حدیث نبویؐ میں سردار لشکر’’منصو‘‘والی پیشگوئی اورحضرت مسیح موعودؑکےکشف کے مصداق
یوں تو حضرت مسیح موعودؑ کا ہر خلیفہ ہی صفاتی لحاظ سے منصور اورخاص تائیدیافتہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ آیت استخلاف سے بھی برحق خلفاء کی نشانی تمکنت دین اور تائید ونصرت ثابت ہے۔ خلفاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اس فعلی شہادت کے بعد کسی اور گواہی کی ضرورت تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی شان سے کیا بعید کہ وہ اپنے خلفاء کو یا ان کے غلاموں کو جب چاہےکسی خواب کے ذریعہ تازگیٔ ایمان کےلیے ظاہر بھی فرمادے کہ وہ اس کے تائید یافتہ ہیں
۲۰، ۲۱؍فروری ۲۰۲۶ءکےروزنامہ الفضل انٹرنیشنل کی خصوصی اشاعت ’’یوم مصلح موعودؓ ‘‘میں مکرم عبدالسمیع خان صاحب استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا کا ایک عمدہ مضمون ’’تحریک جدید نظام وصیت کی ارہاص‘‘شائع ہوا۔ جس میں حضرت مسیح موعودؑ کے بارے میں حدیث نبویؐ میں ماوراء النہر سے ایک معزز زمیندار کے ظہور کی پیشگوئی کا بھی ذکر ہے جو آل محمدؐ کے لیے تقویت و تمکنت اور مضبوطی کا باعث ہو گا اور جس کی جماعت کا سردار ’’منصور‘‘خاص الٰہی تائید و نصرت کا حامل ہوگا
ابوداؤد کتاب المہدی کی یہ حدیث مع تشریحی ترجمہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی تائیدمیں ازالہ اوہام میں بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے تحریر فرمایا: ’’عَنۡ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہﷺيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ حَرَّاث عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ، يُوَطِّنُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرَهُ اَوقال اِجَابَتہُ۔ یعنی روایت ہے علی کرم اللہ وجہہ ٗسے کہ کہا!فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص پیچھے نہر کے سے نکلے گا یعنی بخارا یا سمرقند اس کا اصل وطن ہو گا اور وہ حارث کے نام سے پکارا جاوے گا یعنی با عتبار اپنے آبا ؤ اجداد کے پیشہ کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کی نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا۔ پھر آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا اس وجہ سے کہ وہ حَرّاث ہوگا یعنی ممیّز زمینداروں میں سے ہوگا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیا جاوے گا۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ اس کے لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار و سرگروہ ایک توفیق یافتہ شخص ہو گا جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکارا جاوے گا، کیونکہ خدائے تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہوگا۔ ‘‘ ( ازالۂ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۴۸بقیہ حاشیہ ایڈیشن ۲۰۰۸ء)
