اصلاحِ نفس
اس زمانہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات کو مستقل سننا اور ان کی روشنی میں اصلاحِ اعمال کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا ہی حقیقی اصلاح پیدا کرکے قرب الٰہی کے راستے کھولتا ہے۔
اصلاح نفس کا مطلب ہے اپنے اندرونی وجود کو درست کرنا یا اپنی شخصیت یا کردار کو بہتر بنانا اور اپنے اخلاق و عادات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور دینی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔
ہم میں سے ہر ایک کو نفس کی اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ ذاتی اصلاح کے بغیر ہم دوسروں کی اصلاح نہیں کرسکتے۔اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے افراد خانہ، ہمارے دوست احباب،ہمارے عزیز و اقارب یا ہمارے معاشرے کی اصلاح ہوتو وہ ہماری ذاتی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں افراد کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اگر ہر فرد اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان رکھتے ہوئے،اس کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گزارے تو معاشرہ جنت نظیر بن جائے گا۔
اصلاح نفس کے ذرائع کیا ہیں،اصلاح نفس کے مواقع کون سے ہیں،یا یوں کہہ لیں کہ اصلاح نفس کی راہیں کون سی ہیں جن پر چل کر ہم نہ صرف خود اس مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں بلکہ اپنے نمونہ سے دوسروں کو بھی اس راہ پر چلا کر دنیا و آخرت میں فلاح اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں؟
اصلاح نفس کی عملی کوشش کا پہلا مرحلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان رکھتے ہوئے،اس کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق زندگی گزارناہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات پر نہ صرف کامل یقین ہو بلکہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہو۔پھر انسان نماز میںخشوع و خضوع اور دعا کے ذریعے اپنے نفس پر قابو پا سکتا ہے۔اصلاح نفس کے کئی پہلو ہیں۔جن میں ایمان کی مضبوطی،اخلاقیات کی بہتری اصلاحِ نفس کی بنیاد ہے۔جب انسان کا ایمان مضبوط ہوگا تو وہ گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی طرف مائل ہونے میںآسانی محسوس کرتا ہے۔عبادات، دعا اور ذکر الٰہی ایمان کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان کے بعد ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پنجگانہ نماز کی پابندی کرے۔اوراُنہیں خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرے۔
سورۃ المومنون کے آغاز میں خدا تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ محض نماز کو قائم نہیں کرتے بلکہ اور بھی ان میں بہت سی صفات پائی جاتی ہیں۔وہ دونوں قسم کی صفات ہیں یعنی کن کن چیزوں سے بچتے ہیں اور کیا کیا نیکیاں بجالاتے ہیں۔فرمایا: قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ۔ الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ۔ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ۔ وَالَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ۔ (المؤمنون: ۲تا۵) یقیناً مومن کامیاب ہوگئے وہ جو اپنی نمازوں میں عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور جو زکوٰۃ (باقاعدہ) دیتے ہیں۔
جہاں ذاتی اصلاح کے لیے نماز بنیادی حیثیت کی حامل ہے وہاں پر نماز بدیوں کے خلاف ایک ڈھال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡکَرِ (العنکبوت:۴۶) یقیناً نماز برائیوں اور بےحیائیوں سے روکتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے: نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو…یہ دین کو درست کرتی ہے، اخلاق کو درست کرتی ہے، دنیا کو درست کرتی ہے۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۹۱)
