کلام حضرت مصلح موعود ؓ

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے

(منظوم کلام حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے
پر ہے یہ شرط کہ ضائع مرا پیغام نہ ہو

چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو
تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو

جب گزر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار
سستیاں ترک کرو طالبِ آرام نہ ہو

خدمتِ دین کو اک فضلِ الٰہی جانو
اس کے بدلے میں کبھی طالبِ انعام نہ ہو

دل میں ہو سوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو
تم میں اسلام کا ہو مغز، فقط نام نہ ہو

رغبتِ دل سے ہو پابند نماز و روزہ
نظرانداز کوئی حصۂ احکام نہ ہو

پاس ہو مال تو دو اس سے زکوٰۃ و صدقہ
فکرِ مسکیں رہے تم کو غمِ ایام نہ ہو

عادتِ ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں
دل میں ہو عشقِ صنم لب پہ مگر نام نہ ہو

عقل کو دین پہ حاکم نہ بناؤ ہر گز
یہ تو خود اندھی ہے گر نیرِ الہام نہ ہو

اپنی اس عمر کو اک نعمتِ عظمیٰ سمجھو
بعد میں تاکہ تمہیں شکوۂ ایام نہ ہو

بھولیو مت کہ نزاکت ہے نصیبِ نسواں
مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گل اندام نہ ہو

میری تو حق میں تمہارے یہ دعا ہے پیارو
سر پہ اللہ کا سایہ رہے ناکام نہ ہو

ظلمتِ رنج و غم و درد سے محفوظ رہو
مہرِ انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو

(کلامِ محمود مع فرہنگ صفحہ۱۳۴ تا ۱۳۶)

مزید پڑھیں: عہدشکنی نہ کرو اہل وفا ہو جاؤ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button