حضرت ملا علی قاریؒ نےا س حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ ماوراءالنھر کے علاقہ سے مراد( وسطی ایشیاء کے)شہر بخارااور سمر قند ہیں (جو دریائے آمو(Amu)کے پار تھے۔) اس حارث زمیندار کی اپنی صفت حرّاث ہوگی(یعنی معروف زمیندار)اوراس کے مقدمۃ الجیش پرسردار لشکر کی صفت’’منصور‘‘ ہوگی یعنی وہ تائید یافتہ ہوگا۔ ملّا علی قاری(متوفی:۱۰۱۴ھ) لکھتے ہیں کہ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد ابو منصور ماتریدی(متوفی:۳۳۲ھ) تھے جو حنفی فقہ اور تفسیر کے بہت بڑے امام اورعلامہ تھے۔ لیکن ان کے نزدیک یہ رائے(ابوداؤدکتاب المہدی میں) اس حدیث کے باب اشراط الساعۃ یعنی علامات قیامت کے عنوان سے موافقت نہیں رکھتی بلکہ مہدی وغیرہ کے ظہور کے ساتھ اس کی زیادہ مناسبت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح کتاب الفتن جلد۱۰صفحہ ۹۸بیروت لبنان)
مکرم عبد السمیع خان صاحب نے اس حدیث کی تشریح میں ازالہ اوہام میں ہی حضرت مسیح موعودؑ کا ایک ’’معنی خیز کشف‘‘ (جو دراصل ذو معنی بھی ہے) بیان کرکے بجا طور پردرست لکھا ہے کہ اس ’’منصور‘‘ سے مراد حضرت مصلح موعودؓ ہیں، جس سے مکمل اتفاق ہے۔ ویسے بھی’’منصور‘‘جماعت مہدی کےسردار کا صفا تی نام ہے جس کے معنی تائید یافتہ کے ہیں اورجماعت احمدیہ کاتو ہر خلیفہ ہی نصرت یافتہ ہے۔ پس اس صفت کے مصداق متعددبھی ہو سکتے ہیں۔
تاہم ناچیز کی ایک غیر معمولی رؤیا(جسے ۱۹۸۱ءمیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نےبھی قبول فرمایا) اور بعض دیگر قرائن قویہ کی بناء پر اس حدیث کی پیشگوئی میں مذکور’’منصور‘‘کے مصداق حضرت مرزا ناصراحمد صاحب ؒبھی ہیں۔ ویسے بھی یہ ایک تبشیری پیشگوئی ہےاورایسی پیشگوئیوں کا کئی بارپورا ہونا بھی قرآن و حدیث اور تاریخ سے ثابت ہےجیسا کہ آگے بیان ہوگا۔
مزیدتفصیل اس اجمال کی یہ ہےکہ حضرت مسیح موعودؑنے الہامِ الہٰی کی رغو سے اپنے آپ کو بطور مسیح ومہدی ابوداؤد کی ماوراء النہرسےحارث یعنی معزززمیندارکےظہوروالی حدیث نبوی کامصداق قراردیاہے جسے ایک کشف کے مطابق پانچ ہزار روحانی فوج دی جائےگی۔ اس حدیث مذکورمیں ’’منصور‘‘کوجماعت کے ایک توفیق یافتہ سرداریاسپہ سالار کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ (ملخص ازازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۱۴۸، ۱۴۹ایڈیشن ۲۰۰۸ء)
مکرم عبد السمیع خان صاحب نے اس کشف میں’’منصور‘‘کے اولین مصداق حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃا لمسیح الثانی ؓ مرادلیتےہوئےاس کی تائید میں حضرت قاضی محمد ظہو الدین اکمل صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ کا یہ بیان بھی پیش کیاہے کہ’’رات دوبجےکےقریب جب میری روح گداز ہو کر آستانہ الوہیت پر بہہ ری تھی یک دم یہ بات میخ آہنی کی طرح میرے قلب میں گڑ گئی کہ حضورؑ کا یہ کشف تحریک جدید میں قربانیاں کرنے والوں کے ذریعہ پورا ہورہا ہے۔‘‘ اگلےروزدفترتحریک جدیدسےپتہ کرنےپرمعلوم ہوا کہ یہ تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ لہٰذا حضر ت مسیح موعود ؑکے کشف میں آپؑ کوجو پانچ ہزار سپاہی دیے جانے کا ذکر ہے آپؑ کی جماعت کےوہ سرداراور’’منصور‘‘ حضرت مصلح موعودؓ ہیں جن کےبارہ میں یہ کشف پانچ ہزار مجاہدین تحریک جدید کے ذریعہ خلافت ثانیہ میں حضرت مصلح موعودؓ کے حق میں پورا ہوا۔ پھرحضر ت مصلح موعود ؓ نے بھی حضرت قاضی صاحبؓ کے اس بیان پر صاد فرمایا۔
اسی طرح حضرت مولوی کرم داد صاحبؓ آف دوالمیال صحابی حضرت مسیح موعودؑ نےبھی اس پیشگوئی کو حجج الکرامہ صفحہ ۳۶۹ کے حوالہ سے تحریک جدید پر چسپاں کرتے ہوئے الفضل ۷؍دسمبر۱۹۳۸ء میں شائع کروایا۔ جس کا علم خاکسار کو مکرم عبد السمیع خان صاحب کے مضمون سےہی ہوا۔
