیے۔ وہ اُن کے لیے ہی مولیٰ اور وکیل ہوتا ہے جو اُس سے رشتہ عبودیت کا سچ مچ گانٹھ لیتے ہیں۔ (ماخوذ)

حضرت شیخ صاحبؓ اور آپؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت برکت بی بی صاحبہؓ بھی ابتدائی موصیان میں سے تھے۔ دونوں کا وصیت نمبر ۲۲۹ ہے۔ اہلیہ محترمہ نے ۲۹؍جنوری۱۹۱۱ء میں لاہور میں وفات پائی جبکہ آپؓ نے ۱۴؍فروری۱۹۲۸ء کو وفات پائی۔ دونوں بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہیں۔ خداتعالیٰ نے اس جوڑے کو تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔

………٭………٭………٭………

مکرم یوسف لطیف صاحب آف بوسٹن

ایفرو امریکن احمدی بھائی مکرم یوسف لطیف صاحب آف بوسٹن ۲۳؍ستمبر۲۰۱۳ء کو ۹۳؍سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مرحوم کا ذکرخیر اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا اور بعدازاں نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔ ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ امریکہ جنوری ۲۰۱۴ء میں اُن کے بارے میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔

حضورانور نے فرمایا کہ مکرم یوسف لطیف صاحب ۹؍اکتوبر۱۹۲۰ء کو Tennessee سٹیٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتب پڑھنے کے بعد ۱۹۴۸ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ آپ کا شمار ابتدائی افریقن امریکن احمدیوں میں ہوتا ہے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ اُس وقت میرا فرض بنتا تھا کہ میں بیعت کروں۔ اگر مَیں بیعت نہ کرتا تو مَیں خداتعالیٰ اور سچائی سے اپنا منہ موڑنے والا ہوتا۔

مکرم یوسف لطیف صاحب نے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مختلف یونیورسٹیوں میں بطور پروفیسر پڑھاتے رہے۔ کئی کتب کے مصنف بھی تھے جن میں آپ کی اپنی سوانح بھی شامل ہے۔ ان کی قد آور شخصیت کی وجہ سے ان کی وفات کی خبر فوراً ہی امریکہ اور دنیابھر میں پھیل گئی اور امریکہ کے تمام بڑے اخبارات میں شائع ہوئی۔

صدر کلنٹن کی دعوت پر جب یہ وائٹ ہاؤس میں گئے تھے تو شلوار قمیض پہن کر گئے تھے۔ انہوں نے اپنے پیشے میں سب سے اونچا ایوارڈ حاصل کیا جو نوبل پرائز کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ مرحوم احمدی تھے اس لیے دین پر کبھی کمپرومائز (compromise) نہیں کیا۔ موسیقی کے اوپر انہوں نے بہت کچھ لکھا لیکن کبھی ایسی جگہوں پر، ایسے فنکشنوں میں کبھی شامل نہیں ہوتے تھے جہاں شراب وغیرہ ہو۔ آپ کو حج اور عمرے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مالی قربانی اور چندہ جات میں غیر معمولی قربانی پیش کرتے۔ لوکل سیکرٹری مال کہتے ہیں کہ ان کی عادت تھی کہ مہینے کے دوران جب بھی ان کو تنخواہ کا چیک ملتا تو سب سے پہلے اپنے لازمی چندہ جات ادا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ مجھے آج بھی اتنا ہی یقین ہے جتنا اُس وقت تھا جب میں نے بیعت کی تھی کہ احمدیت کا راستہ سچائی کا راستہ ہے اور یہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اس راستے پر چلنے والا کوئی شخص تباہ نہیں ہو سکتا۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس راستے پر چلنے سے مَیں اور میرا خاندان نجات پا جائیں گے۔ اور میرا ایمان ہے کہ احمدیت تمام انسانوں میں بھائی چارہ پیدا کرنے کی تعلیم پیش کرتی ہے۔

مرحوم کو قادیان اور ربوہ کی زیارت کا بھی موقع ملا۔ خلافت سے آپ کو والہانہ محبت تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ، حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اور مجھے (یعنی حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ کو)بھی مل چکے تھے۔ لندن بھی گذشتہ سال جلسہ پر آئے ہوئے تھے تو اس وقت بیمار تھے اور وہیل چیئر پر ہی تھے۔ بہت نیک اور نمازوں کے پابند تھے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی میں باقاعدہ تھے۔ نہایت شفیق اور ہر ایک سے پیار و محبت کا سلوک کرنے والے مخلص انسان تھے۔

احمدی احباب کے علاوہ غیر از جماعت دوستوں سے بھی بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔آپ کو لمبا عرصہ مختلف حیثیتوں سے جماعتی خدمات کی توفیق ملی۔ تبلیغ کا بہت شوق رکھتے تھے۔ جماعتی لٹریچر اپنے ہمسایوں اور رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ جیب میں ہمہ وقت کچھ فلائرز وغیرہ رکھتے اور جہاز میں اپنے ہم سفروں میں تقسیم کرتے اپنے خرچ پر نابینا افراد کے لیے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ اور بچوں کی تربیت کے متعلق کتب انہوں نے شائع کیں۔ مرحوم موصی تھے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ عائشہ لطیف صاحبہ اور ایک بیٹا مکرم یوسف لطیف صاحب بھی ہیں۔

………٭………٭………٭………

شذرات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۶؍مارچ ۲۰۱۴ء میں قومی جرائد سے چند دلچسپ اقتباسات (مرسلہ:مکرم ناصرالدین بلوچ صاحب) شائع ہوئے ہیں۔

