متفرق مضامین

عفت وپاک دامنی …مقربان الٰہی کا شعار

زنا کی راہ بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے(حضرت مسیح موعودؑ)

بانی جماعت احمدیہ امام الزماں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ومہدی معہود علیہ الصلوٰۃ و السلام دس شرائط بیعت کی دوسری شرط بیعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’زنا…سے بچتا رہے گا‘‘۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے: وَلَا تَقۡرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا۔(بنی اسرائیل:۳۳)اور زنا کے قریب نہ جاؤ ۔یقیناً یہ بے حیائی ہے اور بہت بُرا رستہ ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔ جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ زنا کی راہ بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لیے سخت خطرناک ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد۱۰ صفحہ۳۴۲)

نیز فرمایا: ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ زنا ایک بہت بے حیائی کا کام ہے اور اس کا مرتکب شہواتِ نفس سے اندھا ہو کر ایسا ناپاک کام کرتا ہے جو انسانی نسل کے حلال سِلسلہ میں حرام کو ملا دیتا ہے اور تضیع نسل کا موجب ہوتا ہے۔ اِسی وجہ سے شریعت نے اس کو ایسا بھاری گناہ قرار دیا ہے کہ اِسی دنیا میں ایسے انسان کے لیے حدِ شرعی مقرر ہے۔ پس ظاہر ہے کہ مومن کی تکمیل کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ وہ زنا سے پرہیز کرے کیونکہ زنا نہایت درجہ مفسد طبع اور بے حیا انسانوں کا کام ہے اور یہ ایک ایسا موٹا گناہ ہے جو جاہل سے جاہل اس کو بُرا سمجھتا ہے اور اس پر بجز کسی بے ایمان کے کوئی بھی دلیری نہیں کر سکتا۔ پس اِس کا ترک کرنا ایک معمولی شرافت ہے کوئی بڑے کمال کی بات نہیں لیکن انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقویٰ کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد۲۱ صفحہ۲۰۹)

جنت کی ضمانت

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ النَّبِيُّ صلى اللّٰه عليه وسلّم مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ ۔حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جو میرے لیے اس چیز کا ضامن ہو جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے اور نیز اس کا جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔( صحیح البخاری كتاب الحدود حدیث نمبر ۶۸۰۷)

اللہ تعالیٰ کے سایۂ رحمت میں

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے فرمایا :جس دن اللہ تعالیٰ کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔ اوّل انصاف کرنے والا حاکم۔ دوسرے وہ نوجوان جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے جوانی بسر کی۔ تیسرے وہ آدمی جس کا دل مسجدوں کے ساتھ لگا رہے۔ چوتھے وہ دو آدمی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔اسی پر وہ متحد ہوئے اور اسی کی خاطر وہ ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔ پانچویں وہ پاکباز مرد جس کو خوبصورت اور بااقتدار عورت نے بدی کے لیے بلایا لیکن اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ سخی جس نے اس طرح پوشیدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتویں وہ مخلص جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی محبت اور خشیت سے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔(مسلم کتاب الزکوٰۃ باب فضل اخفاء الصدقۃ)

حدود اللہ کا محافظ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر گزشتہ زمانہ میں اس کی نظیر دیکھی جاوے تو پھر یوسفؑ کا صدق ہے۔ ایسا صدق دکھایا کہ یوسفؑ صدیق کہلایا۔ ایک خوبصورت، معزز اور جوان عورت جو بڑے بڑے دعوے کرتی ہے،عین تنہائی اور تخلیہ میں ارتکابِ فعلِ بَد چاہتی ہے،لیکن آفرین ہے اس صدیق پر کہ خدا تعالیٰ کے حدُود کو توڑنا پسند نہ کیا اوراس کے بالمقابل ہر قسم کی آفت اور دکھ اُٹھانے کو آمادہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ قیدی کی زندگی بسر کرنی منظور کر لی چنانچہ کہا رَبِّ السِّجنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیٓ اِلَیْہِ(یوسف :۳۴)یعنی یُوسفؑ نے دُعا کی کہ اَے ربّ مجھ کو قید پسند ہے ۔اس بات سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہے۔ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک فطرت اور غیرتِ نبوّت کا کیسا پتہ لگتا ہے کہ دُوسرے اَمر کا ذکر تک نہیں کیا۔ کیا مطلب کہ اُس کا نام نہیں لیا۔ یوسفؑ اللہ تعالیٰ کے حُسن و احسان کے گرویدہ اور عاشق زار تھے۔ اُن کی نظر میں اپنے محبوب کے سِوا دوسری کوئی بات جَچ نہ سکتی تھی ۔وہ ہرگز پسند نہ کرتے تھے کہ حدود اللہ کو توڑیں۔