خاکسار کی اپنی رؤیا کی تفصیل بھی عرض ہے: ۱۹۸۱ء میں خلافت ثالثہ کے بابرکت دور میں اس عاجز نے رؤیا میں دیکھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ کی موجودگی میں خاکسار ’’خلافت اور ا س کی برکات‘‘پرتقریر کرتے ہوئے یہ بھی کہتا ہے کہ خلافت ثالثہ کی سچائی کی ایک نشانی نواب صدیق حسن خان صاحب کی کتاب حجج الکرامۃ کے صفحہ ۳۹۵پر لکھی ہے۔ اس وقت مجھے یہ تک معلوم نہ تھا کہ اس صفحہ پرکیا لکھا ہے؟ اگلے روز خلافت لائبریری سے اس کتاب کا متعلقہ صفحہ نکال کر دیکھا تو اس کی آخری دو سطور میں ابو داؤد کی ا سی حدیث کا ذکر تھا جو حضرت علیؓ سے مروی ہےکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ماوراءالنھر سے ایک شخص نکلے گا جو حارث حرّاث یعنی معزز زمیندار ہوگا۔ اس کے لشکر کے آگے جو سردار ہوگا اسے منصور کہیں گے۔ (حجج الکرامۃ صفحہ ۳۹۵)
عجیب بات ہے کہ قبل ازیں جماعتی لٹریچر میں حجج الکرامہ کے جس حوالہ صفحہ ۳۶۹ کو اس کشف پر چسپاں کیا گیا اس سے ہٹ کر خواب میں خاکسار کی زبان پر دوسراصفحہ ۳۹۵ آتا ہے جس سے قبل ازیں بےخبر تھا۔ نیز اس وقت ازالہ اوہام والا کشف بھی مستحضر نہ تھا۔
خاکسار نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں اپنی یہ خواب لکھ کر کتا ب حجج الکرامۃ کے صفحہ۳۹۵ کی نقل بھی ساتھ منسلک کی اور تحریر کیا کہ اس ناچیز کی رائے میں حدیث کے مطابق مقدمۃ الجیش کے سالار ’’منصور‘‘ آپؒ ہیں۔ اور حدیث کے مطابق مسیح موعودؑ کےعلاوہ اس منصورکی مدد کرنا بھی ہر مومن پر واجب ہےسویہ عاجز واقف زندگی غلام ہر قسم کی خدمات مددو نصرت کے لیے حاضرہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اپنے ذاتی دستخط کے ساتھ جوابی خط میں تحریر فرمایاجومحفوظ ہے۔
’’عزیزم مکرم السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا خواب والا خط ملا۔ خداتعالیٰ آپ کو دینی دنیاوی ترقیات دے۔ اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔ اور آپ کا ہر آن حافظ و ناصر ہو۔ آمین دستخط:مرزا ناصر احمد۔
اس جواب سے ظاہر ہے کہ حضورؒ نے اس عاجز کی رؤیا کو ردّ نہیں بلکہ قبول فرمایا۔
جیسا کہ قبل ازیں بھی اشارہ کیاجاچکاہے کہ تبشیری پیشگوئیاں ذو الوجوہ بھی ہوتی ہیں اور کئی بار بھی پوری ہو سکتی اور ہوتی ہیں۔ جیسے مکی دور میں کی گئی پیشگوئی سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔ (القمر:۴۶) (ضرور ىہ انبوہِ کثىر ہزىمت دىا جائے گا اور وہ پىٹھ پھىر جائىں گے) جب پہلی دفعہ غزوۂ پہلے بدر میں مشرکین کے لشکر پسپا ہونے پر پوری ہوئی تو رسول کریم ﷺنےفتح بدر پر یہی آیت بآواز بلند تلاوت کرتے ہوئے اس موقع پر چسپاں فرمائی۔ (بخاری کتاب التفسیر باب قولہ سیھزم الجمع و یولون الدبر)
حضرت ابو ہریرہؓ کے بیان کے مطابق رسول کریمﷺ یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خندق وھی احزاب)یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے اپنے لشکر وں کو غالب کیا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور اسی خدا نے تنہا اسے لشکروں پر غالب کیا۔ پس اس خداکےسوا اور کوئی چیز نہیں۔ علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ (پیدائش:۱۳۶۱ھ) شارح مسلم نے لشکروں کی پسپائی سے مراد غزوۂ احزاب لیا جس میں مسلمانوں کےکسی لشکر کی بجائے تیز آندھی اور خدا کے غیبی لشکروں کی مدد سے لشکر کفار پسپا ہوا تھا۔ (توفیق الرب المنعم بشرح صحیح الامام مسلم جلد۷ صفحہ۵۵۴)