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’نماز تمام بے حیائیوں اور بدکاریوں سے روکتی ہے۔ پس اگر نماز پڑھ کر بھی بے حیائیاں اور بدیاں نہیں رکتی ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی تک نماز اپنے اصل مرکز پر نہیں… تم اپنی نمازوں کا اسی معیار پر امتحان کرو اور دیکھو کہ کیا تمہاری بدیاں دن بدن کم ہو رہی ہیں یا نہیں۔ (حقائق الفرقان جلد۴صفحہ۱۲۳)
اللہ تعالیٰ نے نفس پر اُس کی بد کاری (کی راہوں کو بھی) اور اس کے تقویٰ کے(راستوں کو)بھی اچھی طرح کھول دیا ہے۔پس جس نے اس نفس کو پاک کیا وہ تو اپنے مقصود کو پا گیا اور جس نے اُسے (مٹی میں ) گاڑ دیا (سمجھ لو کہ ) وہ نامراد ہوگیا۔
الغرض خدا تعالیٰ نے انسان کو اس کی بد اور نیک راہوں کا علم عطا فرمادیا ہے اب اس پر منحصر ہے کہ وہ کون سی راہیں اختیار کرتا ہے۔
اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے: کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ (التوبہ:۱۱۹) یعنی جو لوگ قولی، فعلی، عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو۔ صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت محمد ﷺ سے پوچھا کہ ہم کن لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھیں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان لوگوں کی مجلس میں بیٹھو جن کو دیکھ کر تمہیں خدا یاد آئے اور جن کی گفتگو تمہارا دینی علم بڑھائے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔(کنز العمال جلد ۹ صفحہ ۷۷)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ نفس کے لیے کُونوا مع الصادقین کا حکم دیا ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ۳۷۱,۳۷۰ایڈیشن ۲۰۲۲ء)
پس ہم میںسے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوستوں اور ماحول کا انتخاب کرتے وقت اس امر کا خیال رکھے کہ اس کے ارد گرد نیک اور دیندار لوگ ہوںکیونکہ بُرے لوگوں کی صحبت اور غلط ماحول اس کو بُرائی کی طرف مائل کرسکتا ہے۔
کسی نے خوب کہا ہے؛ صحبت صالح ترا، صالح کنند صحبت طالع ترا، طالع کنند
اب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے اصلاحِ نفس کے لیے بیان فرمودہ ایک سنہری موقع کا ذکر کرتا ہوںاور وہ ہے رمضان المبارک کا مہینہ جو کہ ہر سال آتا ہے اور ہماری اصلاح کے بے شمار ذرائع لے کر آتا ہے اور ہمیں اپنی برکتوں اور رحمتوں سے نوازتے ہوئے گزر جاتا ہے۔
حضورؓ نے رمضان المبارک میں اصلاح نفس کے حوالے سے فرمایا: کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں صحت دی ہوتی ہے،ایمان دیا ہوتا ہے وہ رمضان کی قدرو وقعت کو سمجھتے ہیںپھر وہ روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ایسے لوگوںکے لیے ایک مہینے کے برابر ایک لمبی سرنگ آجاتی ہے جس میں سے گزرتے ہوئے وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر لیتے ہیںاور خدا تعالیٰ سے اپنی وہ دعائیں منواتے ہیں جن کو قبول کروانے کی صورت پہلے نظر نہیں آتی تھی۔یہ لوگ جب رمضان میں داخل ہوتے ہیںتو ان کی حالت اور ہوتی ہے اور جب رمضان سے نکلتے ہیں تو ان کی حالت اور ہوتی ہے۔بعض دفعہ وہ رمضان کے مہینے میں ننگے داخل ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کی ہوئی خلعتوں سے لدے ہوئے نکلتے ہیں۔بعض دفعہ وہ روحانی بیماریوں سے مضمحل اور خمیدہ کمر کے ساتھ رمضان میں داخل ہوتے ہیںلیکن چست و چالاک اور تندرست شخص کی شکل میں نکلتے ہیں۔کئی لوگ روحانی طور پر اندھے ہوتے ہیںلیکن سُجاکھے،دیکھنے والے اور تیز نظر والے نکلتے ہیں۔کئی لوگ جُذامی اس مہینہ میں داخل ہوتے ہیںلیکن جب یہ مہینہ ختم ہوتا ہے اُن کے چہروں پر خوبصورتی،رعنائی اور شادابی کا منظر ہوتا ہے جسے ہر شخص دیکھتا ہے اور واہ واہ کرتا ہے۔پس خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی رحمتوں اور فضلوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور بد قسمت ہیں وہ لوگ جن کے لیے خدا تعالیٰ خود اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھولتا ہے اور وہ منہ پھیرلیتے ہیںاور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ ان پر بھی فضل کرے جو خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیںاور ان کو بھی ہدایت دے جو اپنی طبعی نابینائی کی وجہ سے برکتوں اور فضلوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ (فرمودہ ۳۰؍مئی ۱۹۵۲ء بمقام ربوہ، الفضل ۱۴ اپریل ۲۰۲۴ء)