کہتے ہیں کہ ایک لمبا زمانہ جو بارہ برس کے قریب بتایا جاتا ہے، وہ جیل میں رہے۔ لیکن اس عرصہ میں کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آیا۔ اللہ تعالیٰ او راُس کی تقدیر پر پُورے راضی رہے۔ اس عرصہ میں بادشاہ کو کوئی عرضی بھی نہیں دی کہ اُن کے معاملہ کو سوچا جاوے یا اُنہیں رہائی دی جاوے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس اہلِ غرض عورت نے تکالیف کا سلسلہ بڑھا دیا کہ کسی طرح پر وُہ پھسل جاویں مگر اس صدّیق نے اپنا صدق نہ چھوڑا۔ خدا نے ان کو صدّیق ٹھہرایا۔ یہ بھی صدیق کا ایک مقام ہے کہ دنیا کی کوئی آفت، کوئی تکلیف اور ذلّت اُسے حدود اللہ کے توڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔ جس قدر اذیتیں اور بلائیں بڑھتی جاویں وُہ اُس کے مقامِ صدق کو زیادہ مضبوط اور لذیذ بناتی جاتی ہیں۔ (ملفوظات جلد۱صفحہ ۳۴۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

کریم النفس آدمی اپنی آبرو اور اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے

جس طرح عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسفؑ کی قمیص کا دامن پکڑ کر ان سے ایک ناپسندیدہ فعل کرانا چاہا تھا مگر آپؑ نے اس کے ہاتھ سے دامن چھڑالیا تھا بالکل اسی طرح مکہ کی ایک عورت جس کا نا م فاطمہ تھااور یہ بلا کی حسین اورنو خیزتھی اس کے ساتھ ساتھ پڑھی لکھی عورت تھی ۔اس نے ایک دن رسول کریم ﷺ کے والد گرامی حضرت عبداللہ کو مخاطب کر کے کہاکہ اگر تم میرے پاس آؤ تو میں تمہیں اس کے بدلے میں سو اونٹ دوں گی ۔حضرت عبداللہ نے جواب دیا کہ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ حرام فعل کا ارتکاب کروں اس کی بجائے مجھے موت کو گلے لگانا منظور ہے جبکہ حلال کی سبیل نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ پس وہ بات میرے لیے کیسے جائز ہو سکتی ہے جس کی طرف تو مجھے دعوت دیتی ہے یاد رکھ کریم النفس آدمی اپنی آبرو اور اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے ۔(سیرۃ حلبیہ جلد۱ صفحہ۱۳۷ اردو ترجمہ دارالاشاعت کراچی طباعت۲۰۰۹ء)