پھر فتح مکہ پر بھی آنحضرت ﷺنے الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (سنن ابن ماجہ کتاب الدیات باب دیۃ شبہ العمد مغلظۃ) کے کلمات دہرائےکہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا لشکروں کو پسپا کیا)۔ هَزَمَ الْأَحْزَابَ کے الفاظ دوہرا کر سورۃالقمر کی پیشگوئی کو فتح مکہ پر بھی چسپاں فرمایا۔
سورت فتح میں مذکور’’فتح مبین‘‘کی پیشگوئی بھی پہلے حدیبیہ پر چسپاں کی گئی۔ چنانچہ سفرحدیبیہ سے واپسی کے دوران جب سورہ فتح کی آیات نازل ہوئیں تو رسول کریمﷺ نے حضرت عمرؓ (جو صلح کے وقت بعض شرائط پر ناخوش تھے)کو بلاکر فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (الفتح :۲) بےشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح عطا فرما دی۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الحدیبیہ)
اسی طرح فتح مکہ(جو صلح حدیبیہ کاہی نتیجہ تھی) پر بھی ’’فتح مبین‘‘ کی یہی پیشگوئی چسپاں ہوئی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مغفلؓ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ اونٹنی پر سوار خوش الحانی سے سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے ہیں یعنی اس وقت جب آپ ﷺیہ پیشگوئی اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھ رہے تھے۔ (بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی ؐ الرایۃ یوم الفتح)
اسی طرح دارقطنی کی حدیث میں مہدی کی صداقت کے دو نشان چاند و سورج گرہن کی رمضان میں پیشگوئی پہلی دفعہ ۱۸۹۴ء میں ہندوستان وغیرہ مشرقی دنیا میں پوری ہوئی تو دوسری مرتبہ ۱۸۹۵ء میں امریکہ وغیرہ مغربی دنیا میں پوری ہوگئی۔ حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: ’’یہ گرہن دو مرتبہ رمضان میں واقع ہو چکا ہے۔ اوّل اس ملک میں دوسرے امریکہ میں اور دونوں مرتبہ انہیں تاریخوں میں ہوا ہے جن کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے۔ ‘‘ (حقیقۃا لوحی روحانی خزائن جلد ۲۲صفحہ ۲۰۲ایڈیشن۲۰۰۸ء)
الغرض پیشگوئی کا کئی بار پورا ہونااللہ تعالیٰ کی اس خاص شان سے تعلق رکھتا ہے جس کی طرف اشارہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرّحمٰن:۳۰) میں بھی مذکور ہے کہ ہر روز وہ نئی شان اور جلوے دکھا تا رہتا ہے۔ پس مسیح موعودؑ کے سپہ سالار ’’منصور‘‘ کے توفیق یافتہ اور نصرت یافتہ ہونے کی صفت ایک سے زائد خلفائے احمدیت پر پورا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑنے اس کشف کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے: ’’وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا خوشحال ہے خوشحال ہے۔ مگر خداتعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اس سے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دوسرے وقت دکھایا جائے۔‘‘ ( ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۱۴۹ایڈیشن ۲۰۰۸ء)
’’منصور‘‘کو پہچان نہ سکنے کی ایک مخفی حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس صفت کا مصداق ایک نہیں کئی تھے، جسےکسی دوسرے وقت دکھائے جانے کی امید بھی ظاہرفرمائی۔