رمضان تو سال میں ایک مرتبہ آتا ہے اور اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نوازتے ہوئے چلا جاتا ہے مگر اصلاح نفس کا ایک ذریعہ ایسا بھی ہے جو کہ دائمی ہمارے پاس ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس پاک روحانی نظام میں داخل ہوکر دین کو دنیا پر مقدم کرلیا اور دنیا کی محبت چھوڑ دی اور خدا کے لیے ہوگئے اور پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کی طرح وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھلایا میری مراد وصیت کے نظام سے ہے۔
چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ وصیت ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہے اور اس کے ذریعے دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سچا مومن ہے اور کون نہیں۔ہماری جماعت اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ہے مگر وصیت کرنے والے صرف دو تین ہزار ہیں حالانکہ وصیت ایسی چیز ہے جو یقینی طور پر خدا کا مقرب ہونا ظاہر کرتی ہے اس میں شبہ نہیں کہ مومن ہی وصیت کرتا ہے لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہوں تو جب وہ وصیت کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدے کے مطابق کہ بہشتی مقبرہ میں صرف جنتی ہی مدفون ہوں گے اس کے اعمال کو درست کردیتا ہے۔پس وصیت اصلاحِ نفس کا زبردست ذریعہ ہے کیونکہ جو بھی وصیت کرے گا اگر وہ ایک وقت میں جنتی نہیں تو بھی وہ جنتی بنا دیا جائے گا۔(الفضل یکم ستمبر ۱۹۳۲ء)
نفس کی اصلاح کا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک محبوب عمل ہے۔ انبیاء کی آمد کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہمارے نفس کو پاکیزگی مل سکے اس لیے گناہوں سے بچنا اور برائیوں کو ترک کرنا اصلاح نفس کا اہم حصہ ہے۔جھوٹ، غیبت، حسد اور تکبر جیسی برائیاں انسان کے نفس کو آلودہ کرتی ہیں اور اس کی روحانی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں یاد رہے کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے اگر ہم جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو بہت سی برائیوں سے بچ سکتے ہیں۔ آپ نے یہ حدیث پڑھی ہوگی کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوااور عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھ میں بہت سی برائیاں پائی جاتی ہیں۔میں ان برائیوں کو چھوڑنا چاہتا ہوں۔ آپ کوئی علاج بتائیں۔ آپﷺنے فرمایا جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔اس نے آپؐ سے وعدہ کر لیا کہ میں آئندہ ہمیشہ سچ بولوں گا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ شخص دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کی ہدایت پر عمل کرکے میں نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اس طرح آہستہ آہستہ میری تمام برائیاں دور ہوگئیں کیونکہ میں جب بھی کوئی بُرا کام کرنے لگتا تو فوراً خیال آتا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو کیا جواب دوں گا۔ اس خیال کے آتے ہی میں بُرا کام کرنے کا خیال چھوڑ دیتا۔سچائی کی برکت سے اُس سعادت مند کو رفتہ رفتہ سارے گناہوں سے نجات مل گئی۔(بحوالہ چالیس جواہر پارے مصنفہ مرزا بشیر احمدؓ، زیر حدیث نمبر ۱۴)
اللہ تعالیٰ کی خشیت نفس کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ کا خوف انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ خشیت الٰہی بہت ہی عظیم اور فائدہ والی صفت ہے۔ا نبیاء اور ان کے ماننے والوں کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ ان پر خشیتُ اللہ کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ خوفِ آخرت سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہتے تھے۔خشیتِ الٰہی تمام گناہوں کے خلاف ایک ڈھا ل ہے۔خشیتِ الٰہی تمام نیکیوں اور دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کی اصل اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو قطرے ایسے ہیں جن سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز پیاری نہیں ہے۔ ایک خوفِ خدا کے نتیجہ میں آنسوئوں کا قطرہ اور دوسرا راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ۔ (سنن الترمذی ابواب فضائل الجہاد)