اللہ کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس کو چھوڑ دیا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ان لوگوں میں سے جو تم سے پہلے تھے تین آدمی کسی سفر میں نکلے یہاں تک کہ ایک غار میں رات بسر کرنے کے لیے داخل ہوگئے۔اوپر سے ایک پہاڑ کا بڑا پتھر گرا اور انہیں غار میں بند کر دیا اس پر وہ کہنے لگے اس پتھر سے ہمیں کوئی نجات نہیں دے گا۔ہاں ہم سب اللہ سے اپنے نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا کریں تو یہ مشکل حل ہوسکتی ہے۔تب ان میں سے پہلے شخص نے اپنے عمل صالح کا واسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کی اور اس کے عمل کی برکت سے پتھر کچھ سرک گیامگر وہ غار سے باہر نہیں نکل سکتے تھے پھر دوسرے شخص نے یوں دعا کی کہ اے میرے اللہ! میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جس سے مجھے بہت ہی محبت تھی۔ ایسی محبت شاید ہی کوئی مرد کسی عورت سے کر سکے میں نے اسے بدی کے لیے ورغلانا چاہا۔لیکن اس نے انکار کر دیا اور مجھ سے بچتی رہی۔ ایک دفعہ سخت قحط پڑا اور میری اس محبوبہ کو مالی دشواری پیش آئی۔ وہ مجبور ہو کر میرے پاس آئی اور مدد چاہی۔ میں نے اس کو ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ مجھے میری مرضی کرنے دے اور اپنا آپ میرے سپرد کر دے وہ مجبور تھی اس لیے مان گئی۔ جب میں نے اس پر قابو پا لیا اور بدی کے لیے تیار ہو گیا تو اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ناجائز طریقے سے اس مہر کو نہ توڑو۔ اس کی اس بات سے میں اللہ کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس کو چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ حالانکہ اس وقت بھی وہ مجھے سب سے پیاری لگ رہی تھی۔ میں نے وہ سونے کے دینار بھی اسی کے پاس رہنے دیے۔ اے میرے اللہ! اگر میں نے یہ اقدام صرف تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نکال جس میں ہم پھنس گئے ہیں۔اس پر وہ پتھر کچھ اور سرک گیا اور جب تیسرے شخص نے اپنے عمل صالح کا واسطہ دے کر خداتعالیٰ سے دعا کی تو پتھر مکمل طور پر غار کے منہ سے ہٹ گیا اور وہ تینوں غار سے باہر نکل کر چلے گئے۔(صحیح ا لبخاری کتاب الادب باب اجابۃ دعاء من بر والدیہ )

بدکاری کا خیال ہی دل سے نکال دیا

حضرت ابو امامہ انصاری ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک انصاری نوجوان آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہﷺ! مجھے زنا کی اجازت دیجیے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے کہ کیسی نامناسب بات کردی، اور اسے پیچھے ہٹانے لگے۔لیکن نبی کریمﷺ سمجھ گئے کہ اس نوجوان نے گناہ کا ارتکاب کرنے کی بجائے جو اجازت مانگی ہے تو اس میں سعادت کاکوئی شائبہ ضرور باقی ہے۔ آپ ﷺنے کمال شفقت سے فرمایامیرے قریب آجاؤ ، وہ نبی کریم ﷺ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا، نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اپنی ماں کے لیے زنا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں خدا کی قسم! ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے آپ ﷺ پر قربان کردے۔آپﷺنے فرمایا اسی طرح باقی لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔پھر آپﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لیے اس بدکاری کو پسند کروگے؟اس نے کہا خدا کی قسم! ہرگز نہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے آپ ﷺ پر قربان کردے۔ آپﷺنے فرمایا لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ﷺنے پوچھا کہ کیا تم اپنی بہن کے لیے زنا کو پسند کروگے؟اس نے کہا اللہ تعالیٰ مجھے آپ ﷺ پر فدا کرے میں اپنی بہن کے لیے ایسا کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔ آپﷺ نے فرمایالوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔پھر آپﷺ نے پوچھا کہ کیا تم اپنی پھوپھی کے لیے زنا پسند کرو گے؟اس نے کہا نہیں خدا کی قسم میں ہرگز پسندنہیں کروں گا۔اللہ تعالیٰ مجھے آپ ﷺ پر قربان کردے۔ آپﷺنے فرمایا تو پھر لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لیے یہ بدکاری پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ﷺنے پوچھا کہ کیا تم اس برائی کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرو گے۔اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں کبھی پسندنہیں کروں گا۔اللہ تعالیٰ مجھے آپ ﷺ پر قربان کردے۔ آپﷺنے فرمایا تو پھر لوگ اپنی خالاؤں کے لیے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔

(مقصود یہ تھا کہ جو بات تمہیں اپنے عزیز ترین رشتوں میں گوارا نہیں۔ وہ دوسرے لوگ کیسے گوارا کریں گے اور کوئی اس کی اجازت کیسے دے سکتا ہے ؟)