حدیث نبویؐ ہےکہ:رُؤْيَا الْمُسْلِمِ يَرَاهَا أَوْ تُرَى لَهُ۔ (مسلم کتاب الرؤیا)کہ مسلمان خود بھی رؤیا دیکھتاہے یا اس کی خاطر کسی کوبھی رؤیا دکھائی جاتی ہے۔ چنانچہ’’ منصور‘‘ کے ایک مصداق کے بارہ میں حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑنےاس کے اوّلین مصداق حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب خلیفۃا لمسیح الثانیؓ مرادلیےہیں جس پر حضرت مصلح موعودؓ نے بھی صاد فرمایا۔
اس کے بعد ۱۹۸۱ء میں اس عاجز پر اس کے دوسرے مصداق کے بارہ میں ایک رؤیا میں نشاندہی ہوئی کہ وہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ؒہیں جس پر حضرت خلیفۃا لمسیح الثالثؒ نے بھی صادفرمایا اور بطور تائید مزید یہ قرینہ قویہ بھی ظاہر ہوا کہ حضور کے دور خلافت کے پانچ ہزار سپاہی سے مرادواقفین عارضی کی روحانی فوج تھی جس کی تحریک حضور نے۱۹۶۶ء میں فرما کر ایک الگ نظارت تعلیم القرآن و وقف عارضی قائم فرمائی۔ اور آپ ؒکے مطالبہ پر اللہ تعالیٰ نے ۱۹۶۸ء میں پانچ ہزارواقفین عارضی آپؒ کو پورے فرما دیے۔ چنانچہ حضورؒ نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۸ء میں دوسرے روز کے خطاب میں ۱۲؍جنوری کو بڑی مسرت سے یہ اعلان فرمایا: ’’بیس ماہ ہوئے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے منشاء کے مطابق میں نے وقف عارضی کی تحریک کا اجراء کیا تھا اور دسمبر کے آخر تک ۵۵۲۲دوستوں سے اس وقف میں خود کو پیش کیا لیکن ان میں سے بعض دوست جائز مجبوریوں کی وجہ سے اس میں عملاً حصہ نہیں لے سکے ان کی معین تعداد کے متعلق دفتر نے مجھے کچھ نہیں بتایا لیکن ان کا اندازہ ہے کہ وہ سو اور دوسو کے درمیان ہے۔ میں نے زیادہ احتیاط کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ ہزار کی تعداد کو لے لیا کہ اتنے دوستوں نے اس عرصہ میں وقفِ عارضی کے منصوبہ کے ماتحت دو ہفتے کم از کم جماعتوں کی تربیت میں گزارے ہیں۔ جب ہم مجموعی وقت کا شمار کرتے ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ واقفین نے مجموعی طور پر قریباً دو صدیاں کام کیا ہے یعنی اتنے ہفتے انہوں نے وقف عارضی کے کام میں گزارے ہیں جتنے ہفتے دو سو سال میں ہوتے ہیں۔ ایک سال میں باون ہفتے ہوتے ہیں۔ اب باون کو دوسو کے ساتھ ضرب دیں تو جو ہفتوں کی تعداد بنتی ہے اتنے ہفتے واقفین عارضی نے اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے گزارے ہیں۔ بہر حال یہ مدت قریباً دو سو سال بنتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دو سو مبلغ جنہیں ہم معاوضہ دیں سال بھر کام کریں تو اتنا کام اس تحریک کے ذریعہ ہو چکا ہے اور اگر روپیہ کی شکل میں اس کام کا اندازہ لگایا جائے اور مزدور کی مزدوری شمار کی جائے یعنی جس شخص نے وقف عارضی میں کام کیا ہے اس کی یومیہ مزدوری ایک مزدور کی اجرت کے مطابق تین روپے رکھی جائے تو یہ دولاکھ دس ہزار روپیہ کا کام بنتا ہے۔ اگر ان کی مزدوری (ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز مزدور ہی۔ دنیا کے مزدور نہیں جیسے دنیا کے ٹھیکیداروں کے مزدور ہوتے ہیں ) چھ روپیہ روزانہ بھی جائے تو یہ کام چار لاکھ میں ہزار روپیہ کا بنتا ہے۔ پھر یہ لوگ اپنی جگہوں پر تو مقرر نہیں کئے جاتے دوسری جگہوں پر بھجوائے جاتے ہیں اس لیے انہوں نے آنے جانے کا کرایہ بھی اپنے پاس سے خرچ کیا ہے اگر کرایہ کی اوسط میں روپیہ فی واقف رکھی جائے تو ایک لاکھ روپیہ کا یہ خرچ ہے گویا آپ یہ کہہ لیں کہ پانچ لاکھ میں ہزار روپیہ کا خرچ ہے یا یوں کہہ دیں کہ پانچ لاکھ میں ہزار روپیہ کی آمد واقفین کے ذریعہ جماعت کو ہوئی یا اتنے روپے کا کام کم از کم انہوں نے کیا۔‘‘(خطابات ناصر جلد اول صفحہ ۱۹۱، ۱۹۲،ایڈیشن ۲۰۱۰ء)