خشیت الٰہی کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ہر ایک کو اپنے آپ کو ہر بُرائی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور ہر نیکی کو بجالانے کے لیے تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہیے۔تبھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم امام الزمان کی جماعت میں شامل ہیں۔یاد رکھیں کہ تمام بُری باتوں سے اس وقت بچا جاسکتا ہے جب دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف ہو جس سے اس کی محبت بھی ظاہر ہوتی ہو اور یہ باتیں تب ملتی ہیں جب اس کے آگے جھکا جائے،اس سے مانگا جائے۔یہ دعا کی جائے کہ اے خدا ! میں تیری محبت میں وہ تمام باتیں چھوڑنا چاہتا ہوں جن کے چھوڑنے کا تو نے حکم دیا ہے اور وہ تمام باتیں اختیار کرنا چاہتا ہوں جن کے کرنے کا تُو نے حکم دیا ہے۔لیکن تیرا قرب پانے کے لیے بھی تیرا فضل ہونا ضروری ہے۔اے اللہ اپنے فضل سے مجھے تقویٰ عطا فرما۔ اگر نمازوں میں رو رو کر اپنے ربّ سے مانگیں گے تو اپنے وعدوں کے مطابق ضرور ہماری دعائیں سنے گا۔پس سب سے پہلے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اپنی نمازوں کو،اپنی دعاؤں کو،اس کے لیے خالص کرنا ہوگا اور یہی بنیادی چیز ہے۔اگر نمازوں میں ذوق اور سکون میسر آگیا تو سمجھیں سب کچھ مل گیا۔ (خطبات مسرورجلد ۲ خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶؍مارچ ۲۰۰۴ء بمقام واگاڈوگو،بورکینا فاسو،مغربی افریقہ )
ہم قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔اس کا ترجمہ پڑھتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔اس لیے کہ ہم نے پرچہ دینا ہے۔مگر اس ضرورت سے علیحدہ ہوکر قرآن کریم اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اس وقت میرا اپنا نفس مخاطب ہے اور مجھے اپنی اصلاح کرنی ہے۔الغرض قرآن،حدیث اور کتب حضرت مسیح موعودؑ کا مطالعہ اور ان پر غور وفکر اصلاح نفس کا بہت بڑا ذریعہ ہے اس لیے ان کے مطالعہ سے ہر گز غافل نہ ہوں۔
اصلاح نفس کے لیے خلافت کے ساتھ پختہ تعلق ہونا بہت ضروری ہے۔ہم خوش قسمت ہیں کہ اس زمانہ میں جب دنیا حقیقی راہنمائی سے محروم ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلیفۂ وقت کی صورت میں حقیقی راہنمائی کرنے والا وجود بخشا ہے۔ہم اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔ وقت کے امام کو مان کر اس کی جماعت میں شامل ہونے والوں پر بہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم امام کی نصائح پر عمل کرکے اپنی زندگیوں میں نکھار پیدا کریں۔خلیفہ وقت وہ روحانی طبیب ہے جو زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر مرض کی تشخیص کرکے اُس کا علاج عطا فرماتا ہے۔
خلیفہ وقت سے تعلق قائم کرنے کے لیے کیا کیا ذرائع اختیار کیے جائیں؟ انفرادی ملاقاتیں ہیں خطوط کے ذریعہ سے تعلق ہے ۔پھر آپ کی مجالس میں شامل ہونا ہے اور آپ کے ارشادات کو سننا اور ان پر عمل کرنا ہے۔ایک لحاظ سے یہ بہت بڑا ذریعہ ہے کیونکہ تعلق کا یہ ذریعہ ساری دنیا کے احمدیوں کو ہر جگہ اور ہر وقت میسر ہے۔اس لیے میرے نزدیک انفرادی اصلاح کا سب سے بڑا وسیلہ سمعنا و اطعنا کا زریں اصول ہے۔ اس زمانہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطابات کو مستقل سننا اور ان کی روشنی میں اصلاحِ اعمال کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا ہی حقیقی اصلاح پیدا کرکے قرب الٰہی کے راستے کھولتا ہے۔
ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے خطبات و خطابات میں برائیوں سے بچنے،عملی حالتوں کو بہتر بنانے اور نیکیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیںاور خدا کے فضل سے خلیفۂ وقت کے ارشادات پر عمل کرنے کی روشن مثالیں موجود ہیں۔