پھر نبی کریمﷺنے اس نوجوان پر اپنا دست شفقت رکھااور دعا کی اَللّٰھُمَّ اغْفِرْذَنْبَہٗ وَطَھِّرْ قَلْبَہٗ وَحَصِّنْ فَرْجَہٗ اے اللہ! اس نوجوان کی غلطی معاف کردے۔ اس کے دل کو پاک کردے۔اسے باعصمت بنا دے۔حضرت ابو امامہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ اس نوجوان پرآپ ﷺکی اس عمدہ نصیحت کے ساتھ دعا کا اتنا گہرا اثر ہواکہ اس نے بدکاری کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور پھر کبھی اس طرف اُس کا دھیان نہیں گیا۔(مسند احمد بن حنبل حدیث نمبر۲۲۵۶۴)

غیر محرم مرد کو ہاتھ لگانا سخت گناہ ہے

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک دوست کسی کام کے لیے مجھے اپنے گاؤں لے گیا اور جب شام ہوئی تو اس نے اصرار کیا کہ آج رات آپ ہمارے یہاں ہی ٹھہریں۔ چنانچہ اس کی خواہش پر رات میں وہیں رہ پڑا۔

اتفاق کی بات ہے کہ اس دوست کو کسی ضروری کام کے لیے رات اپنے گھر سے باہر جانا پڑا۔ مگر جاتے ہوئے اس نے گھر میں میری مہمانداری کے متعلق مناسب تلقین کر دی۔ جب وہ گھر سے باہر چلا گیا تو اس کی بیوی نے جو خوبصورت اور نوجوان عورت تھی مجھے آواز دی کہ میں آپ کے جسم کو دبانے کے لیے اندر آنا چاہتی ہوں کیا اجازت ہے۔ میں نے کہا غیر محرم مرد کو ہاتھ لگانا سخت گناہ ہے اس لیے آپ اپنے کمرہ میں ہی رہیں اور میرے پاس آنے کی جرأت نہ کریں۔ اس پر اس عورت نے پھر اپنی غلطی پر اصرار کیا اور میں نے پھر وہی جواب دیا۔ آخر جب میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ عورت اپنے بدارادہ سے باز نہیں آئے گی تو میں نے وضو کر کے پاس ہی مصلَّا پڑا تھا اس پر نماز پڑھنی شروع کر دی اور نماز کے رکوع و سجود کو اتنا لمبا کیا کہ مجھے اسی حالت میں صبح ہو گئی۔

اس کے بعد میں نے صبح کی نماز ادا کی تو اس وقت مجھے اتنی نیند آئی کہ میں جائے نماز پر ہی سو گیا اور سوتے ہی خواب میں دیکھا کہ میرا منہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہے اور ایک فرشتہ نے مجھے بتایا کہ یہ تمام فضل تیرے اس مجاہدہ نفس اور خشیۃ اللہ کی وجہ سے ہوا ہے اور اس وجہ سے کہ آج رات تو نے تقویٰ شعاری سے گزاری ہے۔(حیات قدسی صفحہ۹۲-۹۳)

نفس کو بدی کے ارتکاب سے روکنے کے لیے ہاتھوں کی دس انگلیاں جلادیں

حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل ایک ایمان افروز واقعہ بیان فرمایاکرتے تھے کہ احمدیت سے کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ ایک مرتبہ لاہور میں کسی رئیس کے مکان پر بطور مہمان اُترے ہوئے تھے۔

آج کل کی طرح اس زمانہ میں بھی شہر کے معزز گھرانوں کی نوجوان لڑکیاں مغرب سے ذرا پیشتر سیر کے لیے دریائے راوی پر جایا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ جو گئیں تو سخت آندھی اور بارش کے طوفان نے انہیں ایک دوسرے سے جُدا کر دیا۔ ان لڑکیوں میں اس رئیس کی لڑکی بھی تھی جس کے ہاں حضرت حکیم الامتؓ قیام فرما تھے۔ وہ لڑکی پھرتی پھراتی کسی نہ کسی طرح شاہی مسجد میں پہنچ گئی۔ عشاء کی نماز ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جا چکے تھے۔ دینیات کے طلبہ جو اُس زمانہ میں مسجد کے حجروں میں رہا کرتے تھے اپنے اپنے والدین کے ہاں گرمی کی رخصتیں گزارنے گئے ہوئے تھے مگر ایک یتیم لڑکا جو غریب اور نادار بھی تھا باہر کوئی ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے مسجد کے حجرہ ہی میں رہنے پر مجبور تھا۔ وہ صف پر بیٹھا ہوا مٹی کا دیا جلا کر مصروف مطالعہ تھا کہ وہ لڑکی اس کے پاس گئی اور بتایا کہ میں فلاں رئیس کی لڑکی ہوں۔ مجھے اپنے گھر کا راستہ نہیں آتا۔ اگر تم مجھے میرے گھر پہنچادو تو تمہاری بڑی مہربانی ہوگی۔ اس لڑکے نے کہا بی بی! میں ایک طالبعلم ہوں اور باہر سے آیا ہوا ہوں۔ اپنے کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے مجھے شہر میں گُھومنے کا بہت کم موقع ملتا ہے اور آپ کے والد محترم کو تو میں بالکل نہیں جانتا۔ اس لیے افسوس ہے کہ میں اس معاملہ میں آپ کی کوئی امداد نہیں کر سکتا۔