مزیدبرآں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے پیشگوئی حدیث نبوی میں ’’منصور‘‘ کے دوسرے مصداق ہونے کا ایک اور قرینہ حضرت مسیح موعودؑ کے کشف میں ’’خوشحال ہے خوشحال ہے‘‘ کے الفاظ کا تکرار بھی ہے۔ کیونکہ مالی قربانی کے اعتبار سے خلافت ثالثہ کے دور پر ’’خوشحال‘‘ کا لفظ نہایت برمحل چسپاںہوتا ہےجیسا کہ آپؒ کو۱۹۶۶ءمیں الہام ہوا ’’انا دیواں گا کہ تو رج جاویں گا۔‘‘ (خطبہ جمعہ۱۸مارچ ۱۹۶۶ء خطبات ناصر جلداول صفحہ۱۸۲)
چنانچہ خلافت ثالثہ کےبابرکت دور میں جماعتی چندہ جات تولاکھوں سے کروڑوں میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح آپؒ کی جاری فرمودہ تحریک نصرت جہاں آگےبڑھواسکیم میں ایک لاکھ پاؤنڈکے مطالبہ پر جماعت نے دو لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم اپنے آقا کے قدموں میں پیش کر دی۔ افریقہ میں اس اسکیم کے تحت جماعت کو سکولوں اور ہسپتالوں کے قیام سےغیر معمولی برکات عطا ہوئیں۔
جیسا کہ ذکر ہو چکا ہےکہ یوں تو حضرت مسیح موعودؑ کا ہر خلیفہ ہی صفاتی لحاظ سے منصور اورخاص تائیدیافتہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ آیت استخلاف سے بھی برحق خلفاء کی نشانی تمکنت دین اور تائید ونصرت ثابت ہے۔ خلفاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اس فعلی شہادت کے بعد کسی اور گواہی کی ضرورت تو نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی شان سے کیا بعید کہ وہ اپنے خلفاء کو یا ان کے غلاموں کو جب چاہےکسی خواب کے ذریعہ تازگیٔ ایمان کےلیے ظاہر بھی فرمادے کہ وہ اس کے تائید یافتہ ہیں۔ خداتعالیٰ کی فعلی شہادت کےمطابق بھی حضرت مسیح موعودؑ کے کشف میں ایک لاکھ سپاہی کی خواہش تھی۔ ۱۸۹۱ءمیں اس کا وقت نہیں آیا تھا، اس لیے ابتداً پانچ ہزار سپاہی کا وعدہ دیا گیا، جو تحریک جدید کی بابرکت مالی تحریک کے ذریعہ ۱۹۳۸ء میں پورا ہوا۔ اور پھر آئندہ خلافتوں میں پوراہوتاچلاجارہاہے۔ اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعودؓ کی۱۹۱۹ءکی ایک رؤیابھی قابل ذکر ہے جس سے آپؓ کے بعدبھی کچھ تائید یافتہ قائمقاموں کی بشارت کا ذکر ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں: ’’میں نے دیکھا کہ میں بیت الدعا میں بیٹھا تشہد کی حالت میں دعا کر رہا ہوں کہ الہٰی میرا انجام ایسا ہو جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کا ہوا۔ پھر جوش میں آکر کھڑا ہوگیا ہوں اور یہی دعا کررہا ہوں که دروازہ کھلا ہے اور میر محمد اسماعیل صاحبؓ اس میں کھڑے روشنی کر رہے ہیں۔ اسماعیل کے معنی ہیں خدا نے سن لی اور ابراہیمی انجام سے مراد حضرت ابراہیمؑ کا انجام ہے کہ ان کے فوت ہونے پر خداتعالیٰ نے حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ دو قائم مقام کھڑے کردیےیہ ایک طرح کی بشارت ہے جس سے آپ لوگوں کو خوش ہو جانا چاہئے۔ ‘‘(عرفان الٰہی انوارالعلوم جلد ۴صفحہ۳۵۰ تقریر جلسہ سالانہ مارچ ۱۹۱۹ء)
چنانچہ یہ بشارت آپؓ کے صاحبزادگان حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃالمسیح الثالثؒ اور حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے وجودو ں کے ذریعہ پوری ہوئی اور خلافت ثالثہ اورخلافت رابعہ کے ادوار میں مجاہدین تحریک جدیدکےلحاظ سےبھی مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ خلافت ثالثہ میں پاکستان میں مجاہدین تحریک جدید کی تعداد ۴۵۰۰۰؍اور خلافت رابعہ میں پاکستان میں ہی یہ تعداد ۶۶؍ہزار ہوگئی۔