انفرادی برائیوں کا سد باب اگر نہ کیا جائے تو وہ قومی برائیاں بن جاتی ہیںاور سب کو اس کا نقصان پہنچتا ہے۔اس اہمیت کو واضح کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت سادہ،خوبصورت اور عام فہم مثال بیان فرمائی ہے کہ اگر ایک کشتی میں کچھ لوگ اُوپر کی منزل پر سوار ہوں اور کچھ لوگ نیچے کی منزل پراور نیچے والے اوپر آکر پانی لینے کی بجائے اگر یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں اوپرجانے کی کیا ضرورت ہے،ہم اپنی نچلی منزل میں ہی سوراخ کرکے پانی لے لیتے ہیں ایسی حالت میں اوپر کی منزل والے اگر اُن کو نہ روکیں گے تو سب ہلاک ہوجائیں گے،اور اگر اُن کو روک دیں گے تو خود بھی بچیں گے اور دوسرے بھی۔ (بخاری کتاب الشرکۃ باب ھل یقرع فی القسمۃ و الاستھام فیہ)
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ انفرادی و قومی اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عظیم کام ہے،جو ایک نظام کا متقاضی ہے اور جماعت احمدیہ میں خلافت کے تابع یہ مربوط نظام ذیلی تنظیموں،مربیان اور عہدیداران کی شکل میں مضبوط بنیادوں پر استوار اور قائم ہے۔یہ نظام اُسی وقت حقیقی رنگ میں فعال ہوسکتا ہے جب خلیفۂ وقت کے منہ سے بات نکلے تو ہر تنظیم کے تمام عہدیدار اس پیغام کو لے کر نکل پڑیں،خود بھی عمل کریں اور ماحول میں بھی اس کی تاثیر پھیلا دیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب خلیفہ جماعت کی اصلاح کے لیے کچھ کہے تو اُسے لیں اور افراد جماعت کے سامنے اُسے دُہرائیں اور دُہرائیں حتیٰ کہ کُندذہن سے کند ذہن آدمی بھی سمجھ جائے اور دین پر صحیح طور پر چلنے کے لیے رستہ پالے۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹؍مئی۲۰۱۵ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل ۱۹ تا ۲۵جون ۲۰۱۵ء)
نیز آپ نے فرمایاکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایمان اور علم رکھتے ہیںلیکن دوسرے ذرائع سے اُن پر ایسا زنگ لگ جاتا ہے کہ دونوں علاج اُن کے لیے کافی نہیں ہوتے اور بیرونی علاج کی ضرورت ہوتی ہے،کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔جیسے کسی کی ہڈی ٹوٹ جائے تو بعض دفعہ ہڈی جوڑنے کے لیے پلستر لگا کر باہر سہارا دیا جاتا ہے۔بعض دفعہ آپریشن کرکے پلیٹیں ڈالی جاتی ہیں تاکہ ہڈی مضبوط ہوجائے اور پھر آہستہ آہستہ ہڈی جڑ جاتی ہے اور وہ سہارے دور کردیے جاتے ہیں۔اسی طرح بعض انسانوں کے لیے کچھ عرصے کے لیے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ سہارا اُس میں اتنی طاقت پیدا کردیتا ہے کہ وہ خود فعال ہوجاتا ہے اور عملی کمزوریاں دُور ہوجاتی ہیں۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷؍جنوری۲۰۱۴ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل ۰۷تا ۱۳فروری ۲۰۱۴ء)
انفرادی اصلاح کا ایک اور بڑاذریعہ اپنی مسلسل نگرانی اور اپنی حالت کا جائزہ لینا بھی ہے۔آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات اور خطابات میں یہ سُنا ہوگا کہ ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے یہ الفاظ اپنے اندر معانی کا ایک جہان لیے ہوئے ہیں۔ذرا غور فرمائیے کہ جو جائزہ نہیں لیتا اُسے اپنے گناہوں کا پتا نہیں لگے گا اور اپنی کمزوریوں کا احساس نہیں ہوگا اور جب تک کمزوریوں کا احساس نہیں ہوگا اور اصلاح کے راستہ میں حائل رکاوٹوں کا پتا نہیں چلے گا تب تک اصلاح کا کام شروع نہیں ہوسکے گا۔جائزے لینے پر معلوم ہوگا کہ بعض میں علمی کمزوری ہے وہ جسے چھوٹا گناہ سمجھتا ہے اور اُن کو کرلینے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتا وہ دراصل بڑے بڑے گناہوں کا سبب بن رہے ہیں۔بعض دیکھیں گے کہ اُن کی اصلاح میں قریبی رشتے حائل ہورہے ہیں جن کی خاطر اُن سے بُرائی سرزد ہوجاتی ہے۔اور بعض قریب کے زمانے میں یا فوری ملنے والے فوائد کی خاطر ایمان کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اخلاقی گراوٹ یا بُرائی میں گرفتار ہورہے ہوں گے۔