اب وہ لڑکی پریشانی کے عالم میں سوچنے لگی کہ اندھیری رات ہے اور ہُو کا عالم! بارش بھی تھمنے میں نہیں آتی۔ جائے تو کہاں جائے! اس کی یہ حالت دیکھ کر اس شریف لڑکے نے کہا بی بی! فکر نہ کرو۔ چند گھنٹے رات باقی رہ گئی ہے میں تو مصروف مطالعہ ہوں آپ میری چارپائی پر سو جائیے۔ نماز فجر کے لیے لوگ آئیں گے جو شخص آپ کے ابا کو جانتا ہوگا اس کے ساتھ آپ گھر چلی جائیں۔ اس لڑکی کی حالت یہ تھی کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ مجبوراً اس غریب طالب علم کی چارپائی پر اُسے لیٹنا پڑا۔ غریب طالب علم کا مَیلا کچیلا بستر! اجنبی نوجوان لڑکے کی موجودگی! والدین کے فکر کا تصوّر اور گھر سے پہلی مرتبہ غیرحاضری! یہ ساری چیزیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے نیند اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتی تھی۔ وہ تو ایک ایک منٹ گِن گِن کر گزار رہی تھی۔

ادھر اس لڑکے کا حال سُنیے۔ جونہی اس قبول صورت امیر زادی پر اس کی نگاہ پڑی۔ شیطان نے اس کے شہوانی قویٰ میں ایک تلاطم برپا کر دیا۔ مگر تھا وہ نیک اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے والا۔ اس نے سوچا کہ اس بُرے راستہ کو اگر میں نے اختیار کر لیا تو پھر خدا تعالیٰ کو کیا جواب دُوں گا؟ مزید برآں جہنم کی آگ بھی برداشت کرنا پڑے گی۔ کیا میرے اندر یہ طاقت موجود ہے کہ میں جہنم کی آگ برداشت کر سکوں؟ یہ وہ باتیں تھیں کہ جن کے سوچنے میں وہ محو تھا۔ معاً اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس دیے کی لاٹ پر ذرا اُنگلی رکھ کر تو دیکھوں کیا میں اُسے برداشت کر سکتا ہوں؟ چنانچہ اس نے فوراً اپنی ایک اُنگلی اس لاٹ پر رکھ دی۔ مگر بھلا اس آگ کی برداشت کیسے ہو سکتی تھی۔ ابھی بمشکل ایک لحظہ ہی گزرا ہوگا کہ فوراً انگلی واپس کھینچ لی۔ اور یہ خیال کر کے کہ جب میں اس معمولی سی آگ کو برداشت نہیں کر سکتا تو جہنم کی آگ کو جو اس سے ستر گُنا شدت میں زیادہ ہوگی، کیسے برداشت کر سکوں گا، پھر مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔ مگر ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ شیطان نے پھر اس کے دل میں بدی کی تحریک کی مگر فرشتہ بھی اس کی نیک فطرت سے واقف تھا۔ اس نے پھر رکاوٹ ڈالی اور اُسے مجبور کیا کہ اگر پہلے تجربہ سے سبق حاصل نہیں ہوا تو پھر دیئے کی لاٹ پر اُنگلی رکھ کر دیکھ لو۔ اگر برداشت کر گئے تو پھر اس خیال کو دل میں لانا۔ ورنہ خدا سے ڈرو۔ چنانچہ اس مرتبہ اس نے دُوسری انگلی دیئے کی لاٹ پر رکھی مگر بھلا آگ کی برداشت کیسے ہو سکتی تھی فوراً ہاتھ واپس کھینچنا پڑا۔ اور پھر مطالعہ میں مصروف ہو گیا۔ غرض یہ نیکی اور بدی کی کشمکش رات بھر جاری رہی اور اس نوجوان نے اپنے نفس کو بدی کے ارتکاب سے روکنے کے لیے اپنے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیاں جلادیں۔