٭…جناب ضیاءشاہد بیان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف علماء کا ایک وفد جلوس کی شکل میں قائداعظم کے پاس آیا۔ آپؒ نے فرمایا: میرے پاس صرف دس منٹ ہیں، آٹھ منٹ آپ کے لیے اور دو منٹ میرے لیے۔ علماء نے تمہید میں ہی آٹھ منٹ پورے کردیے تو قائداعظم نے ہاتھ سے انہیں روکا اور فرمایا: اب دو منٹ میرے لیے ہیں۔ ہمیں ہر شخص کی ضرورت ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنی الگ ریاست حاصل کرلیں اس کے بعد بیٹھ کر فیصلہ کرتے رہیے گا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ میری نظر میں ہر وہ شخص مسلمان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔

اس پر بہت لے دے ہوئی اور دیوبندی اور احراری مولویوں کی طرف سے قائداعظمؒ کو ’’کافراعظم‘‘ بھی کہا گیا۔ (ماخوذ از اردو ڈائجسٹ دسمبر۲۰۱۲ء صفحہ۱۰۲)

٭…حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیںکہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے ایک غریب بیوہ عورت سے بار بار پوچھا کہ کوئی ضرورت ہو تو بیان کرو۔ اُس کا ایک لڑکا بھی تھا اور بےحد غریب تھی۔ لیکن وہ یہی کہتی رہی کہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔ اُس کے گھر میں صرف ایک چھوٹا سا لحاف اور معمولی سی چارپائی تھی۔ آپؓ نے پوچھا مائی!تمہیں لحاف چاہیے، سردی زیادہ ہے اور لحاف چھوٹا ہے۔ کہنے لگی میرا لحاف بڑا عمدہ ہے۔ ہم ماں بیٹا ایک ہی جگہ سو جاتے ہیں۔ جب سردی لگتی ہے تو پہلے ایک پہلو کو گرم کرلیتے ہیں پھر دوسرے کو۔ آپؓ نے اصرار کیا کہ کوئی ضرورت تو بیان کرو۔ اس پر اُس نے کہا کہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے، باریک حرفوں والے قرآن سے حروف نظر نہیں آتے، اگر کچھ دینا ہی ہے تو موٹے حرفوں والا قرآن لے دیں۔ پس خدا نے اُسے دنیا میں ہی جنت دے رکھی تھی۔ اُس کے دل میں ہی جنّت تھی اسی لیے کسی دوسری چیز کی خواہش پیدا ہی نہ ہوئی۔ (ماخوذ از خطبات محمود جلد۱۳ صفحہ۵۵۲)

٭…تقسیم ہندکے زمانے میں لاہور کے ایک اشاعتی ادارے کے مالک پنڈت نول کشور تھے۔ انہوں نے احترامِ قرآن کا معیار یہ مقرر کیا تھا کہ پہلے تو پنجاب بھر سے اعلیٰ ساکھ والے حفاظ اکٹھے کرکے زیادہ تنخواہ پر ملازمت دی۔ جہاں قرآن کی جلدبندی ہوتی تھی وہاں کسی کو جوتوں سمیت جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک بار پنجاب اسمبلی کے سربراہ سرچھوٹورام تشریف لائے تو اُن کو بھی اس قاعدے کا احترام کرنا پڑا۔ اس اصول پر وہ سودے بازی کے قائل نہ تھے اور کہتے تھے کہ ’’مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میرا ادارہ چلتا ہے یا نہیں مگر مَیں احترام کے معاملے میں لچک ظاہر نہیں کرسکتا۔‘‘ ادارے میں دو ملازمین کا صرف یہ کام تھا کہ کاغذ کے ہر اُس ٹکڑے کو اٹھاکر بوری میں بند کرلیں جو کبھی قرآنی اوراق کا حصہ رہا ہو۔ پھر ان بوری بند اوراق کو دریا میں بہا دیا جاتا یا زمین میں دفن کردیا جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ پنڈت جی نے مسلمانوں کا دل جیت لیا تھا اور جب تقسیم ہند کے بعد انہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا تو لاہور کے لوگوں نے انہیں اُن کے خاندان اور سامان سمیت سرحد کے پار پہنچایا۔ پنڈت جی نے دہلی جاکر بھی اشاعتِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہاں کے مسلمان بھی آپ کے گرویدہ تھے اور دہلی مسجد کے امام بخاری سے اُن کے ذاتی تعلقات تھے۔ چنانچہ ۱۹۵۱ء میں اُن کا انتقال ہوا تو ہندو رسوم کے مطابق اُن کی ارتھی اٹھی۔ سوگواران میں مسلمانوں کا ہجوم بھی شامل تھا۔ ارتھی کو شمشان گھاٹ لے جاکر چتا پر رکھا گیا اور نذرآتش کیا جانے لگا تو خشک ایندھن نے آگ پکڑنے سے انکار کردیا۔ رسم کے مطابق گھی کے کئی ٹین بھی انڈیلے جاچکے تھے۔ امام بخاری کو علم ہوا تو فوراً وہاں پہنچے اور پنڈت جی کے لواحقین کو بڑی حکمت سے سمجھایا کہ احترامِ قرآن کی وجہ سے پنڈت جی کے جسم کو آگ نہیں لگ سکتی اس لیے آپ بھی اُن کو دفن کرکے خالق حقیقی کے منشاء پر عمل کریں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اُنہیں شمشان گھاٹ میں دفن کرنے کے بعد ہندوؤں کے عقیدے و رواج کے مطابق ایک سمادھی بھی وہاں تعمیر کردی گئی۔ ۱۹۷۰ء تک اُن کی سمادھی پر ہندو مسلمان بلاتفریق حاضر ہوتے تھے اور اپنے عقائد کے مطابق دعائیں مانگا کرتے تھے۔ (اردو ڈائجسٹ مئی۲۰۱۲ء صفحہ۲۵۶)

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں: وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button