بعض دیکھیں گے وہ عبادتوں میں تو ٹھیک ہیں،چندہ بھی دیتے ہیں لیکن گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ اُن کا سلوک اچھا نہیں ہے۔وہ وہاں اصلاح کریں۔بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ بظاہر انسان خود کو بالکل ٹھیک سمجھتا ہے لیکن جب ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو وہ معائنہ کرتے ہی کہتا ہے کہ تمہاری حالت تو خطرے میں ہے اور فوراً اُسے آپریشن تھیٹر میں بھیج دیتا ہے۔چنانچہ اپنے اعمال اور اپنی حالتوں کے جائزے لینے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ روحانی طبیب کے پاس جایا جائے،جو کہ خلیفۂ وقت ہے۔اس طبیب سے استفادہ کا بہترین طریق یہ ہے کہ حضور انور کے خطبات کو سُن کر ہر ایک اگر خود کو اُس کا مخاطب سمجھے تو اسے پتا چل جائے گا کہ کہاں کہاں اُس کی اصلاح ہونے والی ہے اور اُس کے لیے کس اقدام کی ضرورت ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دو جملے (یعنی اپنے جائزے لیں اور اپنے معیار اونچے کریں)انفرادی اصلاح کی مہم کا نچوڑ ہیںاور ایک رنگ میں تقویٰ کے مضمون کا خلاصہ ہیں،جو یقیناً خدا تعالیٰ کی خاص مشیت سے خلیفہ وقت کی زبان ِ مبارک سے ادا ہورہے ہیںاور ہمیں دعوتِ عمل دے رہے ہیں،ہر خطبہ اور خطاب میں ان جملوں کے تکرار کے ساتھ خدا کا مقرر فرمودہ خلیفہ ہمیں اپنی اپنی اصلاح کی طرف بلا رہا ہے اور جب تک ہم میں سے ہر ایک اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے،اس میدان میں اپنا سب کچھ صرف نہیں کردیتا تب تک قومی اصلاح کا رنگ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں مقناطیس کے ان ٹکڑوں کی طرح بننا چاہیے جو اگرچہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن جب مل جائیں تو بہت بڑی طاقت بن جاتے ہیں۔ہمیں اصلاح نفس اور برائیوں کے چُنگل سے رہائی کے لیے کبوتروں کی اس مثال سے سبق سیکھنا چاہیے جو شکاری کے جال میں پھنس گئے اور پھرجب ان میں سے ہر ایک نے زور لگایا تو وہ جال کو ہی اڑا لے گئے اس میدان میں آگے قدم بڑھانے کے لیے ہمیں ان صحابہ کی مثال کو مدنظر رکھنا چاہیے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کا ارشاد سنتے ہی شراب کے مٹکے توڑ دیے۔ (بخاری کتاب اخبارالۡاحَادِ ما جاء فی اجازۃ خبرالواحد الصدوق)
امام کی آواز سننا اور پھر اس پر اپنی پوری قوت سے لبیک کہنا انفرادی اصلاح کی مہم کی کامیابی کی بنیادی کَل ہے۔خلیفۂ وقت کی کامل اطاعت کرتے ہوئے آپ کے ارشادات پر عمل کرنے کا عہد انفرادی اصلاح کے ہر مرحلہ کو پار کرنے کا موجب ہوگا۔لیکن یاد رہے کہ حقیقی اور کامل اطاعت غیر معمولی محبت اور جذبات کو چاہتی ہے جس قدر محبت زیادہ ہوگی اسی قدر اطاعت والہانہ ہوگی عشق و وفا اور اطاعت و محبت کی مثالیں عقل سے نہیں جذبات سے رقم کی جاتی ہیں۔
آج مسیح موعود کی نمائندگی میں آپ کا خلیفہ جماعت کی اصلاح کے کام سر انجام دے رہا ہے،آج مسیح محمدی کا یہ خلیفہ ہماری تربیت باطنی کے لیے ہمہ تن مصروف ہے اور ہماری روحانی آلودگیوں کے ازالہ کی دن رات کوشش کررہا ہے اور حدیث نبویؐ کے مطابق آگ پر گرنے والے پروانوں کو پکڑپکڑ کر ہلاکتوں سے بچا رہا ہے۔پس ہم آخرین کے مبارک عہد میں پیدا ہوئے ہیں کہ آج مسیح محمدی کا یہ خلیفہ ہمارے آگے بھی لڑ رہا ہے اور ہمارے پیچھے بھی لڑرہا ہے،ہمارے دائیں بھی لڑ رہا ہے اور ہمارے بائیں بھی لڑ رہا ہے اور ہر اُس برائی کا راستہ بند کردینا چاہتا ہے جو ہم تک پہنچ کر ہماری اخلاقی اور روحانی زندگی مکدّر کرنا چاہتی ہے۔
سوآئیں اور اس ماں باپ سے بڑھ کر محبت کرنے والے کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اپنے آپ کو بھی ہلاکت سے بچائیں اور انفرادی اصلاح کرتے ہوئے،بہترین قوم کے بہترین فرد بن کر اُس نئے آسمان کے بنانے میں اپنا کردار ادا کریں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو مبعوث فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: نمازِ تہجد عشق الٰہی کا سب سے حسین مظہر