مذکورہ بالاپہلوکےلحاظ سے خلافت خامسہ بھی دراصل خلافت ثالثہ اور خلافت رابعہ کے تمکنت دین کے کاموں کا نہ صرف تسلسل ہے، بلکہ ان میں مسلسل اضافہ کا ایک بابرکت دور ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ نےاپنے مقرر کردہ خلیفہ کی غیر معمولی تائید و نصرت فرمائی۔ راقم الحروف اپنے مضامین ’’خلافت خامسہ میں عظیم الشان ترقیات اور اشاعت اسلام کی شاخوں کا احاطہ‘‘ مطبوعہ روزنامہ الفضل آن لائن لندن۲؍مارچ ۲۰۲۲ء اور ’’خلافت خامسہ اور معیت الٰہی‘‘ الفضل آن لائن اور۲۳؍جون ۲۰۲۲ء ( دو اقساط )میں تفصیل سے ذکر کرچکا ہے۔
اس مناسبت سے ایک اَور اہم اور دلچسپ رؤیا کا ذکر بھی ضروری ہے جو خلافت خامسہ کے عین آغاز ۲۰۰۳ءمیں ہماری ایک احمدی بہن مکرمہ تسلیم لطیف صاحبہ سابق صدر لجنہ ضلع سرگودھا حال برطانیہ نے دیکھی اور گذشتہ دودہائیوں میں جس کے پورا ہونے کے ہم سب گواہ بن چکے ہیں۔ اس رؤیا کا مفہوم اورخلاصہ یہ تھا کہ آنے والے خلیفہ خامس کی صورت و شکل حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ جیسی ہےاور پگڑی آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کی عطا ہوئی ہے۔ یہ خواب موصوفہ نے فون پر خاکسار کو خود سنائی اور تحریری طور پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھی پیش کردی تھی جس میں حضرت مسیح موعودؑ کی کماحقہٗ جانشینی اور گذشتہ خلافتوں کے کاموں کے تسلسل جاری رکھنے کی طرف بھی اشارہ تھا۔
حضرت مسیح موعودؑ کا مشن اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانا اور ا س پر عمل کروانا ہی تھا جس کے لیے آپؑ کو الہام ہوا کہ ’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔‘‘ہرخلافت میں یہ الہام بڑی شان سےپوراہوتاچلاآیااور اللہ تعالیٰ اپنےمقررکردہ خلفائے سلسلہ کو اس کام کے لیے ہمیشہ روحانی افواج مہیا فرماتا رہا۔ کبھی تحریک جدید کی مالی قربانی کرنے والوں کی فوج تو کبھی واقفین عارضی کی۔ کبھی واقفین نو کی روحانی فوج تو کبھی مبلغین ومعلّمین کی فوج ظفر موج۔
چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی جاری فرمودہ تحریک وقف عارضی جو اب بھی حسب حالات بعض شرائط میں نرمی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ امسال ہمارے ملک میں اس کے واقفین عارضی کی تعدادپانچ ہزارہوچکی ہے۔ اسی طرح حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے مسیح موعودؑ کی روحانی فوج کے لیے واقفین نو کی بابرکت تحریک جاری کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میری یہ خواہش تھی کم سے کم ۵ہزار بچے اگلی صدی کے واقفین نو کے طور پر ہم خدا کے حضور پیش کریں۔‘‘ (خطبات طاہر جلد۸ صفحہ۸۴۔ خطبہ۱۰؍فروری ۱۹۸۹ء)
چنانچہ خلافت رابعہ کےآخر میں واقفین نو کی تعداد بیس ہزار کےقریب پہنچ رہی تھی۔ جبکہ خلافت خامسہ کے بابرکت دَور میں واقفین نوکی یہ تعداد ۸۵۴۸۹؍کو پہنچ گئی ہے۔ (روزنامہ الفضل انٹرنیشنل۲۸؍جولائی تا ۲اگست ۲۰۲۵ءصفحہ۱۷)