خدا خدا کر کے رات گزری۔ فجر کی اذان ہوئی ۔نمازی آئے اور وہ لڑکی اپنے گھر پہنچا دی گئی۔والد کو جب اپنی لڑکی کی زبانی اس لڑکے کی حرکات کا علم ہوا تو اس نے اپنے جلیل القدر مہمان حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی خدمت میں اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا اُس لڑکے کو بُلا کر اس سے دریافت کرنا چاہیے کہ اُس نے اپنی دسوں اُنگلیاں کیوں جلائیں؟ لڑکے سے جب پوچھا گیا تو اُس نے سارا ماجرا کہہ سُنایا۔

حضرت مولانا نے اس صالح نوجوان طالب علم کی سرگذشت سُن کر اس امیر میزبان کو مشورہ دیا کہ یہ لڑکا اس امر کا مستحق ہے کہ تم اس بچی کی شادی اس سے کردو۔ امیر بولاحضرت مولوی صاحب! میں اس لڑکے کے ساتھ اپنی بچی کا رشتہ کر تو دوں مگر آپ کو علم ہے کہ یہ بچی نازونعمت سے پروان چڑھی ہے اور یہ لڑکا بالکل غریب اور نادار ہے۔ اُن کا آپس میں نباہ کیسے ہوگا؟ اور پھر برادری مجھے کیا کہے گی؟ اور بچی پر کیا گزرے گی جب وہ ایک یتیم اور غریب لڑکے کے گھر جاکر ساری عمر غربت اور افلاس کا شکار بنی رہے گی؟ آپ نے فرمایامیرے مہربان دوست اس کا حل تو بالکل آسان ہے۔ آپ کو خدا تعالیٰ نے صاحب جائیداد بنایا ہے دولت سے بھی وافر حصہ عطا فرمایا ہے۔ آپ دس ہزار روپیہ کی اُسے امداد دے کر اُسے بھی امیر بنا سکتے ہیں مگر ایسا امیر آپ کو کوئی نہیں ملے گا جو اس جیسا نیک ہو۔ وہ امیر بھی نیک اور دیندار آدمی تھا اس نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے فرمان کے مطابق اس بچی کا رشتہ اس لڑکے کے ساتھ کر دیا اور لڑکے کو اپنے پاس ہی رکھ لیا۔ اور وہ خوش نصیب جوڑا خوشی اور انبساط کی زندگی بسر کرنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کو آخرت میں جو اجر دینا تھا وہ تو اُسے ملے گا ہی، ہمارا اس پر ایمان ہے لیکن اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ نے اسے بغیر اجر نہ چھوڑا۔(حیات نور صفحہ۶۷-۷۰۔طبع۲۰۰۳ء)

