عید کی خوشیوں میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہم نے ادا کرنا ہے
وَاعۡبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَالۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرًا (النساء:37)اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اَور رمضان سے گزرنے کی توفیق دی۔ بہت سے ایسے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے بہتر رنگ میں عبادت کی بھی توفیق دی ہو گی۔ بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے افضال کے نظارے دیکھے ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ کا بہت احسان ہے کہ ہم میں سے بہتوں کو ان تیس دنوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی بہتر رنگ میں توفیق ملی۔
اللہ تعالیٰ کرے کہ آج کے دن جب ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عید منا رہے ہیں تو سال کے باقی دنوں میں بھی اپنی اس حالت کو جاری رکھنے کا عہد کریں اور اپنی عبادتوں کے معیاروں کو بھی اس طرح قائم کرنے کی کوشش کریں جس طرح اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے اور جس کی تعلیم ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے دی۔
… اس کے ساتھ ہی ہمیں حقوق العباد کے ان معیاروں کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں توجہ دلائی اور تلقین کی گئی ہے۔ اگر ہم اس طرح اپنی زندگی گزارنے والے بن جائیں گے تو وہی ہماری حقیقی عید ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ایک دوسرے کے حق ادا کرنے والا معاشرہ ہی وہ معاشرہ ہے، وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے ہیں
اور جب یہ ہو تو پھر یہ معاشرہ جنت نظیر بن جاتا ہے اور حقیقی خوشی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو اس سوچ کے ساتھ اور اپنے عملوں میں یہ تبدیلی پیدا کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ عید کی برکات ہمیں ہر لمحہ اور سارا سال پہنچتی رہیں۔
… ایک بات عبادت کے حوالے سے پہلے کرنا چاہتا ہوں،…جس کا عید کی رات کے ساتھ خاص تعلق ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص محض للہ دونوں عیدوں کی راتوں میں عبادت کرے گا تو اس کا دل ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا جائے گا اور اس کا دل اس وقت بھی نہیں مرے گا جب سب دنیا کے دل مرجائیں گے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الصیام باب فیمن قام لیلتی العیدین حدیث 1782)
پس یہ بات ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنی چاہیے کہ عید کی خوشیاں اور پروگرام ہمیں اس حد تک اپنے اندر نہ ڈبو لیں کہ ہم بھول جائیں کہ اللہ تعالیٰ کا حق بھی ہم نے ادا کرنا ہے۔ اپنی عاقبت کی بھی ہم نے فکر کرنی ہے۔
یہ دنیا ہی صرف ہمارا مطلوب و مقصود نہیں ہے بلکہ عید کے دن آنے والی رات بھی اور بعد کی راتیں بھی ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل نہیں کریں گی۔
(خطبہ عید الفطر ۲۲؍اپریل ۲۰۲۳ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۵؍اگست ۲۰۲۳ء)
مزید پڑھیں: شوّال کے روزوں کی ترتیب