۲۷؍دسمبر۱۹۳۹ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے جلسہ سالانہ کی تقریر میں حضر ت مسیح موعودؑ کے مذکورہ بالا کشف کے حوالہ سے مجاہدین تحریک جدید کے پانچ ہزار ہوجانے کے بعد اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ہم تحریک جدید کے تحت پانچ ہزار مبلغ بھی تیار کردیں۔ (الفضل ۳؍جنوری۱۹۴۰ء صفحہ۶)
الحمدللہ کہ خلافت خامسہ کے بابرکت دور میں مستقل مرکزی مبلغین و واقفین کرام اور معلّمین وقف جدید کی یہ روحانی فوج پانچ ہزار سےبھی تجاوز کر چکی ہے بلکہ اگر اس میں افریقہ و انڈونیشیا کے مشنری و معلّمین کرام بھی شامل کیے جائیں تو یہ تعداداس سےبھی دوگنا کےقریب ہوجاتی ہے۔
اسی طرح خلافت خامسہ کے بابرکت دَور میں۲۰۲۳ء تک صرف ہمارے ملک میں مجاہدین تحریک جدید کی تعداد(جس کا ۹۲واں سال جاری ہے) ایک لاکھ عبورکرکے۱۱۹۱۰۲؍ہو چکی تھی جبکہ کل دنیا میں امسال تحریک جدید میں شاملین کی تعداد تو اب ۱۸؍لاکھ ہوچکی ہے۔ یہ وہ غیرمعمولی قربانی کرنے والی روحانی فوج ہے کہ کشف مسیح موعودؑ کے وقت۱۸۹۱ء کی کمزور جماعت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ (الطلاق:۴) اس لیے اس پر کسی کو کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ دراصل الٰہی سلسلوں کی ترقی میں تدریج کا عمل ہمیشہ کارفرما ہوتا ہے۔ چنانچہ عہد خلفائے راشدین کے زمانہ سے مقدر فتوحات اور کامیابیاں اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر ظاہر فرمائیں۔ اسی طرح آج بھی خلافت احمدیہ کےبابرکت دورمیں یہ تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے۔
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’جہاں تک ظاہری کامیابیوں اور فتوحات کا تعلق ہے رسول کریمﷺ کا زمانہ رات سے مشابہت رکھتا تھا اور بعد میں آنے والا زمانہ دن سے مشابہت رکھتا تھا۔ چنانچہ دیکھ لو جب رسول کریمﷺ وفات پاگئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہری رنگ میں غلبہ دینا شروع کردیا یہاں تک کہ اسلام کو ایسی طاقت حاصل ہو گئی کہ ابو بکرؓ کی آواز جب قیصر سنتا تو وہ اس کو ردّ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ رسول کریمﷺ کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپؐ کا خط جب اس کے پاس گیا تو اس پر اثر بھی ہوا مگر پھر اپنی قوم سے ڈر گیا اور رسول کریمﷺ کی بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوا۔ حضرت عمرؓ کا زمانہ آیا تو آپ کو ابوبکرؓ سے بھی زیادہ رعب حاصل ہوا۔ قیصر صرف ان کی بات کو سنتا نہیں تھا بلکہ ساتھ ہی ڈرتا بھی تھا کہ اگر میں نے اس کے مطابق عمل نہ کیا تو میرے لیے اچھا نہیں ہوگا اور کسریٰ تو اس وقت تک بالکل تباہ ہو چکا تھا۔ عثمانؓ کا زمانہ آیا تو ان کو بھی ایسا دبدبہ اور رعب حاصل ہوا کہ چاروں طرف ان کا نام گونجتا تھا اور ہر شخص سمجھتا تھا کہ مجھے امیرالمومنین کے حکم کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اب جہاں تک دنیوی اعزاز کا سوال ہے محمد رسولﷺ کو وہ عزت حاصل نہیں ہوئی جو ابو بکر ؓ اور عمرؓ اور عثمانؓ کو حاصل ہوئی مگر پھر بھی یہ لوگ روحانی دنیا کے نجوم تھے شمس محمد رسول اللہ ﷺہی تھے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد۹ صفحہ۳۳۹-۳۴۰۔ ایڈیشن۱۹۸۶ء)
فالحمدللّٰہ علی ذالک۔ اللّٰھم ایّد امامنا بروح القدس وکن معہ حیث ما کان وانصرہ نصرا عزیزا۔
مزید پڑھیں: کیا امیرعبد الرحمٰن اور امیر حبیب اللہ کاجذبۂ جہاد احمدیوں کو شہید کرانے کا باعث بنا تھا؟