خبیث کو خبیث اور طیب کو طیب ہی پسند آتاہے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص اپنی عورت کو چھوڑکر کنچنی کے پاس جایا کرتا تھا۔اس عورت نے ایک دن ایک کنچنی کو بلا کر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے گھر کی عورتوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آتے ہیں۔اس نے کہا ہم ناز ونخرے کرتی ہیں۔ پاس بیٹھتا ہے تو لاتیں مارتی ہیں اور طرح طرح کے مخول اور مذاق ہوتے ہیں اس طرح خبیث مردوں کو مزہ آتا ہے اور زیادہ ہماری طرف میلان ظاہر کرتے ہیں۔جب اسے یہ معلوم ہو گیا تو ایک دن جب اس کا خاوند گھر آیا اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی بیوی نے گالیاں دینی شروع کیں اور جب وہ ذرا قریب آیا تو ہاتھ سے بھی اس کی خبر لی وہ اول تو حیران سارہ گیا کہ یہ آج کیا معاملہ ہے میری بیوی تو نہایت مطیع وفرمانبردار تھی آگے بات نہ کر سکتی تھی یہ تغیر کیا ہو گیامگر پھر سمجھ گیا اور کہنے لگا کہ اب میں سمجھ گیا اس کی بیوی نے اسے بہت ملامت کی کہ تم اس گند کوپسند کرتے ہو اور فرمانبردار بیوی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ غرض کہ یہ پختہ بات ہے کہ خبیث آدمی کو خبیث عورت پسند آتی ہے اور خبیث عورت خبیث مرد کو پسند کرتی ہے۔ اسی طرح طیب عورت اور مرد ، طیب کو ہی پسند کرتے ہیں اور اسی کے مطابق ان کا تعلق ہوتا ہے تب جا کر ان کا گزارہ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی دو چیزوں کا آپس میں اس وقت تک تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک کہ ان کی آپس میں کچھ نسبت نہ ہو۔( انوار العلوم جلد۲صفحہ۲۱۵)

نظر دوبارہ نہ پڑے

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اقدس علیہ السلام کے عہد مبارک میں جب میں ابھی نیا نیا احمدی ہوا تھا میرا گذر ایک شہر میں سے ہوا تو اچانک میری نظر ایک اونچے مکان پر پڑی جہاں ایک خوبصورت عورت بال بکھیرے ہوئے کھڑی تھی۔ میرے دل میں اس کو دوبارہ دیکھنے کی ہوس پیدا ہوئی تو رات کو جب میں سویا تو میں نے خواب میں دو فرشتے اپنے پاس کھڑے ہوئے دیکھے جن میں سے ایک فرشتہ دوسرے فرشتہ کو مخاطب کرتے ہوئے میری نسبت یہ کہتا ہے کہ ’’یہ شخص دیانت و امانت میں تو بہت ہی اچھا ہے بشرطیکہ اس کی نظر لک الاولٰی سے تجاو ز کر کے علیک الثانی تک نہ پہنچے‘‘۔اس کشفی تادیب و تنبیہہ سے مجھے محض افاضۂ احمدیت کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ایک مفید سبق مل گیا۔ الحمد لِلّٰہ علیٰ ذالک۔(حیات قدسی صفحہ۹۳)

توبہ کی اور عبادت الٰہی میں مشغول ہو گئے

حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ ایک عورت پر اس قدر فریفتہ تھے کہ کسی پہلو چین نہ آتاتھاایک دفعہ سردی کے موسم میں ساری رات اپنی محبوبہ کے زیردیوار کھڑے رہے۔جب صبح کی اذان ہوئی تو آپ نے اسے عشاء کی اذان تصوّر کیا۔مگر جب دن نکل آیا تو سمجھے یہ عشاء کی نہیں فجر ہی کی اذان تھی۔اپنے آپ سے کہنے لگے کہ مبارک کے بیٹے شرم کر ۔ہوائے نفسانی کی خاطر تو نے ساری رات گزار دی ۔اگر نماز میں یہ ساری رات کھڑا رہتا تو تو خداکا دیوانہ ہوجاتا۔آپ کے دل میں درد پیدا ہوا۔آپ نے توبہ کی اور عبادت الٰہی میں مشغول ہو گئے۔(تذکرۃ الاولیاء حالات عبداللہ بن مبارک)

رقم گنوا کر پاکدامن رہا

لندن کے ایک قدیم مخلص احمدی مکرم عبدالعزیز دین صاحب پرانے فرنیچر سٹور کے مالک تھے ۔ آپ لمبے قد کاٹھ کے خوبرو نوجوان تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون ان کےا سٹور پر آئیں ۔ کچھ فرنیچر خریدا اور اسے ان کے گھر پہنچانے کے لیے اپنا پتہ دے گئیں ۔ فرنیچر کی قیمت گھر پر ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ مکرم عبدالعزیز صاحب کی روایت ہے کہ اگلے روز جب میں فرنیچر لے کر دیے گئے پتہ پر گیا تو ایک خوش شکل نوجوان لڑکی گھر سے باہر آئی اور کہا کہ میری والدہ اس وقت گھر پر نہیں البتہ فرنیچر کی طے شدہ رقم وہ مجھے دے گئی ہیں ۔ آپ فرنیچر تہ خانہ میں رکھوا دیں۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ فرنیچر تہ خانہ میں رکھ دینے کے بعد قیمت کی وصولی کے انتظار میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا کہ چند منٹ کے بعد وہی نوجوان لڑکی بغیر کسی لباس کے ان کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ یہ صورت حال میرے لیے سخت پریشانی کا باعث تھی ۔ میں نے استغفار کیا اور فوری طور پر گھر سے بھاگ جانے کا عزم کر لیا اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں، فرنیچر کی قیمت کی پرواہ کیے بغیر اتنی تیزی سے بھاگا کہ سر دروازہ سے جا ٹکرایا اور ایک کاری زخم آیا جس سے خون جاری ہوگیا۔ گھر سے باہر جا کر میں نے دم لیا اور سیدھا اپنی دکان پر واپس آگیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عظیم ابتلا سے بچا لیا ۔ لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے ماتھے پر اِس زخم کا نشان کئی سالوں تک قائم رہا اور لمبے عرصہ تک حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ کی یاد دلاتا رہا!یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے روشنی اور ہدایت کا ایک عظیم مینار ہے۔(تقریرمولاناعطاءالمجیب راشدصاحب۔ جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۰۱۹ء)

ہمیں بہت فکر کے ساتھ ایک جہاد کرنا ہو گا

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:آج کل کے زمانے میں تو میڈیا نے اس کے پھیلانے کی تمام حدیں توڑ دی ہیں اور ان حالات میں تو ہمیں اپنے آپ کو بھی اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے خاص کوشش کرنی ہو گی۔ گندی فلمیں دیکھنا گندے خیالات دل میں پیدا کرنا یہ بھی زنا کی قسمیں ہیں اور یہ میڈیا آج کل کرتا ہے جو یہ چیزیں انسان کو برائیوں اور فحشاء میں دھکیلتی چلی جاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ لَا تَقْرَبُوْا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَآءَ سَبِيْلًا (بنی اسرائیل :۳۳) اور زنا کے قریب نہ جاؤ۔ یقینا ًیہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔

پس بہت فکر کا مقام ہے۔ اب توجیساکہ میں نے کہا میڈیا کیا کر رہا ہے بچوں کے بھی ایسے پروگرام دکھائے جاتے ہیں جن میں فحش باتوں سے ان کے دماغ زہر آلود کیے جا رہے ہیں۔ پس ایسے حالات میں تو ہمیں بہت فکر کے ساتھ ایک جہاد کرنا ہو گا۔

پھر زنا صرف ظاہری زنا نہیں بلکہ ہر قسم کا زنا ہے۔باتیں جو برائیوں میں ملوث کرتی ہیں، بےحیائیوں کی طرف لے جاتی ہیں، فحشاء کی طرف لے جاتی ہیں وہ سب اس میں شامل ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النور:۲۰) یقینا ًوہ لوگ جو پسند کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں جو ایمان لائے بے حیائی پھیل جائے ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔

اگر دیکھا جائے تو جو لوگ ان غلاظتوں میں پڑتے ہیں وہ تو خود بھی مختلف قسم کی بیماریوں کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور آخرت کے عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہو گا۔ اس کی کیا شدت ہو گی۔ کاش کہ ایسے لوگ عقل کریں۔پس ہم نے جہاں معاشرے کی اس برائی سے جو بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اپنے آپ کو بچانا ہے اپنی نسلوں کو بچانا ہے وہاں ماحول کو صاف رکھنے کے لیے دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان فحشاء کی ترویج بھی اصل میں دہریت پھیلانے کا ایک پہلو ہے بلکہ دہریت پھیلانے والوں کا ایجنڈا ہے۔ اس کا حصہ ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ سے اور مذہب سے دُور لے جانا چاہتے ہیں ۔ پس ہمیں بہت کوشش سے اس جہاد میں بھی حصہ لینا ہو گا۔(اختتامی خطاب جلسہ سالانہ قادیان ۲۰۲۲ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۲؍اگست ۲۰۲۳ء)

(ایم۔الف۔ شہزاد)

مزید پڑھیں: نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے(حدیث نبوی ﷺ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button