معاشرتی امن کو برباد کرنے والی باتیں لغویات ہیں
یہ آیات جو مَیں نے تلاوت کی ہیں [الفرقان:64-69 و 73-77] … اگر ان کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو خداتعالیٰ ایسے لوگوں کو عباد الرحمٰن کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے اپنی رضا کی خوشخبری دیتا ہے، اپنی جنتوں کی خوشخبری دیتا ہے۔ پس رمضان کے بعد بھی اگر ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔ …گیارہویں علامت یہ ہے کہ مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا یعنی دنیوی لذات سے متاثر ہو کر اس میں شامل نہیں ہو جاتے۔ اس زمانے کی لغویات جیسا کہ مَیں نے کہا ہے انٹرنیٹ بھی ہے، یہ ٹی وی چینلز بھی ہیں جوپروگراموں کے دکھانے میں، عجیب طرح کے غلط پروگراموں کے دکھانے میں مصروف ہیں۔ پھر آجکل لڑکے لڑکیاں سکولوں میں، کالجوں میں، گروپ بنا کر پھرتے ہیں، کلبوں میں جاتے ہیں، پھر ڈانس گانے وغیرہ کئے جاتے ہیں۔ یا اس کے پروگرام بنائے جا رہے ہوتے ہیں یا کنسرٹ دیکھنے کے پروگرام بنائے ہوتے ہیں۔ تو ایک مومن کے لئے یہ سب لغویات ہیں۔ ایک طرف تو ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ہم عبادالرحمٰن بننے کا بھی عہد کرتے ہیں۔ پھر اس کے باوجود لغویات میں شامل ہونا، ایسی باتوں میں شامل ہونا جو سراسر اخلاق کو برباد کرنے والی باتیں ہیں۔ پس حقیقی احمدی کے لئے ضروری ہے کہ ان سے پرہیز کرے۔(خطبہ جمعہ۲۵؍ستمبر ۲۰۰۹ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۱۶؍اکتوبر ۲۰۰۹ء)
مزید پڑھیں: براہین احمدیہ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب



