ہنسنامنع ہے!
اب آرام ہے
بے وقوف: پرسوں میرا دوست کنویں میں گرگیا تھا۔
بہت چوٹ لگی اوربہت چیخ رہا تھا۔
دوست:اب کیسا ہے وہ؟
بے وقوف: اب ٹھیک ہے کل سے کنویں میں سےآواز نہیں آرہی۔ لگتا ہے آرام آگیا ہے۔
وقت کی اہمیت
جج: تم نے اُس ڈاکٹر کی گھڑی کیوں چرائی جس نے تمہیں مفت دوادی تھی۔
ملزم : جناب ! ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ دواہر چار گھنٹے بعد پینا اور میرے پاس گھڑی نہیں تھی۔
آدھا سامان
مالک مکان : ( چور پکڑ کر) بہتری اسی میں ہے کہ تم سارا سامان یہیں پر چھوڑ جاؤ۔
چور: جناب یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آدھا سامان تو آپ کے ہمسایوں کا ہے۔
رول نمبر
ایک بوڑھا شخص خوف زدہ ہو کر بیمار ہو گیا۔ اُس کے بیٹے نے پوچھا: کیا ہوا بابا جی؟
بوڑھا: کل میرے کلاس فیلو کا انتقال ہو گیا ہے ۔
بیٹا: تو اِس میں اتنا خوف زدہ ہونے کی کیا بات ہے؟
بوڑھا: بیٹا اس کارول نمبر 45 تھا اور میرا 46 ۔
نیا ڈاکٹر
ایک مریض آپریشن تھیٹر سے بھاگ آیا۔ تو اُس کے دوست نے پوچھا: کیوں بھاگے ہو؟
مریض: آپریشن تھیٹر میں نرس مسلسل کہے جا رہی تھی کہ گھبراؤ نہیں چھوٹا سا تو آپریشن ہے۔
دوست: تو پھر کیا مسئلہ تھا تمہیں؟
مریض: بھئی وہ مجھ سے نہیں ڈاکٹر سے کہہ رہی تھی ۔
ڈراپ سین
ایک صاحب کی عادت تھی کہ جو بھی لفظ پڑھتے ۔ اُس پر فوری عمل کرتے پھر آگے پڑھتے ۔ اسی طرح پڑھتے جاتے اور عمل کرتے جاتے ۔ ایک مرتبہ وہ بیمار ہو گئے ۔ ڈاکٹر نے ایک پرچے پر دوائیں اور دوسرے پر کھانے سے متعلق ہدایات لکھ دیں۔ ان صاحب نے دوائیں لیں اور گھر آگئے۔
گھر آکر انہوں نے دوسرا پرچہ کھولا ۔ اس پر سب سے اوپر لکھا تھا۔ مرغی۔ وہ صاحب جلدی سے بازار گئے، مرغی لائے اور پکوا کر کھالی۔ پھر انہوں نے دوسرا لفظ پڑھا۔ لکھا تھا۔ بڑے جانور کا گوشت۔وہ صاحب دوبارہ بازار گئے ، گوشت خرید کر لائے اور شام کو کھا لیا۔ تیسری سطر میں لکھا تھا۔ انڈا ۔انہوں نےفوراً انڈا منگوا کر وہ بھی کھا لیا۔
اب انہوں نے آخری سطر پر نظر ڈالی تو وہاں لکھا تھا۔ ان تینوں چیزوں سے پر ہیز لازمی ہے۔
