ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب(قسط نمبر ۲۱۵)
ویران مساجد
’’دہلی کے ارد گرد بہت سی ویران مساجد کا تذکرہ تھا۔ حضرت نے فرمایا: ان کا مرمّت کرانا کچھ مشکل امر نہ تھا۔ اگر لوگ چاہتے تو کر لیتے۔ مگر جب خدا تعالیٰ کسی امر سے توجہ کو ہٹا دیتاہے تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں بعض مساجد کسی صحیح نیت سے نہیں بنوائی جاتیں بلکہ صرف اس واسطے بنائی جاتی ہیں کہ ہماری مسجد ہو اور کہلائے۔
فرمایا:
کل امور نیت صحیح اور دل کے تقویٰ پر موقوف ہیں۔ ایک بزرگ کے پاس بہت دولت تھی کسی نے اعتراض کیا اس نے جواب دیا ؎
کے انداختم در دل
مگر انداختم در گِل
غرض خد اکے ساتھ دل لگا کر جب دنیوی کاروبار کرتا ہے تو کوئی شئے اُسے خد اسے مانع نہیں ہو سکتی خواہ کتنے ہی بڑے مشاغل کیوں نہ ہوں۔‘‘(ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۲۰۶-۲۰۷ ایڈیشن۱۹۸۴ء)
تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر مع اعراب واردو ترجمہ پیش ہے ۔
کَےْ اَنْدَاخْتَمْ دَرْ دِلْ
مَگَرْ اَنْدَاخْتَمْ دَرْ گِلْ
ترجمہ: میں نے کب دل میں ڈالا ہے شاید کیچڑ میں ڈال دیا ہے ۔
لغوی بحث: کَےْ(کب) اَنْدَاخْتَمْ(میں نے ڈالا۔ انداختن(ڈالنا) مصدر سے ماضی مطلق اول شخص مفرد۔) دَرْ(میں) دِلْ(دل)
مَگَرْ(شائد) اَنْدَاخْتَمْ(میں نے ڈالا۔ انداختن (ڈالنا) مصدر سے ماضی مطلق اول شخص مفرد) دَرْ(میں)گِلْ(کیچڑ)
مزید پڑھیں: حضرت مالک بن عوفؓ کے اشعار




